Menu

Surah Nuh

نوح

Chapter 71 of 114

خوبصورت تلاوت قرآن

Surah Nuh

Recited by Salaah Bukhaatir

Overview

About this Surah

At a glance

Surah 71 of 114

Translation
Urdu
Recitation
Salaah Bukhaatir

Ask the AI about this Surah

Commentary

Tafsir

<h2>نام :</h2>
<p> </p> پہلی آیت <span class="ar indopak">اَذَا جَآءَ نَصْرُ اللہِ </span><p>کے لفظ نصر کو اِس سورہ کا نام قرار دیا گیا
ہے۔</p>
<h2>زمانۂ نزول :</h2>
<p>
  </p>حضرت عبداللہؓ بن عباس کا بیان ہے کہ یہ قرآن مجید کی آخری سورت ہے، یعنی اس کے بعد کوئی مکمّل سورہ حضورؐ پر نازل نہیں ہوئی۔
<a name="Countinue" id="Countinue"></a><a href="#Intro_1">۱؎</a><p>(مسلم، نَسائی، طَبَرانی، ابن ابی شَیبہ، ابن
مَرْدُوْیَہ)۔ حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ کی روایت ہے کہ یہ سورت حَجّۃ الوداع کے موقع پر ایّامِ تشریق کے وسط میں بمقامِ
منٰی نازل ہوئی اور اس کے بعد حضور ؐ نے اپنی اونٹنی پر سوار ہو کر اپنا مشہور خطبہ ارشاد فرمایا (تِرمِذی، بَزّار،
بَیْہَقِی، ابن ابی شَیبہ، عبد بن حُمَید، ابو یعلیٰ، ابن مَرْدُوْیَہ)۔ بیہقی نے کتاب الحج میں حضرت سَرّ اء بنت
نَبْہان کی روایت سے حضورؐ کا وہ خطبہ نقل کیا ہے  جو آپ نے اِس موقع پر ارشاد فرمایا تھا۔ وہ کہتی ہیں کہ:</p>
” میں نے حَجّۃ الوداع میں حضور ؐ کو یہ فرماتے سنا کہ لوگو جانتے ہو کہ یہ کونسا دن ہے؟ لوگوں نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول کو زیادہ علم ہے ۔ فرمایا یہ ایّامِ تشریق  کے بیچ کا دن ہے۔ پھر آپؐ نے پوچھا جانتے ہو  یہ کونسا مقام ہے ؟ لوگوں نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول کو زیادہ علم ہے۔ فرمایا یہ مَشْعَرِ حرام ہے۔ پھر حضور ؐ نے فرمایا کہ میں نہیں جانتا، شاید اِس کے بعد میں تم سے مل  نہ سکوں۔ خبردار رہو، تمہارے خون اور تمہاری عزتیں ایک دوسرے  پر اُسی طرح حرام ہیں جس طرح یہ دن اور یہ مقام حرام ہے ، یہاں تک کہ تم اپنے ربّ کے سامنے حاضر ہو اور وہ تم سے تمہارے اعمال کے بارے میں سوال کرے۔ سنو، یہ بات تم میں سے قریب والا دُور والے تک پہنچا دے۔ سُنو، کیا میں نے تمہیں پہنچا دیا؟ اِس کے بعد جب ہم لوگ مدینہ  واپس ہوئے تو کچھ زیادہ دن نہ گزرے تھے کہ حضورؐ کا انتقال ہو گیا۔“
<p>
اِن دونوں روایتوں کو ملا کر دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ سورۂ نَصر کے نزول اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی
وفات کے درمیان ۳ مہینے کچھ دن کا فصل تھا ، کیونکہ تاریخ کی رو سے حَجۃ الوداع اور حضورؐ کے وِصال کے درمیان اتنا ہی
زمانہ گزرا  تھا۔</p>
