Menu

Surah Al-Ma'arij

عروج

Chapter 70 of 114

خوبصورت تلاوت قرآن

Surah Al-Ma'arij

Recited by Salaah Bukhaatir

Overview

About this Surah

At a glance

Surah 70 of 114

Translation
Urdu
Recitation
Salaah Bukhaatir

Ask the AI about this Surah

Commentary

Tafsir

<h2>نام :</h2>
<p> </p> پہلی ہی آیت<span class="ar indopak"> قُلْ یٰٓااَیُّھَا الْکٰفِرُوْنَ</span><p> کے لفظ الکافرون کو اِس سورہ کا
نام قرار دیا گیا ہے۔</p>
<h2>زمانۂ نزول :</h2>
<p>
  </p>حضرت عبد اللہ بن مسعود، حضرت حسن بصری اور عِکْرِمَہ کہتے ہیں کہ یہ سورۃ مکّی ہے، حضرت عبد اللہ بن زبیر کہتے ہیں مدّنی ہے۔ اور حضرت عبد اللہ بن عباس اور قَتَادہ سے دو قول منقول ہوئے ہیں۔ ایک یہ کہ یہ مکّی ہے اور دوسرا یہ کہ مدنی ہے۔ لیکن جمہور مفسرین کے نزدیک یہ مکّی سورۃ ہے، اور اس کا مضمون خود اس کے مکّی ہونے پر دلالت کر رہاہے۔
<h2>تاریخی پَسْ منظر :</h2>
<p>
 </p>مکّہ معظمہ میں ایک دور ایسا گزرا ہے جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوتِ اسلام کے خلاف قریش کے مشرک معاشرے میں مخالفت کا طوفان تو برپا ہو چکا تھا ، لیکن ابھی قریش کے سردار اِس بات سے بالکل مایوس نہیں ہوئے تھے کہ حضورؐ کو کسی نہ کسی طرح مصالحت پر آمادہ کیا جا سکے گا ۔ اس لیے وقتاً فوقتاً وہ آپ کے پاس مصالحت کی مختلف تجویزیں لے  لے کر آتے رہتے تھے تا کہ آپ اُن میں سے کسی کو مان لیں اور وہ نزع ختم ہو جائے جو آپ کے اور اُن کے درمیان رُونما ہو چکی تھی۔ اس سلسلے میں متعدد روایات احادیث میں منقول ہوئی ہیں:حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی روایت ہے کہ قریش کے لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا ہم آپ کو اتنا مال دے دیتے ہیں کہ آپ مکّہ کے سب سے زیادہ دولت مند آدمی بن جائیں، آپ جس عورت کو پسند کریں اس سے آپ کی شادی کیے دیتے ہیں، ہم آپ کے پیچھے چلنے کے لیے تیار ہیں، آپ بس ہماری یہ بات مان لیں کہ ہمارے معبودوں کی بُرائی کرنے سے باز رہیں۔ اگر یہ آپ کو منظور نہیں، تو ہم ایک اور تجویز  آپ کے سامنے پیش کرتے ہیں جس میں آپ کی بھی بھلائی ہے اور ہماری بھی۔ حضور ؐ نے  پوچھا  وہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا ایک سال آپ ہمارے معبود و ں لات اور عُزّیٰ کی عبادت کریں اور ایک سال ہم آپ کے معبود  کی عبادت کریں۔ حضورؐ نے فرمایا اچھا،ٹھہرو، میں دیکھتا ہوں کہ میرے ربّ کی طرف سے کیا حکم آتا ہے ۔ ۱؎ اس پر وحی نازل ہوئی قُلْ یٰٓا اَیُّھَا الْکٰفِرُوْنَ ۔۔۔۔۔۔۔۔ اور یہ کہ  قُلْ اَفَغَیْرَ اللہِ تَاْ مُرُوْنِّیْٓ اَعْبُدُ اَیُّھَا الْجٰعِلُوْنَ
<span class="ar indopak">o</span>(الزُّمر، آیت۶۴)۔  ”اِن سے کہو، اے نادانو، کیا تم مجھ سے یہ کہتے ہو کہ اللہ کے سوا میں کسی اور کی عبادت کروں؟“ (ابن جریر۔ ابن ابی حاتم۔ طَبَرانی)۔ ابن عباسؓ کی ایک اور روایت یہ  ہے کہ قریش کے لوگوں نے حضورؐ سے کہا ” اے محمدؐ ، اگر تم ہمارے معبود بتوں کو چوم لو تو ہم تمہارے معبود کی عبادت کریں گے۔“ اس پر یہ سورۃ نازل ہوئی(عبد بن حُمَید)۔
<p>
سعید بن مینا ء (ابو البَخْتَرِی کے آزاد  کردہ غلام ، کی روایت ہے کہ ولید بن مُغِیْرہ ، عاص بن وائل، اَسْوَد بن
