Menu

Surah An-Naba

خبر

Chapter 78 of 114

خوبصورت تلاوت قرآن

Surah An-Naba

Recited by Salaah Bukhaatir

Overview

About this Surah

At a glance

Surah 78 of 114

Translation
Urdu
Recitation
Salaah Bukhaatir

Ask the AI about this Surah

Commentary

Tafsir

<h2>نام :</h2>
<p>  اس سورہ کا نام پہلے رکوع کی نویں آیت</p>
<span class="ar indopak"> اِذْ اَوَی الْفِتْیَۃُ اِلَی الْکَھْفِ </span><p>سے ماخوذ ہے۔ اس نام کا مطلب یہ ہے کہ وہ سورت
جس میں کہف کا لفظ آیا ہے۔ </p>
<h2>زمانۂ نزول :</h2>
<p>  یہاں سے ان سورتوں کا آغاز ہوتا ہے جو مکہ زندگی کے تیسرے دور میں نازل ہوئی ہیں۔ مکی زندگی کو ہم نے چار بڑے بڑے دوروں
میں تقسیم کیا ہے جن کی تفصیل سورہ انعام کے دیباچے میں گزر چکی ہے۔ اس تقسیم کے لحاظ سے تیسرا دور تقریباً ۵ نبوی کے
آغاز سے شروع ہو کر قریب قریب ۱۰ نبوی تک چلتا ہے۔ اس دور کو جو چیز دوسرے دور سے ممتاز کرتی ہے وہ یہ ہے کہ دوسرے دور
میں تو قریش نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم اور آپ کی تحریک اور جماعت کو دبانے کے لیے زیادہ تر تضحیک ، اِستہزاء ،
اعتراضات، الزامات ، تخویف، اِطماع اور مخالفانہ پروپیگنڈے پر اعتماد کر رکھا تھا، مگر اس تیسرے دور میں انہوں نے ظلم و
ستم ، مار پیٹ اور معاشی دباؤ کے ہتھیار پوری سختی کے ساتھ استعمال کیے ، یہاں تک کہ مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد کو ملک
چھوڑ کر حبش کی طرف نکل جانا پڑا اور باقی ماندہ مسلمانوں کو اور ان کے ساتھ خود نبی صلی اللہ علیہ و سلم اور آپ کے
خاندان کو شعب ابی طالب میں محصور کر کیان کا مکمل معاشی اور معاشرتی مقاطعہ کر دیا گیا۔ تاہم اس دور میں دو شخصیتیں ابو
طالب اور اُم المومنین حضرت خدیجہؓ ایسی تھیں جن کے ذاتی اثر کی وجہ سے قریش کے دو بڑے خاندان بنی صلی اللہ علیہ و سلم
کی پشت پناہی کر رہے تھے۔ ۱۰ نبوی میں ان دونوں کی آنکھیں بند ہوتے ہی یہ دور ختم ہو گیا اور چوتھا دور شروع ہوا جس میں
مسلمانوں پر مکے کی زندگی تنگ کر دی گئی یہاں تک کہ آخر کار نبی صلی اللہ علیہ و سلم سمیت تمام مسلمانوں کو مکہ سے نکل
جانا پڑا۔ </p>
سورہ کہف کے مضمون پر غور کرنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ تیسرے دور کے آغاز میں نازل ہوئی ہوگی جبکہ ظلم و ستم اور مزاحمت نے شدت تو اختیار کر لی بھی، مگر ابھی ہجرت حبشہ واقع نہ ہوئی تھی۔ اس وقت جو مسلمان ستائے جا رہے تھے ان کو اصحاب کہف کا قصہ سنایا گیا تا کہ ان کی ہمت بندھے اور انہیں معلوم ہو کہ اہل ایمان اپنا ایمان بچانے کے لیے اس سے پہلے کیا کچھ کر چکے ہیں۔<p></p>
