Menu

Surah At-Takwir

لپیٹنا

Chapter 81 of 114

خوبصورت تلاوت قرآن

Surah At-Takwir

Recited by Salaah Bukhaatir

Overview

About this Surah

At a glance

Surah 81 of 114

Translation
Urdu
Recitation
Salaah Bukhaatir

Ask the AI about this Surah

Commentary

Tafsir

<h2>نام :</h2>
<p> اس سورت کا نام کسی خاص آیت سے ماخوذ نہیں ہے ۔ چونکہ اس میں مسلسل بہت سے انبیاء کا ذکر آیا ہے ، اس لیے اس کا نام ’’
الانبیاء‘‘ رکھ دیا گیا۔ یہ بھی موضوع کے لحاظ سے سورۃ کا عنوان نہیں ہے بلکہ محض پہچاننے کے لیے ایک علامت ہے ۔ </p>
<h2>زمانہ نزول:</h2>
<p> مضمون اور انداز بیان، دونوں سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ اس کا زمانہ نزول مکے کا دور متوسط یعنی ہماری تقسیم کے لحاظ نبی
صلی اللہ علیہ وسلم کی مکی زندگی کا تیسرا دور ہے ۔ اس کے پس منظر میں حالات کی وہ کیفیت نہیں پائی جاتی جو آخری دور کی
سورتوں میں نمایا ں طور پر محسوس ہوتی ہے ۔ </p>
<h2>موضوع و مضمون:</h2> <p>اس سورہ میں وہ کشمکش زیر بحث ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور سرداران قریش کے درمیان برپا تھی
۔ وہ لوگ آنحضرتؐ کے دعوائے رسالت اور آپ کی دعوتِ توحید و عقیدہ آخرت پر جو شکوک اور اعتراضات پیش کرتے تھے ان کا جواب
دیا گیا ہے ۔ انکی طرف سے آپ کی مخالفت میں جو چالیں چلی جا رہی تھیں ان پر زجر و توبیخ کی گئی ہے اور ان حرکتوں کے برے
نتائج سے آگاہ کیا گیا ہے ۔ وہ جس غفلت اور بے پروائی سے آپ کی دعوت کا استقبال کر رہے تھے اس پر متنبہ کیا گیا ہے ۔ اور
آخر میں ان کو یہ احساس دلایا گیا ہے کہ جس شخص کو تم اپنے لیے زحمت اور مصیبت سمجھ رہے ہو وہ در اصل تمہارے لیے رحمت بن
کر آیا ہے ۔ </p>
دوران تقریر میں خاص طور پر جو امور زیر بحث آئے ہیں وہ یہ ہیں <p>:</p>           1)<p>کفار مکہ کی یہ غلط فہمی کہ بشر
کبھی رسول نہیں ہو سکتا اور اس بنا پر ان کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو رسول ماننے سے انکار کرنا ۔۔۔۔۔ اس کا بڑی تفصیل
کے ساتھ رد کیا گیا ہے ۔ </p>
<p>
          2)</p>ان کا آپ پر اور قرآن پر مختلف اور متضاد قسم کے اعتراضات کرنا اور کسی ایک بات پر نہ جمنا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس پر مختصر مگر نہایت پر زور اور معنی خیز طریقے سے گرفت کی گئی ہے ۔           3)
<p>ان کا یہ تصور کہ زندگی بس ایک کھیل ہے جسے چند روز کھیل کر یونہی ختم ہو جانا ہے ، اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلتا ہے ، کسی
