Menu

Surah At-Tariq

رات کو آنے والا

Chapter 86 of 114

خوبصورت تلاوت قرآن

Surah At-Tariq

Recited by Salaah Bukhaatir

Overview

About this Surah

At a glance

Surah 86 of 114

Translation
Urdu
Recitation
Salaah Bukhaatir

Ask the AI about this Surah

Commentary

Tafsir

<h2>نام: </h2>
<p>آیت 224</p>
<span class="ar indopak"> وَالشُّعَرَ آءُیَتَّبِعُھُمُ الْغَا وٗ نَ O </span><p>سے ماخوذ ہے۔</p> <h2>زمانۂ
نزول: </h2>
<p>مضمون ور انداز بیان سے محسوس ہوتا ہے اور روایات اس کی تائید کرتی ہیں کہ اس سورے کا زمانہ نزول مکہ کا دور متوسط ہے۔
ابن عباسؓ کا بیان ہے کہ پہلے سورہ طٰہٰ نازل ہوئی پھر واقعہ اور اس کے بعد الشعراء (روح المعانی جلد 19 صفحہ 64)۔ اور
سورہ طٰہٰ کے متعلق یہ معلوم ہے کہ وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے قبول اسلام سے پہلے نازل ہو چکی تھی۔ </p>
<p> </p> <h2>موضوع اور مباحث: </h2>
<p>
 </p>تقریر کا پس منظر یہ ہے کہ کفار مکہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی تبلیغ و تذکیر کا مقابلہ پیہم جحود و انکار سے کر رہے تھے اور اس کے لیے طرح طرح کے بہا نے تراشے چلے جاتے تھے۔ کبھی کہتے کہ تم نے ہمیں کوئی نشانی تو دکھائی ہی نہیں ، پھر ہمیں کیسے یقین آئے کہ تم نبی ہو۔ کبھی آپ کو شاعر اور کاہن قرار دے کر آپ کی تعلیم و تلقین کو باتوں میں اڑا دینے کی کوشش کرتے۔ اور کبھی آپ کو شاعر اور کاہن قرار دے کر آپ کی تعلیم و تلقین کو باتوں میں اڑا دینے کی کوشش کرتے۔ اور کبھی یہ کہہ کر آپ کے مشن کا استخفاف کرتے کہ ان کے پیرو یا تو چند نادان نوجوان ہیں ، یا پھر ہمارے معاشرے کے ادنی طبقات کے لوگ، حالانکہ اگر اس تعلیم میں کوئی جان ہوتی تو اشراف قوم اور شیوخ اس کو قبول کرتے۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم ان لوگوں کو معقول دلائل کے ساتھ ان کے عقائد کی غلطی اور توحید و معاد کی صداقت سمجھانے کی کوشش کرتے کرتے تھکے جاتے تھے ، مگر وہ ہٹ دھرمی کی نت نئی صورتیں اختیار کرتے نہ تھکتے تھے۔ یہی چیز  آنحضورؐ کے لیے سوہان روح بنی ہوئی تھی اور اس غم میں آپ کی جان گھلی جاتی تھی۔
ان حالات میں یہ سورت نازل ہوئی۔ کلام کا آغاز اس طرح ہوتا ہے کہ تم ان کے پےچھ  ہی جان کیوں گھلاتے ہو؟ ان کے ایمان نہ لانے کی وجہ یہ نہیں ہے کہ انہوں نے کوئی نشانی نہیں دیکھی ہے ، بلکہ اس کی وجہ پہ ہے کہ یہ ہٹ دھرم ہیں ، سمجھانے سے نہیں ماننا چاہتے ، کسی ایسی نشانی کے طالب میں جو زبر دستی ان کی گردنیں جھکا دے ، اور وہ نشانی اپنے وقت پر جب آ جائے گی تو انہیں خود معلوم ہو جائے گا کہ جو بات انہیں سمجھائی جا رہی تھی وہ کیسی برحق تھی۔ اس تمہید کے بعد دسویں رکوع تک جو مضمون مسلسل بیان ہوا ہے وہ یہ ہے کہ طالب حق لوگوں کے لیے تو خدا کی زمین پر ہر طرف نشانیاں ہی نشانیاں پھیلی ہوئی ہیں جنہیں دیکھ کر وہ حقیقت کو پہچان سکتے ہیں۔ لیکن ہٹ دھرم لوگ کبھی کسی چیز و دیکھ کر بھی ایمان نہیں لائے ہیں ، نہ آفاق کی نشانیاں دیکھ کر اور نہ انبیاء کے معجزات دیکھ کر یہ وہ تو ہمیشہ اس وقت تک اپنی ضلالت پر جمے رہے ہیں جب تک خدا کے عذاب نے آ کر ان کو گرفت میں نہیں لے لیا ہے۔ اسی مناسبت سے تاریخ کی سات قوموں کے حالات پیش کیے گئے ہیں جنہوں نے اسی ہٹ دھرمی سے کام لیا تھا جس سے کفار مکہ کام لے رہے تھے۔ اور اس تاریخی بیان کے ضمن میں چند باتیں ذہن نشین کرائی گئی ہیں :۔
اول یہ کہ نشانیاں دو طرح کی ہیں۔ ایک قسم کی نشانیاں وہ ہیں جو خدا کی زمین پر ہر طرف پھیلی ہوئی ہیں ، جنہیں دیکھ کر ہر صاحب عقل آدمی تحقیق کر سکتا ہے کہ نبی جس چیز کی طرف بلا رہا ہے وہ حق ہے یا نہیں۔ دوسری قسم کی نشانیاں وہ ہیں جو فرعون اور اسکی قوم نے دیکھیں ، قوم نوح نے دیکھیں ، عاد اور ثمود نے دیکھیں ، قوم لوط اور اصحاب الاَیکہ نے دیکھیں۔ اب یہ فیصلہ کرنا خود کفار کا اپنا کام ہے کہ وہ کس قسم کی نشانی دیکھا چاہتے ہیں۔
دوم یہ کہ ہر زمانے میں کفار کی ذہنیت ایک سی رہی ہے۔ ان کی حجتیں ایک ہی طرح کی تھیں۔ ان کے اعتراضات یکساں تھے۔ ایمان نہ لانے کے لیے ان کے حیلے اور بہانے یکساں تھے۔ اور آخر کار ان کا انجام بھی یکساں ہی رہا۔ اس کے برعکس ہر زمانے میں انبیاء کی تعلیم ایک تھی۔ ان کی سیرت و اخلاق کا رنگ ایک تھا۔ اپنے مخالفوں کے مقابلے میں ان کی دلیل و حجت کا انداز ایک تھا۔ اور ان سب کے ساتھ اللہ کی رحمت کا معاملہ بھی ایک تھا۔ یہ دونوں نمونے تاریخ میں موجود ہیں۔ کفار خود دیکھ سکتے ہیں کہ ان کی اپنی تصویر کس نمونے سے ملتی ہے اور محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی ذات میں کس نمونے کی علامات پائی جاتی ہیں۔
تیسری بات جو بار بار دہرائی گئی ہے وہ یہ ہے کہ خدا زبردست، قادر و توانا بھی ہے اور رحیم بھی۔ تاریخ میں اس کے قہر کی مثالیں بھی موجود ہیں اور رحمت کی بھی۔ اب یہ بات لوگوں کو خود ہی طے کرنی چاہیے کہ وہ اپنے آپ کو اس کے رحم کا مستحق بناتے ہیں یا قہر کا۔
آخری رکوع میں اس بحث کو سمیٹتے ہوئے کہا گیا ہے کہ تم لوگ اگر نشانیاں ہی دیکھنا چاہتے ہو، تو آخر وہ خوفناک نشانیاں دیکھنے پر کیوں اصرار کرتے ہو جو تباہ شدہ قوموں نے دیکھی ہیں۔ اس قرآن کو دیکھو جو تمہاری اپنی زبان میں ہے۔ محمد صلی اللہ علیہ و سلم کو دیکھو۔ ان کے ساتھیوں کو دیکھو۔ کیا یہ کلام کسی شیطان یا جن کا کلام ہو سکتا ہے ؟ کیا اس کلام کا پیش کرنے والا تمہیں کاہن نظر آتا ہے ؟ کیا محمدؐ اور ان کے اصحاب تمہیں ویسے ہی نظر آتے ہیں جیسے شاعر اور ان کے ہم مشرب ہوا کرتے ہیں ؟ ضدّم ضدّا کی بات دوسری ہے ، مگر اپنے دلوں کو ٹٹول کر دیکھو کہ وہ کیا شہادت دیتے ہیں۔ اگر دلوں میں تم خود جانتے ہو کہ کہانت اور شاعری سے اس کا کوئی دور کا واسطہ بھی نہیں ہے تو پھر یہ بھی جان لو کہ تم ظلم کر رہے ہو اور ظالموں کا سا انجام دیکھ کر رہو گے۔

