Menu

Surah 'Abasa

تیوری چڑہائی

Chapter 80 of 114

خوبصورت تلاوت قرآن

Surah 'Abasa

Recited by Salaah Bukhaatir

Overview

About this Surah

At a glance

Surah 80 of 114

Translation
Urdu
Recitation
Salaah Bukhaatir

Ask the AI about this Surah

Commentary

Tafsir

<h2>زمانۂ نزول :</h2>
<p> اس سورۃ کا زمانہ  نزول سورہ مریم کے زمانے قریب ہی کا ہے۔ ممکن ہے کہ یہ ہجرت حبشہ کے زمانے میں یا اس کے بعد نازل ہوئی
ہو۔ بہر حال یہ امر یقینی ہے کہ حضرت عمرؓ کے قبول اسلام سے پہلے یہ نازل ہو چکی تھی۔ </p>
ان کے قبول اسلام کی سب سے زیادہ مشہور اور معتبر روایت یہ ہے کہ جب وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو قتل کرنے کی نیت سے نکلے تو راستہ میں ایک شخص نے ان سے کہا کہ پہلے اپنے گھر کی خبر لو، تمہاری اپنی بہن اور بہنوئی اس نئے دین میں داخل ہو چکے ہیں۔ یہ سن کر حضرت عمر سیدھے بہن کے گھر پہنچے۔ وہاں ان کی بہن فاطمہؓ بنت خطاب اور ان کے بہنوئی سعید بن زید بیٹھے ہوئے حضرت خبابؓ بن اَرت سے ایک صحیفے کی تعلیم حاصل کر رہے تھے۔ حضرت عمر کے آتے ہی ان کی بہن نے صحیفہ فوراً چھپا لیا۔ مگر حضرت عمر اس کے پڑھنے کی آواز سن چکے تھے۔ انہوں نے پہلے کچھ پوچھ گچھ کی۔ اس کے بعد بہنوئی پر پل پڑے اور مارنا شروع کر دیا۔ بہن نے بچانا چاہا تو انہیں بھی مارا یہاں تک کہ ان کا سر پھٹ گیا۔ آخر کار بہن اور بہنوئی دونوں نے کہا کہ ہاں ، ہم مسلمان ہو چکے ہیں ، تم سے جو کچھ ہو سکے کر لو۔ حضرت عمر اپنی بہن کا خون بہتے دیکھ کر کچھ پشیمان سے ہو گئے اور کہنے لگے کہ اچھا مجھے بھی وہ چیز دکھاؤ جو تم لوگ پڑھ رہے تھے۔ بہن نے پہلے قسم لی کہ وہ اسے پھاڑ نہ دیں گے۔ پھر کہا کہ تم جب تک غسل نہ کر لو، اس پاک صحیفے کو ہاتھ نہیں لگا سکتے۔ حضرت عمرؓ نے غسل کیا اور پھر وہ صحیفہ لے کر پڑھنا شروع کیا۔ اس میں یہی سورہ طٰہٰ لکھی ہوئی تھی۔ پڑھتے پڑھتے یک لخت ان کی زبان سے نکلا ’’ کیا خوب کلام ہے ‘‘۔ یہ سنتے ہیں حضرت خباب بن ارت ، جو ان کی آہٹ پاتے ہی چھپ گئے تھے ، باہر آ گئے اور کہا کہ ’’بخدا، مجھے توقع ہے کہ اللہ تعالیٰ تم سے اپنے نبی کی دعوت پھیلانے میں بڑی خدمت لے گا، کل ہی میں نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو یہ فرماتے سنا ہے کہ خدایا، ابولحکم بن ہشام (ابو جہل) یا عمر بن خطاب دونوں میں سے کسی کو اسلام کا حامی بنا دے۔ پس اے عمر ، اللہ کی طرف چلو ، اللہ کی طرف چلو‘‘۔ اس فقرے نے رہی سہی کسر پوری کر دی اور اسی وقت حضرت خباب کے ساتھ جا کر حضرت عمرؓ نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں اسلام قبول کر لیا۔ یہ ہجرت حبشہ سے تھوڑی مدت بعد ہی کا قصہ ہے۔
<h2>موضوع و مبحث :</h2>
<p> سورہ کا آغاز اس طرح ہوتا ہے کہ اے محمدؐ ! یہ قرآن تم پر کچھ اس لیے نازل نہیں کیا گیا ہے کہ خواہ مخواہ بیٹھے بٹھائے
تم کو ایک مصیبت میں ڈال دیا جائے۔ تم سے یہ مطالبہ نہیں ہے کہ پتھر کی چٹانوں سے دودھ کی نہر نکالو، نہ ماننے والوں کو
منوا کر چھوڑو، اور ہٹ دھرم لوگوں کے سلوں میں ایمان پیدا کر کے دکھاؤ۔ یہ تو بس ایک نصیحت اور یاد دہانی ہے تاکہ جس کے