حساب کتاب اور جزا و سزا سے سابقہ نہیں پیش آنا ہے ۔ ۔۔۔۔۔۔یہ چیز چونکہ اس عجلت و بے اعتنائی کی اصل جڑ تھی جس کے ساتھ
وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کا استقبال کر رہے تھے ، اس لیے بڑے ہی مؤثر انداز میں اس کا توڑ کیا گیا ہے ۔ </p>
<p>
          4)</p>شرک پر ان کا اصرار اور توحید کے خلاف ان کا جاہلانہ تعصب جوان کے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان اصل بنائے نزاع تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس اصلاح کے لیے شرک کے خلاف اور توحید کے حق میں مختصر مگر بہت وزنی اور دلنشین دلائل دیے گئے ہیں ۔           5)
<p>ان کی یہ غلط فہمی کہ نبی کو بار بار جھٹلانے کے باوجود جب ان پر کوئی عذاب نہیں آتا تو ضرور نبی جھوٹا ہے اور عذاب الٰہی
کی وہ وعیدیں جو وہ خدا کی طرف سے ہمیں  سناتا ہے محض خالی خولی دھمکیاں ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ اس کو استدلال اور نصیحت ، دونوں
طریقوں سے رفع کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔ </p>
اس کے بعد انبیاء علیہم السلام کی سیرتوں کے اہم واقعات سے چند نظیریں پیش کی گئی ہیں جن سے یہ سمجھانا مقصود ہے کہ تمام وہ پیغمبر جو انسانی تاریخ کے دوران میں خدا کی طرف سے آئے تھے ، انسان تھے اور نبوت کے امتیازی وصف کو چھوڑ کر دوسری صفات میں وہ ویسے ہی انسان ہوتے تھے جیسے دنیا کے عام انسان ہوا کرتے ہیں ۔ اُلوہیت اور خدائی کا ان میں شائبہ تک نہ تھا بلکہ اپنی ہر ضرورت کے لیے وہ خود خدا کے آگے ہاتھ پھیلاتے تھے ۔ اس اس کے ساتھ انہی تاریخی نظیروں سے دو باتیں اور بھی واضح کی گئی ہیں ۔ ایک یہ کہ انبیاء پر طرح طرح کے مصائب آئے ہیں ، اور ان کے مخالفین نے بھی ان کو برباد کرنے کی کوششیں کی ہیں ، مگر آخر کار اللہ تعالیٰ کی طرف سے غیر معمولی طریقوں پر ان کی نصرت فرمائی گئی ہے ۔ دوسرے یہ کہ تمام انبیاء کا دین ایک تھا اور وہ وہی دین تھا جسے محمد صلی اللہ علیہ وسلم پیش کر رہے ہیں ۔ نوع انسانی کا اصل دین یہی ہے ، اور باقی جتنے مذاہب دنیا میں بنے ہیں وہ محض گمراہ انسانوں کے ڈالے ہوئے تفرقے ہیں ۔
<p>
آخر میں یہ بتایا گیا ہے کہ انسان کی نجات کا انحصار اسی دین کی پیروی اختیار  کرنے پر ہے ۔ جو لوگ اسے قبول کریں گے وہی
خدا کی آخری عدالت سے کامیاب نکلیں گے اور زمین کے وارث ہوں گے ۔ اور جو لوگ اسے رد کر دیں گے وہ آخرت میں بد ترین انجام
سے دوچار ہوں گے ۔ اللہ تعالیٰ کی یہ بڑی مہربانی ہے کہ وہ فیصلے کے وقت سے پہلے اپنے نبی کے ذریعہ سے لوگوں کو اس حقیقت
سے آگاہ کر رہا ہے ۔ نادان ہیں وہ لوگ جو نبی کی آمد کو اپنے لیے رحمت کے بجائے زحمت سمجھ رہے ہیں ۔</p>

