Menu

Surah Al-Muzzammil

کپڑا لپیٹنے والا

Chapter 73 of 114

خوبصورت تلاوت قرآن

Surah Al-Muzzammil

Recited by Salaah Bukhaatir

Overview

About this Surah

At a glance

Surah 73 of 114

Translation
Urdu
Recitation
Salaah Bukhaatir

Ask the AI about this Surah

Commentary

Tafsir

<h2>نام:</h2>
<p> </p>
<span class="ar indopak">اَلاِخْلَاص</span><p> اِس سورہ کا محض نام ہی نہیں ہے بلکہ اِس کے مضمون کا عنوان بھی ہے ، کیونکہ
اس میں خالص توحید بیان کی گئی ہے ۔ قرآن مجید کی دوسری سورتوں میں تو بالعموم کسی ایسے لفظ کو اُن کا نام قرار دیا گیا
ہے جو  اُن میں وارد ہوا ہو، لیکن اِس سورہ میں لفظ اِخلاص کہیں وارد نہیں ہوا ہے۔ اِس کو یہ نام اِس کے معنی کے لحاظ سے
دیا گیا ہے۔ جو شخص بھی اِس کو سمجھ کر اِس کی تعلیم پر ایمان لے آئے گا وہ شرک سے خلاصی پا جائے گا۔ </p>
<h2>زمانۂ نزول:</h2>
<p> اِس کے مکّی اور مدنی ہونے میں اختلاف ہے ، اور یہ اختلاف اُن روایات کی بنا پر ہے جو اِس کے سببِ نزول کے بارے میں
منقول ہوئی ہیں۔ ذیل میں ہم اُن کو سلسلہ وار درج کرتے ہیں۔ </p>
(۱) حضرت عبدؓ اللہ بن مسعود کی روایت ہے کہ قریش کے لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا  کہ اپنے ربّ کا نَسب ہمیں بتائیے۔ اس پر یہ سورہ نازل ہوئی (طَبَرانی)۔
<p>
(۲) ابو العالیہ نے حضرت اُبَیّ بن کعب ؓ کے حوالہ سے بیان کیا ہے کہ مشرکین نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ
اپنے رب  کا نسب ہمیں بتائیے ، اس پر اللہ تعالیٰ  نے یہ سورۃ نازل  فرمائی( مُسند احمد، ابن ابی حاتم، ابن جریر،
تِرْمِذی، بخاری فی التاریخ، ابن المُنذِر، حاکم ، بیہقی)۔ تِرْمِذی نے اِسی مضمون کی ایک روایت ابو العالیہ سے نقل کی
ہے جس میں حضرت اُبَیّ بن کعب ؓ کا حوالہ نہیں ہے اور اُسے صحیح تر کہا ہے۔</p>
(۳) حضرت جابرؓ بن عبد اللہ  کا بیان ہے کہ ایک اَعرابی نے (اور بعض روایات میں ہے کہ لوگوں نے) نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ اپنے رب کا نسب ہمیں بتائیے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ سورت نازل فرمائی (ابویَعلیٰ، ابن جریر، ابن المُنذِر، طَبَرانیفی الاَوسط، بَیْہقی، ابو نُعَیم فی الحِیْلہ)۔
<p>
(۴) عِکْرِمَہ نے ابن عباسؓ سے روایت نقل کی ہے کہ یہودیوں کا ایک گروہ  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر
ہوا جس میں کَعب بن اشرف اور حُیَیّ بن اَخْطَب وغیرہ شامل تھے اور اُنہوں نے کہا  ”اے محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) ہمیں
بتائیے کہ آپ کا وہ ربّ کیسا ہے جس نے آپ کو بھیجا ہے۔“ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ سورت نازل فرمائی (ابن ابی حاتم ، ابن
عَدِی، بیہقی فی الاسماء و الصفات)۔</p>
اِن کے علاوہ مزید چند روایات ابن تَیمیہ نے اپنی تفسیر سورۂ اخلاص میں نقل کی ہیں جو یہ ہیں:<p>
(۵) حضرت اَنَس کا بیان ہے کہ خَیبر کے کچھ یہودی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے کہا
”اے ابو القاسمؐ ، اللہ نے ملائکہ  کو نورِ حجاب سے ، آدم کو مٹی کے سڑے ہوئے گارے سے، ابلیس کو آگ کے شعلے سے ، آسمان
