Menu

Surah Al-Layl

رات

Chapter 92 of 114

خوبصورت تلاوت قرآن

Surah Al-Layl

Recited by Salaah Bukhaatir

Overview

About this Surah

At a glance

Surah 92 of 114

Translation
Urdu
Recitation
Salaah Bukhaatir

Ask the AI about this Surah

Commentary

Tafsir

<h2>نام:         </h2>
<p>آیت ۱۵ میں سجدہ کا جو مضمون آیا ہے اسی کو سورہ کا عنوان قرار دیا گیا ہے ۔ </p>
<h2>زمانۂ نزول:</h2>
<p>        انداز بیاں سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس کا زمانۂ نزول مکّہ کے دَور متوسّط ہے ، اور اس کا بھی ابتدائی زمانہ،
کیوں کہ اس کلام کے پس منظر میں ظلم و ستم کی وہ شدّت نظر نہیں آتی جو بعد کے ادوار کی سورتوں کے پیچھے نظر آتی ہے
۔ </p>
<h2>موضوع اور مباحث:</h2>
<p>  سُورہ کا موضوع توحید آخرت اور رسالت کے متعلق لوگوں کے شبہات کو رفع کرنا اور ان تینوں حقیقتوں پر ایمان کی دعوت دینا
ہے ۔ کفارِ مکہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے متعلق آپس میں چرچے کر رہے تھے کہ یہ شخص عجیب عجیب باتیں گھڑ گھڑ کر سُنارہا
ہے ۔ کبھی مرنے کے بعد کی خبریں دیتا ہے اور کہتاہے مٹی میں رَل مِل جانے کے بعد تم پھر اُٹھائے جاؤگے اور حساب کتاب ہو
گا اور دوزخ ہو گی اور جنت ہو گی کبھی کہتا ہے کہ یہ دیوی دیوتا اور بزرگ کوئی چیز نہیں ہیں ، بس اکیلا ایک خدا ہی
معبُود ہے ۔ کبھی کہتا ہے کہ میں خدا کا رسول ہوں ، آسمان سے مجھ پر وحی آتی ہے اور یہ کلام جو میں تم کو سنا رہا ہوں ،
میرا کلام نہیں بلکہ خدا کا کلام ہے ۔ یہ عجیب افسانے ہیں جو یہ شخص ہمیں سُنا رہا ہے ۔۔ انہی باتوں کا جواب اس سورہ کا
موضوع بحث ہے ۔ </p>
اِس جواب میں کفّار سے کہا گیا ہے کہ بلا شک و ریب یہ خدا ہی کا کلام ہے اور اس لیے نازل کیا گیا ہے کہ نبوّت کے فیض سے محروم، غفلت میں پڑی ہوئی ایک قوم کو چونکایا جائے ۔اِسے تم اِفتراء کیسے کہ سکتے ہو جب کہ اس کا منزَّل من اللہ ہونا ظاہر و باہر ہے ۔
<p>
پھر ان سے فرمایا گیا ہے کہ یہ قرآن جن حقیقتوں کو تمہارے سامنے پیش کرتا ہے ، عقل سے کام لے کر خود سوچو کہ ان میں کیا
چیز اچنبھے کی ہے ۔آسمان و زمین کے انتظام کو دیکھو، خود اپنی پیدائش اور بناوٹ پر غور کرو ،کیا یہ سب کچھ اُس تعلیم کی
صداقت پر شاہد نہیں ہے او اس نبی کی زبان سے اِس قرآن میں تم کو دی جا رہی ہے ؟ یہ نظام کائنات توحید پر دلالت کر رہا ہے
یا شرک پر؟ اور اس سارے نظام کو دیکھ کر اور خود اپنی پیدائش پر نگاہ ڈال کر کیا تمہاری عقل یہی گواہی دیتی ہے کہ جس نے
اب  تمہیں پیدا کر رکھا ہے وہ پھر تمہیں پیدا نہ کر سکے گا ؟</p>
