Menu

Surah Al-Fajr

فجر

Chapter 89 of 114

خوبصورت تلاوت قرآن

Surah Al-Fajr

Recited by Salaah Bukhaatir

Overview

About this Surah

At a glance

Surah 89 of 114

Translation
Urdu
Recitation
Salaah Bukhaatir

Ask the AI about this Surah

Commentary

Tafsir

<h2>نام :</h2>
<h2 dir="ltr"></h2>
<p> آیت کے فقرے </p>
<span class="ar indopak"> مَثَلُ الَّذِینَ التَّخَذُوا مِن دُونِ اللہِ اَو لِیَاءَ کَمَثَلِ العَنکَبُوتِ</span><p> سے
ماخوذ ہے۔مطلب یہ ہے کہ یہ وہ سورت ہے جس  میں لفظ </p>”<p> عنکبوت </p>“<p>آیا ہے۔</p>
<h2>زمانہٴ نزول :</h2>
<p> آیات۵٦ تا ٦۰ سے صاف مترشح ہوتا ہے کہ یہ سورة ہجرت حبشہ سے کچھ پہلے نازل ہوئی تھی۔ باقی مضامین کی اندرونی شہادت بھی
اسی کی تائید کرتی ہے، کیونکہ پس منظر میں اسی زمانے کے حالات جھلکتے ہیں۔ بعض مفسرین نے صرف اس دلیل کی بنا پر کہ اس
میں منافقین کا ذکر آیا ہے اور نفاق کا ظہور مدینہ میں ہوا ہے، یہ قیاس قائم کر لیا کہ اس سورة کی ابتدائی دس آیات مدنی
ہیں اور باقی سورة مکی ہے۔ حالانکہ یہاں جن لوگوں کے نفاق کا ذکر ہے وہ وہ لوگ ہیں جو کفار کے ظلم و ستم اور شدید جسمانی
اذیتوں کے ڈر سے منافقانہ روش  اختیار کررہے تھے، اور ظاہر ہے کہ اس نوعیت کا نفاق مکہ ہی میں ہوسکتا تھا نہ کہ مدنیہ
میں ۔ اسی طرح بعض دوسرے مفسرین نے یہ دیکھ کر کہ اس  سورة میں مسلمانوں کو ہجرت کرنے کی تلقین کی گئی ہے، اسے مکہ کی
آخری نازل شدہ سورت قرار دیا ہے ۔ حالانکہ مدینہ طیبہ کی طرف ہجرت کرنے سے پہلے مسلمان حبشہ کی طرف بھی ہجرت کرچکے تھے۔
یہ تمام قیاسات دراصل کسی روات پر مبنی نہیں ہیں بلکہ صرف مضامین کی اندرونی شہادت پر ان کی بنا رکھی گئی ہے۔ اور یہ
اندرونی شہادت، اگر پوری سورت  کے مضامین پر بحیثیت مجموعی نگاہ ڈالی جائے، مکہ کے آخری دور کی نہیں بلکہ اس دور کے
حالات کی نشاندہی کرتی ہے جس میں ہجرت حبشہ واقع ہوئی تھی۔</p>
<h2>موضوع ومضمون :</h2>
<p>   سورة کو پڑھتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ اس کے نزول کا زمانہ مکہ معظمہ میں مسلمانوں پر بڑے مصائب و شدائد کا زمانہ تھا۔
کفار کی طرف سے اسلام کی مخالفت پورے زور و شور سے ہورہی تھی اور ایمان لانے والوں پر سخت ظلم و ستم توڑے جارہے تھے۔ ان
حالات میں اللہ تعالیٰ نے یہ سورة ایک طرف صادق الایمان لوگوں میں عزم و ہمت اور استقامت پیدا کرنے کے لئے ، اور دوسری