دل میں خدا کا خوف ہو اور جو اس کی پکڑ سے بچنا چاہے وہ سن کر سیدھا ہو جائے۔ یہ مال زمین و آسمان کا کلام ہے۔ اور خدائی
اس کے سوا کسی کی نہیں ، یہ دونوں حقیقتیں اپنی جگہ اٹل ہیں ، خواہ کوئی مانے یا نہ مانے۔ </p>
اس تمہید کے بعد یکایک حضرت موسیٰ کا قصہ چھیڑ دیا گیا ہے۔ بظاہر یہ محض ایک قصے کی شکل میں بیان ہوا ہے۔ وقت کے حالات کی طرف اس میں کوئی اشارہ تک نہیں ہے۔ مگر جس ماحول میں یہ قصہ سنایا گیا ہے ، اس کے حالات سے مل جل کر یہ اہل مکہ سے کچھ اور باتیں کرتا نظر آتا ہے جو اس کے الفاظ سے نہیں بلکہ اس کے بین السطور سے ادا ہو رہی ہیں۔ان باتوں کی تشریح سے پہلے یہ بات اچھی طرح سمجھ لیجیئے کہ عرب میں کثیر التعداد یہودیوں کی موجود گی اور اہل عرب پر یہودیوں کے علمی و ذہنی تفوق کی وجہ سے ، نیز روم اور حبش کی عیسائی سلطنتوں کے اثر سے بھی، عربوں میں بالعموم حضرت موسیٰ علیہ السلام کو خدا کا نبی تسلیم کیا جاتا تھا۔ اس حقیقت کو نظر میں رکھنے کے بعد اب دیکھیے کہ وہ باتیں کیا ہیں جو اس قصے کے بین السطور سے اہل مکہ کو جتائی گئی ہیں :۔ 
<p>
          1)۔ اللہ تعالیٰ کسی کو نبوت اس طرح عطا نہیں کیا کر تا کہ ڈھول تاشے اور نفیریاں بجا کر ایک خلق اکٹھی کر لی
جائے اور پھر باقاعدہ ایک تقریب کی صورت میں یہ اعلان کیا جائے کہ آج سے فلاں شخص کو ہم نے نبی مقرر کیا ہے۔ نبوت تو جس
کو بھی دی گئی ہے ، کچھ اسی طرح بصیغۂ  راز دی گئی ہے جیسے حضرت موسیٰ کو دی گئی تھی۔ اب تمہیں کیوں اس بات پر اچنبھا ہے
کہ محمد صلی اللہ علیہ و سلم یکایک نبی بن کر تمہارے سامنے آ گئے اور اس کا اعلان نہ آسمان سے ہوا نہ زمین پر فرشتوں نے
چل پھر کر اس کو ڈھول پیٹا۔ ایسے اعلانات پہلے نبیوں کے تقرر پر کب ہوئے تھے کہ آج ہوتے ؟</p>
          2 )۔ جو بات آج محمد صلی اللہ علیہ و سلم پیش کر رہے ہیں (یعنی توحید اور آخرت) ٹھیک وہی بات منصب نبوت پر مقرر کرتے وقت اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کو سکھائی تھی۔
<p>
          3)۔ پھر جس طرح آج محمد صلی اللہ علیہ و سلم کو بغیر کسی سرو سامان اور لاؤ لشکر کے تن تنہا قریش کے مقابلے
میں دعوت حق کا عَلم بردار بنا کر کھڑا کر دیا گیا ہے ، ٹھیک اسی طرح موسیٰ علیہ السلام بھی یکایک اتنے بڑے کام پر مامور
کر دیے گئے تھے کہ جا کر فرعون جیسے جبار بادشاہ کو سرکشی سے باز آنے کی تلقین کریں۔ کوئی لشکر ان کے ساتھ بھی نہیں
بھیجا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ کے معاملے ایسے ہی عجیب ہیں۔ وہ مدین سے مصر جانے والے ایک مسافر کو راہ چلتے پکڑ کر بلا
لیتا ہے اور کہتا ہے کہ جا اور وقت کے سب سے بڑے جابر حکمراں سے ٹکرا جا۔ بہت کیا تو اس کی درخواست پر اس کے بھائی کو
مدد گار کے طور پر دے دیا۔ کوئی فوج فرّا اور ہاتھی گھوڑے اس کار عظیم کے لیے اس کو نہیں دیئے گئے۔ </p>
