Menu

Surah Al-Jinn

جن

Chapter 72 of 114

خوبصورت تلاوت قرآن

Surah Al-Jinn

Recited by Salaah Bukhaatir

Overview

About this Surah

At a glance

Surah 72 of 114

Translation
Urdu
Recitation
Salaah Bukhaatir

Ask the AI about this Surah

Commentary

Tafsir

<h2>نام:</h2>
<p> </p> پہلی آیت کے لفظ <span class="ar indopak">لَھَب</span><p> کو اس سُورہ کا نام قرار دیا گیا ہے۔</p>
<h2>زمانۂ نزول:</h2>
<p>
 </p>اِس کے مکّی ہونے میں تو مفسرین کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے، لیکن ٹھیک ٹھیک یہ متعیّن کرنا مشکل ہے کہ مکّی دور کے کس زمانے میں یہ نازل ہوئی تھی۔ البتّہ ابو لہب کا جو کردار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی دعوتِ حق کے خلاف تھا اُس کو دیکھتے ہوئے یہ اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اِس سورہ کا نزول اُس زمانے میں ہوا ہو گا جب وہ حضورؐ کی عداوت میں حد سے گزر گیا تھا اور اُس کا رویّہ اسلام کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ بن رہا تھا۔ بعید نہیں کہ اِس کا نزول اُس زمانے میں ہوا ہو جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپؐ کے خاندان والوں کا مقاطعہ کر کے قریش کے لوگوں نے اُن کو شعبِ ابی طالب میں محصور کر دیا تھا اور تنہا ابو لہب ہی ایسا شخص تھا جس نے اپنے خاندان والوں کو چھوڑ کر دشمنوں کا ساتھ دیا تھا۔ ہمارے اِس قیاس کی بنا یہ ہے کہ ابو لہب حضورؐ کا چچا تھا، اور بھتیجے کی زبان سے چچا کی کھلّم کھلا مَذَمَّت کرانا اُس وقت تک مناسب نہ ہو سکتا تھا جب تک چچا کی حد سے گزری ہوئی زیادتیاں عَلانیہ سب کے سامنے نہ آگئی ہوں۔ اِس سے پہلے اگر ابتداء ہی میں یہ سورۃ نازل کر دی گئی  ہوتی تو لوگ اس کو اخلاقی حیثیت سے معیوب سمجھتے کہ بھتیجا  اپنے چچا کی اِس طرح مذمّت کرے۔
<h2>پَسْ منظر :</h2>
<p>قرآن مجید میں یہ ایک ہی مقام ہے جہاں دشمنانِ اسلام میں سے کسی شخص کا نام لے کر اُس کی مَذَمَّت کی گئی ہے، حالانکہ
مکّے میں بھی، اور ہجرت کے بعد مدینہ میں بھی بہت سے لوگ ایسے تھے جو اسلام اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم  کی عداوت میں
ابو لہب سے کسی طرح کم نہ تھے۔ سوال یہ ہے کہ اِس شخص کی وہ کیا خصوصیت تھی جس کی بنا پر اس کا نام لے کر اس کی مذمت کی
گئی ؟ اِس بات کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ اُس وقت کے عربی معاشرے کو سمجھا جائے، اور اُس میں ابو لہب کے کردار کو
دیکھا جائے۔</p>
قدیم زمانے میں چونکہ پورے ملکِ عرب میں ہر طرف بد امنی ، غارت گری اور طوائف الملوکی پھیلی ہوئی تھی ، اور صدیوں سے حالت یہ تھی کہ کسی شخص کے لیے اُس کے خاندان اور خونی رشتہ داروں کی حمایت کے سوا جان و مال اور عزت و آبرو کے تحفظ کی کوئی ضمانت نہ تھی، اس لیے عربی معاشرے  کی اخلاقی قدروں میں صلۂ رحمی (یعنی رشتہ داروں کے ساتھ حسنِ سلوک ) کو بڑی اہمیت حاصل تھی، اور قطعِ رحمی کو بہت بڑا پاپ سمجھا جاتا تھا۔ عرب کی اِنہی روایات کا یہ اثر تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اسلام کی دعوت لے کر اُٹھے تو قریش کے دوسرے خاندانوں اور ان کے سرداروں نے تو حضورؐ کی شدید مخالفت کی، مگر بنی ہاشم اور بنی المُطَّلِب (ہاشم کے بھائی مُطّلِب کی اولاد) نے نہ صرف یہ کہ آپؐ کی مخالفت نہیں کی، بلہ وہ کھُلّم کھلا آپؐ کی حمایت کرتے رہے، حالانکہ ان میں سے اکثر لوگ آپؐ کی نبوّت پر ایمان نہیں  لائے تھے۔ قریش کے دوسرے خاندان خود بھی حضورؐ کے اِن خونی رشتہ داروں کی حمایت کو عرب کی اخلاقی روایات کے عین مطابق سمجھتے تھے ، اسی وجہ سے انہوں نے کبھی بنی ہاشم اور بنی المُطَّلِب کو یہ طعنہ نہیں دیا کہ تم ایک دوسرا  دین پیش کرنے والے شخص کی حمایت کر  کے اپنے دینِ آبائی سے منحرف ہو گئے ہو۔ وہ اِس بات کو جانتے اور مانتے تھے کہ اپنے خاندان کے ایک فرد کو وہ کسی حالت میں اُس کے دشمنوں کے حوالے نہیں کر سکتے، اور اُ ن کا اپنے عزیز کی پشتیبانی کرنا قریش اور اہلِ عرب سب کے نزدیک بالکل ایک فطری امر تھا۔
<p>
اِس اخلاقی اصول کو ، جسے زمانۂ جاہلیت میں بھی عرب کے لوگ واجب الاحترام سمجھتے تھے، صرف ایک شخص نے اسلام کی دشمنی
میں توڑ ڈالا ، اور وہ تھا ابو لہب بن عبد المطّلِب۔ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چچا تھا۔ حضورؐ کے والد ماجد
اور یہ ایک ہی باپ کے بیٹے تھے۔ عرب میں چچا کو باپ کی جگہ سمجھا جاتا تھا، خصوصًا جبکہ بھتیجے، کا باپ وفات پا چکا ہو
تو عربی معاشرے میں چچا سے یہ توقع کی جاتی تھی کہ وہ بھتیجے کو اپنی اولاد کی طرح عزیز رکھے گا۔ لیکن اِس شخص نے اسلام
کی دشمنی  اور کفر کی محبت میں اِن تمام عربی روایات کو پامال کر دیا۔</p>
ابن عباسؓ سے متعدد  سندوں کے ساتھ یہ روایت محدثین نے نقل کی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دعوتِ عام پیش کرنے کا حکم دیا گیا اور قرآن مجید میں یہ ہدایت نازل ہوئی کہ آپ اپنے قریب ترین عزیزوں کو سب سے پہلے خدا کے عذاب سے ڈرائیں تو آپ نے صبح سویرے کوہ صفا پر چڑھ کر بلند آواز سے پکارا، یا صبا حاہ (ہائے صبح کی آفت)۔ عرب میں یہ صدا  وہ شخص لگاتا تھا جو صبح کے جھُٹ پُٹے میں کسی دشمن کو اپنے قبیلے پر حملہ کرنے کے لیے آتے دیکھ لیتا تھا۔ حضورؐ کی یہ آواز سُن کر لوگوں نے دریافت کیا کہ یہ کون پکار رہا ہے۔ بتایا گیا یہ محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) کی آواز ہے۔ اس پر قریش کے تمام خاندانوں کے لوگ آپؐ کی طرف دوڑ پڑے۔ جو خود آسکتا تھا وہ خود آیا، اور جو نہ آسکتا تھا اُس نے اپنی طرف سے کسی کو  بھیج دیا۔ جب سب جمع ہو گئے تو آپؐ نے قریش کے ایک ایک خاندا ن کا نام لے لے کر پکارا، اے بنی ہاشم، اے بنی عبد المطلب، اے بنی فِہر، اے بنی فلاں، اے بنی فلاں، اگر میں تمہیں یہ بتاؤں کہ پہاڑ کے پیچھے ایک لشکر تم پر حملہ کرنے  کے لیے تیار ہے تو تم میری بات سچ مانو گے؟ لوگوں نے کہا ہاں، ہمیں کبھی تم سے جھوٹ سننے کا تجربہ نہیں ہوا ہے۔ آپؐ نے فرمایا تو میں تمہیں خبردار کرتا ہوں کہ آگے سخت عذاب آرہا ہے۔ اس پر قبل اِس کے کہ کوئی اور بولتا ، حضورؐ کے اپنے چچا ابو لہب نے کہا