المُطَّلِب اور اُمَیَّہ بن خَلَف رسول اللہ صلی اللہ  علیہ وسلم سے ملے اور آپ سے کہا ”اے محمدؐ، آؤ ہم تمہارے معبود
کی عبادت کریتے ہیں اور تم ہمارے معبودوں کی عبادت کرو اورہم اپنے سارے کاموں میں تمہیں شریک کے لیتے ہیں۔ اگر وہ چیز جو
تم لے کر آئے ہو اُس سے بہتر ہوئی جو ہمارے پاس ہے تو ہم تمہارے ساتھ اُس میں شریک ہوں گے اور اپنا حصہ اُس سے پالیں گے۔
اور اگر  وہ چیز جو ہمارے  پاس ہے اُس سے بہتر ہوئی  جو تم لائے ہو تو تم ہمارے ساتھ  اس میں شریک ہو گے اور اس سے اپنا
حصّہ  پا لو گے۔ “ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ وحی نازل فرمائی کہ  </p>
<span class="ar indopak">قُلْ یٰٓااَیُّھَا الْکٰفِرُوْنَ </span><p>۔۔۔۔۔۔۔۔(ابن جریر و ابن ابی حاتم ابن ہشام نے بھی
سیرت میں اس واقعہ کو نقل کیا ہے)</p>
وَہْب بن مُنَبِّہ کی روایت ہے کہ قریش کے لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا اگر آپ پسند کریں تو ایک سال ہم آپ کے دین میں داخل ہو جائیں گے اور ایک سال آپ ہمارے دین میں داخل ہو جایا کریں(عبد بن حُمَید ابن ابی حاتم)۔
<p>
اِن روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک مرتبہ ایک ہی مجلس میں نہیں بلکہ مختلف اوقات میں مختلف مواقع پر کفّارِ قریش نے
حضورؐ کے سامنے اِس قسم کی تجویزیں پیش کی تھیں اور اس بات کی ضرور ت تھی کہ ایک دفعہ دو ٹوک جواب دے  کر اُن کی اِس
امید کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا جائے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دین کے معاملہ میں کچھ دو اور کچھ لو کے طریقے پر
اُن سے کوئی مصالحت کر لیں گے۔ </p>
<h2>موضوع اور مضمون:</h2>
<p>
 </p>اِس پس منظر کو نگاہ میں رکھ کر دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ سورۃ مذہبی رواداری کی تلقین کے لیے نازل نہیں ہوئی تھی، جیسا کہ آج کل کے بعض لوگ خیال کرتے ہیں ، بلکہ اِس لیے نازل ہوئی تھی کہ کفّار  کے دین اور اُن کی پوجا پاٹ اور اُن کے معبودوں سے قطعی براءت ، بیزاری اور لاتعلقی کا اعلان کر دیا جائے اور اُنہیں بتا دیا جائے کہ دینِ کفر اور دینِ اسلام ایک دوسرے سے بالکل الگ ہیں، اُن کے باہم مل جانے کا سرے سے کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ یہ بات اگرچہ ابتداءً قریش کے کفار کو مُخاطَب کر کے اُن کی تجاویز مصالحت کے جواب میں کہی گئی تھی، لیکن یہ اُنہی تک محدود نہیں ہے بلکہ اسے قرآن میں درج کر کے تمام مسلمانوں کو قیامت تک کے لیے یہ تعلیم دے دی گئی ہے کہ دینِ کفر جہاں جس شکل میں بھی ہے اُن کو اس سے قول اور عمل میں براءت کا اظہار چاہیے اور بلا رو رعایت کہہ دینا چاہیے کہ دین کے معاملہ میں وہ کافروں سے کسی قسم کی مداہنت یا مصالحت نہیں کر سکتے۔ اسی لیے یہ سورۃ اُس  وقت بھی پڑھی جاتی رہی جب وہ لوگ مر کھپ گئے تھے جن کی باتوں کے جواب میں اِسے نازل  فرمایا گیا تھا ، اور وہ لوگ بھی مسلمان ہونے  کے بعد اسے پڑھتے رہے جو اِس کے نزول کے زمانے میں کافر و مشرک تھے، اور اُن کے گزر جانے کے صدیوں بعد آج بھی مسلمان اس کو پڑھتے ہیں کیونکہ کفر اور کافری سے بیزاری و لاتعلقی  ایمان کا دائمی تقاضا ہے۔
<p>
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کی نگاہ میں اِس سورہ کی کیا اہمیت تھی ، اس کا اندازہ ذیل کی چند احادیث سے کیا جا سکتا