<h2>موضوع اور مضمون:</h2>
<p>  یہ سورہ مشرکین مکہ کے تین سوالات کے جواب میں نازل ہوئی ہے جو انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا امتحان لینے کے لیے
اہل کتاب کے مشورے سے آپ کے سامنے پیش کیے تھے : اصحاب کہف کون تھے ؟ قصہ خضر کی حقیقت کیا ہے ؟(روایات میں آتا ہے کہ
دوسرا سوال روح کے متعلق تھا جس کا جواب سورہ بنی اسرائیل رکوع ۱۰ میں دیا گیا ہے۔ مگر سورہ کہف اور بنی اسرائیل کے
زمانہ نزول میں کئی سال کا فرق ہے ، اور سورہ کہف میں دو کے بجائے تین قصے بیان کیے گئے ہیں ، اس لیے ہم سمجھتے کہ دوسرا
سوال در اصل قصہ خضر سے متعلق تھا نہ کہ روح سے متعلق۔ خود قرآن میں بھی ایک اشارہ ایسا موجود ہے جس سے ہمارے اس خیال کی
تائید ہوتی ہے ’’ملاحظہ ہو حاشیہ نمبر ۶۱‘‘)۔ اور ذوالقرنین کا کیا قصہ ہے ؟ یہ تینوں قصے عیسائیوں اور یہودیوں کی تاریخ
سے متعلق تھے۔ حجاز میں ان کا کوئی چرچا نہ تھا۔ اسی لیے اہل کتاب نے امتحان کی غرض سے انکا انتخاب کیا تھا تاکہ یہ بات
کھل جائے کہ واقعی محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس کوئی غیبی ذریعہ علم ہے یا نہیں۔ مگر اللہ تعالیٰ نے صرف یہی نہیں کہ
اپنے نبی کی زبان سے ان کے سوالات کا پورا جواب دیا، بلکہ اُن کے اپنے پُوچھے ہوئے تینوں قصوں کو پوری طرح اس صورت حال
پر چسپاں بھی کر دیا جو اس وقت مکہ میں کفر و اسلام کے درمیان در پیش تھی: </p>
          ۱)۔ اصحاب کہف کے متعلق بتایا کہ وہ اسی توحید کے قائل تھے جس کی دعوت یہ قرآن پیش کر رہا ہے ، اور ان کا حال مکے کے مٹھی بھر مظلوم مسلمانوں کے حال سے اور ان کی قوم کا رویہ کفار قریش کے رویہ سے کچھ مختلف نہ تھا۔ پھر اسی قصے سے اہل ایمان کو یہ سبق دیا کہ اگر کفار کا غلبہ بے پناہ و اور ایک مومن کو ظالم معاشرے میں سانس لینے تک کی مہلت نہ دی جا رہی ہو، تب بھی اس کو باطل کے آگے سر نہ جھکانا چاہئے بلکہ اللہ کے بھروسے پرتن بتقدیر نکل جانا چاہیے۔ اسی سلسلے میں ضمناً کفار مکہ کو یہ بھی بتایا کہ اصحاب کہف کا قصہ عقیدۂ آخرت کی صحت کا ایک ثبوت ہے۔ جس طرح خدا نے اصحاب کہف کو ایک مدت دراز تک موت کی نیند سلانے کے بعد پھر جلا اُٹھایا اُسی طرح اُس کی قدرت سے وہ بعث بعد الموت بھی کچھ بعید نہیں ہے جسے ماننے سے تم انکار کر رہے ہو۔
<p>
          ۲)۔ اصحاب کہف کے قصے سے راستہ نکال کر اس ظلم و ستم اور تحقیر و تذلیل پر گفتگو شروع کر دی گئی جو مکے کے
