Menu

Surah Al-Mursalat

بھیجی جانے والی ہوائیں

Chapter 77 of 114

خوبصورت تلاوت قرآن

Surah Al-Mursalat

Recited by Salaah Bukhaatir

Overview

About this Surah

At a glance

Surah 77 of 114

Translation
Urdu
Recitation
Salaah Bukhaatir

Ask the AI about this Surah

Commentary

Tafsir

<h2>نام :</h2>
<p> آیت ۴ کے فقرے</p>
<span class="ar indopak"> وَقَضَیْنَآ اِلیٰ بَنِیْٓ اِسْرَآ ئِیْلَ فِی اْلکِتٰبِ </span><p>سے ماخوذ ہے۔ مگر اس میں
موضوع بحث بنی اسرائیل میں ہیں، بلکہ یہ نام بھی اکثر قرآنی سورتوں کی طرح صرف علامت کے طور پر رکھا گیا ہے۔</p>
<h2>زمانہ ٴنزول :</h2>
<p> پہلی ہی آیت اس بات کی نشان دہی کر دیتی ہے کہ یہ سورت معراج کے موقع پر نازل ہوئی ہے ۔ معراج کا واقعہ حدیث اور سیرت کی
اکثر روایات کے مطابق ہجرت سے ایک سال پہلے پیش آیا تھا اس لیے  یہ سورت بھی انہی سورتوں میں سے ہے جو مکی دور کے آخری
زمانے میں نازل ہوئیں۔ </p>
<h2>پس منظر:</h2>
<p>اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم  کو توحید کی آواز بلند کرتے ہوئے ١۲ سال گزر چکے تھے۔ آپ کے مخالفین آپ کا راستہ روکنے کے
لیے سارے جتن کر چکے تھے۔ مگر ان کی تمام مزاحمتوں کے با وجود آپ  کی آواز عرب کے گوشے گوشے میں پہنچ گئی تھی۔ عرب کا
کوئی قبیلہ ایسا نہ رہا تھا جس میں دو چار آدمی آپ کی دعوت سے متاثر نہ ہو چکے ہوں ۔ خود مکے میں ایسے مخلص لوگوں کا ایک
مختصر  جتھا بن چکا تھا جو ہر خطرے کو اس دعوت حق کی کامیابی کے لیے انگیز کرنے کو تیار تھے۔ مدینے میں اوس اور خَزرج کے
طاقتور قبیلوں کی بڑی تعداد آپ کی  حامی بن چکی تھی۔ اب وہ وقت قریب آلگا تھا جب آپ کو مکے سے مدینے کی طرف منتقل ہو
جانے اور منتشر مسلمانوں کو سمیٹ کر اسلام کے اصولوں پر ایک ریاست قائم کردینے کا موقع ملنے والا تھا۔</p>
                ان حالات میں معراج پیش آئی، اور واپسی پر یہ پیغام نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا کو سنایا۔ <h2>موضوع
اور مضمون:</h2>
<p> اس سورت میں تنبیہ، تفہیم اور تعلیم ، تینوں ایک متناسب انداز میں جمع کر دی گئی ہیں۔</p>
                تنبیہ، کفار مکہ کو کی گئی ہے کہ بنی اسرائیل اور دوسری قوموں کے انجام سے سبق لو اور خدا کی دی ہوئی مہلت کے اندر ، جس کے ختم ہونے کا زمانہ قریب آلگا ہے، سنبھل جاؤ، اور اس دعوت کو قبول کر لو سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کے ذیعہ سے پیش کیا جا رہا ہے، ورنہ مٹا دیے جاؤ گے اور تمہاری جگہ دوسرے لوگ زمین پر بسائے جائیں گے۔ نیز ضمناً بنی اسرائیل کو بھی، جو ہجرت کے بعد عنقریب زبانِ وحی کے مخاطب ہونے والے تھے، یہ تنبیہ کی گئی ہے کہ پہلے جو سزائین تمہیں مل چکی ہیں اُن سے عبرت حاصل کرو اور اب جو موقع تمہیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے مل رہا ہے اس سے فائدہ اُٹھاؤ، یہ آخری موقع بھی اگر تم نے کھو دیا اور پھر اپنی سابق روش کا اعادہ کیا تو دردناک انجام سے دوچار ہوگے۔
<p>
                تفہیم کے پہلو میں بڑے دلنشین طریقے سے سمجھا یا گیا ہے کہ انسانی سعادت و شقاوت اور فلاح و اُن شبہات
کو رفع کیا گیا ہے جو ان بنیادی حقیقتوں کے بارے میں کفار مکہ کی طرف سے پیش کیے جاتے تھے۔ اور استدلال کے ساتھ بیچ بیچ
میں منکو ین کی جہالتوں پر زجرو توبیخ بھی کی گئی ہے۔</p>
                تعلیم کے پہلو میں اخلاق اور تمدن کے وہ بڑے بڑے اصول بیان کیے گئے ہیں جن پر زندگی کے نظام کو قائم کرنا دعوت محمدی کے پیش نظر تھا۔ یہ گویا اسلام کا منشور تھا جو اسلامی ریاست کے قیام سے ایک سال پہلے اہل عرب کے سامنے پیش کیاگیا تھا ۔ اس میں واضح طور پر بتا دیا گیا کہ یہ خاکہ ہے جس پر محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ملک کی  اور پھر پوری انسانیت کی زندگی کو تعمیر کرنا چاہتے ہیں۔                ان سب باتوں کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو  ہدایت کی گئی ہے کہ مشکلات کے اس طوفان میں مضبوطی کے ساتھ ساتھ اپنے موقف پر جمے رہیں اور کفر کے ساتھ مصالحت کا خیا ل تک نہ کریں۔ نیز مسلمانوں کو ، جو کبھی کبھی کفار کے ظلم و ستم اور ان کی کج بحثیوں ، اور ان کے طوفان کذب و افتراء پر بے ساختہ جھنجھلا اُٹھے تھے، تلقین کی گئی ہے کہ پورے صبر وسکون کے ساتھ حالات کا مقابلہ کرتے رہیں اور تبلیغ و اصلاح کے کام  میں اپنے جذبات پر قابو رکھیں۔ اس سلسلہ میں اصلاح نفس اور تزکیہ نفس کے لیے اُن کو نماز کا نسخہ بتایا گیا ہے، کہ یہ وہ چیز ہے جو تم کو اُن صفات عالیہ سے متصف کرے گے جس سے راہ ِ حق کے مجاہدوں کو آراستہ ہونا چاہیے۔ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ پہلا موقع ہے جب پنج وقتہ نماز پابندی اوقات کے ساتھ مسلمانوں پر فرض کی گئی۔