ہے:</p>
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ میں نے بار ہا حضورؐ کو فجر کی نماز سے پہلے اور مغرب کی نماز کے بعد کی دورکعتوں میں
<span class="ar indopak">قُلْ یٰٓااَیُّھَا الْکٰفِرُوْنَ</span><p>َ اور </p>
<span class="ar indopak"> قُلْ ھُوَ اللہُ اَحَد</span><p> پڑھتے دیکھا ہے۔(اِس مضمون کی متعدد روایات کچھ لفظی اختلافات کے
ساتھ امام احمد، تِرْمذی، نَسائی، ابن ماجہ، ابن حِبّان اور ابن مَردویَہ نے ابن عمرؓ سے نقل کی ہیں)۔</p>
حضرت خَبّاب ؓ کہتے ہیں کہ نبی   صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ جب تم سونے کے لیے اپنے بستر  پر لیٹو تو <span
class="ar indopak">قُلْ یٰٓااَیُّھَا الْکٰفِرُوْنَ</span><p> پڑھ لیا کرو، اور حضورؐ کا خود بھی یہ طریقہ تھا کہ
جب آپؐ سونے کے لیے لیٹتے تو یہ سورۃ پڑھ لیا کرتے تھے(بزّار، طَبَرانی، ابن مردویہ)</p>
ابنِ عباسؓ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے فرمایا ”میں تمہیں بتاؤں وہ کلمہ جو تم کو شرک سے محفوظ رکھنے والا ہے؟ وہ یہ ہے کہ سوتے وقت قُلْ
<span class="ar indopak">قُلْ یٰٓااَیُّھَا الْکٰفِرُوْنَ</span><p> پڑھ لیا کرو (ابو یَعلیٰ، طَبَرانی)۔</p>
حضرت اَنَسؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت مُعاذ بن جَبَل سے فرمایا سوتے وقت <span
class="ar indopak">قُلْ یٰٓااَیُّھَا الْکٰفِرُوْنَ</span><p> پڑھ لیا کرو کیونکہ یہ شرک سے براءت ہے(بَیْہَقِی فی
الشعب)۔</p>
<p>فَرْدَہ بن نَوفَل اور عبد الرحمان بن نَوفَل ، دونوں کا بیان ہے کہ ان کے والد نوفل بن معاویہؓ الاَشْجَعی نے رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ مجھے کوئی ایسی چیز بتا دیجیئے  جسے میں سوتے وقت پڑھ لیا کروں۔ آپ نے فرمایا قُلْ
یٰٓااَیُّھَا الْکٰفِرُوْنَ آخر تک پڑھ کر سو جایا کرو، کیونکہ یہ شرک سے براءت ہے(مُسند احمد، ابو داؤد، تِرمِذی،
نَسائی، ابن ابی شَیبہ، حاکم ، ابن مَرْدُوْیَہ، بِیْہَقِی فی الشعب) ۔ ایسی ہی درخواست حضرت زید بن ؓ حارثہ کے بھائی
حضرت جَبَلہ بنؓ حارثہ نے حضور سے کی تھی اور ان کو بھی آپ نے یہی جواب دیا تھا ( مُسند احمد، طَبَرانی)۔</p>۱؎<p>    اس
کا یہ مطلب نہیں ہے کہ رسول  اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی درجہ میں بھی اس تجویز کو قابلِ قبول کیا معنی قابلِ غور بھی
سمجھتے تھے، اور آپؐ نے معاذ اللہ کفار کو یہ جواب اس امید پر دیا تھا کہ شاید اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی منظوری 
آجائے۔ بلکہ دراصل یہ بات بالکل ایسی ہی تھی  جیسے کسی ماتحت افسر کے سامنے کوئی بے جا مطالبہ پیش کیا جائے اور وہ جانتا
ہو کہ اس کی حکومت کے لیے یہ مطالبہ قابلِ قبول نہیں ہے ، مگر وہ خود صاف انکار کر دینے کے بجائے مطالبہ کرنے والوں سے
کہے کہ میں آپ کی درخواست اوپر بھیجے دیتا ہوں ، جو کچھ وہاں سے جواب آئے گا  وہ آپ کو بتادوں گا۔ اس سے فرق یہ واقع
ہوتا ہے کہ ماتحت افسر اگر خود ہی انکار کر دے تو لوگوں کا اصرار جاری رہتا ہے،  لیکن اگر وہ بتائے کہ اوپر سے حکومت  کا
جواب ہی تمہارے مطالبہ کے خلاف آیا ہے تو لوگ مایوس ہو جاتے ہیں۔ </p>
<a href="#Countinue">واپس</a>