<span class="ar indopak">تَبًّا لَکَ اَلِھٰذَا جَمَعْتَنَا </span><p>؟”ستیاناس جائے تیرا ، کیا اس لیے تُو نے ہمیں جمع
کیا تھا؟“ ایک روایت  میں یہ بھی ہے کہ اس نے پتھر اٹھایا تا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر کھینچ  مارے (مُسند
احمد، بخاری ، مسلم، ترمذی، ابن جریر وغیرہ)۔</p>
اِبن زَید کی روایت ہے کہ ابو لہب نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک  روز پوچھا اگر میں تمہارے دین کو مان لوں تو مجھے کیا ملے گا؟ آپؐ نے فرمایا جو اور سب ایمان لانے والوں کو ملے گا۔ اس نے کہا میرے لیے کوئی فضیلت نہیں ہے؟ حضورؐ نے فرمایا اور آپ کیا چاہتے ہی؟ اس پر وہ بولا
<span class="ar indopak">تَبًّا لِھٰذَا الدِّیْنِ تَبًّا اَنْ اَکُوْنَ وَھٰٓئُو لَا ءِ سَوَآءً۔ </span><p> ”ناس جائے
اِس دین کا جس میں میں اور یہ دوسرے لوگ برابر ہوں“ (ابن جریر)۔</p>
مکّہ میں ابو لہب حضورؐ کا قریب ترین ہمسایہ تھا۔ دونوں کے گھر ایک دیوار  بیچ واقع تھے۔ اُس کے علاوہ حَکَم بن عاص (مروان کا باپ) عُقْبہ بن ابی مُعَیط، عَدِی بن حَمْر اء اور ابن الاَصْداءِ الہُذَلِی بھی آپ کے ہمسائے تھے۔ یہ لوگ گھر میں بھی حضورؐ کو چین نہیں لینے دیتے تھے۔ آپ  کبھی نماز پڑھ رہے ہوتے تو یہ اوپر سے بکری کا اوجھ آپؐ پر پھینک دیتے ۔ کبھی صحن میں کھانا پک رہا ہوتا تو یہ ہنڈیا پر غلاظت پھینک دیتے ۔ حضورؐ باہر نکل کر ان لوگوں سے فرماتے ”اے بنی عبد مَناف ، یہ کیسی ہمسایگی ہے؟“۔ ابو لہب کی بیوی امِّ جمیل (ابو سفیان کی بہن) نے تو یہ مستقل وتیرہ ہی اختیار کر رکھا تھا کہ راتوں کو آپؐ کے گھر کے دروازے پر خاردار جھاڑیاں لا کر ڈال دیتی ، تاکہ صبح سویرے جب آپؐ یا آپؐ کے بچے باہر نکلیں تو کوئی کانٹا پاؤں میں چُبھ جائے(بَیْہَقِی، ابن ابی حاتم، ابن جریر، ابن عَساکِر، ابن ہِشام)۔
<p>
نبوت سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دو صاحبزادیاں ابو لہب کے دو بیٹوں عُتْبَہ اور  عُتَیبہ سے بیاہی ہوئی
تھیں۔ نبوت کے بعد جب حضورؐ نے اسلام کی طرف دعوت دینی شروع کی تو اِس شخص نے اپنے دونوں بیٹوں سے کہا کہ میرے لیے تم سے
ملنا حرام ہے اگر تم محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی بیٹیوں کو طلاق نہ دے دو ۔ چنانچہ دونوں نے طلاق دے دی۔ اور عُتَیبہ
تو جہالت میں اس قدر آگے بڑھ گیا کہ ایک روز حضورؐ کے سامنے آکر اس نے کہا کہ میں </p>
<span class="ar indopak">النَّجْمِ اذَا ھَوٰی اور اَلَّذِیْ دَنَا فَتَدَلّٰی</span><p> کا انکار کرتا ہوں، اور یہ کہہ کر
اس نے حضورؐ کی طرف تھوکا جو آپؐ پر نہیں پڑا۔ حضورؐ نے فرمایا خدایا، اِس پر اپنے کتّوں میں ست ایک کتّے کو مسلّط کر
دے۔ اِس کے بعد عتیبہ اپنے باپ کے ساتھ  شام کے سفر پر روانہ ہو گیا۔ دَورانِ سفر میں ایک  ایسی جگہ قافلے نے پڑاؤ کیا
جہاں مقامی لوگوں نے بتایا کہ راتوں کو درندے آتے ہیں۔ ابو لہب نے اپنے ساتھی اہلِ قریش سے کہا کہ میرے بیٹے کی حفاظت کا
کچھ انتظام کر و، کیونکہ مجھے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی بددعا  کا خو ف ہے۔ اس پر قافلے والوں نے عُتَیبہ کے گرد ہر