پھر عالمِ آخرت کا نقشہ کھینچا گیا ہے اور ایمان کے ثمرات ا ور کفر کے نتائج و عواقب بیان کر کے یہ ترغیب دلائی گئی ہے کہ لوگ بُرا انجام سامنے آنے سے پہلے کفر چھوڑ دیں اور قرآن کی اس تعلیم کو قبول کر لیں جسے مان کر خود ان کی اپنی ہی عاقبت درست ہو گی ۔
<p>
پھر ان کو بتایا گیا ہے کہ یہ اللہ کی بڑی رحمت ہے کہ وہ انسان کے قصوروں پر یکایک آخری اور فیصلہ کُن عذاب میں اسے نہیں
پکڑ لیتا بلکہ اُس سے پہلے چھوٹی چھوٹی تکلیفیں مصیبتیں ، آفات اور نقصانات بھیجتا رہتا ہے ۔ ہلکی ہلکی چوٹیں لگاتا رہتا
ہے ، تاکہ اُسے تنبیہ ہو اور اس کی آنکھیں کھل جائیں ۔ آدمی اگر ان ابتدائی چوٹوں ہی سے ہوش میں آ جائے تو اس کے حق میں
بہتر ہے ۔ </p>
پھر فرمایا کہ دُنیا میں یہ کوئی پہلا اور انوکھا واقعہ تو نہیں ہے کہ ایک شخص پر خدا کی طرف سے کتاب آئی ہو ۔ اس سے پہلے آخر موسیٰ (علیہ السلام ) پر بھی کتاب آئی تھی جسے تم سب لو گ جانتے ہو ۔یہ آخر کونسی ایسی بات ہے کہ اس پر تم لوگ یوں کان کھڑے کر رہے ہو یقین مانو کہ یہ کتاب خدا ہی کی طرف سے آئی ہے اور خوب سمجھ لو کہ اب پھر وہی کچھ ہو گا جو موسیٰ کے عہد میں ہو چکا ہے ۔ امامت و پیشوائی اب انہی کو نصیب ہو گی جو اس کتابِ الہٰی کو مان لیں گے ۔ اسے رد کر دینے والوں کے لیے ناکامی مقدر ہو چکی ہے ۔
<p>
پھر کفّارِ مکّہ سے کہا گیا ہے کہ اپنے تجارتی سفروں  کے دَوران میں تم جن پچھلی  تباہ شدہ قوموں کی بستیوں پر سے گزرتے
ہو ان کا انجام دیکھ لو ، کیا یہی انجام تم اپنے لیے پسند کرتے ہو؟ ظاہر سے دھوکہ نہ کھاؤ ۔آج تم دیکھ رہے ہو کہ
محمد(صلی اللہ علیہ و سلم)کی بات چند لڑکوں اور چند غلاموں اور غریب لوگوں کے سوا کوئی نہیں سُن رہا ہے اور ہر طرف سے ان
پر طعن اور ملامت اور پھبتیوں کی بارش ہو رہی ہے ۔ اس سے تم یہ سمجھ بیٹھے ہو کہ یہ چلنے والی بات نہیں ہے ، چار دن چلے
گی اور پھر ختم ہو جائے  گی۔ لیکن یہ تمہاری نظر کا دھوکا ہے ، کیا یہ تمہارا رات دن کا مشاہدہ نہیں ہے کہ آج ایک زمین
بالکل بے آب و گیاہ پڑی ہے جسے دیکھ کر گمان تک نہیں ہو تا کہ اس کے پیٹ میں روئیدگی کے خزانے چھپے ہوئے ہیں ، مگر کل
ایک ہی بارش میں وہ اس طرح بھَبک اُٹھتی ہے کہ اس کے چپّے چپّے  سے جو کی طاقتیں پھوٹنی شروع ہو جاتی ہیں ۔</p>
خاتمۂ کلام پر نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو خطاب کر کے فرمایا گیا ہے کہ یہ لوگ تمہاری باتیں سُن کر مذاق اُڑاتے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ حضرت، یہ فیصلہ کُن فتح آپ کو کب نصیب ہونے والی ہے ، ذرا تاریخ تو ارشاد ہو۔ ان سے کہو کہ جب ہمارے اور تمہارے فیصلے کا وقت آ جائے گا اس وقت ماننا تمہارے لیے کچھ بھی مفید نہ ہو گا۔ ماننا ہے تو اب مان لو، اور آخری فیصلے ہی کا انتظار کرنا ہے تو بیٹھے انتظار کرتے رہو۔       