Verse by verse

Surah Al-Ma'arij · عروج

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

  1. Ayah 1

    بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ سَأَلَ سَائِلٌ بِعَذَابٍ وَاقِعٍ

    مانگنے والے نے عذاب مانگا ہے، (وہ عذاب) جو ضرور واقع ہونے والا ہے

  2. Ayah 2

    لِّلْكَافِرِينَ لَيْسَ لَهُ دَافِعٌ

    کافروں کے لیے ہے، کوئی اُسے دفع کرنے والا نہیں

  3. Ayah 3

    مِّنَ اللَّهِ ذِي الْمَعَارِجِ

    اُس خدا کی طرف سے ہے جو عروج کے زینوں کا مالک ہے

  4. Ayah 4

    تَعْرُجُ الْمَلَائِكَةُ وَالرُّوحُ إِلَيْهِ فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ

    ملائکہ اور روح اُس کے حضور چڑھ کر جاتے ہیں ایک ایسے دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہے

  5. Ayah 5

    فَاصْبِرْ صَبْرًا جَمِيلًا

    پس اے نبیؐ، صبر کرو، شائستہ صبر

  6. Ayah 6

    إِنَّهُمْ يَرَوْنَهُ بَعِيدًا

    یہ لوگ اُسے دور سمجھتے ہیں

  7. Ayah 7

    وَنَرَاهُ قَرِيبًا

    اور ہم اسے قریب دیکھ رہے ہیں

  8. Ayah 8

    يَوْمَ تَكُونُ السَّمَاءُ كَالْمُهْلِ

    (وہ عذاب اُس روز ہوگا) جس روز آسمان پگھلی ہوئی چاندی کی طرح ہو جائے گا

  9. Ayah 9

    وَتَكُونُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِ

    اور پہاڑ رنگ برنگ کے دھنکے ہوئے اون جیسے ہو جائیں گے

  10. Ayah 10

    وَلَا يَسْأَلُ حَمِيمٌ حَمِيمًا

    اور کوئی جگری دوست اپنے جگری دوست کو نہ پوچھے گا

  11. Ayah 11

    يُبَصَّرُونَهُمْ ۚ يَوَدُّ الْمُجْرِمُ لَوْ يَفْتَدِي مِنْ عَذَابِ يَوْمِئِذٍ بِبَنِيهِ

    حالانکہ وہ ایک دوسرے کو دکھائے جائیں گے مجرم چاہے گا کہ اس دن کے عذاب سے بچنے کے لیے اپنی اولاد کو