Verse by verse

Surah Al-Mursalat · بھیجی جانے والی ہوائیں

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

  1. Ayah 1

    بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ وَالْمُرْسَلَاتِ عُرْفًا

    قسم ہے اُن (ہواؤں) کی جو پے در پے بھیجی جاتی ہیں

  2. Ayah 2

    فَالْعَاصِفَاتِ عَصْفًا

    پھر طوفانی رفتار سے چلتی ہیں

  3. Ayah 3

    وَالنَّاشِرَاتِ نَشْرًا

    اور (بادلوں کو) اٹھا کر پھیلاتی ہیں

  4. Ayah 4

    فَالْفَارِقَاتِ فَرْقًا

    پھر (اُن کو) پھاڑ کر جدا کرتی ہیں

  5. Ayah 5

    فَالْمُلْقِيَاتِ ذِكْرًا

    پھر (دلوں میں خدا کی) یاد ڈالتی ہیں

  6. Ayah 6

    عُذْرًا أَوْ نُذْرًا

    عذر کے طور پر یا ڈراوے کے طور پر

  7. Ayah 7

    إِنَّمَا تُوعَدُونَ لَوَاقِعٌ

    جس چیز کا تم سے وعدہ کیا جا رہا ہے وہ ضرور واقع ہونے والی ہے

  8. Ayah 8

    فَإِذَا النُّجُومُ طُمِسَتْ

    پھر جب ستارے ماند پڑ جائیں گے

  9. Ayah 9

    وَإِذَا السَّمَاءُ فُرِجَتْ

    اور آسمان پھاڑ دیا جائے گا

  10. Ayah 10

    وَإِذَا الْجِبَالُ نُسِفَتْ

    اور پہاڑ دھنک ڈالے جائیں گے

  11. Ayah 11

    وَإِذَا الرُّسُلُ أُقِّتَتْ

    اور رسولوں کی حاضری کا وقت آ پہنچے گا (اس روز وہ چیز واقع ہو جائے گی)