ابن عباسؓ کا بیان ہے کہ جب یہ سورۃ نازل ہوئی تو حضورؐ نے فرمایا مجھے میری وفات کی خبر دے دی گئی ہے اور میرا وقت آن پورا ہوا ( مُسند احمد، ابن جریر، ابن المُنْذِر، ابن مردویہ)۔ دوسری روایات جو حضرت عبد اللہ بن عباسؓ سے منقول ہوئی ہیں اُن میں بیان کیا گیا ہےکہ اِس سورۃ کے نزول سے حضورؐ نے یہ سمجھ لیا تھا کہ آپؐ کو دنیا سے رخصت ہونے کی اطلاع دے دی گئی ہے (مُسند احمد، ابن جریر، طَبَرانی، نَسائی، ابن ابی حاتم، ابن مردویہ)۔
<p>
ام المومنین حضرت امِّ حبیبہ ؓ فرماتی ہیں کہ جب یہ سورۃ نازل ہوئی تو حضورؐ نے فرمایا اس سال میرا انتقال ہو نے والا
ہے۔ یہ بات سُن کر حضرت فاطمہ ؓ رو دیں۔ اِس پر آپؐ نے فرمایا میرے خاندان میں سے تم ہی سب سے پہلے مجھ سے آکر ملو گی۔
یہ سُن کر وہ ہنس دیں (ابن ابی حاتم، ابن مردویہ)۔ قریب قریب اِسی مضمون کی روایت بیہقی نے ابن عباسؓ سے نقل کی ہے۔</p>
ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ مجھے غَزْوَہ ٔ بدر میں شریک ہونے والے بڑے بڑَ شیوخ کے ساتھ اپنی مجلس میں بلاتے تھے۔ یہ بات بعض بزرگوں کو نا گوار گزری اور انہوں نے کہا کہ ہمارے لڑکے بھی تو اِسی لڑکے جیسے ہیں، اِس کو خاص طور پر کیوں ہمارے ساتھ شریک ِ مجلس کیا جاتا ہے؟ (امام بخاری اور ابن جریر نے تصریح کی ہے کہ یہ بات کہنے والے حضرت عبد الرحمانؓ  بن عَوف تھے)۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ علم کے لحاظ سے اِس کا جو مقام ہے وہ آپ لوگ جانتے ہیں۔ پھر ایک روز اُنہوں نے شیوخِ بدر کو بلایا اور مجھے بھی اُن کے ساتھ بُلا لیا۔ میں سمجھ گیا کہ آج مجھے یہ دکھانے کے لیے بلایا گیا ہے کہ مجھ کو ان کی مجلس میں کیوں شریک  کیا جاتا ہے۔ دورانِ گفتگو میں حضرت عمرؓ نے شیوخ        بدر سے پوچھا کہ آپ حضرات اِذَا جَآ ءَ نَصْرُ اللہِ وَالْفَتْحُ کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ بعض نے کہا  اس میں ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ جب اللہ کی نصرت آئے اور ہم کو فتح نصیب ہو تو ہم اللہ کی حمد اور اس سے استغفار کریں۔ بعض نے کہا اس سے مراد شہروں اور قلعوں کی فتح ہے۔ بعض خاموش رہے۔ اس کے بعد حضرت عمرؓ نے کہا ابن عباسؓ کیا تم بھی یہی کہتے ہو؟ میں نے کہا، نہیں ۔ انہوں نے پوچھا پھر تم کیا کہتے ہو؟ میں نے عرض کیا اس سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اَجل ہے۔ اس میں حضورؐ کو خبر دی گئی ہے کہ جب اللہ کی نصرت آجائے اور فتح نصیب ہو جائے تو یہ اس  بات کی علامت ہے کہ آپؐ کا وقت آن پورا ہوا ، اِس کے بعد آپؐ اللہ کی حمد اور استغفار کریں۔ اس پر حضرت عمرؓ نے فرمایا  میں بھی اُس کے سوا کچھ نہیں جانتا جو تم نے کہا ہے۔ ایک روایت میں اس پر  یہ اضافہ ہے کہ حضرت عمرؓ نے شیوخِ بدر سے فرمایا  آپ لوگ مجھے کیسے ملامت کرتے ہیں جبکہ اِس لڑکے کو اس مجلس میں شریک کرنے کی وجہ آپ نے دیکھ لی (بخاری، مُسند احمد، تِرْمِذی، ابن جریر، ابن مردویہ، بَغَوِی، بَیْہَقِی، ابن المُنْذِر)۔
<h2>موضوع اور مضمون :</h2>
<p>
