Menu

Surah Al-Mutaffifin

ناپ تول میں کمی کرنے والے

Chapter 83 of 114

خوبصورت تلاوت قرآن

Surah Al-Mutaffifin

Recited by Salaah Bukhaatir

Overview

About this Surah

At a glance

Surah 83 of 114

Translation
Urdu
Recitation
Salaah Bukhaatir

Ask the AI about this Surah

Commentary

Tafsir

<h2>نام:</h2>
<p> پہلی ہی آیت</p>
<span class="ar indopak"> اَدْ اَ فْلَحَ الْمُؤْ مِنُوْنَ </span><p>سے ماخوذ ہے۔ </p>
<h2>زمانۂ نزول:</h2>
<p> انداز بیان اور مضامین ، دونوں سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ اس سورے کا زمانہ نزول مکے کا دور متوسط ہے۔ پس  منظر میں صاف
محسوس ہوتا ہے کہ اگرچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور کفار کے درمیان سخت کشمکش برپا ہے ، لیکن ابھی کفار کے ظلم و ستم نے
پورا زور نہیں پکڑا ہے۔ آیت 75۔ 76 سے صاف طور پر یہ شہادت ملتی ہے کہ یہ مکے کے اس قحط کی شدت کے زمانے میں نازل ہوئی
ہے جو معتبر روایات کی رو سے اسی دور متوسط میں برپا ہوا تھا۔ عروہ بن زُبیر کی ایک روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت
حضرت عمر ایمان لا چکے تھے۔ وہ عبدالرحمٰن بن عبدالقاری کے حوالہ سے حضرت عمرؓ کا یہ قول نقل کرتے ہیں کہ یہ سورۃ ان کے
سامنے نازل ہوئی ہے۔ وہ خود نزول وحی کی کیفیت کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر طاری ہوتے دیکھ رہے تھے ، اور جب حضورؐ اس
سے فارغ ہوئے تو آپ نے فرمایا کہ مجھ پر اس وقت دس ایسی آیتیں نازل ہوئی ہیں کہ اگر کوئی ان کے معیار پر پورا اتر جائے
تو یقیناً جنت میں جائے گا، پھر آپ نے اس سورے کی ابتدائی آیات سنائیں (احمد، ترمذی ، نسائی، حاکم)۔ </p>
<h2>موضوع اور مباحث:</h2> <p>اتباع رسول کی دعوت اس سورت کا مرکزی مضمون ہے اور پوری تقریر اسی مرکز کے گرد گھومتی ہے۔
آغاز کلام اس طرح ہوتا ہے کہ جن لوگوں نے اس پیغمبر کی بات مان لی ہے ، ان کے اندر یہ اور یہ اوصاف پیدا ہو رہے ہیں ،
اور یقیناً ایسے ہی لوگ دنیا و آخرت کی فلاح کے مستحق ہیں۔
اس کے بعد انسان کی پیدائش، آسمان و زمین کی پیدائش، نباتات و حیوانات کی پیدائش، اور دوسرے آثار کائنات کی طرف توجہ
دلائی گئی ہے ، جس سے مقصود یہ ذہن نشین کرنا ہے کہ توحید اور معاد کی جن حقیقتوں کو ماننے کے لیے یہ پیغمبر تم سے کہتا
ہے ان کے برحق ہونے  پر تمہارا اپنا وجود اور یہ پورا نظام عالم گواہ ہے۔
پھر انبیاء علیہم السلام اور ان کی امتوں کے قصے شروع کیے گئے ہیں ، جو بظاہر تو قصے ہی نظر آتے ہیں ، لیکن در اصل اس
پیرائے میں چند باتیں سامعین کو سمجھائی گئی ہیں :</p> <p>          اول یہ کہ آج تم لوگ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی
دعوت پر جو شبہات و اعتراضات وارد کر رہے ہو وہ کچھ نئے نہیں ہیں۔ پہلے بھی جو انبیاء دنیا میں آئے تھے ، جن کو تم خود
فرستادہ الہٰی مانتے ہو، ان سب پر ان کے زمانے کے جاہلوں نے یہی اعتراضات کیے تےی۔ اب دیکھ لو کہ تاریخ کا سبق کیا بتا
رہا ہے۔ اعتراضات کرنے والے بر حق تھے یا انبیاء؟
          دوم یہ کہ توحید و آخرت کے متعلق جو تعلیم محمد صلی اللہ علیہ وسلم دے رہے ہیں یہی تعلیم ہر زمانے کے انبیاء