  12. Ayah 12

    لِأَيِّ يَوْمٍ أُجِّلَتْ

    کس روز کے لیے یہ کام اٹھا رکھا گیا ہے؟

  13. Ayah 13

    لِيَوْمِ الْفَصْلِ

    فیصلے کے روز کے لیے

  14. Ayah 14

    وَمَا أَدْرَاكَ مَا يَوْمُ الْفَصْلِ

    اور تمہیں کیا خبر کہ وہ فیصلے کا دن کیا ہے؟

  15. Ayah 15

    وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ

    تباہی ہے اُس دن جھٹلانے والوں کے لیے

  16. Ayah 16

    أَلَمْ نُهْلِكِ الْأَوَّلِينَ

    کیا ہم نے اگلوں کو ہلاک نہیں کیا؟

  17. Ayah 17

    ثُمَّ نُتْبِعُهُمُ الْآخِرِينَ

    پھر اُنہی کے پیچھے ہم بعد والوں کو چلتا کریں گے

  18. Ayah 18

    كَذَٰلِكَ نَفْعَلُ بِالْمُجْرِمِينَ

    مجرموں کے ساتھ ہم یہی کچھ کیا کرتے ہیں

  19. Ayah 19

    وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ

    تباہی ہے اُس دن جھٹلانے والوں کے لیے

  20. Ayah 20

    أَلَمْ نَخْلُقكُّم مِّن مَّاءٍ مَّهِينٍ

    کیا ہم نے ایک حقیر پانی سے تمہیں پیدا نہیں کیا

  21. Ayah 21

    فَجَعَلْنَاهُ فِي قَرَارٍ مَّكِينٍ

    اور ایک مقررہ مدت تک،

  22. Ayah 22

    إِلَىٰ قَدَرٍ مَّعْلُومٍ

    اُسے ایک محفوظ جگہ ٹھیرائے رکھا؟

  23. Ayah 23

    فَقَدَرْنَا فَنِعْمَ الْقَادِرُونَ

    تو دیکھو، ہم اِس پر قادر تھے، پس ہم بہت اچھی قدرت رکھنے والے ہیں

  24. Ayah 24

    وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ

    تباہی ہے اُس روز جھٹلانے والوں کے لیے

  25. Ayah 25

    أَلَمْ نَجْعَلِ الْأَرْضَ كِفَاتًا

    کیا ہم نے زمین کو سمیٹ کر رکھنے والی نہیں بنایا

  26. Ayah 26

    أَحْيَاءً وَأَمْوَاتًا

    زندوں کے لیے بھی اور مُردوں کے لیے بھی

  27. Ayah 27

    وَجَعَلْنَا فِيهَا رَوَاسِيَ شَامِخَاتٍ وَأَسْقَيْنَاكُم مَّاءً فُرَاتًا

    اور اس میں بلند و بالا پہاڑ جمائے، اور تمہیں میٹھا پانی پلایا؟

  28. Ayah 28

    وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ

    تباہی ہے اُس روز جھٹلانے والوں کے لیے

  29. Ayah 29

    انطَلِقُوا إِلَىٰ مَا كُنتُم بِهِ تُكَذِّبُونَ

    چلو اب اُسی چیز کی طرف جسے تم جھٹلایا کرتے تھے

  30. Ayah 30

    انطَلِقُوا إِلَىٰ ظِلٍّ ذِي ثَلَاثِ شُعَبٍ

    چلو اُس سائے کی طرف جو تین شاخوں والا ہے

  31. Ayah 31

    لَّا ظَلِيلٍ وَلَا يُغْنِي مِنَ اللَّهَبِ

    نہ ٹھنڈک پہنچانے والا اور نہ آگ کی لپٹ سے بچانے والا

  32. Ayah 32

    إِنَّهَا تَرْمِي بِشَرَرٍ كَالْقَصْرِ

    وہ آگ محل جیسی بڑی بڑی چنگاریاں پھینکے گی

  33. Ayah 33

    كَأَنَّهُ جِمَالَتٌ صُفْرٌ

    (جو اچھلتی ہوئی یوں محسوس ہوں گی) گویا کہ وہ زرد اونٹ ہیں

  34. Ayah 34

    وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ

    تباہی ہے اُس روز جھٹلانے والوں کے لیے

  35. Ayah 35

    هَـٰذَا يَوْمُ لَا يَنطِقُونَ

    یہ وہ دن ہے جس میں وہ نہ کچھ بولیں گے

  36. Ayah 36

    وَلَا يُؤْذَنُ لَهُمْ فَيَعْتَذِرُونَ

    اور نہ اُنہیں موقع دیا جائے گا کہ کوئی عذر پیش کریں

  37. Ayah 37

    وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ

    تباہی ہے اُس دن جھٹلانے والوں کے لیے

  38. Ayah 38

    هَـٰذَا يَوْمُ الْفَصْلِ ۖ جَمَعْنَاكُمْ وَالْأَوَّلِينَ

    یہ فیصلے کا دن ہے ہم نے تمہیں اور تم سے پہلے گزرے ہوئے لوگوں کو جمع کر دیا ہے

  39. Ayah 39

    فَإِن كَانَ لَكُمْ كَيْدٌ فَكِيدُونِ

    اب اگر کوئی چال تم چل سکتے ہو تو میرے مقابلہ میں چل دیکھو