طرف اپنے اُونٹ بٹھا دیے اور پڑ کر سو رہے۔ رات کو ایک شیر آیا اور اونٹوں کے حلقے میں سے گزر کر اُس نے عتیبہ کو پھاڑ
کھایا۔ (الاستِعیاب لابن عبد الَبّر، الاِ صا بہ بن حَجْر، دلائل النبوۃ لا بی نعیم الاصفہانی، روض الانف للسُّہَیلی۔
روایات میں یہ اختلاف ہے کہ بعض راوی طلاق کے معاملے  کو اعلانِ نبوّت کے بعد کا واقعہ بیان کرتے ہیں اور بعض کہتے ہیں
کہ یہ </p>
<span class="ar indopak">تَبَّتْ یَدَآ اَبِیْ لَھَبٍ</span><p> کے نزول کے بعد پیش آیا تھا۔ اس امر میں بھی اختلاف ہے کہ
یہ ابو لہب کا لڑکا عُتْبہ تھا یا عُتَیبہ ۔ لیکن یہ  بات ثابت ہے کہ فتح مکّہ کے بعد عُتبَہ نے اسلام قبول کر کے حضورؐ
کے دست مبارک پر بیعت کی۔ اس لیے صحیح بات یہی ہے کہ یہ لڑکا عُتَیبہ تھا)۔</p>
اُس کے خبثِ نفس کا یہ حال تھا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے حضرت قاسم کے بعد دوسرے صاحبزادے حضرت عبد اللہ کا بھی انتقال ہوگیا تو یہ اپنے بھتیجے کے غم میں شریک ہونے کے بجائے خوشی خوشی دوڑا ہوا قریش کے سرداروں کے پاس پہنچا اور اُن کو خبر دی کہ لو آج محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) بے نام و نشان ہو گئے۔ اُس کی اِس حرکت کا ذکر ہم سورۂ کوثر کی تفسیر میں کر چکے ہیں۔
<p>
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جہاں جہاں بھی اسلام کی دعوت دینے کے لیے تشریف لے  جاتے ، یہ آپؐ  کے پیچھے پیچھے جاتا
اور لوگوں کو آپؐ کی بات سننے سے روکتا۔ رَبِیعہؓ بن عَبّاد الدِّیْلیِ بیان کرتے ہیں کہ میں نو عمر تھا  جب اپنے باپ کے
ساتھ ذوالمجاز کے بازار میں گیا۔ وہاں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپؐ کہہ رہے تھے،  ” لوگوٗ کہو اللہ
کے سوا کوئی معبود نہیں ہے، فلاح پاؤگے۔“ اور آپؐ کے پیچھے پیچھے ایک شخص کہتا جا رہا تھا کہ ”یہ جھوٹا ہے ، دین آبائی
سے پھر گیا ہے۔“ میں نے پوچھا یہ کون شخص ہے؟ لوگوں نے کہا یہ ان کا چچا ابو لہب ہے(مُسند احمد، بَیْہَقِی)۔ دوسری روایت
انہی حضرت ربیعہؓ سے یہ ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپؐ ایک ایک قبیلے کے پڑاؤ پر جاتے ہیں
اور فرماتے ہیں ” اے بنی فلاں، میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں۔ تمہیں ہدایت کرتا ہوں کہ صرف اللہ کی عبادت کرو اور اس
کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو۔ تم میری تصدیق کرو اور میرا ساتھ دو تا کہ میں وہ کام پورا کروں جس کے لیے اللہ نے مجھے
بھیجا ہے۔“ آپؐ کے پیچھے پیچھے ایک اور شخص آتا ہے اور وہ کہتا ہے کہ ”اے بنی فلاں، یہ تم کو لات اور عُزّیٰ سے پھیر کر
اُس بدعت اور گمراہی  کی طرف لے جانا چاہتا ہے  جسے یہ لے کر آیا ہے۔ اس کی بات پرگز نہ مانو اور اس کی پیروی نہ کرو۔“
میں نے اپنے باپ سے  پوچھا یہ کون ہے۔ انہوں نے کہا  یہ ان کا چچا ابو لہب ہے(مُسند احمد، طَبَرانی)۔ طارقؓ بن عبد اللہ