Verse by verse

Surah Al-Layl · رات

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

  1. Ayah 1

    بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَىٰ

    قسم ہے رات کی جبکہ وہ چھا جائے

  2. Ayah 2

    وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّىٰ

    اور دن کی جبکہ وہ روشن ہو

  3. Ayah 3

    وَمَا خَلَقَ الذَّكَرَ وَالْأُنثَىٰ

    اور اُس ذات کی جس نے نر اور مادہ کو پیدا کیا

  4. Ayah 4

    إِنَّ سَعْيَكُمْ لَشَتَّىٰ

    درحقیقت تم لوگوں کی کوششیں مختلف قسم کی ہیں

  5. Ayah 5

    فَأَمَّا مَنْ أَعْطَىٰ وَاتَّقَىٰ

    تو جس نے (راہ خدا میں) مال دیا اور (خدا کی نافرمانی سے) پرہیز کیا

  6. Ayah 6

    وَصَدَّقَ بِالْحُسْنَىٰ

    اور بھلائی کو سچ مانا

  7. Ayah 7

    فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْيُسْرَىٰ

    اس کو ہم آسان راستے کے لیے سہولت دیں گے

  8. Ayah 8

    وَأَمَّا مَن بَخِلَ وَاسْتَغْنَىٰ

    اور جس نے بخل کیا اور (اپنے خدا سے) بے نیازی برتی

  9. Ayah 9

    وَكَذَّبَ بِالْحُسْنَىٰ

    اور بھلائی کو جھٹلایا

  10. Ayah 10

    فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْعُسْرَىٰ

    اس کو ہم سخت راستے کے لیے سہولت دیں گے

  11. Ayah 11

    وَمَا يُغْنِي عَنْهُ مَالُهُ إِذَا تَرَدَّىٰ

    اور اُس کا مال آخر اُس کے کس کام آئے گا جبکہ وہ ہلاک ہو جائے؟

  12. Ayah 12

    إِنَّ عَلَيْنَا لَلْهُدَىٰ

    بے شک راستہ بتانا ہمارے ذمہ ہے

  13. Ayah 13

    وَإِنَّ لَنَا لَلْآخِرَةَ وَالْأُولَىٰ

    اور درحقیقت آخرت اور دنیا، دونوں کے ہم ہی مالک ہیں

  14. Ayah 14

    فَأَنذَرْتُكُمْ نَارًا تَلَظَّىٰ

    پس میں نے تم کو خبردار کر دیا ہے بھڑکتی ہوئی آگ سے

  15. Ayah 15

    لَا يَصْلَاهَا إِلَّا الْأَشْقَى

    اُس میں نہیں جھلسے گا مگر وہ انتہائی بد بخت

  16. Ayah 16

    الَّذِي كَذَّبَ وَتَوَلَّىٰ

    جس نے جھٹلایا اور منہ پھیرا

  17. Ayah 17

    وَسَيُجَنَّبُهَا الْأَتْقَى

    اور اُس سے دور رکھا جائیگا وہ نہایت پرہیزگار

  18. Ayah 18

    الَّذِي يُؤْتِي مَالَهُ يَتَزَكَّىٰ

    جو پاکیزہ ہونے کی خاطر اپنا مال دیتا ہے

  19. Ayah 19

    وَمَا لِأَحَدٍ عِندَهُ مِن نِّعْمَةٍ تُجْزَىٰ

    اُس پر کسی کا کوئی احسان نہیں ہے جس کا بدلہ اُسے دینا ہو

  20. Ayah 20

    إِلَّا ابْتِغَاءَ وَجْهِ رَبِّهِ الْأَعْلَىٰ

    وہ تو صرف اپنے رب برتر کی رضا جوئی کے لیے یہ کام کرتا ہے

  21. Ayah 21

    وَلَسَوْفَ يَرْضَىٰ

    اور ضرور وہ (اُس سے) خوش ہوگا

About the Quran

The Quran

The Quran is the holy scripture of Islam. Muslims believe that it is the literal word of Allah (سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى), revealed to the Prophet Muhammad (صلى الله عليه وسلم) over a period of 23 years. The Quran is composed of 114 Surahs (chapters) and contains 6,236 Ayat (verses). Muslim beliefs and practices are based on the Quran and the Sunnah, the teachings and example of the Prophet Muhammad (صلى الله عليه وسلم).

The Kaaba in Mecca
A mosque in South America

Meccan Surahs

The Meccan Surahs are the earliest revelations sent down to the Prophet Muhammad (صلى الله عليه وسلم). They were revealed in Mecca, hence their name. These revelations form the foundation of the Islamic faith and contain guidance for Muslims on how to live their lives. The Meccan Surahs are also notable for their poetic beauty and lyrical prose.

Medinan Surahs

The Medinan Surahs are the later Surahs that, according to Islamic tradition, were revealed in Medina after the Prophet Muhammad's (صلى الله عليه وسلم) hijra from Mecca. They were revealed by Allah (سبحانه و تعالى) when the Muslim community was larger and more developed, as opposed to their minority position in Mecca.

Stay connected

Receive regular updates

New features, translations and reminders from AskTheQuran, straight to your inbox.

We use Mailchimp to send updates. You can unsubscribe at any time. See our privacy policy.

We may receive a commission if you click on a link and buy a product, service or similar, at no extra cost to you. Details are in the disclosure policy.