نے دی ہے۔ اس سے مختلف کوئی نرالی چیز آج نہیں پیش کی جا رہی ہے جو کبھی دنیا نے نہ سنی ہو۔
          سوم یہ کہ جن قوموں نے انبیاء کی بات سن کر نہ دی اور ان کی مخالفت پر اصرار کیا وہ آخر کار تباہ ہو کر رہیں۔
          چہارم یہ کہ خدا کی طرف سے ہر زمانے میں ایک ہی دین آتا رہا ہے اور تمام انبیاء ایک ہی امت کے لوگ تھے۔ اس دین
واحد کے سوا جو مختلف مذاہب تم لوگ دنیا میں دیکھ رہے ہو یہ سب لوگوں کے طبع زاد ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی منجانب اللہ
نہیں ہے۔
ان قصوں کے بعد لوگوں کو یہ بتایا گیا ہے کہ دنیوی خوش حالی ، مال و دولت، آل داد لاد چشم و خَدَمِ قوت و اقتدار وہ
چیزیں نہیں ہیں جو کسی شخص یا گروہ کے راہ راست پر ہونے کی یقینی علامت ہوں اور اس بات کی دلیل قرار دی جائیں کہ خدا اس
پر مہربان ہے اور اس کا رویہ خدا کو محبوب ہے۔ اسی طرح کسی کا غریب اور خستہ حال ہونا بھی اس بات کا ثبوت نہیں ہے کہ خدا
اس سے اور اس کے رویے سے ناراض ہے۔ اصل چیز جس پر خد اکے ہاں محبوب یا مغضوب ہونے کا مدار ہے وہ آدمی کا ایمان اور اس کی
خدا ترسی و راست بازی ہے۔ یہ باتیں اس لیے ارشاد ہوئی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مقابلے میں اس وقت جو
مزاحمت ہو رہی تھی اس کے علم بردار سب کے سب مکے کے شیوخ اور بڑے بڑے سردار تھے۔ وہ اپنی جگہ خود بھی یہ گھمنڈ رکھتے تھے
، اور ان کے زیر اثر لوگ بھی اس غلط فہمی میں مبتلا تھے کہ نعمتوں کی بارش جن لوگوں پر ہو رہی ہے اور جو بڑھتے ہیں چلے
جا رہے ہیں ان پر ضرور خدا اور دیوتاؤں کا کرم ہے۔ رہے یہ ٹوٹے مارے لوگ جو محمد کے ساتھ ہیں ، ان کی تو حالت خود ہی یہ
بتا رہی ہے کہ خدا ان کے ساتھ نہیں ہے ، اور دیوتاؤں کی مار ہی ان پر پڑی ہوئی ہے۔
اس کے بعد اہل مکہ کو مختلف پہلوؤں سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت پر مطمئن کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ پھر ان کو بتایا
گیا ہے کہ یہ قحط جو تم پر نازل ہوا ہے ، یہ ایک تنبیہ ہے۔ بہتر ہے کہ اس کو دیکھ کر سنبھلو اور راہ راست پر آ جاؤ۔ ورنہ
اس کے بعد سخت تر سزا آئے گی جس پر بلبلا اٹھو گے۔
پھر ان کو از سر نو ان آثار کی طرف توجہ دلائی گئی ہے جو کائنات میں اور خود ان کے اپنے وجود میں موجود ہیں۔ مدعا یہ ہے
کہ آنکھیں کھول کر دیکھو، جس توحید اور جس حیات بعد الموت کی حقیقت سے یہ پیغمبر تک کو  آگاہ کر رہا ہ ، کیا ہر طرف اس
کی شہادت دینے والے آثار پھیلے ہوئے نہیں ہیں ؟ کیا تمہاری عقل اور فطرت اس کی صحت و صداقت پر گواہی نہیں دیتی ؟
پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدایت کی گئی ہے کہ خواہ یہ لوگ تمہارے مقابلے میں کیسا ہی برا رویہ اختیار کریں ، تم
بھلے طریقوں ہی سے مدافعت کرنا۔ شیطان کبھی  تم کو جوش میں لا کر برائی کا جواب برائی سے دینے پر آمادہ نہ کرنے پائے۔
خاتمہ کلام پر مخالفینِ حق کو آخرت کی باز پرس سے ڈرایا گیا ہے اور انہیں متنبہ کیا گیا ہے کہ جو کچھ تم دعوت حق و راس
کے پیروؤں کے ساتھ کر رہے ہو اس کا سخت حساب تم سے لیا جائے گا۔</p>