 </p> جیسا کہ مندرجۂ بالا روایات سے معلوم ہوتا ہے ، اِس سورہ میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بتا دیا تھا کہ جب عرب میں اسلام کی فتح مکمل ہوجائے اور لوگ اللہ کے دین میں فوج در فوج داخل ہونے لگیں تو اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ کام مکمل ہو گیا  جس کے لیے آپؐ دنیا میں بھیجے گئے تھے۔ اس کے بعد آپؐ کو حکم دیا گیا  کہ آپؐ اللہ کی حمد اور اس کی تسبیح کرنے میں مشغول  ہو جائیں کہ اُس کے فضل سے آپؐ اتنا بڑا کام انجام دینے میں کامیاب ہو ئے ، اور اُس سے دعا کریں کہ اِس خدمت کی انجام دہی میں جو بھول چوک یا کوتاہی بھی آپؐ سے ہوئی ہو اُسے وہ معاف فرمادے۔ اِس مقام پر آدمی غور کرے تو دیکھ سکتا ہے کہ ایک نبی اور ایک عام دنیوی رہنما کے درمیان کتنا عظیم فرق ہے۔ کسی دنیوی رہنما کو اگر اپنی زندگی ہی میں وہ انقلابِ عظیم برپا کرنے  میں کامیابی نصیب ہو جائے جس کے لیے وہ کام کرنے اٹھا ہو تو اس کے لیے یہ جشن منانے اور اپنی قیادت پر فخر کرنے کا موقع ہوتا ہے۔ لیکن یہاں اللہ کے پیغمبر کو ہم دیکھتے ہیں کہ اُس نے ۲۳ سال کی مختصر مدت میں ایک پوری قوم کے عقائد، افکار، عادات، اخلاق، تمدّن، تہذیب ، معاشرت، معیشت، سیاست اور حربی قابلیت کو بالکل بدل ڈالا اور جہالت و جاہلیت میں ڈوبی ہوئی قوم کو  اُٹھا کر اِس قابل بنا دیا کہ وہ دنیا کو مسخّر کرڈالے اور اقوامِ عالم کی امام بن جائے،  مگر ایسا عظیم کارنامہ اُس کے ہاتھوں انجام پانے کے بعد اُسے جشن منانے کا نہیں بلکہ اللہ کی حمد اور تسبیح کرنے اور اُس سے مغفرت کی دعا کرنے کا حکم دیا جاتا ہے ، اور وہ پوری عاجزی  کے ساتھ اس حکم کی تعمیل میں لگ جاتا ہے۔
<p>
حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی وفات سے پہلے </p>
<span class="ar indopak">سُبْحٰنَکَ اللّٰھُمَّ وَبِحَمْدِکَ اَسْتَغْفِرُکَ وَاَتُوْ بُ اِلَیْکَ</span><p> (بعض روایات
میں الفاظ یہ ہیں </p>
<span class="ar indopak">سُبْحَانَ اللہِ وَبَحَمْدِہٖ اَسْتَغْفِرُاللہَ وَاَتُوْبُ اِلَیْہِ</span><p> ) کثرت سے پڑھا
کرتے تھے ۔ میں عرض کیا یا رسول اللہ یہ کیسے کلمات ہیں جو آپؐ نے اب پڑھنے شروع کر دیے ہیں؟ فرمایا میرے لیے ایک علامت
مقرر کر دی گئی ہے کہ جب میں اُسے دیکھوں تو یہ الفاظ کہا کروں اور وہ ہے </p>
<span class="ar indopak">اَذَا جَآءَ نَصْرُ اللہِ وَالْفَتَحُ</span><p> (مُسند احمد، مسلم ، ابن جریر، ابن المنذر، ابن
مردویہ)۔ اسی سے ملتی جُلتی بعض روایات میں حضرت عائشہؓ کا بیان ہے کہ آپؐ  اپنے رکوع و سجود میں بکثرت یہ الفاظ کہتے
تھے </p>
<span class="ar indopak">سُبْحٰنَکَ اللّٰھُمَّ وَبِحَمْدِکَ، اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ۔</span><p> یہ قرآن (یعنی سورۂ
نصر) کی تاویل تھی جو آپؐ نے فرمائی تھی (بخاری، مسلم، ابو داؤد، نَسائی، ابن ماجہ، ابن جریر)۔</p>
حضرت اُمِّ سَلَمہؓ فرمانی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانِ مبار ک پر آپؐ کے آخری زمانۂ حیات میں اُٹھتے بیٹھتے اور جاتے آتے یہ الفاظ جاری  رہتے:
