Menu

Surah Al-A'la

اعلی

Chapter 87 of 114

خوبصورت تلاوت قرآن

Surah Al-A'la

Recited by Salaah Bukhaatir

Overview

About this Surah

At a glance

Surah 87 of 114

Translation
Urdu
Recitation
Salaah Bukhaatir

Ask the AI about this Surah

Commentary

Tafsir

<h2>نام :</h2>
<p> دوسرے رکوع کی جوتھی آیت میں</p>
<span class="ar indopak">  وَادِالنَّملِ </span><p>کا ذکر آیاہے۔سورةکا نام اسی سےماخوذ ہے۔ یعنی وہ سورة جس میں النمل کا
ذکر آیا ہے۔ یا جس میں النمل کا لفظ وارد ہوا ہے۔</p>
<h2> زمانہٴ نزول :</h2>
<p>مضمون اور انداز بیان   مکہ کے دور متوسط کی سورتوں سے پوری مشابہت رکھتا ہے۔ اور اس کی تائید روایات  سے بھی ہوتی ہے۔
ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور جابر بن زید کا بیان ہے کہ </p>”<p>پہلے سورہٴ شعراء نازل ہوئی، پھر النمل ، پھر
القصص۔</p>“<h2> موضوع اور مباحث :</h2>
<p> یہ سورة دو خطبوں پر مشتمل ہے۔ پہلا خطبہ آغاز سورة سے چوتھے رکوع کے خاتمے تک ہے۔ اور دوسرا خطبہ پانچوں رکوع کی ابتدا
سے سورة کے اختتام تک۔</p>
پہلے خطبے میں بتایا گیا ہے کہ قرآن کے رہنمائی سے صرف وہی لوگ فائدہ اٹھا سکتے ہیں ، اور اس کی بشارتوں کے مستحق بھی وہی صرف وہی لوگ ہیں جو ان حقیقتوں کو تسلیم کریں جنہیں یہ کتاب اس کائنات کی بنیادی حقیقتوں کی حیثیت سے پیش کرتی ہے۔ اور پھر مان لینے کے  بعد اپنی عملی زندگی میں بھی اطاعت و اتباع کا رویہ اختیار کریں۔ لیکن اس راہ پر آنے اور چلنے میں جو چیز سب سے بڑھ کر مانع ہوتی ہے ہو انکار آخرت ہے۔کیونکہ یہ آدمی کو غیر ذمہ دار بندہ نفس اور فریفتہ حیات دنیا بنادیتا ہے۔ جس کے بعد آدمی کا خدا کے آگے جھکنا اور اپنے نفس کے خواہشات پر اخلاقی پابندیاں برداشت کرنا ممکن نہیں رہتا۔ اس تمہید کے بعد تین قسم کی سیرتوں کے نمونے پیش کیے گئے ہیں۔
<p>
          ایک نمونہ فرعون اور سرداران قوم ثمود اور سرکشان قوم لوط کا ہے جن کی سیرت فکر آخرت سے بے نیازی اور نتیجتًہ
نفس کی بندگی سے تعمیر ہوئی تھی ۔ یہ لوگ کسی نشانی کو دیکھ کر بھی ایمان لانے کو تیار نہ ہوئے ۔ یہ الٹے ان لوگوں کے
دشمن ہو گئے جنہوں نے ان کو خیر و صلاح کی طرف بلایا۔ انہوں نے اپنے ان بدکاریوں پربھی پورا اصرار کیا جن کا گھناونا پن
کسی صاحب عقل سے بھی پوشیدہ نہیں ہے۔ انہیں عذاب الٰہی میں گرفتار ہونے سے ایک لمحہ پہلے تک بھی ہوش نہ آیا۔</p>
          دوسرا نمونہ حضرت سلیمان علیہ السلام کا ہے جن کو خدانے دولت، حکومت، اور شوکت و حشمت سے اس پیمانے پر نوازا تھا کہ کفار مکہ کے سردار اس کا خواب بھی نہ دیکھ سکتے تھے۔لیکن اس کے باوجود چونکہ وہ اپنے آپ کو خدا کے آگے جوابدہ سمجھتے تھے، اور انہیں احساس تھا کہ انہیں جو کچھ بھی حاصل ہے خدا کی عطا سے حاصل ہے ، اس لئے ان کا سر ہر وقت منعم حقیقی کے آگے جھکا رہتا تھا اور کبر نفس کا کوئی شائبہ تک ان کی سیرت و کردار میں نہ پایا جاتا تھا۔