کو دھوئیں سے ،اور زمین کو پانی کے جھاگ سے بنایا، اب ہمیں اپنے ربّ کے متعلق بتائیے (کہ وہ کس چیز سے بنا ہے)۔“ رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات  کا کوئی جواب نہ دیا ۔ پھر جبریل ؑ آئے اور انہوں  نے کہا اے محمدؐ، ان سے کہیے </p>
<span class="ar indopak">ھُوَ اللہُ اَحَدٌ </span><p>۔۔۔۔۔۔۔</p>
(۶) عامِر بن  الطُّفَیل نے حضورؐ سے کہا ” اے محمدؐ، آپ کس چیز کی طرف ہمیں بلاتے ہیں ؟“ آپؐ نے فرمایا اللہ کی طرف۔ عامر نے کہا ،” اچھا تو اُس کی کیفیت مجھے بتائیے۔ وہ سونے سے بنا ہوا ہے یا چاندی سے یا  لوہے سے؟“ اس پر یہ سورۃ نازل ہوئی۔
<p>
(۷) ضَحّاک اور قَتادہ اور مُقاتِل کا بیان ہے کہ یہودیوں کے کچھ علماء حضورؐ کے پاس آئے اور انہوں نے کہا ”اے محمدؐ،
اپنے رب کی کیفیت ہمیں بتائیے، شاید کہ ہم آپ پر ایمان لے آئیں۔ اللہ نے اپنی صفت توراۃ میں نازل کی ہے۔ آپ بتائیے کہ وہ
کس چیز سے بنا ہے؟ کس جنس سے ہے ؟ سونے سے بنا ہے یا  تانبے سے، یا پیتل سے، یا لوہے سے ، یا چاندی سے؟ اور کیا وہ کھاتا
ہے اور پیتا ہے؟ اور کس سے اُ س نے دنیا وراثت میں پائی ہے اور اُس کے بعد کون اُس کا وارث ہو گا؟“ اِس پر اللہ تعالیٰ
نے یہ سورت نازل فرمائی۔</p>
(۸) ابن عباسؓ کی روایت ہے کہ نَجران کے عیسائیوں کا ایک وفد سات پادریوں کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اُس نے حضورؐ سے کہا ”ہمیں بتائیے آپ کا ربّ کیسا ہے ، کس چیز کا بنا ہے؟“ آپ نے فرمایا میرا ربّ کسی چیز سے نہیں بنا ہے۔ وہ تمام اشیاء سے جدا ہے۔ اِس پر اللہ تعالیٰ نے یہ سورت نازل فرمائی۔
<p>
اِن روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ مختلف مواقع پر مختلف  لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اُس معبود کی ماہیت اور
کیفیت  دریافت کی تھی جس کی بندگی و عبادت کی طرف آپؐ لوگوں کو دعوت دے رہے تھے ، اور ہر موقع پر آپؐ نے اللہ تعالیٰ کے
حکم سے اُن کو جواب میں یہی سورت سنائی تھی۔ سب سے پہلے یہ سوال مکّہ میں قریش کے مشرکین نے آپ سے کیا اور اس کے جواب
میں یہ سورت نازل ہوئی۔ اس کے بعد مدینۂ طیّبہ میں کبھی یہودیوں نے ، کبھی عیسائیوں نے ، اور کبھی عرب کے دوسرے لوگوں
نے حضورؐ سے اِسی نوعیت کے سوالات کیے اور ہر مرتبہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اشارہ ہوا  کہ جواب میں یہی سورت آپ اُن کو
سنا دیں۔ اِن روایات میں سے ہر ایک میں یہ جو کہا گیا ہے کہ اِس موقع پر یہ سورت  نازل ہوئی تھی ، اِس سے کسی کو یہ خیال
نہ ہونا چاہیے کہ یہ سب روایتیں باہم متضاد ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ کسی مسئلے کے بارے میں اگر پہلے سے کوئی آیت یا سورۃ
نازل شدہ موجود ہوتی تھی تو بعد میں جب کبھی حضورؐ کے سامنے وہی مسئلہ پیش کیا جاتا، اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہدایت آجاتی
تھی کہ اس کا جواب فلاں آیت یا سورۃ میں ہے، یا اِس کے جواب میں وہ آیت یا سورۃ لوگوں کو پڑھ کر سنا دی جائے۔ احادیث کے
راوی اس چیز کو یوں  بیان فرماتے ہیں کہ جب فلاں معاملہ پیش آیا، یا فلاں سوال کیا گیا تو یہ آیت یا سورۃ نازل ہوئی۔ اِس
کو تکرار ِ نزول سے بھی تعبیر کیا جاتا ہے، یعنی ایک آیت یا سورۃ کا کئی مرتبہ نازل ہونا۔</p>