<span class="ar indopak">سُبْحَانَ اللہِ وَبَحَمْدِہٖ</span><p> میں نے ایک روز پوچھا کہ یا رسول اللہ آپؐ کثرت سے یہ ذکر
کیوں کرتے رہتے ہیں ؟ فرمایا مجھے اس کا حکم دیا گیا ہے پھر آپؐ نے یہ سورۃ پڑھی(ابن جریر)۔</p>
حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کی روایت ہے کہ جب یہ سورۃ نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کثرت سے یہ ذکر فرماتے رہتے:
<span class="ar indopak">سُبْحٰنَکَ اللّٰھُمَّ وَبِحَمْدِکَ، اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ، سُبْحَا نَکَ رَبَّنَا وَبِحَمْدِکَ، اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ ، اِنَّکَ اَنْتَ التَّوَّابُ الْغَفُوْرُ۔</span>
<p> (ابن جریر ، مُسند احمد، ابن ابی حاتم)۔</p>
<p>          ابن عباسؓ کا بیان ہے کہ اس سورت کے نازل ہونے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آخرت کے لیے محنت و ریاضت
کرنے میں اِس قدر شدّت  کے ساتھ مشغول ہوگئے  جتنے اس سے پہلے کبھی نہ ہوئے تھے (نَسائی، طَبَرانی، ابن ابی حاتم، ابن
مردویہ)۔</p>۱؎<p>مختلف روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اِس کے بعد بعض آیات نازل ہوئی ہیں۔ لیکن اس امر میں اختلاف ہے کہ
قرآن  کی وہ آیت کون سی ہے ، جو حضورؐ پر سب سے آخر میں نازل ہوئی۔ بخاری و مسلم میں حضرت براءؓ بن عازِب کی روایت یہ ہے
کہ وہ سورۂ نساء کی آخری آیت</p>
<span class="ar indopak"> یَسْتَفْتُوْنَکَ ، قُلِ اللہُ یُفْتِیْکُمْ فِی الْکَلٰلَۃِ </span><p>ہے۔ امام بخاری نے ابن
عباسؓ کا قول نقل کیا ہے کہ آیت ربوٰ یعنی جس آیت میں سود کی حرمت کا حکم دیا گیا ہے ، قرآن کی سب سے آخری آیت ہے، بلکہ
حضرت عمرؓ کا قول یہ ہے کہ یہ سب سے آخر میں نازہ ہونے والی آیات میں سے ہے۔ ابو عبید نے فضائل القرآن میں امام زُہری
کا، اور ابن جریر نے اپنی تفسیر میں حضرت سعید بن المُسیَّب کا قول نقل کیا ہے کہ آیتِ ربوٰ اور آیتِ دَین (یعنی سورۂ
بقرہ رکوع ۳۹،۳۸) قرآن میں نازل ہونے والی آخری آیات ہیں۔ نَسائی، ابن مردویہ اور ابن جریر نے حضرت عبد اللہ ؓ بن عباس
کا ایک دوسرا قول نقل کیا ہے کہ </p>
<span class="ar indopak">وَاتَّقُوْا یَوْمًا تُرْجَعُوْنَ فِیْہِ </span><p>(البقرہ، ۲۸۱) قرآن کی آخری آیت ہے۔ الفِرْیابی
نے اپنی تفسیر میں ابن عباس کا جو قول نقل کیا ہے ، اس میں یہ اضافہ ہے کہ یہ آیت حضورؐ کی وفات سے ۸۱ دن پہلے نازل ہوئی
تھی  اور  سعید بن جبیر کا قول جو ابن ابی حاتم  نے نقل کیا ہے ، اس میں اس آیت کے نزول اور حضورؐ کی وفات کے درمیان صرف
۹ دن کا فصل بیان کیا گیا ہے۔ امام احمد کی مُسند اور امام حاکم کی المستدرک میں حضرت اُبی بن کعب کی روایت یہ ہے کہ
سورۂ توبہ کی آیات ۱۲۸، ۱۲۹ سب سے آخر میں نازل ہوئی ہیں۔ </p>
<a href="#Countinue">واپس</a>