<p>
          تیسرا نمونہ ملکہ سبا کا ہے جو تاریخ عرب کی نہایت مشہور دولت مند قوم پر حکمران تھی۔ اس کے پاس وہ تمام اسباب
جمع تھے جو کسی انسان کو غرورنفس میں مبتلا کر سکتے ہیں جن چیزوں کے بل پر کوئی انسان گھمنڈ کر سکتا ہے وہ سرداران قریش
کی بہ نسبت لاکھوں درجہ زیادہ اسے حاصل تھیں۔ پھر وہ ایک مشرک قوم سے تعلق رکھتی تھی۔ تقلید آبائی کی بنا پر بھی، اور
اپنی قوم میں اپنی سرداری برقرار کھنے کی خاطر بھی، اس کے لئے دین شرک کو چھوڑ کر دین توحید اختیار کرنا اس سے بہت زیادہ
مشکل تھا جتنا کسی عام مشرک کے لئے ہو سکتا ہے لیکن جب اس پر حق واضح ہوگیا تو کوئی چیز اسے قبول حق سے نہ روک سکی ،
کیونکہ اس کے گمراہی محض ایک مشرک ماحول میں آنکھ کھولنے کی وجہ سے تھی۔ نفس کی بندگی اور خواہشات کی غلامی کا مرض اس پر
مسلط نہ تھا۔ خدا کے حضور جواب دہی کا احساس سے اس کا ضمیر فارغ نہیں تھا۔</p>
دوسرے خطبے میں سب سے پہلے کائنات کے چند نمایاں ترین مشہود حقائق کی طرف اشارہ کر کے کفار مکہ سے پے در پے سوال کیا گیا ہے کہ بتاوٴ ، یہ حقائق اس شرک کی شہادت دے رہے ہیں جس میں تم مبتلا ہو،  یا اس توحید پر گواہ ہیں جس کی دعوت اس قرآن میں تمہیں دی جارہی ہے ؟ اس کے بعد کفار کے اصل مرض پر انگلی رکھ دی گئی ہے کہ جس چیز نے ان کو اندھا بنا رکھا ہے، جس کی وجہ سے وہ سب کچھ دیکھ کر بھی کچھ نہیں دیکھتے اور سب کچھ سن کر بھی کچھ نہیں سنتے وہ در اصل آخرت کا انکار ہے ۔ اسی چیز نے ان کے لئے زندگی کے کسی مسئلے میں بھی کوئی سنجیدگی باقی نہیں چھوڑی ہے ۔ کیونکہ جب ان کے نزدیک آخر کار سب کچھ مٹی ہوجاناہے،اور حیات دنیا کی اس ساری تگ و دو کا حاصل کچھ بھی نہیں ہے، تو آدمی کے لئے پھر حق  اور باطل سب یکساں ہیں۔اس کے لئے اس سوال میں سرے سے کوئی اہمیت ہی نہیں رہتی کہ اس کا نظام حیات راستی پر قائم ہے یا ناراستی پر۔
<p>
لیکن اس بحث سے مقصود یاس نہیں ہے کہ جب یہ لوگ غفلت میں مگن ہیں تو انہیں دعوت دینا بے کار ہے ۔ بلکہ دراصل اس سے مقصود
سونے والوں کو جھنجوڑ کر جگانا ہے۔اس لئے چھٹے اور ساتویں رکوع میں پے در پے وہ باتیں ارشاد فرمائی گئی ہیں جو لوگوں میں
آخرت کا احساس بیدار کریں اس سے غفلت برتنے کے نتائج پر متنبہ کریں، اور انہیں اس کی آمد کا اس طرح یقین دلائیں جس طرح
ایک آدمی اپنی آنکھوں دیکھی بات کا اس شخص کو یقین دلاتا ہے جس نے اسے نہیں دیکھا ہے۔</p>
خاتمہ کلام میں قرآن کی اصل دعوت ، یعنی خدائے واحد کی بندگی کی دعوت نہایت مختصر، مگر انتہائی موٴثر انداز میں پیش کر کے لوگوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ اسے قبول کرنا تمہارے اپنے لئے نافع اور اسے رد کرنا تمہارے اپنے لئے ہی نقصان دہ ہے ۔ اسے ماننے کے لئے اگر خدا کی وہ نشانیاں دیکھنے کا انتظار کرو گے جن کے سامنے آجانے کے بعد مانے بغیر چارہ نہ رہے گا۔ تو یاد رکھو کہ وہ فیصلے کا وقت ہوگا۔ اس وقت ماننے سے کچھ حاصل نہ ہوگا۔