المُحارِبی کی روایت بھی اسی سے ملتی جلتی ہے ۔ وہ کہتے ہیں میں نے ذوالمجاز کے بازار میں دیکھا کہ  رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم لوگوں سے کہتے جاتے  ہیں کہ  ”لوگو، لا الٰہ الا اللہ کہو، فلاح پاؤ گے۔“ اور پیچھے ایک شخص ہے جو آپؐ کوپتھر
مار رہا ہے، یہاں تک کہ آپؐ کی ایڑیاں خون سے تر ہو گئی ہیں، اور وہ کہتا جاتا ہے کہ ” یہ جھوٹا ہے، اس کی بات نہ مانو۔“
میں نے لوگوں سے پوچھا یہ کون ہے ؟ لوگوں نے کہا یہ ان کا چچا ابولہب ہے(ترمذی)۔</p>
نبوت کے ساتویں سال جب قریش کے تمام خاندانوں نے بنی ہاشم اور بنی مطّلب کا معاشرتی اور معاشی مقاطعہ کیا اور یہ دونوں خاندان رسول اللہ صلی اللہ علیہ  وسلم کی حمایت پر ثابت قدم رہتے ہوئے شِعْبِ ابی طالب میں محصور ہو گئے تو تنہا  یہی ابولہب تھا جس نے اپنے خاندان کا ساتھ دینے کے بجائے کفّارِ قریش کا ساتھ دیا۔ یہ مقاطعہ تین سال تک جاری رہا اور اس دوران میں بنی ہاشم اور بنی المُطَّلِب پر فاقوں کی نوبت آگئی۔ مگر ابو لہب کا حال یہ تھا کہ جب مکّہ میں کوئی تجارتی قافلہ آتا اور شِعبِ ابی طالب کے محصورین میں سے کوئی خوراک کا سامان خریدنے کے لیے اس کے پاس جاتا تو یہ تاجروں سے پکار کر کہتا کہ اِن  سے اتنی قیمت مانگو کہ یہ خرید نہ سکیں ، تمہیں جو خسارہ بھی ہو گا اسے میں پورا کروں گا۔ چنانچہ وہ بے تحاشا قیمت طلب کرتے اور خریدار بیچارہ اپنے بھوک سے تڑپتے ہوئے بال بچوں کے پاس خالی ہاتھ پلٹ جاتا۔ پھر ابولہب اُنہی تاجروں سے وہی چیزیں بازار کے بھاؤ خرید لیتا(ابن سعد و ابن ہِشام)۔
<p>
یہ اس شخص کی حرکات تھیں جن کی بنا پر اس سورۃ میں نام لے کر اس کی مذمت کی گئی۔ خاص طور پر اس کی ضرورت اس لیے تھی کہ
مکّہ سے باہر کے اہلِ عرب جو حج کے لیے آتے، یا مختلف مقامات پر لگنے والے بازاروں میں جمع ہوتے، اُن کے سامنے جب رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنا چچا آپؐ کے پیچھے لگ کر آپؐ کی مخالفت کرتا، تو وہ عرب کی معروف روایات کے لحاظ سے یہ
بات خلافِ توقع سمجھتے تھے کہ کوئی چچا بلا وجہ دوسروں کے سامنے خود اپنے بھتیجے کو برا بھلا کہے اور اُسے پتھر مارے اور
اس پر الزام تراشیاں کرے۔ اِس وجہ سے وہ ابو لہب کی بات سے متأثر ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں شک
میں پڑ جاتے ۔ مگر جب یہ سورۃ نازل ہوئی اور ابو لہب نے غصّے میں بپھر کر اَول فَول بکنا شروع کر دیا تو لوگوں کو معلوم
ہو گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت میں اِس شخص کا قول قابلِ اعتبار نہیں ہے، کیونکہ  یہ اپنے بھتیجے کی
دشمنی میں دیوانہ ہو رہا ہے۔</p>
<p>اِس کے علاوہ نام لے کر جب آپؐ کے چچا کی مذمت کی گئی تو لوگوں کی یہ توقع ہمیشہ کے لیے ختم ہو گئی کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم دین کے معاملہ میں کسی کا لحاظ کر کے کوئی مداہنت برت سکتے ہیں۔ جب علی الاعلان رسول  کے  اپنے چچا کی خبر لے
ڈالی گئی تو لوگ سمجھ گئے کہ یہاں کسی لاگ لپیٹ کی گنجائش نہیں ہے۔ غیر اپنا ہو سکتا ہے اگر ایمان لے آئے، اور اپنا غیر
ہو جاتا ہے اگر کفر کرے۔ اِس معاملہ میں فلاں ابنِ فلاں کوئی چیز نہیں ہے۔</p>