پس صحیح بات یہ ہے کہ یہ سورۃ دراصل مکّی ہے بلکہ اِس کے مضمون پر غور کرنے سے محسوس ہوتا ہے کہ یہ مکّہ کے بھی ابتدائی دور میں نازل ہوئی ہے جب اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات کے بیان میں قرآن کی مفصل آیات ابھی نازل نہیں ہوئی تھیں، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت الی اللہ کو سن کر لوگ یہ معلوم کرنا چاہتے تھے کہ آخر آپ کا وہ رب ہے کیسا جس کی بندگی و عبادت کی طرف آپ لوگو ں کو بلا رہے ہیں۔ اِس کے بالکل ابتدائی دور کی نازل شدہ سورت ہونے کا ایک ثبوت یہ بھی ہے کہ مکّہ میں جب حضرت بلال کا آقا اُمَیَّہ بن خَلَف اُن کو دھوپ میں تپتی ہوئی ریت پر لٹا کر ایک بڑا سا پتھر اُن کی چھاتی پر رکھ دیتا تھا تو وہ اَحَدٌ اَحَدٌ پکارتے تھے۔ یہ لفظ اَحَد اِسی سورہ سے ماخوذ تھا۔
<h2>موضوع اور مضمون :</h2>
<p>
 </p>شانِ نزول کے بارے میں جو روایات اوپر درج کی گئی ہیں اُن پر ایک نگاہ ڈالنے سے معلوم ہو جاتا ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم توحید کی دعوت لے کراُٹھے تھے اُس وقت دُنیا کے مذہبی تصورات کیا تھے۔ بت پرست مشرکین اُن خداؤں کو پوج رہے تھے جو لکڑی ، پتھر، سونے ، چاندی وغیرہ مختلف چیزوں کے بنے ہوئے تھے۔ شکل، صورت اور جسم رکھتے تھے۔ دیویوں اور دیوتاؤں کی باقاعدہ نسل چلتی تھی۔ کوئی دیوی بے شوہر نہ تھے اور کوئی دیوتا بے زوجہ نہ تھا۔ اُن کو کھانے پینے کی ضرورت بھی لاحق ہوتی تھی اور اُن کے پرستار اُن کے لیے اس کا انتظام کرتے تھے۔ مشرکین کی ایک بڑی تعداد اس بات کی قائل تھی کہ خدا انسانی شکل میں ظہور کرتا ہے اور کچھ لوگ اُس کے اَوتار ہوتے ہیں۔ عیسائی اگرچہ ایک خدا کو ماننے کے مدعی تھے، مگر اُن کا خدا بھی کم از کم ایک بیٹا تو رکھتا ہی تھا ، اور باپ بیٹے کے ساتھ خدائی میں روح القُدس کو بھی حصہ دار ہونے کا شرف حاصل تھا۔ حتیٰ کہ خدا کی ماں بھی ہوتی تھی اور اس کی ساس بھی ۔ یہودی بھی ایک خدا کو ماننے کا  دعویٰ  کرتے تھے، مگر اُن کا خدا بھی مادّیت اور جسمانیت اور دوسری انسانی صفات سے خالی نہ تھا۔ وہ ٹہلتا تھا۔ انسانی شکل میں نمودار ہوتا تھا۔ اپنے کسی بندے سے کُشتی بھی لڑ لیتا تھا۔ اور ایک عدد بیٹے (عُزَیر) کا باپ بھی تھا۔ اِن مذہبی گروہوں کے علاوہ مجوسی آتش پرست تھے اور صابِئی ستارہ پرست۔ اس حالت میں جب اللہ وحدہٗ  لاشریک کو ماننے کی دعوت لوگوں کو دی گئی تو اُن کے ذہن میں یہ سوالات پیدا ہونا  ایک لازمی امر تھا کہ وہ ربّ ہے کس قسم کا جسے تمام ارباب اور معبودوں کو چھوڑ کر تنہا ایک ہی ربّ اور معبود تسلیم کرنے کی دعوت دی جارہی ہے۔ قرآن مجید کا یہ اعجاز ہے کہ اُس نے اِن سوالات کا جواب چند الفاظ میں دے کر اللہ کی ہستی کا ایسا واضح تصور پیش کر دیا جو تمام مشرکانہ  تصورات کا قلع قمع کردیتا ہے اور اُس کی ذات کے ساتھ مخلوقات کی صفات میں سے کسی صفت کی آلودگی کے لیے کوئی گنجائش باقی نہیں رہنے دیتا۔
<p>اہمیت اور فضیلت : یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہ میں اِس سورت کی بڑی عظمت تھی اور آپؐ مختلف
طریقوں سے مسلمانوں کو اِس کی اہمیت محسوس کراتے تھے، تاکہ وہ کثرت سے اِس کو پڑھیں اور عام الناس میں اِسے پھیلائیں،