       4)۔ جو اعتراضات اور شبہات اور الزامات اور مکر و ظلم کے ہتھکنڈے اہل مکہ آج محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے مقابلے میں استعمال کر رہے ہیں ان سے بڑھ چڑھ کر وہی سب ہتھیار فرعون نے موسیٰ علیہ السلام کے مقابلے میں استعمال کیے تھے۔ پھر دیکھ لو کہ کس طرح وہ اپنی ساری تدبیروں میں ناکام ہوا اور آخر کا کون غالب آ کر رہا؟ خدا کا بے سرو سامان نبی ؟ یا لاؤ لشکر والا فرعون ؟ اس سلسلہ میں خود مسلمانوں کو بھی ایک غیر ملفوظ تسلی دی گئی ہے کہ اپنی بے سر و سامانی اور کفار قریش کے سرو سامان پر نہ جائیں ، جس کام کے پیچھے خدا کا ہاتھ ہوتا ہے وہ آخر کار غالب ہی ہو کر رہتا ہے۔ اسی کے ساتھ مسلمانوں کے سامنے ساحران مصر کا نمونہ بھی پیش کیا گیا ہے کہ جب حق ان پر منکشف ہو گیا تو وہ بے دھڑک اس پر ایمان لے آئے اور پھر فرعون کے انتقام کا خوف انہیں بال برابر بھی ایمان کی راہ سے نہ ہٹا سکا۔
<p>
         5 )۔ آخر میں بنی اسرائیل کی تاریخ سے ایک شہادت پیش کرتے ہوئے یہ بھی بتایا گیا کہ دیوتاؤں اور معبودوں کے
گھڑے جانے کی ابتدا کس مضحکہ انگیز طریقے سے ہوا کرتی ہے اور یہ کہ خدا کے نبی اس گھناؤنی چیز کا نام و نشان تک باقی
رہنے کے کبھی روادار نہیں ہوئے ہیں۔ پس آج اس شرک اور بت پرستی کی جو مخالفت محمد صلی اللہ علیہ و سلم کر رہے ہیں وہ
نبوت کی تاریخ میں کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے۔ </p>
اس طرح قصۂ  موسیٰ کے پیرائے میں ان تمام معاملات پر روشنی ڈالی گئی ہے جو اس وقت ان کی اور نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی باہمی کشمکش سے تعلق رکھتے تھے۔ اس کے بعد ایک مختصر وعظ کیا گیا ہے کہ بہر حال یہ قرآن ایک نصیحت اور یاد دہانی ہے جو تمہاری اپنی زبان میں تم کو سمجھانے کے لیے بھیجی گئی ہے۔ اس پر کان دھرو گے اور اس سے سبق لو گے تو اپنا ہی بھلا کرو گے۔نہ مانو گے تو خود برا انجام دیکھو گے۔
<p>
پھر آدم علیہ السلام کا قصہ بیان کر کے یہ بات سمجھائی گئی ہے کہ جس روش پر تم لوگ جا رہے ہو یہ دراصل شیطان کی پیروی
ہے۔ اَحیاناً شیطان کے بہکائے میں آ جاتا تو خیر ایک وقتی کمزوری ہے جس سے انسان بمشکل ہی بچ سکتا ہے۔ مگر آدمی کے لیے
صحیح طریق کار یہ ہے کہ جب اس پر اس کی غلطی واضح کر دی جائے تو وہ اپنے باپ آدم کی طرح صاف صاف اس کا اعتراف کر لے ،
توبہ کرے ، اور پھر خدا کی بندگی کی طرف پلٹ آئے۔ غلطی اور اس پر ہٹ اور نصیحت پر نصیحت کیے جانے پر بھی اس سے باز نہ
آنا، اپنے پاؤں پر آپ کلہاڑی مارنا ہے جس کا نقصان آدمی کو خود ہی بھگتنا پڑے گا، کسی دوسرے کا کچھ نہ بگڑے گا۔ </p>
آخر میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم اور مسلمانوں کو سمجھایا گیا ہے کہ ان منکرین  حق کے معاملے میں جلدی اور بے صبری نہ کرو۔ خدا کا قاعدہ یہ ہے کہ وہ کسی قوم کو اس کے کفر انکار پر فوراً نہیں پکڑ لیتا بلکہ سنبھلنے کے لیے کافی مہلت دیتا ہے۔
<p>
لہٰذا گھبراؤ نہیں۔ صبر کے ساتھ ان لوگوں کی زیادتیاں برداشت کرتے چلے جاؤ۔ اور نصیحت کا حق ادا کرتے رہو۔ </p>
<p>اسی سلسلے میں نماز کی تاکید کی گئی ہے تاکہ اہل ایمان میں صبر ، تحمل ، قناعت ، رضا بقضا اور احتساب کی وہ صفا ت پیدا
ہوں جو دعوت حق کی خدمت کے لیے مطلوب ہیں۔</p>