Verse by verse

Surah Al-Mutaffifin · ناپ تول میں کمی کرنے والے

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

  1. Ayah 1

    بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ وَيْلٌ لِّلْمُطَفِّفِينَ

    تباہی ہے ڈنڈی مارنے والوں کے لیے

  2. Ayah 2

    الَّذِينَ إِذَا اكْتَالُوا عَلَى النَّاسِ يَسْتَوْفُونَ

    جن کا حال یہ ہے کہ جب لوگوں سے لیتے ہیں تو پورا پورا لیتے ہیں

  3. Ayah 3

    وَإِذَا كَالُوهُمْ أَو وَّزَنُوهُمْ يُخْسِرُونَ

    اور جب ان کو ناپ کر یا تول کر دیتے ہیں تو انہیں گھاٹا دیتے ہیں

  4. Ayah 4

    أَلَا يَظُنُّ أُولَـٰئِكَ أَنَّهُم مَّبْعُوثُونَ

    کیا یہ لوگ نہیں سمجھتے کہ ایک بڑے دن،

  5. Ayah 5

    لِيَوْمٍ عَظِيمٍ

    یہ اٹھا کر لائے جانے والے ہیں؟

  6. Ayah 6

    يَوْمَ يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ

    اُس دن جبکہ سب لوگ رب العالمین کے سامنے کھڑے ہوں گے

  7. Ayah 7

    كَلَّا إِنَّ كِتَابَ الْفُجَّارِ لَفِي سِجِّينٍ

    ہرگز نہیں، یقیناً بد کاروں کا نامہ اعمال قید خانے کے دفتر میں ہے

  8. Ayah 8

    وَمَا أَدْرَاكَ مَا سِجِّينٌ

    اور تمہیں کیا معلوم کہ وہ قید خانے کا دفتر کیا ہے؟

  9. Ayah 9

    كِتَابٌ مَّرْقُومٌ

    ایک کتاب ہے لکھی ہوئی

  10. Ayah 10

    وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ

    تباہی ہے اُس روز جھٹلانے والوں کے لیے

  11. Ayah 11

    الَّذِينَ يُكَذِّبُونَ بِيَوْمِ الدِّينِ

    جو روز جزا کو جھٹلاتے ہیں

  12. Ayah 12

    وَمَا يُكَذِّبُ بِهِ إِلَّا كُلُّ مُعْتَدٍ أَثِيمٍ

    اور اُسے نہیں جھٹلاتا مگر ہر وہ شخص جو حد سے گزر جانے والا بد عمل ہے

  13. Ayah 13

    إِذَا تُتْلَىٰ عَلَيْهِ آيَاتُنَا قَالَ أَسَاطِيرُ الْأَوَّلِينَ

    اُسے جب ہماری آیات سنائی جاتی ہیں تو کہتا ہے یہ تو اگلے وقتوں کی کہانیاں ہیں

  14. Ayah 14

    كَلَّا ۖ بَلْ ۜ رَانَ عَلَىٰ قُلُوبِهِم مَّا كَانُوا يَكْسِبُونَ

    ہرگز نہیں، بلکہ دراصل اِن لوگوں کے دلوں پر اِن کے برے اعمال کا زنگ چڑھ گیا ہے

  15. Ayah 15

    كَلَّا إِنَّهُمْ عَن رَّبِّهِمْ يَوْمَئِذٍ لَّمَحْجُوبُونَ

    ہرگز نہیں، بالیقین اُس روز یہ اپنے رب کی دید سے محروم رکھے جائیں گے

  16. Ayah 16

    ثُمَّ إِنَّهُمْ لَصَالُو الْجَحِيمِ

    پھر یہ جہنم میں جا پڑیں گے

  17. Ayah 17

    ثُمَّ يُقَالُ هَـٰذَا الَّذِي كُنتُم بِهِ تُكَذِّبُونَ

    پھر اِن سے کہا جائے گا کہ یہ وہی چیز ہے جسے تم جھٹلایا کرتے تھے

  18. Ayah 18

    كَلَّا إِنَّ كِتَابَ الْأَبْرَارِ لَفِي عِلِّيِّينَ

    ہرگز نہیں، بے شک نیک آدمیوں کا نامہ اعمال بلند پایہ لوگوں کے دفتر میں ہے

  19. Ayah 19

    وَمَا أَدْرَاكَ مَا عِلِّيُّونَ

    اور تمہیں کیا خبر کہ کیا ہے وہ بلند پایہ لوگوں کا دفتر؟

  20. Ayah 20

    كِتَابٌ مَّرْقُومٌ

    ایک لکھی ہوئی کتاب ہے

  21. Ayah 21

    يَشْهَدُهُ الْمُقَرَّبُونَ

    جس کی نگہداشت مقرب فرشتے کرتے ہیں

  22. Ayah 22

    إِنَّ الْأَبْرَارَ لَفِي نَعِيمٍ

    بے شک نیک لوگ بڑے مزے میں ہوں گے

  23. Ayah 23

    عَلَى الْأَرَائِكِ يَنظُرُونَ

    اونچی مسندوں پر بیٹھے نظارے کر رہے ہوں گے

  24. Ayah 24

    تَعْرِفُ فِي وُجُوهِهِمْ نَضْرَةَ النَّعِيمِ

    ان کے چہروں پر تم خوشحالی کی رونق محسوس کرو گے

  25. Ayah 25

    يُسْقَوْنَ مِن رَّحِيقٍ مَّخْتُومٍ

    ان کو نفیس ترین سر بند شراب پلائی جائے گی جس پر مشک کی مہر لگی ہوگی