طرف ضعیف الایمان لوگوں کو شرم دلانے کے لئے نازل فرمائی۔ اس کے ساتھ کفار مکہ کوبھی اس میں سخت تہدید کی گئی کہ اپنے حق
میں اس انجام کو دعوت نہ دیں جو عداوت حق کا طریقہ اختیار کرنے والے ہر زمانے میں دیکھتے رہے ہیں۔</p>
اس سلسلے میں ان سوالات کا جواب بھی دیا گیا ہے جو بعض نوجوانوں کو اس وقت پیش آرہے تھے ۔ مثلا ان کے والدین ان پر زور ڈالتے تھے کہ تم محمد (صلی اللہ علیہ وسلم)کا ساتھ چھوڑ دو اور ہمارے دین پر قائم رہو۔ جس قرآن پر تم ایمان لائے ہو اس میں بھی تو یہی لکھا ہے کہ ماں باپ کا حق سب سے زیادہ ہے ۔ تو ہم جو کچھ کہتے ہیں اسے مانو ورنہ تم خود اپنے ہی ایمان کے خلاف کام کرو گے۔ اس کا جواب آیت ۸ میں دیا گیا ہے۔
<p>
اسی طرح بعض نو مسلموں سے ان کے قبیلے کے لوگ کہتے تھے کہ عذاب ثواب ہماری گردن پر، تم ہمارا کہنا مانو اور اس شخص سے
الگ ہوجاوٴ۔ اگر خدا تمہیں پکڑے گا تو ہم خود آگے بڑھ کر کہہ دیں گے کہ صاحب، ان بے چاروں کا کچھ قصور نہیں ، ان کو ہم
نے ایمان چھوڑے پر مجبور کیا تھا، اس لئے آپ ہمیں پکڑلیں۔ اس کا جواب آیات ١۲۔١۳ میں دیا گیا ہے۔</p>
جو قصے اس سورة میں بیان کئے گئے ہیں ان میں بھی زیادہ تر یہی پہلو نمایاں ہے کہ پچھلے انبیاء کو دیکھو، کیسی کیسی سختیاں ان پر گزریں اور کتنی کتنی مدت وہ ستائے گئے۔ پھر آخر کار اللہ کی طرف سے اس کی مدد ہوئی۔ اس لئے گھبراو ٴ نہیں۔ اللہ کی مدد ضرور آئے گی، مگر آزمائش کا ایک دور گزرنا ضروری ہے۔ مسلمانوں کو یہ سبق دینے کے ساتھ کفار مکہ کو بھی ان قصوں میں متنبہ کیا گیا ہے کہ اگر خدا کی طرف سے پکڑ ہونے میں دیر لگ رہی ہے تو یہ نہ سمجھ بیٹھو کہ کبھی پکڑ ہوگی ہی نہیں ۔ پچھلی تباہ شدہ قوموں کے نشانات تمہارےسامنے ہیں ۔ دیکھ لو آخر کار ان کی شامت آکر رہی اور خدا نے اپنے نبیوں کی مدد کی ۔
<p>
پھر مسلمانوں کو ہدایت کی گئی کہ اگر ظلم و ستم تمہارے لئے ناقابل برداشت ہوجائے تو ایمان چھوڑنے کے بجائے گھر بار چھوڑ
کر نکل جاوٴ۔ خدا کی زمین وسیع ہے۔ جہاں خدا کی بندگی کر سکو وہاں چلے جاوٴ۔</p>
ان سب باتوں کے ساتھ کفار کی تفہیم کا پہلو بھی چھوٹنے نہیں پایا ہے۔ توحید اور معاد، دونوں حقیقتوں کو دلائل کے ساتھ ان کے ذہن نشین کرانے کی کوشش کی گئی ہے، شرک کا ابطال کیا گیا ہے، ١ور آثار کائنات کی طرف توجہ دلا کر ان کو بتایا گیا ہے کہ یہ سب نشانات اس تعلیم کی تصدیق کر رہے ہیں جو ہمارا نبی (صلی اللہ علیہ وسلم)تمہارے سامنے پیش کررہا ہے۔