کیونکہ یہ اسلام کے اولین بنیادی عقیدے(توحید) کو چار ایسے مختصر فقروں میں بیان کر دیتی ہے جو فوراً انسان کے ذہن نشین
ہو جاتے ہیں اور آسانی سے زبانوں پر چڑھ جاتے ہیں۔ احادیث میں کثرت سے یہ روایات بیان ہوئی ہیں کہ حضورؐ نے مختلف مواقع
پر مختلف طریقوں سے لوگوں کو  بتایا کہ یہ سورت ایک تہائی قرآن کے برابر ہے۔ بخاری، مسلم، ابوداؤد، نَسائی ، تِرمِذی،
ابن ماجہ، مُسند احمد، طَبَرانی، وغیرہ میں اِس مضمون کی متعدد  احادیث ابو سعید خُدری، ابو ہریرہ، ابو ایوب انصاری، ابو
الدَّ رْدا، مُعاذ بن جَبَل، جابر بن عبداللہ، اُبَیّ بن کَعب، امّ کُلثوم بنت عُقْبَہ بن ابی مُعَیط، ابنِ عمر ، ابن
مسعود، قَتادہ بن النُعمان، اَنَس بن مالک اور ابو مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین سے منقول ہوئی ہیں مفسّرین نے
حضورؐ کے اِس ارشاد کی بہت سی توجیہات بیان کی ہیں۔ مگر ہمارے نزدیک سیدھی اور صاف بات یہ ہے کہ قرآن مجید جس دین کو پیش
کرتا ہے اُس کی بنیا د تین عقیدے ہیں۔ ایک توحید۔ دوسرے رسالت اور تیسرے آخرت۔ یہ سورۃ چونکہ خالص توحید کو بیان کرتی ہے
اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو ایک تہائی قرآن کے برابر قرار دیا۔
حضرت عائشہؓ کی یہ روایت بخاری و مسلم اور بعض دوسری کتبِ حدیث میں نقل ہوئی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک
صاحب کو ایک مُہم پر سردار بنا کر بھیجا اور اس پورے سفر کے دوران میں اُن کا مستقل طریقہ یہ رہا  کہ ہر نماز میں وہ
قُلْ ھُوَ اللہُ اَحَدٌo</p> <p> پر قرأت ختم کرتے تھے۔ واپسی پر اُن کے ساتھیوں نے حضورؐ سے اِس کا ذکر کیا ۔ آپ نے
فرمایا اُن سے پوچھو کہ وہ ایسا کیوں کرتے تھے ۔ اُن کے  پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ اس میں رحمان کی صفت بیان کی گئی
ہے اس  لیے اس کا پڑھنا مجھے بہت محبوب ہے۔ حضورؐ نے یہ بات سُنی تو لوگوں سے فرمایا اخبرو ہ ان اللہ تعالیٰ یحبُّہٗ
”اُن کو خبر دے دو کہ اللہ تعالیٰ اُنہیں محبوب رکھتا ہے۔“</p>
<p>اِسی سے ملتا جلتا واقعہ بخاری  میں حضرت اَنَس سے مَروی ہے ۔ وہ فرماتے ہیں کہ انصار میں سے ایک صاحب مسجدِ قُبا میں
نماز پڑھاتے تھے اور اُن کا طریقہ یہ تھا کہ ہر رکعت میں پہلے قُلْ ھُوَ اللہُ اَحَدٌ</p>o<p> پڑھتے، پھر کوئی اور سورت
تلاوت کرتے ۔ لوگوں نے اس پر اعتراض کیا اور ان سے کہا  یہ تم کیا کرتے ہو کہ قُلْ ھُوَ اللہُ پڑھنے کے بعد اسے کافی نہ
سمجھ کر کوئی اور سورت بھی اُس کے ساتھ ملا لیتے ہو؟ یہ ٹھیک نہیں ہے۔ یا تو صرف اِسی کو پڑھو ، اور یا اِسے چھوڑ کر
کوئی اور سورت پڑھو۔ اُنہوں نے کہا میں اِسے نہیں چھوڑ سکتا، تم چاہو تو  میں تمہیں نماز پڑھاؤں ورنہ امامت چھوڑ دوں۔
لیکن لوگ اُن کی جگہ کسی اور کو امام بنانا بھی پسند نہیں کرتے تھے۔ آخر کار معاملہ حضورؐ کے سامنے پیش کیا گیا۔ آپؐ نے
ان سے پوچھا کہ تمہارے ساتھی جو کچھ چاہتے ہیں اُسے قبول کر نے میں تم کو کیا امر مانع ہے؟ تمہیں ہر رکعت میں یہ سورت
پڑھنے پر کس چیز نے آمادہ کیا؟ انہوں نے عرض کیا کہ مجھے اِس سے بہت محبت ہے۔ آپؐ نے فرمایا حُبُّکَ اِیَّاھَا اَدْخلک
الجَنَّۃَ  ” اِس سورت سے تمہاری محبت نے تمہیں جنّت میں داخل کر دیا۔“</p>