Verse by verse

Surah Al-A'la · اعلی

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

  1. Ayah 1

    بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى

    (اے نبیؐ) اپنے رب برتر کے نام کی تسبیح کرو

  2. Ayah 2

    الَّذِي خَلَقَ فَسَوَّىٰ

    جس نے پیدا کیا اور تناسب قائم کیا

  3. Ayah 3

    وَالَّذِي قَدَّرَ فَهَدَىٰ

    جس نے تقدیر بنائی پھر راہ دکھائی

  4. Ayah 4

    وَالَّذِي أَخْرَجَ الْمَرْعَىٰ

    جس نے نباتات اگائیں

  5. Ayah 5

    فَجَعَلَهُ غُثَاءً أَحْوَىٰ

    پھر اُن کو سیاہ کوڑا کرکٹ بنا دیا

  6. Ayah 6

    سَنُقْرِئُكَ فَلَا تَنسَىٰ

    ہم تمہیں پڑھوا دیں گے، پھر تم نہیں بھولو گے

  7. Ayah 7

    إِلَّا مَا شَاءَ اللَّهُ ۚ إِنَّهُ يَعْلَمُ الْجَهْرَ وَمَا يَخْفَىٰ

    سوائے اُس کے جو اللہ چاہے، وہ ظاہر کو بھی جانتا ہے اور جو کچھ پوشیدہ ہے اُس کو بھی

  8. Ayah 8

    وَنُيَسِّرُكَ لِلْيُسْرَىٰ

    اور ہم تمہیں آسان طریقے کی سہولت دیتے ہیں

  9. Ayah 9

    فَذَكِّرْ إِن نَّفَعَتِ الذِّكْرَىٰ

    لہٰذا تم نصیحت کرو اگر نصیحت نافع ہو

  10. Ayah 10

    سَيَذَّكَّرُ مَن يَخْشَىٰ

    جو شخص ڈرتا ہے وہ نصیحت قبول کر لے گا

  11. Ayah 11

    وَيَتَجَنَّبُهَا الْأَشْقَى

    اور اس سے گریز کریگا وہ انتہائی بد بخت

  12. Ayah 12

    الَّذِي يَصْلَى النَّارَ الْكُبْرَىٰ

    جو بڑی آگ میں جائے گا

  13. Ayah 13

    ثُمَّ لَا يَمُوتُ فِيهَا وَلَا يَحْيَىٰ

    پھر نہ اس میں مرے گا نہ جیے گا

  14. Ayah 14

    قَدْ أَفْلَحَ مَن تَزَكَّىٰ

    فلاح پا گیا وہ جس نے پاکیزگی اختیار کی

  15. Ayah 15

    وَذَكَرَ اسْمَ رَبِّهِ فَصَلَّىٰ

    اور اپنے رب کا نام یاد کیا پھر نماز پڑھی

  16. Ayah 16

    بَلْ تُؤْثِرُونَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا

    مگر تم لوگ دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو

  17. Ayah 17

    وَالْآخِرَةُ خَيْرٌ وَأَبْقَىٰ

    حالانکہ آخرت بہتر ہے اور باقی رہنے والی ہے

  18. Ayah 18

    إِنَّ هَـٰذَا لَفِي الصُّحُفِ الْأُولَىٰ

    یہی بات پہلے آئے ہوئے صحیفوں میں بھی کہی گئی تھی

  19. Ayah 19

    صُحُفِ إِبْرَاهِيمَ وَمُوسَىٰ

    ابراہیمؑ اور موسیٰؑ کے صحیفوں میں

About the Quran

The Quran

The Quran is the holy scripture of Islam. Muslims believe that it is the literal word of Allah (سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى), revealed to the Prophet Muhammad (صلى الله عليه وسلم) over a period of 23 years. The Quran is composed of 114 Surahs (chapters) and contains 6,236 Ayat (verses). Muslim beliefs and practices are based on the Quran and the Sunnah, the teachings and example of the Prophet Muhammad (صلى الله عليه وسلم).

The Kaaba in Mecca
A mosque in South America

Meccan Surahs

The Meccan Surahs are the earliest revelations sent down to the Prophet Muhammad (صلى الله عليه وسلم). They were revealed in Mecca, hence their name. These revelations form the foundation of the Islamic faith and contain guidance for Muslims on how to live their lives. The Meccan Surahs are also notable for their poetic beauty and lyrical prose.

Medinan Surahs

The Medinan Surahs are the later Surahs that, according to Islamic tradition, were revealed in Medina after the Prophet Muhammad's (صلى الله عليه وسلم) hijra from Mecca. They were revealed by Allah (سبحانه و تعالى) when the Muslim community was larger and more developed, as opposed to their minority position in Mecca.

Stay connected

Receive regular updates

New features, translations and reminders from AskTheQuran, straight to your inbox.

We use Mailchimp to send updates. You can unsubscribe at any time. See our privacy policy.

We may receive a commission if you click on a link and buy a product, service or similar, at no extra cost to you. Details are in the disclosure policy.