سردار اور کھاتے پیتے لوگ اپنی بستی کی چھوٹی سی نو مسلم جماعت کے ساتھ برت رہے تھے۔ اس سلسلے میں ایک طرف نبی صلی اللہ
علیہ و سلم کو ہدایت کی گئی کہ نہ ان ظالموں سے کوئی مصالحت کرو اور نہ اپنے غریب ساتھیوں کے مقابلے میں ان بڑے بڑے
لوگوں کو کوئی اہمیت دو۔ دوسری طرف ان رئیسوں کو نصیحت کی گئی کہ اپنے چند روزہ عیش زندگانی پر نہ پھولو بلکہ ان
بھلائیوں کے طالب بنو جو ابدی اور پائدار ہیں۔ </p>
          ۳)۔ اسی سلسلۂ کلام میں قصہ خضر و موسیٰ کچھ اس انداز سے سنایا گیا کہ اس میں کفار کے سوالات کا جواب بھی تھا اور مومنین کے لیے سامان تسلی بھی۔ اس قصے میں در اصل جو سبق دیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ اللہ بکی مشیت کا کارخانہ جن مصلحتوں پر چل رہا ہے وہ چونکہ تمہاری نظر سے پوشیدہ ہیں اس لیے تم بات بات پر حیران ہوتے ہو کہ یہ کیوں ہوا؟ یہ کیا ہو گیا؟ یہ تو بڑا غضب ہوا ! حالانکہ اگر پردہ اُٹھا دیا جائے تو تمہیں خود معلوم ہو جائے کہ یہاں جو کچھ ہو رہا ہے ٹھیک ہو رہا ہے اور بظاہر جس چیز میں برائی نظر آتی ہے ، آخر کار وہ بھی کسی نتیجہ خیر ہی کے لیے ہوتی ہے۔
<p>
          ۴ )۔ اس کے بعد قصۂ ذوالقرنین ارشاد ہوتا ہے اور اس میں سائلوں کو یہ سبق دیا جاتا ہے کہ تم تو اپنی اتنی ذرا
ذرا سی سرداریوں پر پھول رہے ہو ، حالانکہ ذوالقرنین اتنا بڑا فرمانروا اور ایسا زبردست فاتح اور اس قدر عظیم الشان
ذرائع کا مالک ہو کر بھی اپنی حقیقت کو نہ بھولا تھا اور اپنے خالق کے آگے ہمیشہ سر تسلیم خم رکھتا تھا۔ نیز یہ کہ تم
اپنی ذرا ذرا سی حویلیوں اور بغیچوں کی بہار کو لازوال سمجھ بیٹھے ہو، مگر وہ دنیا کی سب سے زیادہ مستحکم دیوار تحفظ بنا
کر بھی یہی سمجھتا تھا کہ اصل بھروسے کے لائق اللہ ہے نہ کہ یہ دیوار۔ اللہ مرضی جب تک ہے یہ دیوار دشمنوں کو روکتی رہے
گی۔ اور جب اس کی مرضی کچھ اور ہوگی تو اس دیوار میں رخنوں اور شگافوں کے سوا کچھ نہ رہے گا۔ </p>
اس طرح کفار کے امتحانی سوالات کو اّنہی پر پوری طرح اُلٹ دینے کے بعد خاتمۂ کلام میں پھر ان ہی باتوں کو دہرا دیا گیا ہے جو آغاز کلام میں ارشاد ہوئی ہیں ، یعنی یہ کہ توحید اور آخرت سراسر حق ہیں اور تمہاری اپنی بھلائی اسی میں ہے کہ انہیں مانو۔ ان کے مطابق اپنی اصلاح کرو اور خدا کے حضور اپنے آپ کو جواب دہ سمجھتے ہوئے دنیا میں زندگی بسر کرو۔ ایسا نہ کرو گے تو تمہاری اپنی زندگی خراب ہوگی اور تمہارا سب کچھ کیا کرایا اکارت جائے گا۔