  12. Ayah 12

    وَصَاحِبَتِهِ وَأَخِيهِ

    اپنی بیوی کو، اپنے بھائی کو

  13. Ayah 13

    وَفَصِيلَتِهِ الَّتِي تُؤْوِيهِ

    اپنے قریب ترین خاندان کو جو اسے پناہ دینے والا تھا

  14. Ayah 14

    وَمَن فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا ثُمَّ يُنجِيهِ

    اور روئے زمین کے سب لوگوں کو فدیہ میں دیدے اور یہ تدبیر اُسے نجات دلا دے

  15. Ayah 15

    كَلَّا ۖ إِنَّهَا لَظَىٰ

    ہرگز نہیں وہ تو بھڑکتی ہوئی آگ کی لپٹ ہوگی

  16. Ayah 16

    نَزَّاعَةً لِّلشَّوَىٰ

    جو گوشت پوست کو چاٹ جائے گی

  17. Ayah 17

    تَدْعُو مَنْ أَدْبَرَ وَتَوَلَّىٰ

    پکار پکار کر اپنی طرف بلائے گی ہر اُس شخص کو جس نے حق سے منہ موڑا اور پیٹھ پھیری

  18. Ayah 18

    وَجَمَعَ فَأَوْعَىٰ

    اور مال جمع کیا اور سینت سینت کر رکھا

  19. Ayah 19

    إِنَّ الْإِنسَانَ خُلِقَ هَلُوعًا

    انسان تھڑدلا پیدا کیا گیا ہے

  20. Ayah 20

    إِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ جَزُوعًا

    جب اس پر مصیبت آتی ہے تو گھبرا اٹھتا ہے

  21. Ayah 21

    وَإِذَا مَسَّهُ الْخَيْرُ مَنُوعًا

    اور جب اسے خوشحالی نصیب ہوتی ہے تو بخل کرنے لگتا ہے

  22. Ayah 22

    إِلَّا الْمُصَلِّينَ

    مگر وہ لوگ (اِس عیب سے بچے ہوئے ہیں) جو نماز پڑھنے والے ہیں

  23. Ayah 23

    الَّذِينَ هُمْ عَلَىٰ صَلَاتِهِمْ دَائِمُونَ

    جو اپنی نماز کی ہمیشہ پابندی کرتے ہیں

  24. Ayah 24

    وَالَّذِينَ فِي أَمْوَالِهِمْ حَقٌّ مَّعْلُومٌ

    جن کے مالوں میں،

  25. Ayah 25

    لِّلسَّائِلِ وَالْمَحْرُومِ

    سائل اور محروم کا ایک حق مقرر ہے

  26. Ayah 26

    وَالَّذِينَ يُصَدِّقُونَ بِيَوْمِ الدِّينِ

    جو روز جزا کو برحق مانتے ہیں

  27. Ayah 27

    وَالَّذِينَ هُم مِّنْ عَذَابِ رَبِّهِم مُّشْفِقُونَ

    جو اپنے رب کے عذاب سے ڈرتے ہیں

  28. Ayah 28

    إِنَّ عَذَابَ رَبِّهِمْ غَيْرُ مَأْمُونٍ

    کیونکہ اُن کے رب کا عذاب ایسی چیز نہیں ہے جس سے کوئی بے خوف ہو

  29. Ayah 29

    وَالَّذِينَ هُمْ لِفُرُوجِهِمْ حَافِظُونَ

    جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں

  30. Ayah 30

    إِلَّا عَلَىٰ أَزْوَاجِهِمْ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ فَإِنَّهُمْ غَيْرُ مَلُومِينَ

    بجز اپنی بیویوں یا اپنی مملوکہ عورتوں کے جن سے محفوظ نہ رکھنے میں ان پر کوئی ملامت نہیں

  31. Ayah 31

    فَمَنِ ابْتَغَىٰ وَرَاءَ ذَٰلِكَ فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْعَادُونَ

    البتہ جو اس کے علاوہ کچھ اور چاہیں وہی حد سے تجاوز کرنے والے ہیں

  32. Ayah 32

    وَالَّذِينَ هُمْ لِأَمَانَاتِهِمْ وَعَهْدِهِمْ رَاعُونَ

    جو اپنی امانتوں کی حفاظت اور اپنے عہد کا پاس کرتے ہیں

  33. Ayah 33

    وَالَّذِينَ هُم بِشَهَادَاتِهِمْ قَائِمُونَ

    جو اپنی گواہیوں میں راست بازی پر قائم رہتے ہیں

  34. Ayah 34

    وَالَّذِينَ هُمْ عَلَىٰ صَلَاتِهِمْ يُحَافِظُونَ

    اور جو اپنی نماز کی حفاظت کرتے ہیں

  35. Ayah 35

    أُولَـٰئِكَ فِي جَنَّاتٍ مُّكْرَمُونَ

    یہ لوگ عزت کے ساتھ جنت کے باغوں میں رہیں گے

  36. Ayah 36

    فَمَالِ الَّذِينَ كَفَرُوا قِبَلَكَ مُهْطِعِينَ

    پس اے نبیؐ، کیا بات ہے کہ یہ منکرین دائیں اور بائیں سے،

  37. Ayah 37

    عَنِ الْيَمِينِ وَعَنِ الشِّمَالِ عِزِينَ

    گروہ در گروہ تمہاری طرف دوڑے چلے آ رہے ہیں؟

  38. Ayah 38

    أَيَطْمَعُ كُلُّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ أَن يُدْخَلَ جَنَّةَ نَعِيمٍ