Verse by verse

Surah Al-Jinn · جن

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

  1. Ayah 1

    بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ قُلْ أُوحِيَ إِلَيَّ أَنَّهُ اسْتَمَعَ نَفَرٌ مِّنَ الْجِنِّ فَقَالُوا إِنَّا سَمِعْنَا قُرْآنًا عَجَبًا

    اے نبیؐ، کہو، میری طرف وحی بھیجی گئی ہے کہ جنوں کے ایک گروہ نے غور سے سنا پھر (جا کر اپنی قوم کے لوگوں سے) کہا: "ہم نے ایک بڑا ہی عجیب قرآن سنا ہے

  2. Ayah 2

    يَهْدِي إِلَى الرُّشْدِ فَآمَنَّا بِهِ ۖ وَلَن نُّشْرِكَ بِرَبِّنَا أَحَدًا

    جو راہ راست کی طرف رہنمائی کرتا ہے اِس لیے ہم اُس پر ایمان لے آئے ہیں اور اب ہم ہرگز اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کریں گے"

  3. Ayah 3

    وَأَنَّهُ تَعَالَىٰ جَدُّ رَبِّنَا مَا اتَّخَذَ صَاحِبَةً وَلَا وَلَدًا

    اور یہ کہ "ہمارے رب کی شان بہت اعلیٰ و ارفع ہے، اُس نے کسی کو بیوی یا بیٹا نہیں بنایا ہے"

  4. Ayah 4

    وَأَنَّهُ كَانَ يَقُولُ سَفِيهُنَا عَلَى اللَّهِ شَطَطًا

    اور یہ کہ "ہمارے نادان لوگ اللہ کے بارے میں بہت خلاف حق باتیں کہتے رہے ہیں"

  5. Ayah 5

    وَأَنَّا ظَنَنَّا أَن لَّن تَقُولَ الْإِنسُ وَالْجِنُّ عَلَى اللَّهِ كَذِبًا

    اور یہ کہ "ہم نے سمجھا تھا کہ انسان اور جن کبھی خدا کے بارے میں جھوٹ نہیں بول سکتے"

  6. Ayah 6

    وَأَنَّهُ كَانَ رِجَالٌ مِّنَ الْإِنسِ يَعُوذُونَ بِرِجَالٍ مِّنَ الْجِنِّ فَزَادُوهُمْ رَهَقًا

    اور یہ کہ "انسانوں میں سے کچھ لوگ جنوں میں سے کچھ لوگوں کی پناہ مانگا کرتے تھے، اِس طرح اُنہوں نے جنوں کا غرور اور زیادہ بڑھا دیا"

  7. Ayah 7

    وَأَنَّهُمْ ظَنُّوا كَمَا ظَنَنتُمْ أَن لَّن يَبْعَثَ اللَّهُ أَحَدًا

    اور یہ کہ "انسانوں نے بھی وہی گمان کیا جیسا تمہارا گمان تھا کہ اللہ کسی کو رسول بنا کر نہ بھیجے گا"

  8. Ayah 8

    وَأَنَّا لَمَسْنَا السَّمَاءَ فَوَجَدْنَاهَا مُلِئَتْ حَرَسًا شَدِيدًا وَشُهُبًا

    اور یہ کہ "ہم نے آسمان کو ٹٹولا تو دیکھا کہ وہ پہرے داروں سے پٹا پڑا ہے اور شہابوں کی بارش ہو رہی ہے"

  9. Ayah 9

    وَأَنَّا كُنَّا نَقْعُدُ مِنْهَا مَقَاعِدَ لِلسَّمْعِ ۖ فَمَن يَسْتَمِعِ الْآنَ يَجِدْ لَهُ شِهَابًا رَّصَدًا

    اور یہ کہ "پہلے ہم سن گن لینے کے لیے آسمان میں بیٹھنے کی جگہ پا لیتے تھے، مگر اب جو چوری چھپے سننے کی کوشش کرتا ہے وہ اپنے لیے گھات میں ایک شہاب ثاقب لگا ہوا پاتا ہے"

  10. Ayah 10

    وَأَنَّا لَا نَدْرِي أَشَرٌّ أُرِيدَ بِمَن فِي الْأَرْضِ أَمْ أَرَادَ بِهِمْ رَبُّهُمْ رَشَدًا

    اور یہ کہ "ہماری سمجھ میں نہ آتا تھا کہ آیا زمین والوں کے ساتھ کوئی برا معاملہ کرنے کا ارادہ کیا گیا ہے یا اُن کا رب اُنہیں راہ راست دکھانا چاہتا ہے"