Verse by verse

Surah 'Abasa · تیوری چڑہائی

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

  1. Ayah 1

    بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ عَبَسَ وَتَوَلَّىٰ

    ترش رو ہوا، اور بے رخی برتی

  2. Ayah 2

    أَن جَاءَهُ الْأَعْمَىٰ

    اِس بات پر کہ وہ اندھا اُس کے پاس آ گیا

  3. Ayah 3

    وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّهُ يَزَّكَّىٰ

    تمہیں کیا خبر، شاید وہ سدھر جائے

  4. Ayah 4

    أَوْ يَذَّكَّرُ فَتَنفَعَهُ الذِّكْرَىٰ

    یا نصیحت پر دھیان دے، اور نصیحت کرنا اس کے لیے نافع ہو؟

  5. Ayah 5

    أَمَّا مَنِ اسْتَغْنَىٰ

    جو شخص بے پروائی برتتا ہے

  6. Ayah 6

    فَأَنتَ لَهُ تَصَدَّىٰ

    اس کی طرف تو تم توجہ کرتے ہو

  7. Ayah 7

    وَمَا عَلَيْكَ أَلَّا يَزَّكَّىٰ

    حالانکہ اگر وہ نہ سدھرے تو تم پر اس کی کیا ذمہ داری ہے؟

  8. Ayah 8

    وَأَمَّا مَن جَاءَكَ يَسْعَىٰ

    اور جو خود تمہارے پاس دوڑا آتا ہے

  9. Ayah 9

    وَهُوَ يَخْشَىٰ

    اور وہ ڈر رہا ہوتا ہے

  10. Ayah 10

    فَأَنتَ عَنْهُ تَلَهَّىٰ

    اس سے تم بے رخی برتتے ہو

  11. Ayah 11

    كَلَّا إِنَّهَا تَذْكِرَةٌ

    ہرگز نہیں، یہ تو ایک نصیحت ہے

  12. Ayah 12

    فَمَن شَاءَ ذَكَرَهُ

    جس کا جی چاہے اِسے قبول کرے

  13. Ayah 13

    فِي صُحُفٍ مُّكَرَّمَةٍ

    یہ ایسے صحیفوں میں درج ہے جو مکرم ہیں

  14. Ayah 14

    مَّرْفُوعَةٍ مُّطَهَّرَةٍ

    بلند مرتبہ ہیں، پاکیزہ ہیں

  15. Ayah 15

    بِأَيْدِي سَفَرَةٍ

    معزز اور نیک کاتبوں کے

  16. Ayah 16

    كِرَامٍ بَرَرَةٍ

    ہاتھوں میں رہتے ہیں

  17. Ayah 17

    قُتِلَ الْإِنسَانُ مَا أَكْفَرَهُ

    لعنت ہو انسان پر، کیسا سخت منکر حق ہے یہ

  18. Ayah 18

    مِنْ أَيِّ شَيْءٍ خَلَقَهُ

    کس چیز سے اللہ نے اِسے پیدا کیا ہے؟

  19. Ayah 19

    مِن نُّطْفَةٍ خَلَقَهُ فَقَدَّرَهُ

    نطفہ کی ایک بوند سے اللہ نے اِسے پیدا کیا، پھر اِس کی تقدیر مقرر کی

  20. Ayah 20

    ثُمَّ السَّبِيلَ يَسَّرَهُ

    پھر اِس کے لیے زندگی کی راہ آسان کی

  21. Ayah 21

    ثُمَّ أَمَاتَهُ فَأَقْبَرَهُ

    پھر اِسے موت دی اور قبر میں پہنچایا

  22. Ayah 22

    ثُمَّ إِذَا شَاءَ أَنشَرَهُ

    پھر جب چاہے وہ اِسے دوبارہ اٹھا کھڑا کرے

  23. Ayah 23

    كَلَّا لَمَّا يَقْضِ مَا أَمَرَهُ

    ہرگز نہیں، اِس نے وہ فرض ادا نہیں کیا جس کا اللہ نے اِسے حکم دیا تھا

  24. Ayah 24

    فَلْيَنظُرِ الْإِنسَانُ إِلَىٰ طَعَامِهِ

    پھر ذرا انسان اپنی خوراک کو دیکھے

  25. Ayah 25

    أَنَّا صَبَبْنَا الْمَاءَ صَبًّا

    ہم نے خوب پانی لنڈھایا

  26. Ayah 26

    ثُمَّ شَقَقْنَا الْأَرْضَ شَقًّا

    پھر زمین کو عجیب طرح پھاڑا

  27. Ayah 27

    فَأَنبَتْنَا فِيهَا حَبًّا

    پھر اُس کے اندر اگائے غلے

  28. Ayah 28

    وَعِنَبًا وَقَضْبًا

    اور انگور اور ترکاریاں

  29. Ayah 29

    وَزَيْتُونًا وَنَخْلًا

    اور زیتون اور کھجوریں

  30. Ayah 30

    وَحَدَائِقَ غُلْبًا

    اور گھنے باغ

  31. Ayah 31

    وَفَاكِهَةً وَأَبًّا

    اور طرح طرح کے پھل، اور چارے