Verse by verse

Surah Al-Muzzammil · کپڑا لپیٹنے والا

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

  1. Ayah 1

    بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ يَا أَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ

    اے اوڑھ لپیٹ کر سونے والے

  2. Ayah 2

    قُمِ اللَّيْلَ إِلَّا قَلِيلًا

    رات کو نماز میں کھڑے رہا کرو مگر کم

  3. Ayah 3

    نِّصْفَهُ أَوِ انقُصْ مِنْهُ قَلِيلًا

    آدھی رات،

  4. Ayah 4

    أَوْ زِدْ عَلَيْهِ وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِيلًا

    یا اس سے کچھ کم کر لو یا اس سے کچھ زیادہ بڑھا دو، اور قرآن کو خوب ٹھیر ٹھیر کر پڑھو

  5. Ayah 5

    إِنَّا سَنُلْقِي عَلَيْكَ قَوْلًا ثَقِيلًا

    ہم تم پر ایک بھاری کلام نازل کرنے والے ہیں

  6. Ayah 6

    إِنَّ نَاشِئَةَ اللَّيْلِ هِيَ أَشَدُّ وَطْئًا وَأَقْوَمُ قِيلًا

    درحقیقت رات کا اٹھنا نفس پر قابو پانے کے لیے بہت کارگر اور قرآن ٹھیک پڑھنے کے لیے زیادہ موزوں ہے