  11. Ayah 11

    وَأَنَّا مِنَّا الصَّالِحُونَ وَمِنَّا دُونَ ذَٰلِكَ ۖ كُنَّا طَرَائِقَ قِدَدًا

    اور یہ کہ "ہم میں سے کچھ لوگ صالح ہیں اور کچھ اس سے فروتر ہیں، ہم مختلف طریقوں میں بٹے ہوئے ہیں"

  12. Ayah 12

    وَأَنَّا ظَنَنَّا أَن لَّن نُّعْجِزَ اللَّهَ فِي الْأَرْضِ وَلَن نُّعْجِزَهُ هَرَبًا

    اور یہ کہ "ہم سمجھتے تھے کہ نہ زمین میں ہم اللہ کو عاجز کر سکتے ہیں اور نہ بھاگ کر اُسے ہرا سکتے ہیں"

  13. Ayah 13

    وَأَنَّا لَمَّا سَمِعْنَا الْهُدَىٰ آمَنَّا بِهِ ۖ فَمَن يُؤْمِن بِرَبِّهِ فَلَا يَخَافُ بَخْسًا وَلَا رَهَقًا

    اور یہ کہ "ہم نے جب ہدایت کی تعلیم سنی تو ہم اس پر ایمان لے آئے اب جو کوئی بھی اپنے رب پر ایمان لے آئے گا اسے کسی حق تلفی یا ظلم کا خوف نہ ہوگا"

  14. Ayah 14

    وَأَنَّا مِنَّا الْمُسْلِمُونَ وَمِنَّا الْقَاسِطُونَ ۖ فَمَنْ أَسْلَمَ فَأُولَـٰئِكَ تَحَرَّوْا رَشَدًا

    اور یہ کہ "ہم میں سے کچھ مسلم (اللہ کے اطاعت گزار) ہیں اور کچھ حق سے منحرف تو جنہوں نے اسلام (اطاعت کا راستہ) اختیار کر لیا انہوں نے نجات کی راہ ڈھونڈ لی

  15. Ayah 15

    وَأَمَّا الْقَاسِطُونَ فَكَانُوا لِجَهَنَّمَ حَطَبًا

    اور جو حق سے منحرف ہیں وہ جہنم کا ایندھن بننے والے ہیں"

  16. Ayah 16

    وَأَن لَّوِ اسْتَقَامُوا عَلَى الطَّرِيقَةِ لَأَسْقَيْنَاهُم مَّاءً غَدَقًا

    اور (اے نبیؐ، کہو، مجھ پر یہ وحی بھی کی گئی ہے کہ) لوگ اگر راہ راست پر ثابت قدمی سے چلتے تو ہم اُنہیں خوب سیراب کرتے

  17. Ayah 17

    لِّنَفْتِنَهُمْ فِيهِ ۚ وَمَن يُعْرِضْ عَن ذِكْرِ رَبِّهِ يَسْلُكْهُ عَذَابًا صَعَدًا

    تاکہ اس نعمت سے ان کی آزمائش کریں اور جو اپنے رب کے ذکر سے منہ موڑے گا اس کا رب اسے سخت عذاب میں مبتلا کر دے گا

  18. Ayah 18

    وَأَنَّ الْمَسَاجِدَ لِلَّهِ فَلَا تَدْعُوا مَعَ اللَّهِ أَحَدًا

    اور یہ کہ مسجدیں اللہ کے لئے ہیں، لہٰذا اُن میں اللہ کے ساتھ کسی اور کو نہ پکارو

  19. Ayah 19

    وَأَنَّهُ لَمَّا قَامَ عَبْدُ اللَّهِ يَدْعُوهُ كَادُوا يَكُونُونَ عَلَيْهِ لِبَدًا

    اور یہ کہ جب اللہ کا بندہ اُس کو پکارنے کے لئے کھڑا ہوا تو لوگ اُس پر ٹوٹ پڑنے کے لئے تیار ہو گئے

  20. Ayah 20

    قُلْ إِنَّمَا أَدْعُو رَبِّي وَلَا أُشْرِكُ بِهِ أَحَدًا

    اے نبیؐ، کہو کہ "میں تو اپنے رب کو پکارتا ہوں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا"

  21. Ayah 21

    قُلْ إِنِّي لَا أَمْلِكُ لَكُمْ ضَرًّا وَلَا رَشَدًا

    کہو، "میں تم لوگوں کے لئے نہ کسی نقصان کا اختیار رکھتا ہوں نہ کسی بھلائی کا"

  22. Ayah 22

    قُلْ إِنِّي لَن يُجِيرَنِي مِنَ اللَّهِ أَحَدٌ وَلَنْ أَجِدَ مِن دُونِهِ مُلْتَحَدًا