Verse by verse

Surah At-Tariq · رات کو آنے والا

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

  1. Ayah 1

    بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ وَالسَّمَاءِ وَالطَّارِقِ

    قسم ہے آسمان کی اور رات کو نمودار ہونے والے کی

  2. Ayah 2

    وَمَا أَدْرَاكَ مَا الطَّارِقُ

    اور تم کیا جانو کہ وہ رات کو نمودار ہونے والا کیا ہے؟

  3. Ayah 3

    النَّجْمُ الثَّاقِبُ

    چمکتا ہوا تارا

  4. Ayah 4

    إِن كُلُّ نَفْسٍ لَّمَّا عَلَيْهَا حَافِظٌ

    کوئی جان ایسی نہیں ہے جس کے اوپر کوئی نگہبان نہ ہو

  5. Ayah 5

    فَلْيَنظُرِ الْإِنسَانُ مِمَّ خُلِقَ

    پھر ذرا انسان یہی دیکھ لے کہ وہ کس چیز سے پیدا کیا گیا ہے

  6. Ayah 6

    خُلِقَ مِن مَّاءٍ دَافِقٍ

    ایک اچھلنے والے پانی سے پیدا کیا گیا ہے

  7. Ayah 7

    يَخْرُجُ مِن بَيْنِ الصُّلْبِ وَالتَّرَائِبِ

    جو پیٹھ اور سینے کی ہڈیوں کے درمیان سے نکلتا ہے

  8. Ayah 8

    إِنَّهُ عَلَىٰ رَجْعِهِ لَقَادِرٌ

    یقیناً وہ (خالق) اُسے دوبارہ پیدا کرنے پر قادر ہے

  9. Ayah 9

    يَوْمَ تُبْلَى السَّرَائِرُ

    جس روز پوشیدہ اسرار کی جانچ پڑتال ہوگی

  10. Ayah 10

    فَمَا لَهُ مِن قُوَّةٍ وَلَا نَاصِرٍ

    اُس وقت انسان کے پاس نہ خود اپنا کوئی زور ہوگا اور نہ کوئی اس کی مدد کرنے والا ہوگا

  11. Ayah 11

    وَالسَّمَاءِ ذَاتِ الرَّجْعِ

    قسم ہے بارش برسانے والے آسمان کی

  12. Ayah 12

    وَالْأَرْضِ ذَاتِ الصَّدْعِ

    اور (نباتات اگتے وقت) پھٹ جانے والی زمین کی

  13. Ayah 13

    إِنَّهُ لَقَوْلٌ فَصْلٌ

    یہ ایک جچی تلی بات ہے

  14. Ayah 14

    وَمَا هُوَ بِالْهَزْلِ

    ہنسی مذاق نہیں ہے

  15. Ayah 15

    إِنَّهُمْ يَكِيدُونَ كَيْدًا

    یہ لوگ چالیں چل رہے ہیں

  16. Ayah 16

    وَأَكِيدُ كَيْدًا

    اور میں بھی ایک چال چل رہا ہوں

  17. Ayah 17

    فَمَهِّلِ الْكَافِرِينَ أَمْهِلْهُمْ رُوَيْدًا

    پس چھوڑ دو اے نبیؐ، اِن کافروں کو اک ذرا کی ذرا اِن کے حال پر چھوڑ دو

About the Quran

The Quran

The Quran is the holy scripture of Islam. Muslims believe that it is the literal word of Allah (سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى), revealed to the Prophet Muhammad (صلى الله عليه وسلم) over a period of 23 years. The Quran is composed of 114 Surahs (chapters) and contains 6,236 Ayat (verses). Muslim beliefs and practices are based on the Quran and the Sunnah, the teachings and example of the Prophet Muhammad (صلى الله عليه وسلم).

The Kaaba in Mecca
A mosque in South America

Meccan Surahs

The Meccan Surahs are the earliest revelations sent down to the Prophet Muhammad (صلى الله عليه وسلم). They were revealed in Mecca, hence their name. These revelations form the foundation of the Islamic faith and contain guidance for Muslims on how to live their lives. The Meccan Surahs are also notable for their poetic beauty and lyrical prose.

Medinan Surahs

The Medinan Surahs are the later Surahs that, according to Islamic tradition, were revealed in Medina after the Prophet Muhammad's (صلى الله عليه وسلم) hijra from Mecca. They were revealed by Allah (سبحانه و تعالى) when the Muslim community was larger and more developed, as opposed to their minority position in Mecca.

Stay connected

Receive regular updates

New features, translations and reminders from AskTheQuran, straight to your inbox.

We use Mailchimp to send updates. You can unsubscribe at any time. See our privacy policy.

We may receive a commission if you click on a link and buy a product, service or similar, at no extra cost to you. Details are in the disclosure policy.