Verse by verse

Surah Nuh · نوح

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

  1. Ayah 1

    بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ إِنَّا أَرْسَلْنَا نُوحًا إِلَىٰ قَوْمِهِ أَنْ أَنذِرْ قَوْمَكَ مِن قَبْلِ أَن يَأْتِيَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ

    ہم نے نوحؑ کو اس کی قوم کی طرف بھیجا (اس ہدایت کے ساتھ) کہ اپنی قوم کے لوگوں کو خبردار کر دے قبل اس کے کہ ان پر ایک دردناک عذاب آئے

  2. Ayah 2

    قَالَ يَا قَوْمِ إِنِّي لَكُمْ نَذِيرٌ مُّبِينٌ

    ا س نے کہا "اے میری قوم کے لوگو، میں تمہارے لیے ایک صاف صاف خبردار کردینے والا (پیغمبر) ہوں

  3. Ayah 3

    أَنِ اعْبُدُوا اللَّهَ وَاتَّقُوهُ وَأَطِيعُونِ

    (تم کو آگاہ کرتا ہوں) کہ اللہ کی بندگی کرو اور اس سے ڈرو اور میری اطاعت کرو

  4. Ayah 4

    يَغْفِرْ لَكُم مِّن ذُنُوبِكُمْ وَيُؤَخِّرْكُمْ إِلَىٰ أَجَلٍ مُّسَمًّى ۚ إِنَّ أَجَلَ اللَّهِ إِذَا جَاءَ لَا يُؤَخَّرُ ۖ لَوْ كُنتُمْ تَعْلَمُونَ

    اللہ تمہارے گناہوں سے درگزر فرمائے گا اور تمہیں ایک وقت مقرر تک باقی رکھے گا حقیقت یہ ہے کہ اللہ کا مقرر کیا ہوا وقت جب آ جاتا ہے تو پھر ٹالا نہیں جاتا کاش تمہیں اِس کا علم ہو"

  5. Ayah 5

    قَالَ رَبِّ إِنِّي دَعَوْتُ قَوْمِي لَيْلًا وَنَهَارًا

    اُس نے عرض کیا "اے میرے رب، میں نے اپنی قوم کے لوگوں کو شب و روز پکارا

  6. Ayah 6

    فَلَمْ يَزِدْهُمْ دُعَائِي إِلَّا فِرَارًا

    مگر میری پکار نے اُن کے فرار ہی میں اضافہ کیا

  7. Ayah 7

    وَإِنِّي كُلَّمَا دَعَوْتُهُمْ لِتَغْفِرَ لَهُمْ جَعَلُوا أَصَابِعَهُمْ فِي آذَانِهِمْ وَاسْتَغْشَوْا ثِيَابَهُمْ وَأَصَرُّوا وَاسْتَكْبَرُوا اسْتِكْبَارًا

    اور جب بھی میں نے اُن کو بلایا تاکہ تو اُنہیں معاف کر دے، انہوں نے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیں اور اپنے کپڑوں سے منہ ڈھانک لیے اور اپنی روش پر اڑ گئے اور بڑا تکبر کیا