    کہو، "مجھے اللہ کی گرفت سے کوئی نہیں بچا سکتا اور نہ میں اُس کے دامن کے سوا کوئی جائے پناہ پا سکتا ہوں

  23. Ayah 23

    إِلَّا بَلَاغًا مِّنَ اللَّهِ وَرِسَالَاتِهِ ۚ وَمَن يَعْصِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَإِنَّ لَهُ نَارَ جَهَنَّمَ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا

    میرا کام اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ اللہ کی بات اور اس کے پیغامات پہنچا دوں اب جو بھی اللہ اور اس کے رسول کی بات نہ مانے گا اس کے لیے جہنم کی آگ ہے اور ایسے لوگ اس میں ہمیشہ رہیں گے"

  24. Ayah 24

    حَتَّىٰ إِذَا رَأَوْا مَا يُوعَدُونَ فَسَيَعْلَمُونَ مَنْ أَضْعَفُ نَاصِرًا وَأَقَلُّ عَدَدًا

    (یہ لوگ اپنی اِس روش سے باز نہ آئیں گے) یہاں تک کہ جب اُس چیز کو دیکھ لیں گے جس کا اِن سے وعدہ کیا جا رہا ہے تو انہیں معلوم ہو جائے گا کہ کس کے مددگار کمزور ہیں اور کس کا جتھا تعداد میں کم ہے

  25. Ayah 25

    قُلْ إِنْ أَدْرِي أَقَرِيبٌ مَّا تُوعَدُونَ أَمْ يَجْعَلُ لَهُ رَبِّي أَمَدًا

    کہو، "میں نہیں جانتا کہ جس چیز کا وعدہ تم سے کیا جا رہا ہے وہ قریب ہے یا میرا رب اس کے لیے کوئی لمبی مدت مقرر فرماتا ہے

  26. Ayah 26

    عَالِمُ الْغَيْبِ فَلَا يُظْهِرُ عَلَىٰ غَيْبِهِ أَحَدًا

    وہ عالم الغیب ہے، اپنے غیب پر کسی کو مطلع نہیں کرتا

  27. Ayah 27

    إِلَّا مَنِ ارْتَضَىٰ مِن رَّسُولٍ فَإِنَّهُ يَسْلُكُ مِن بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ رَصَدًا

    سوائے اُس رسول کے جسے اُس نے (غیب کا کوئی علم دینے کے لیے) پسند کر لیا ہو، تو اُس کے آگے اور پیچھے وہ محافظ لگا دیتا ہے

  28. Ayah 28

    لِّيَعْلَمَ أَن قَدْ أَبْلَغُوا رِسَالَاتِ رَبِّهِمْ وَأَحَاطَ بِمَا لَدَيْهِمْ وَأَحْصَىٰ كُلَّ شَيْءٍ عَدَدًا

    تاکہ وہ جان لے کہ انہوں نے اپنے رب کے پیغامات پہنچا دیے، اور وہ اُن کے پورے ماحول کا احاطہ کیے ہوئے ہے اور ایک ایک چیز کو اس نے گن رکھا ہے"

About the Quran

The Quran

The Quran is the holy scripture of Islam. Muslims believe that it is the literal word of Allah (سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى), revealed to the Prophet Muhammad (صلى الله عليه وسلم) over a period of 23 years. The Quran is composed of 114 Surahs (chapters) and contains 6,236 Ayat (verses). Muslim beliefs and practices are based on the Quran and the Sunnah, the teachings and example of the Prophet Muhammad (صلى الله عليه وسلم).

The Kaaba in Mecca
A mosque in South America

Meccan Surahs

The Meccan Surahs are the earliest revelations sent down to the Prophet Muhammad (صلى الله عليه وسلم). They were revealed in Mecca, hence their name. These revelations form the foundation of the Islamic faith and contain guidance for Muslims on how to live their lives. The Meccan Surahs are also notable for their poetic beauty and lyrical prose.

Medinan Surahs

The Medinan Surahs are the later Surahs that, according to Islamic tradition, were revealed in Medina after the Prophet Muhammad's (صلى الله عليه وسلم) hijra from Mecca. They were revealed by Allah (سبحانه و تعالى) when the Muslim community was larger and more developed, as opposed to their minority position in Mecca.

Stay connected

Receive regular updates

New features, translations and reminders from AskTheQuran, straight to your inbox.

We use Mailchimp to send updates. You can unsubscribe at any time. See our privacy policy.

We may receive a commission if you click on a link and buy a product, service or similar, at no extra cost to you. Details are in the disclosure policy.