  7. Ayah 7

    إِنَّ لَكَ فِي النَّهَارِ سَبْحًا طَوِيلًا

    دن کے اوقات میں تو تمہارے لیے بہت مصروفیات ہیں

  8. Ayah 8

    وَاذْكُرِ اسْمَ رَبِّكَ وَتَبَتَّلْ إِلَيْهِ تَبْتِيلًا

    اپنے رب کے نام کا ذکر کیا کرو اور سب سے کٹ کر اسی کے ہو رہو

  9. Ayah 9

    رَّبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ فَاتَّخِذْهُ وَكِيلًا

    وہ مشرق و مغرب کا مالک ہے، اُس کے سوا کوئی خدا نہیں ہے، لہٰذا اُسی کو اپنا وکیل بنا لو

  10. Ayah 10

    وَاصْبِرْ عَلَىٰ مَا يَقُولُونَ وَاهْجُرْهُمْ هَجْرًا جَمِيلًا

    اور جو باتیں لوگ بنا رہے ہیں ان پر صبر کرو اور شرافت کے ساتھ اُن سے الگ ہو جاؤ

  11. Ayah 11

    وَذَرْنِي وَالْمُكَذِّبِينَ أُولِي النَّعْمَةِ وَمَهِّلْهُمْ قَلِيلًا

    اِن جھٹلانے والے خوشحال لوگوں سے نمٹنے کا کام تم مجھ پر چھوڑ دو اور اِنہیں ذرا کچھ دیر اِسی حالت پر رہنے دو

  12. Ayah 12

    إِنَّ لَدَيْنَا أَنكَالًا وَجَحِيمًا

    ہمارے پاس (ان کے لیے) بھاری بیڑیاں ہیں اور بھڑکتی ہوئی آگ

  13. Ayah 13

    وَطَعَامًا ذَا غُصَّةٍ وَعَذَابًا أَلِيمًا

    اور حلق میں پھنسنے والا کھانا اور دردناک عذاب

  14. Ayah 14

    يَوْمَ تَرْجُفُ الْأَرْضُ وَالْجِبَالُ وَكَانَتِ الْجِبَالُ كَثِيبًا مَّهِيلًا

    یہ اُس دن ہوگا جب زمین اور پہاڑ لرز اٹھیں گے اور پہاڑوں کا حال ایسا ہو جائے گا جیسے ریت کے ڈھیر ہیں جو بکھرے جا رہے ہیں

  15. Ayah 15

    إِنَّا أَرْسَلْنَا إِلَيْكُمْ رَسُولًا شَاهِدًا عَلَيْكُمْ كَمَا أَرْسَلْنَا إِلَىٰ فِرْعَوْنَ رَسُولًا

    تم لوگوں کے پاس ہم نے اُسی طرح ایک رسول تم پر گواہ بنا کر بھیجا ہے جس طرح ہم نے فرعون کی طرف ایک رسول بھیجا تھا

  16. Ayah 16

    فَعَصَىٰ فِرْعَوْنُ الرَّسُولَ فَأَخَذْنَاهُ أَخْذًا وَبِيلًا

    (پھر دیکھ لو کہ جب) فرعون نے اُس رسول کی بات نہ مانی تو ہم نے اس کو بڑی سختی کے ساتھ پکڑ لیا