  40. Ayah 40

    وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ

    تباہی ہے اُس دن جھٹلانے والوں کے لیے

  41. Ayah 41

    إِنَّ الْمُتَّقِينَ فِي ظِلَالٍ وَعُيُونٍ

    متقی لوگ آج سایوں اور چشموں میں ہیں

  42. Ayah 42

    وَفَوَاكِهَ مِمَّا يَشْتَهُونَ

    اور جو پھل وہ چاہیں (اُن کے لیے حاضر ہیں)

  43. Ayah 43

    كُلُوا وَاشْرَبُوا هَنِيئًا بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ

    کھاؤ اور پیو مزے سے اپنے اُن اعمال کے صلے میں جو تم کرتے رہے ہو

  44. Ayah 44

    إِنَّا كَذَٰلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ

    ہم نیک لوگوں کو ایسی ہی جزا دیتے ہیں

  45. Ayah 45

    وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ

    تباہی ہے اُس روز جھٹلانے والوں کے لیے

  46. Ayah 46

    كُلُوا وَتَمَتَّعُوا قَلِيلًا إِنَّكُم مُّجْرِمُونَ

    کھا لو اور مزے کر لو تھوڑے دن حقیقت میں تم لوگ مجرم ہو

  47. Ayah 47

    وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ

    تباہی ہے اُس روز جھٹلانے والوں کے لیے

  48. Ayah 48

    وَإِذَا قِيلَ لَهُمُ ارْكَعُوا لَا يَرْكَعُونَ

    جب اِن سے کہا جاتا ہے کہ (اللہ کے آگے) جھکو تو نہیں جھکتے

  49. Ayah 49

    وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ

    تباہی ہے اُس روز جھٹلانے والوں کے لیے

  50. Ayah 50

    فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَهُ يُؤْمِنُونَ

    اب اِس (قرآن) کے بعد اور کونسا کلام ایسا ہو سکتا ہے جس پر یہ ایمان لائیں؟

About the Quran

The Quran

The Quran is the holy scripture of Islam. Muslims believe that it is the literal word of Allah (سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى), revealed to the Prophet Muhammad (صلى الله عليه وسلم) over a period of 23 years. The Quran is composed of 114 Surahs (chapters) and contains 6,236 Ayat (verses). Muslim beliefs and practices are based on the Quran and the Sunnah, the teachings and example of the Prophet Muhammad (صلى الله عليه وسلم).

The Kaaba in Mecca
A mosque in South America

Meccan Surahs

The Meccan Surahs are the earliest revelations sent down to the Prophet Muhammad (صلى الله عليه وسلم). They were revealed in Mecca, hence their name. These revelations form the foundation of the Islamic faith and contain guidance for Muslims on how to live their lives. The Meccan Surahs are also notable for their poetic beauty and lyrical prose.

Medinan Surahs

The Medinan Surahs are the later Surahs that, according to Islamic tradition, were revealed in Medina after the Prophet Muhammad's (صلى الله عليه وسلم) hijra from Mecca. They were revealed by Allah (سبحانه و تعالى) when the Muslim community was larger and more developed, as opposed to their minority position in Mecca.

Stay connected

Receive regular updates

New features, translations and reminders from AskTheQuran, straight to your inbox.

We use Mailchimp to send updates. You can unsubscribe at any time. See our privacy policy.

We may receive a commission if you click on a link and buy a product, service or similar, at no extra cost to you. Details are in the disclosure policy.