    کیا اِن میں سے ہر ایک یہ لالچ رکھتا ہے کہ وہ نعمت بھری جنت میں داخل کر دیا جائے گا؟

  39. Ayah 39

    كَلَّا ۖ إِنَّا خَلَقْنَاهُم مِّمَّا يَعْلَمُونَ

    ہرگز نہیں ہم نے جس چیز سے اِن کو پیدا کیا ہے اُسے یہ خود جانتے ہیں

  40. Ayah 40

    فَلَا أُقْسِمُ بِرَبِّ الْمَشَارِقِ وَالْمَغَارِبِ إِنَّا لَقَادِرُونَ

    پس نہیں، میں قسم کھاتا ہوں مشرقوں اور مغربوں کے مالک کی، ہم اِس پر قادر ہیں

  41. Ayah 41

    عَلَىٰ أَن نُّبَدِّلَ خَيْرًا مِّنْهُمْ وَمَا نَحْنُ بِمَسْبُوقِينَ

    کہ اِن کی جگہ اِن سے بہتر لوگ لے آئیں اور کوئی ہم سے بازی لے جانے والا نہیں ہے

  42. Ayah 42

    فَذَرْهُمْ يَخُوضُوا وَيَلْعَبُوا حَتَّىٰ يُلَاقُوا يَوْمَهُمُ الَّذِي يُوعَدُونَ

    لہٰذا اِنہیں اپنی بیہودہ باتوں اور اپنے کھیل میں پڑا رہنے دو یہاں تک کہ یہ اپنے اُس دن تک پہنچ جائیں جس کا ان سے وعدہ کیا جا رہا ہے

  43. Ayah 43

    يَوْمَ يَخْرُجُونَ مِنَ الْأَجْدَاثِ سِرَاعًا كَأَنَّهُمْ إِلَىٰ نُصُبٍ يُوفِضُونَ

    جب یہ اپنی قبروں سے نکل کر اِس طرح دوڑے جا رہے ہوں گے جیسے اپنے بتوں کے استھانوں کی طرف دوڑ رہے ہوں

  44. Ayah 44

    خَاشِعَةً أَبْصَارُهُمْ تَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌ ۚ ذَٰلِكَ الْيَوْمُ الَّذِي كَانُوا يُوعَدُونَ

    اِن کی نگاہیں جھکی ہوئی ہوں گی، ذلت اِن پر چھا رہی ہوگی وہ دن ہے جس کا اِن سے وعدہ کیا جا رہا ہے

About the Quran

The Quran

The Quran is the holy scripture of Islam. Muslims believe that it is the literal word of Allah (سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى), revealed to the Prophet Muhammad (صلى الله عليه وسلم) over a period of 23 years. The Quran is composed of 114 Surahs (chapters) and contains 6,236 Ayat (verses). Muslim beliefs and practices are based on the Quran and the Sunnah, the teachings and example of the Prophet Muhammad (صلى الله عليه وسلم).

The Kaaba in Mecca
A mosque in South America

Meccan Surahs

The Meccan Surahs are the earliest revelations sent down to the Prophet Muhammad (صلى الله عليه وسلم). They were revealed in Mecca, hence their name. These revelations form the foundation of the Islamic faith and contain guidance for Muslims on how to live their lives. The Meccan Surahs are also notable for their poetic beauty and lyrical prose.

Medinan Surahs

The Medinan Surahs are the later Surahs that, according to Islamic tradition, were revealed in Medina after the Prophet Muhammad's (صلى الله عليه وسلم) hijra from Mecca. They were revealed by Allah (سبحانه و تعالى) when the Muslim community was larger and more developed, as opposed to their minority position in Mecca.

Stay connected

Receive regular updates

New features, translations and reminders from AskTheQuran, straight to your inbox.

We use Mailchimp to send updates. You can unsubscribe at any time. See our privacy policy.

We may receive a commission if you click on a link and buy a product, service or similar, at no extra cost to you. Details are in the disclosure policy.