  26. Ayah 26

    خِتَامُهُ مِسْكٌ ۚ وَفِي ذَٰلِكَ فَلْيَتَنَافَسِ الْمُتَنَافِسُونَ

    جو لوگ دوسروں پر بازی لے جانا چاہتے ہوں وہ اِس چیز کو حاصل کرنے میں بازی لے جانے کی کوشش کریں

  27. Ayah 27

    وَمِزَاجُهُ مِن تَسْنِيمٍ

    اُس شراب میں تسنیم کی آمیزش ہوگی

  28. Ayah 28

    عَيْنًا يَشْرَبُ بِهَا الْمُقَرَّبُونَ

    یہ ایک چشمہ ہے جس کے پانی کے ساتھ مقرب لوگ شراب پئیں گے

  29. Ayah 29

    إِنَّ الَّذِينَ أَجْرَمُوا كَانُوا مِنَ الَّذِينَ آمَنُوا يَضْحَكُونَ

    مجرم لوگ دنیا میں ایمان لانے والوں کا مذاق اڑاتے تھے

  30. Ayah 30

    وَإِذَا مَرُّوا بِهِمْ يَتَغَامَزُونَ

    جب اُن کے پاس سے گزرتے تو آنکھیں مار مار کر اُن کی طرف اشارے کرتے تھے

  31. Ayah 31

    وَإِذَا انقَلَبُوا إِلَىٰ أَهْلِهِمُ انقَلَبُوا فَكِهِينَ

    اپنے گھروں کی طرف پلٹتے تو مزے لیتے ہوئے پلٹتے تھے

  32. Ayah 32

    وَإِذَا رَأَوْهُمْ قَالُوا إِنَّ هَـٰؤُلَاءِ لَضَالُّونَ

    اور جب انہیں دیکھتے تو کہتے تھے کہ یہ بہکے ہوئے لوگ ہیں

  33. Ayah 33

    وَمَا أُرْسِلُوا عَلَيْهِمْ حَافِظِينَ

    حالانکہ وہ اُن پر نگراں بنا کر نہیں بھیجے گئے تھے

  34. Ayah 34

    فَالْيَوْمَ الَّذِينَ آمَنُوا مِنَ الْكُفَّارِ يَضْحَكُونَ

    آج ایمان لانے والے کفار پر ہنس رہے ہیں

  35. Ayah 35

    عَلَى الْأَرَائِكِ يَنظُرُونَ

    مسندوں پر بیٹھے ہوئے ان کا حال دیکھ رہے ہیں

  36. Ayah 36

    هَلْ ثُوِّبَ الْكُفَّارُ مَا كَانُوا يَفْعَلُونَ

    مل گیا نا کافروں کو اُن حرکتوں کا ثواب جو وہ کیا کرتے تھے

About the Quran

The Quran

The Quran is the holy scripture of Islam. Muslims believe that it is the literal word of Allah (سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى), revealed to the Prophet Muhammad (صلى الله عليه وسلم) over a period of 23 years. The Quran is composed of 114 Surahs (chapters) and contains 6,236 Ayat (verses). Muslim beliefs and practices are based on the Quran and the Sunnah, the teachings and example of the Prophet Muhammad (صلى الله عليه وسلم).

The Kaaba in Mecca
A mosque in South America

Meccan Surahs

The Meccan Surahs are the earliest revelations sent down to the Prophet Muhammad (صلى الله عليه وسلم). They were revealed in Mecca, hence their name. These revelations form the foundation of the Islamic faith and contain guidance for Muslims on how to live their lives. The Meccan Surahs are also notable for their poetic beauty and lyrical prose.

Medinan Surahs

The Medinan Surahs are the later Surahs that, according to Islamic tradition, were revealed in Medina after the Prophet Muhammad's (صلى الله عليه وسلم) hijra from Mecca. They were revealed by Allah (سبحانه و تعالى) when the Muslim community was larger and more developed, as opposed to their minority position in Mecca.

Stay connected

Receive regular updates

New features, translations and reminders from AskTheQuran, straight to your inbox.

We use Mailchimp to send updates. You can unsubscribe at any time. See our privacy policy.

We may receive a commission if you click on a link and buy a product, service or similar, at no extra cost to you. Details are in the disclosure policy.