  17. Ayah 17

    فَكَيْفَ تَتَّقُونَ إِن كَفَرْتُمْ يَوْمًا يَجْعَلُ الْوِلْدَانَ شِيبًا

    اگر تم ماننے سے انکار کرو گے تو اُس دن کیسے بچ جاؤ گے جو بچوں کو بوڑھا کر دے گا

  18. Ayah 18

    السَّمَاءُ مُنفَطِرٌ بِهِ ۚ كَانَ وَعْدُهُ مَفْعُولًا

    اور جس کی سختی سے آسمان پھٹا جا رہا ہوگا؟ اللہ کا وعدہ تو پورا ہو کر ہی رہنا ہے

  19. Ayah 19

    إِنَّ هَـٰذِهِ تَذْكِرَةٌ ۖ فَمَن شَاءَ اتَّخَذَ إِلَىٰ رَبِّهِ سَبِيلًا

    یہ ایک نصیحت ہے، اب جس کا جی چاہے اپنے رب کی طرف جانے کا راستہ اختیار کر لے

  20. Ayah 20

    إِنَّ رَبَّكَ يَعْلَمُ أَنَّكَ تَقُومُ أَدْنَىٰ مِن ثُلُثَيِ اللَّيْلِ وَنِصْفَهُ وَثُلُثَهُ وَطَائِفَةٌ مِّنَ الَّذِينَ مَعَكَ ۚ وَاللَّهُ يُقَدِّرُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ ۚ عَلِمَ أَن لَّن تُحْصُوهُ فَتَابَ عَلَيْكُمْ ۖ فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ ۚ عَلِمَ أَن سَيَكُونُ مِنكُم مَّرْضَىٰ ۙ وَآخَرُونَ يَضْرِبُونَ فِي الْأَرْضِ يَبْتَغُونَ مِن فَضْلِ اللَّهِ ۙ وَآخَرُونَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ۖ فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنْهُ ۚ وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَأَقْرِضُوا اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا ۚ وَمَا تُقَدِّمُوا لِأَنفُسِكُم مِّنْ خَيْرٍ تَجِدُوهُ عِندَ اللَّهِ هُوَ خَيْرًا وَأَعْظَمَ أَجْرًا ۚ وَاسْتَغْفِرُوا اللَّهَ ۖ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ

    اے نبیؐ، تمہارا رب جانتا ہے کہ تم کبھی دو تہائی رات کے قریب اور کبھی آدھی رات اور کبھی ایک تہائی رات عبادت میں کھڑے رہتے ہو، اور تمہارے ساتھیوں میں سے بھی ایک گروہ یہ عمل کرتا ہے اللہ ہی رات اور دن کے اوقات کا حساب رکھتا ہے، اُسے معلوم ہے کہ تم لوگ اوقات کا ٹھیک شمار نہیں کر سکتے، لہٰذا اس نے تم پر مہربانی فرمائی، اب جتنا قرآن آسانی سے پڑھ سکتے ہو پڑھ لیا کرو اُسے معلوم ہے کہ تم میں کچھ مریض ہونگے، کچھ دوسرے لوگ اللہ کے فضل کی تلاش میں سفر کرتے ہیں، اور کچھ اور لوگ اللہ کی راہ میں جنگ کرتے ہیں پس جتنا قرآن بآسانی پڑھا جا سکے پڑھ لیا کرو، نماز قائم کرو، زکوٰۃ دو اور اللہ کو اچھا قرض دیتے رہو جو کچھ بھلائی تم اپنے لیے آگے بھیجو گے اسے اللہ کے ہاں موجود پاؤ گے، وہی زیادہ بہتر ہے اور اس کا اجر بہت بڑا ہے اللہ سے مغفرت مانگتے رہو، بے شک اللہ بڑا غفور و رحیم ہے

About the Quran

The Quran

The Quran is the holy scripture of Islam. Muslims believe that it is the literal word of Allah (سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى), revealed to the Prophet Muhammad (صلى الله عليه وسلم) over a period of 23 years. The Quran is composed of 114 Surahs (chapters) and contains 6,236 Ayat (verses). Muslim beliefs and practices are based on the Quran and the Sunnah, the teachings and example of the Prophet Muhammad (صلى الله عليه وسلم).

The Kaaba in Mecca
A mosque in South America

Meccan Surahs

The Meccan Surahs are the earliest revelations sent down to the Prophet Muhammad (صلى الله عليه وسلم). They were revealed in Mecca, hence their name. These revelations form the foundation of the Islamic faith and contain guidance for Muslims on how to live their lives. The Meccan Surahs are also notable for their poetic beauty and lyrical prose.

Medinan Surahs

The Medinan Surahs are the later Surahs that, according to Islamic tradition, were revealed in Medina after the Prophet Muhammad's (صلى الله عليه وسلم) hijra from Mecca. They were revealed by Allah (سبحانه و تعالى) when the Muslim community was larger and more developed, as opposed to their minority position in Mecca.

Stay connected

Receive regular updates

New features, translations and reminders from AskTheQuran, straight to your inbox.

We use Mailchimp to send updates. You can unsubscribe at any time. See our privacy policy.

We may receive a commission if you click on a link and buy a product, service or similar, at no extra cost to you. Details are in the disclosure policy.