Verse by verse

Surah Al-Fajr · فجر

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

  1. Ayah 1

    بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ وَالْفَجْرِ

    قسم ہے فجر کی

  2. Ayah 2

    وَلَيَالٍ عَشْرٍ

    اور دس راتوں کی

  3. Ayah 3

    وَالشَّفْعِ وَالْوَتْرِ

    اور جفت اور طاق کی

  4. Ayah 4

    وَاللَّيْلِ إِذَا يَسْرِ

    اور رات کی جبکہ وہ رخصت ہو رہی ہو

  5. Ayah 5

    هَلْ فِي ذَٰلِكَ قَسَمٌ لِّذِي حِجْرٍ

    کیا اِس میں کسی صاحب عقل کے لیے کوئی قسم ہے؟

  6. Ayah 6

    أَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِعَادٍ

    تم نے دیکھا نہیں کہ تمہارے رب نے کیا برتاؤ کیا

  7. Ayah 7

    إِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ

    اونچے ستونوں والے عاد ارم کے ساتھ

  8. Ayah 8

    الَّتِي لَمْ يُخْلَقْ مِثْلُهَا فِي الْبِلَادِ

    جن کے مانند کوئی قوم دنیا کے ملکوں میں پیدا نہیں کی گئی تھی؟

  9. Ayah 9

    وَثَمُودَ الَّذِينَ جَابُوا الصَّخْرَ بِالْوَادِ

    اور ثمود کے ساتھ جنہوں نے وادی میں چٹانیں تراشی تھیں؟

  10. Ayah 10

    وَفِرْعَوْنَ ذِي الْأَوْتَادِ

    اور میخوں والے فرعون کے ساتھ؟

  11. Ayah 11

    الَّذِينَ طَغَوْا فِي الْبِلَادِ

    یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے دنیا کے ملکوں میں بڑی سرکشی کی تھی

  12. Ayah 12

    فَأَكْثَرُوا فِيهَا الْفَسَادَ

    اور ان میں بہت فساد پھیلایا تھا

  13. Ayah 13

    فَصَبَّ عَلَيْهِمْ رَبُّكَ سَوْطَ عَذَابٍ

    آخرکار تمہارے رب نے ان پر عذاب کا کوڑا برسا دیا

  14. Ayah 14

    إِنَّ رَبَّكَ لَبِالْمِرْصَادِ

    حقیقت یہ ہے کہ تمہارا رب گھات لگائے ہوئے ہے

  15. Ayah 15

    فَأَمَّا الْإِنسَانُ إِذَا مَا ابْتَلَاهُ رَبُّهُ فَأَكْرَمَهُ وَنَعَّمَهُ فَيَقُولُ رَبِّي أَكْرَمَنِ

    مگر انسان کا حال یہ ہے کہ اس کا رب جب اُس کو آزمائش میں ڈالتا ہے اور اُسے عزت اور نعمت دیتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ میرے رب نے مجھے عزت دار بنا دیا

  16. Ayah 16

    وَأَمَّا إِذَا مَا ابْتَلَاهُ فَقَدَرَ عَلَيْهِ رِزْقَهُ فَيَقُولُ رَبِّي أَهَانَنِ

    اور جب وہ اُس کو آزمائش میں ڈالتا ہے اور اُس کا رزق اُس پر تنگ کر دیتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ میرے رب نے مجھے ذلیل کر دیا