Verse by verse

Surah An-Naba · خبر

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

  1. Ayah 1

    بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ عَمَّ يَتَسَاءَلُونَ

    یہ لوگ کس چیز کے بارے میں پوچھ گچھ کر رہے ہیں؟

  2. Ayah 2

    عَنِ النَّبَإِ الْعَظِيمِ

    کیا اُس بڑی خبر کے بارے میں

  3. Ayah 3

    الَّذِي هُمْ فِيهِ مُخْتَلِفُونَ

    جس کے متعلق یہ مختلف چہ میگوئیاں کرنے میں لگے ہوئے ہیں؟

  4. Ayah 4

    كَلَّا سَيَعْلَمُونَ

    ہرگز نہیں، عنقریب اِنہیں معلوم ہو جائیگا

  5. Ayah 5

    ثُمَّ كَلَّا سَيَعْلَمُونَ

    ہاں، ہرگز نہیں، عنقریب اِنہیں معلوم ہو جائے گا

  6. Ayah 6

    أَلَمْ نَجْعَلِ الْأَرْضَ مِهَادًا

    کیا یہ واقعہ نہیں ہے کہ ہم نے زمین کو فرش بنایا

  7. Ayah 7

    وَالْجِبَالَ أَوْتَادًا

    اور پہاڑوں کو میخوں کی طرح گاڑ دیا

  8. Ayah 8

    وَخَلَقْنَاكُمْ أَزْوَاجًا

    اور تمہیں (مَردوں اور عورتوں کے) جوڑوں کی شکل میں پیدا کیا

  9. Ayah 9

    وَجَعَلْنَا نَوْمَكُمْ سُبَاتًا

    اور تمہاری نیند کو باعث سکون بنایا

  10. Ayah 10

    وَجَعَلْنَا اللَّيْلَ لِبَاسًا

    اور رات کو پردہ پوش

  11. Ayah 11

    وَجَعَلْنَا النَّهَارَ مَعَاشًا

    اور دن کو معاش کا وقت بنایا

  12. Ayah 12

    وَبَنَيْنَا فَوْقَكُمْ سَبْعًا شِدَادًا

    اور تمہارے اوپر سات مضبوط آسمان قائم کیے

  13. Ayah 13

    وَجَعَلْنَا سِرَاجًا وَهَّاجًا

    اور ایک نہایت روشن اور گرم چراغ پیدا کیا

  14. Ayah 14

    وَأَنزَلْنَا مِنَ الْمُعْصِرَاتِ مَاءً ثَجَّاجًا

    اور بادلوں سے لگاتار بارش برسائی

  15. Ayah 15

    لِّنُخْرِجَ بِهِ حَبًّا وَنَبَاتًا

    تاکہ اس کے ذریعہ سے غلہ اور سبزی

  16. Ayah 16

    وَجَنَّاتٍ أَلْفَافًا

    اور گھنے باغ اگائیں؟

  17. Ayah 17

    إِنَّ يَوْمَ الْفَصْلِ كَانَ مِيقَاتًا

    بے شک فیصلے کا دن ایک مقرر وقت ہے

  18. Ayah 18

    يَوْمَ يُنفَخُ فِي الصُّورِ فَتَأْتُونَ أَفْوَاجًا

    جس روز صور میں پھونک مار دی جائے گی، تم فوج در فوج نکل آؤ گے

  19. Ayah 19

    وَفُتِحَتِ السَّمَاءُ فَكَانَتْ أَبْوَابًا

    اور آسمان کھول دیا جائے گا حتیٰ کہ وہ دروازے ہی دروازے بن کر رہ جائے گا

  20. Ayah 20

    وَسُيِّرَتِ الْجِبَالُ فَكَانَتْ سَرَابًا

    اور پہاڑ چلائے جائیں گے یہاں تک کہ وہ سراب ہو جائیں گے

  21. Ayah 21

    إِنَّ جَهَنَّمَ كَانَتْ مِرْصَادًا

    درحقیقت جہنم ایک گھات ہے

  22. Ayah 22

    لِّلطَّاغِينَ مَآبًا

    سرکشوں کا ٹھکانا

  23. Ayah 23

    لَّابِثِينَ فِيهَا أَحْقَابًا

    جس میں وہ مدتوں پڑے رہیں گے

  24. Ayah 24

    لَّا يَذُوقُونَ فِيهَا بَرْدًا وَلَا شَرَابًا

    اُس کے اندر کسی ٹھنڈک اور پینے کے قابل کسی چیز کا مزہ وہ نہ چکھیں گے

  25. Ayah 25

    إِلَّا حَمِيمًا وَغَسَّاقًا

    کچھ ملے گا تو بس گرم پانی اور زخموں کا دھوون

  26. Ayah 26

    جَزَاءً وِفَاقًا

    (اُن کے کرتوتوں) کا بھرپور بدلہ

  27. Ayah 27

    إِنَّهُمْ كَانُوا لَا يَرْجُونَ حِسَابًا

    وہ کسی حساب کی توقع نہ رکھتے تھے

  28. Ayah 28

    وَكَذَّبُوا بِآيَاتِنَا كِذَّابًا

    اور ہماری آیات کو انہوں نے بالکل جھٹلا دیا تھا

  29. Ayah 29

    وَكُلَّ شَيْءٍ أَحْصَيْنَاهُ كِتَابًا

    اور حال یہ تھا کہ ہم نے ہر چیز گن گن کر لکھ رکھی تھی

  30. Ayah 30

    فَذُوقُوا فَلَن نَّزِيدَكُمْ إِلَّا عَذَابًا

    اب چکھو مزہ، ہم تمہارے لیے عذاب کے سوا کسی چیز میں ہرگز اضافہ نہ کریں گے