  32. Ayah 32

    مَّتَاعًا لَّكُمْ وَلِأَنْعَامِكُمْ

    تمہارے لیے اور تمہارے مویشیوں کے لیے سامان زیست کے طور پر

  33. Ayah 33

    فَإِذَا جَاءَتِ الصَّاخَّةُ

    آخرکار جب وہ کان بہرے کر دینے والی آواز بلند ہوگی

  34. Ayah 34

    يَوْمَ يَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ أَخِيهِ

    اُس روز آدمی اپنے بھائی

  35. Ayah 35

    وَأُمِّهِ وَأَبِيهِ

    اور اپنی ماں اور اپنے باپ

  36. Ayah 36

    وَصَاحِبَتِهِ وَبَنِيهِ

    اور اپنی بیوی اور اپنی اولاد سے بھاگے گا

  37. Ayah 37

    لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ يَوْمَئِذٍ شَأْنٌ يُغْنِيهِ

    ان میں سے ہر شخص پر اس دن ایسا وقت آ پڑے گا کہ اسے اپنے سوا کسی کا ہوش نہ ہوگا

  38. Ayah 38

    وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ مُّسْفِرَةٌ

    کچھ چہرے اُس روز دمک رہے ہوں گے

  39. Ayah 39

    ضَاحِكَةٌ مُّسْتَبْشِرَةٌ

    ہشاش بشاش اور خوش و خرم ہوں گے

  40. Ayah 40

    وَوُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ عَلَيْهَا غَبَرَةٌ

    اور کچھ چہروں پر اس روز خاک اڑ رہی ہوگی

  41. Ayah 41

    تَرْهَقُهَا قَتَرَةٌ

    اور کلونس چھائی ہوئی ہوگی

  42. Ayah 42

    أُولَـٰئِكَ هُمُ الْكَفَرَةُ الْفَجَرَةُ

    یہی کافر و فاجر لوگ ہوں گے

About the Quran

The Quran

The Quran is the holy scripture of Islam. Muslims believe that it is the literal word of Allah (سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى), revealed to the Prophet Muhammad (صلى الله عليه وسلم) over a period of 23 years. The Quran is composed of 114 Surahs (chapters) and contains 6,236 Ayat (verses). Muslim beliefs and practices are based on the Quran and the Sunnah, the teachings and example of the Prophet Muhammad (صلى الله عليه وسلم).

The Kaaba in Mecca
A mosque in South America

Meccan Surahs

The Meccan Surahs are the earliest revelations sent down to the Prophet Muhammad (صلى الله عليه وسلم). They were revealed in Mecca, hence their name. These revelations form the foundation of the Islamic faith and contain guidance for Muslims on how to live their lives. The Meccan Surahs are also notable for their poetic beauty and lyrical prose.

Medinan Surahs

The Medinan Surahs are the later Surahs that, according to Islamic tradition, were revealed in Medina after the Prophet Muhammad's (صلى الله عليه وسلم) hijra from Mecca. They were revealed by Allah (سبحانه و تعالى) when the Muslim community was larger and more developed, as opposed to their minority position in Mecca.

Stay connected

Receive regular updates

New features, translations and reminders from AskTheQuran, straight to your inbox.

We use Mailchimp to send updates. You can unsubscribe at any time. See our privacy policy.

We may receive a commission if you click on a link and buy a product, service or similar, at no extra cost to you. Details are in the disclosure policy.