  8. Ayah 8

    ثُمَّ إِنِّي دَعَوْتُهُمْ جِهَارًا

    پھر میں نے ان کو ہانکے پکارے دعوت دی

  9. Ayah 9

    ثُمَّ إِنِّي أَعْلَنتُ لَهُمْ وَأَسْرَرْتُ لَهُمْ إِسْرَارًا

    پھر میں نے علانیہ بھی ان کو تبلیغ کی اور چپکے چپکے بھی سمجھایا

  10. Ayah 10

    فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إِنَّهُ كَانَ غَفَّارًا

    میں نے کہا اپنے رب سے معافی مانگو، بے شک وہ بڑا معاف کرنے والا ہے

  11. Ayah 11

    يُرْسِلِ السَّمَاءَ عَلَيْكُم مِّدْرَارًا

    وہ تم پر آسمان سے خوب بارشیں برسائے گا

  12. Ayah 12

    وَيُمْدِدْكُم بِأَمْوَالٍ وَبَنِينَ وَيَجْعَل لَّكُمْ جَنَّاتٍ وَيَجْعَل لَّكُمْ أَنْهَارًا

    تمہیں مال اور اولاد سے نوازے گا، تمہارے لیے باغ پیدا کرے گا اور تمہارے لیے نہریں جاری کر دے گا

  13. Ayah 13

    مَّا لَكُمْ لَا تَرْجُونَ لِلَّهِ وَقَارًا

    تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ اللہ کے لیے تم کسی وقار کی توقع نہیں رکھتے؟

  14. Ayah 14

    وَقَدْ خَلَقَكُمْ أَطْوَارًا

    حالانکہ اُس نے طرح طرح سے تمہیں بنایا ہے

  15. Ayah 15

    أَلَمْ تَرَوْا كَيْفَ خَلَقَ اللَّهُ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ طِبَاقًا

    کیا دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ نے کس طرح سات آسمان تہ بر تہ بنائے

  16. Ayah 16

    وَجَعَلَ الْقَمَرَ فِيهِنَّ نُورًا وَجَعَلَ الشَّمْسَ سِرَاجًا

    اور اُن میں چاند کو نور اور سورج کو چراغ بنایا؟

  17. Ayah 17

    وَاللَّهُ أَنبَتَكُم مِّنَ الْأَرْضِ نَبَاتًا

    اور اللہ نے تم کو زمین سے عجیب طرح اگایا

  18. Ayah 18

    ثُمَّ يُعِيدُكُمْ فِيهَا وَيُخْرِجُكُمْ إِخْرَاجًا

    پھر وہ تمہیں اِسی زمین میں واپس لے جائے گا اور اِس سے یکایک تم کو نکال کھڑا کرے گا

  19. Ayah 19

    وَاللَّهُ جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ بِسَاطًا

    اور اللہ نے زمین کو تمہارے لیے فرش کی طرح بچھا دیا

  20. Ayah 20

    لِّتَسْلُكُوا مِنْهَا سُبُلًا فِجَاجًا

    تاکہ تم اس کے اندر کھلے راستوں میں چلو"

  21. Ayah 21

    قَالَ نُوحٌ رَّبِّ إِنَّهُمْ عَصَوْنِي وَاتَّبَعُوا مَن لَّمْ يَزِدْهُ مَالُهُ وَوَلَدُهُ إِلَّا خَسَارًا

    نوحؑ نے کہا، "میرے رب، اُنہوں نے میری بات رد کر دی اور اُن (رئیسوں) کی پیروی کی جو مال اور اولاد پا کر اور زیادہ نامراد ہو گئے ہیں

  22. Ayah 22

    وَمَكَرُوا مَكْرًا كُبَّارًا

    اِن لوگوں نے بڑا بھاری مکر کا جال پھیلا رکھا ہے

  23. Ayah 23

    وَقَالُوا لَا تَذَرُنَّ آلِهَتَكُمْ وَلَا تَذَرُنَّ وَدًّا وَلَا سُوَاعًا وَلَا يَغُوثَ وَيَعُوقَ وَنَسْرًا