  31. Ayah 31

    إِنَّ لِلْمُتَّقِينَ مَفَازًا

    یقیناً متقیوں کے لیے کامرانی کا ایک مقام ہے

  32. Ayah 32

    حَدَائِقَ وَأَعْنَابًا

    باغ اور انگور

  33. Ayah 33

    وَكَوَاعِبَ أَتْرَابًا

    اور نوخیر ہم سن لڑکیاں

  34. Ayah 34

    وَكَأْسًا دِهَاقًا

    اور چھلکتے ہوئے جام

  35. Ayah 35

    لَّا يَسْمَعُونَ فِيهَا لَغْوًا وَلَا كِذَّابًا

    وہاں کوئی لغو اور جھوٹی بات وہ نہ سنیں گے

  36. Ayah 36

    جَزَاءً مِّن رَّبِّكَ عَطَاءً حِسَابًا

    جزا اور کافی انعام تمہارے رب کی طرف سے

  37. Ayah 37

    رَّبِّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا الرَّحْمَـٰنِ ۖ لَا يَمْلِكُونَ مِنْهُ خِطَابًا

    اُس نہایت مہربان خدا کی طرف سے جو زمین اور آسمانوں کا اور ان کے درمیان کی ہر چیز کا مالک ہے جس کے سامنے کسی کو بولنے کا یارا نہیں

  38. Ayah 38

    يَوْمَ يَقُومُ الرُّوحُ وَالْمَلَائِكَةُ صَفًّا ۖ لَّا يَتَكَلَّمُونَ إِلَّا مَنْ أَذِنَ لَهُ الرَّحْمَـٰنُ وَقَالَ صَوَابًا

    جس روز روح اور ملائکہ صف بستہ کھڑے ہونگے، کوئی نہ بولے گا سوائے اُس کے جسے رحمٰن اجازت دے اور جو ٹھیک بات کہے

  39. Ayah 39

    ذَٰلِكَ الْيَوْمُ الْحَقُّ ۖ فَمَن شَاءَ اتَّخَذَ إِلَىٰ رَبِّهِ مَآبًا

    وہ دن برحق ہے، اب جس کا جی چاہے اپنے رب کی طرف پلٹنے کا راستہ اختیار کر لے

  40. Ayah 40

    إِنَّا أَنذَرْنَاكُمْ عَذَابًا قَرِيبًا يَوْمَ يَنظُرُ الْمَرْءُ مَا قَدَّمَتْ يَدَاهُ وَيَقُولُ الْكَافِرُ يَا لَيْتَنِي كُنتُ تُرَابًا

    ہم نے تم لوگوں کو اُس عذاب سے ڈرا دیا ہے جو قریب آ لگا ہے جس روز آدمی وہ سب کچھ دیکھ لے گا جو اس کے ہاتھوں نے آگے بھیجا ہے، اور کافر پکار اٹھے گا کہ کاش میں خاک ہوتا

About the Quran

The Quran

The Quran is the holy scripture of Islam. Muslims believe that it is the literal word of Allah (سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى), revealed to the Prophet Muhammad (صلى الله عليه وسلم) over a period of 23 years. The Quran is composed of 114 Surahs (chapters) and contains 6,236 Ayat (verses). Muslim beliefs and practices are based on the Quran and the Sunnah, the teachings and example of the Prophet Muhammad (صلى الله عليه وسلم).

The Kaaba in Mecca
A mosque in South America

Meccan Surahs

The Meccan Surahs are the earliest revelations sent down to the Prophet Muhammad (صلى الله عليه وسلم). They were revealed in Mecca, hence their name. These revelations form the foundation of the Islamic faith and contain guidance for Muslims on how to live their lives. The Meccan Surahs are also notable for their poetic beauty and lyrical prose.

Medinan Surahs

The Medinan Surahs are the later Surahs that, according to Islamic tradition, were revealed in Medina after the Prophet Muhammad's (صلى الله عليه وسلم) hijra from Mecca. They were revealed by Allah (سبحانه و تعالى) when the Muslim community was larger and more developed, as opposed to their minority position in Mecca.

Stay connected

Receive regular updates

New features, translations and reminders from AskTheQuran, straight to your inbox.

We use Mailchimp to send updates. You can unsubscribe at any time. See our privacy policy.

We may receive a commission if you click on a link and buy a product, service or similar, at no extra cost to you. Details are in the disclosure policy.