  17. Ayah 17

    كَلَّا ۖ بَل لَّا تُكْرِمُونَ الْيَتِيمَ

    ہرگز نہیں، بلکہ تم یتیم سے عزت کا سلوک نہیں کرتے

  18. Ayah 18

    وَلَا تَحَاضُّونَ عَلَىٰ طَعَامِ الْمِسْكِينِ

    اور مسکین کو کھانا کھلانے پر ایک دوسرے کو نہیں اکساتے

  19. Ayah 19

    وَتَأْكُلُونَ التُّرَاثَ أَكْلًا لَّمًّا

    اور میراث کا سارا مال سمیٹ کر کھا جاتے ہو

  20. Ayah 20

    وَتُحِبُّونَ الْمَالَ حُبًّا جَمًّا

    اور مال کی محبت میں بری طرح گرفتار ہو

  21. Ayah 21

    كَلَّا إِذَا دُكَّتِ الْأَرْضُ دَكًّا دَكًّا

    ہرگز نہیں، جب زمین پے در پے کوٹ کوٹ کر ریگ زار بنا دی جائے گی

  22. Ayah 22

    وَجَاءَ رَبُّكَ وَالْمَلَكُ صَفًّا صَفًّا

    اور تمہارا رب جلوہ فرما ہوگا اِس حال میں کہ فرشتے صف در صف کھڑے ہوں گے

  23. Ayah 23

    وَجِيءَ يَوْمَئِذٍ بِجَهَنَّمَ ۚ يَوْمَئِذٍ يَتَذَكَّرُ الْإِنسَانُ وَأَنَّىٰ لَهُ الذِّكْرَىٰ

    اور جہنم اُس روز سامنے لے آئی جائے گی، اُس دن انسان کو سمجھ آئے گی اور اس وقت اُس کے سمجھنے کا کیا حاصل؟

  24. Ayah 24

    يَقُولُ يَا لَيْتَنِي قَدَّمْتُ لِحَيَاتِي

    وہ کہے گا کہ کاش میں نے اپنی اِس زندگی کے لیے کچھ پیشگی سامان کیا ہوتا!

  25. Ayah 25

    فَيَوْمَئِذٍ لَّا يُعَذِّبُ عَذَابَهُ أَحَدٌ

    پھر اُس دن اللہ جو عذاب دے گا ویسا عذاب دینے والا کوئی نہیں

  26. Ayah 26

    وَلَا يُوثِقُ وَثَاقَهُ أَحَدٌ

    اور اللہ جیسا باندھے گا ویسا باندھنے والا کوئی نہیں

  27. Ayah 27

    يَا أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ

    (دوسری طرف ارشاد ہوگا) اے نفس مطمئن!

  28. Ayah 28

    ارْجِعِي إِلَىٰ رَبِّكِ رَاضِيَةً مَّرْضِيَّةً

    چل اپنے رب کی طرف، اِس حال میں کہ تو (اپنے انجام نیک سے) خوش (اور اپنے رب کے نزدیک) پسندیدہ ہے

  29. Ayah 29

    فَادْخُلِي فِي عِبَادِي

    شامل ہو جا میرے (نیک) بندوں میں

  30. Ayah 30

    وَادْخُلِي جَنَّتِي

    اور داخل ہو جا میری جنت میں

About the Quran

The Quran

The Quran is the holy scripture of Islam. Muslims believe that it is the literal word of Allah (سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى), revealed to the Prophet Muhammad (صلى الله عليه وسلم) over a period of 23 years. The Quran is composed of 114 Surahs (chapters) and contains 6,236 Ayat (verses). Muslim beliefs and practices are based on the Quran and the Sunnah, the teachings and example of the Prophet Muhammad (صلى الله عليه وسلم).

The Kaaba in Mecca
A mosque in South America

Meccan Surahs

The Meccan Surahs are the earliest revelations sent down to the Prophet Muhammad (صلى الله عليه وسلم). They were revealed in Mecca, hence their name. These revelations form the foundation of the Islamic faith and contain guidance for Muslims on how to live their lives. The Meccan Surahs are also notable for their poetic beauty and lyrical prose.

Medinan Surahs

The Medinan Surahs are the later Surahs that, according to Islamic tradition, were revealed in Medina after the Prophet Muhammad's (صلى الله عليه وسلم) hijra from Mecca. They were revealed by Allah (سبحانه و تعالى) when the Muslim community was larger and more developed, as opposed to their minority position in Mecca.

Stay connected

Receive regular updates

New features, translations and reminders from AskTheQuran, straight to your inbox.

We use Mailchimp to send updates. You can unsubscribe at any time. See our privacy policy.

We may receive a commission if you click on a link and buy a product, service or similar, at no extra cost to you. Details are in the disclosure policy.