    اِنہوں نے کہا ہرگز نہ چھوڑو اپنے معبودوں کو، اور نہ چھوڑو وَدّ اور سُواع کو، اور نہ یَغُوث اور یَعُوق اور نَسر کو

  24. Ayah 24

    وَقَدْ أَضَلُّوا كَثِيرًا ۖ وَلَا تَزِدِ الظَّالِمِينَ إِلَّا ضَلَالًا

    انہوں نے بہت لوگوں کو گمراہ کیا ہے، اور تو بھی اِن ظالموں کو گمراہی کے سوا کسی چیز میں ترقی نہ دے"

  25. Ayah 25

    مِّمَّا خَطِيئَاتِهِمْ أُغْرِقُوا فَأُدْخِلُوا نَارًا فَلَمْ يَجِدُوا لَهُم مِّن دُونِ اللَّهِ أَنصَارًا

    اپنی خطاؤں کی بنا پر ہی وہ غرق کیے گئے اور آگ میں جھونک دیے گئے، پھر انہوں نے اپنے لیے اللہ سے بچانے والا کوئی مددگار نہ پایا

  26. Ayah 26

    وَقَالَ نُوحٌ رَّبِّ لَا تَذَرْ عَلَى الْأَرْضِ مِنَ الْكَافِرِينَ دَيَّارًا

    اور نوحؑ نے کہا، "میرے رب، اِن کافروں میں سے کوئی زمین پر بسنے والا نہ چھوڑ

  27. Ayah 27

    إِنَّكَ إِن تَذَرْهُمْ يُضِلُّوا عِبَادَكَ وَلَا يَلِدُوا إِلَّا فَاجِرًا كَفَّارًا

    اگر تو نے اِن کو چھوڑ دیا تو یہ تیرے بندوں کو گمراہ کریں گے اور اِن کی نسل سے جو بھی پیدا ہوگا بدکار اور سخت کافر ہی ہوگا

  28. Ayah 28

    رَّبِّ اغْفِرْ لِي وَلِوَالِدَيَّ وَلِمَن دَخَلَ بَيْتِيَ مُؤْمِنًا وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ وَلَا تَزِدِ الظَّالِمِينَ إِلَّا تَبَارًا

    میرے رب، مجھے اور میرے والدین کو اور ہر اس شخص کو جو میرے گھر میں مومن کی حیثیت سے داخل ہوا ہے، اور سب مومن مردوں اور عورتوں کو معاف فرما دے، اور ظالموں کے لیے ہلاکت کے سوا کسی چیز میں اضافہ نہ کر"

About the Quran

The Quran

The Quran is the holy scripture of Islam. Muslims believe that it is the literal word of Allah (سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى), revealed to the Prophet Muhammad (صلى الله عليه وسلم) over a period of 23 years. The Quran is composed of 114 Surahs (chapters) and contains 6,236 Ayat (verses). Muslim beliefs and practices are based on the Quran and the Sunnah, the teachings and example of the Prophet Muhammad (صلى الله عليه وسلم).

The Kaaba in Mecca
A mosque in South America

Meccan Surahs

The Meccan Surahs are the earliest revelations sent down to the Prophet Muhammad (صلى الله عليه وسلم). They were revealed in Mecca, hence their name. These revelations form the foundation of the Islamic faith and contain guidance for Muslims on how to live their lives. The Meccan Surahs are also notable for their poetic beauty and lyrical prose.

Medinan Surahs

The Medinan Surahs are the later Surahs that, according to Islamic tradition, were revealed in Medina after the Prophet Muhammad's (صلى الله عليه وسلم) hijra from Mecca. They were revealed by Allah (سبحانه و تعالى) when the Muslim community was larger and more developed, as opposed to their minority position in Mecca.

Stay connected

Receive regular updates

New features, translations and reminders from AskTheQuran, straight to your inbox.

We use Mailchimp to send updates. You can unsubscribe at any time. See our privacy policy.

We may receive a commission if you click on a link and buy a product, service or similar, at no extra cost to you. Details are in the disclosure policy.