Verse by verse

Surah At-Takwir · لپیٹنا

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

  1. Ayah 1

    بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ إِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ

    جب سورج لپیٹ دیا جائے گا

  2. Ayah 2

    وَإِذَا النُّجُومُ انكَدَرَتْ

    اور جب تارے بکھر جائیں گے

  3. Ayah 3

    وَإِذَا الْجِبَالُ سُيِّرَتْ

    اور جب پہاڑ چلائے جائیں گے

  4. Ayah 4

    وَإِذَا الْعِشَارُ عُطِّلَتْ

    اور جب دس مہینے کی حاملہ اونٹنیاں اپنے حال پر چھوڑ دی جائیں گی

  5. Ayah 5

    وَإِذَا الْوُحُوشُ حُشِرَتْ

    اور جب جنگلی جانور سمیٹ کر اکٹھے کر دیے جائیں گے

  6. Ayah 6

    وَإِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ

    اور جب سمندر بھڑکا دیے جائیں گے

  7. Ayah 7

    وَإِذَا النُّفُوسُ زُوِّجَتْ

    اور جب جانیں (جسموں سے) جوڑ دی جائیں گی

  8. Ayah 8

    وَإِذَا الْمَوْءُودَةُ سُئِلَتْ

    اور جب زندہ گاڑی ہوئی لڑکی سے پوچھا جائے گا

  9. Ayah 9

    بِأَيِّ ذَنبٍ قُتِلَتْ

    کہ وہ کس قصور میں ماری گئی؟

  10. Ayah 10

    وَإِذَا الصُّحُفُ نُشِرَتْ

    اور جب اعمال نامے کھولے جائیں گے

  11. Ayah 11

    وَإِذَا السَّمَاءُ كُشِطَتْ

    اور جب آسمان کا پردہ ہٹا دیا جائے گا

  12. Ayah 12

    وَإِذَا الْجَحِيمُ سُعِّرَتْ

    اور جب جہنم دہکائی جائے گی

  13. Ayah 13

    وَإِذَا الْجَنَّةُ أُزْلِفَتْ

    اور جب جنت قریب لے آئی جائے گی

  14. Ayah 14

    عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّا أَحْضَرَتْ

    اُس وقت ہر شخص کو معلوم ہو جائے گا کہ وہ کیا لے کر آیا ہے

  15. Ayah 15

    فَلَا أُقْسِمُ بِالْخُنَّسِ

    پس نہیں، میں قسم کھاتا ہوں

  16. Ayah 16

    الْجَوَارِ الْكُنَّسِ

    پلٹنے اور چھپ جانے والے تاروں کی

  17. Ayah 17

    وَاللَّيْلِ إِذَا عَسْعَسَ

    اور رات کی جبکہ وہ رخصت ہوئی

  18. Ayah 18

    وَالصُّبْحِ إِذَا تَنَفَّسَ

    اور صبح کی جبکہ اس نے سانس لیا

  19. Ayah 19

    إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ

    یہ فی الواقع ایک بزرگ پیغام بر کا قول ہے

  20. Ayah 20

    ذِي قُوَّةٍ عِندَ ذِي الْعَرْشِ مَكِينٍ

    جو بڑی توانائی رکھتا ہے، عرش والے کے ہاں بلند مرتبہ ہے

  21. Ayah 21

    مُّطَاعٍ ثَمَّ أَمِينٍ

    وہاں اُس کا حکم مانا جاتا ہے، وہ با اعتماد ہے

  22. Ayah 22

    وَمَا صَاحِبُكُم بِمَجْنُونٍ

    اور (اے اہل مکہ) تمہارا رفیق مجنون نہیں ہے

  23. Ayah 23

    وَلَقَدْ رَآهُ بِالْأُفُقِ الْمُبِينِ

    اُس نے اُس پیغام بر کو روشن افق پر دیکھا ہے

  24. Ayah 24

    وَمَا هُوَ عَلَى الْغَيْبِ بِضَنِينٍ

    اور وہ غیب (کے اِس علم کو لوگوں تک پہنچانے) کے معاملے میں بخیل نہیں ہے

  25. Ayah 25

    وَمَا هُوَ بِقَوْلِ شَيْطَانٍ رَّجِيمٍ

    اور یہ کسی شیطان مردود کا قول نہیں ہے

  26. Ayah 26

    فَأَيْنَ تَذْهَبُونَ

    پھر تم لوگ کدھر چلے جا رہے ہو؟

  27. Ayah 27

    إِنْ هُوَ إِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعَالَمِينَ

    یہ تو سارے جہان والوں کے لیے ایک نصیحت ہے

  28. Ayah 28

    لِمَن شَاءَ مِنكُمْ أَن يَسْتَقِيمَ

    تم میں سے ہر اُس شخص کے لیے جو راہ راست پر چلنا چاہتا ہو

  29. Ayah 29

    وَمَا تَشَاءُونَ إِلَّا أَن يَشَاءَ اللَّهُ رَبُّ الْعَالَمِينَ

    اور تمہارے چاہنے سے کچھ نہیں ہوتا جب تک اللہ رب العالمین نہ چاہے

About the Quran

The Quran

The Quran is the holy scripture of Islam. Muslims believe that it is the literal word of Allah (سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى), revealed to the Prophet Muhammad (صلى الله عليه وسلم) over a period of 23 years. The Quran is composed of 114 Surahs (chapters) and contains 6,236 Ayat (verses). Muslim beliefs and practices are based on the Quran and the Sunnah, the teachings and example of the Prophet Muhammad (صلى الله عليه وسلم).

The Kaaba in Mecca
A mosque in South America

Meccan Surahs

The Meccan Surahs are the earliest revelations sent down to the Prophet Muhammad (صلى الله عليه وسلم). They were revealed in Mecca, hence their name. These revelations form the foundation of the Islamic faith and contain guidance for Muslims on how to live their lives. The Meccan Surahs are also notable for their poetic beauty and lyrical prose.

Medinan Surahs

The Medinan Surahs are the later Surahs that, according to Islamic tradition, were revealed in Medina after the Prophet Muhammad's (صلى الله عليه وسلم) hijra from Mecca. They were revealed by Allah (سبحانه و تعالى) when the Muslim community was larger and more developed, as opposed to their minority position in Mecca.

Stay connected

Receive regular updates

New features, translations and reminders from AskTheQuran, straight to your inbox.

We use Mailchimp to send updates. You can unsubscribe at any time. See our privacy policy.

We may receive a commission if you click on a link and buy a product, service or similar, at no extra cost to you. Details are in the disclosure policy.