Menu

Surah Al-Haqqah

حق ہونے والی

Chapter 69 of 114

خوبصورت تلاوت قرآن

Surah Al-Haqqah

Recited by Salaah Bukhaatir

Overview

About this Surah

At a glance

Surah 69 of 114

Translation
Urdu
Recitation
Salaah Bukhaatir

Ask the AI about this Surah

Commentary

Tafsir

<h2>نام:</h2>
<p>    </p>
<span class="ar indopak">اِنَّآ اَعْطَیْنٰکَ الْکَوْثَرَ</span><p> کے لفظ الکوثر کو اس کا نام قرار دیا گیا ہے۔</p>
<h2>زمانۂ نزول:</h2>
<p>     ابن  مَرْدُوْیَہ نے حضرت عبد اللہ بن عباسؓ ، حضرت عبداللہ بن الزبیرؓ اور حضرت عائشہؓ صدیقہ سے نقل کیا ہے کہ یہ
سورۃ مکّی ہے ، کَلْبی اور مُقاتِل بھی اسے مکّی کہتے ہیں، اور جمہور مفسّرین کا قول بھی یہی ہے۔ لیکن حضرت حسن بصری،
عِکْرِمَہ ، مجاہداور قَتادہ اِس کو مدنی قرار دیتے ہیں، امام سیوطی نے اِتْقان میں اِسی قول کو صحیح ٹھیرایا ہے ، اور
امام نَوَوِی نے شرح مسلم میں اِسی کو ترجیح دی ہے۔ وجہ اِس  کی وہ روایت ہے جو امام احمد، مسلم ، ابوداؤد، نَسائی، ابن
ابی شَیْبَہ، ابن المُنذِر، ابن مردویہ اور بیہقی وغیرہ محدّثین نے حضرت اَنَس بن مالک سے نقل کی ہے کہ حضورؐ ہمارے
درمیان تشریف فرما تھے۔ اتنے میں آپ کو کچھ اُونگھ  سی طاری ہوئی، پھر آپ نےمُسکراتے ہوئے سرِ مبارک اُٹھایا۔ بعض روایات
میں ہے کہ لوگوں نے پوچھا آپ کس بات پر تبسم فرما رہے ہیں؟ اور بعض میں ہے کہ آپ نے خود لوگوں سے فرمایا اِس وقت میرے
اوپر ایک سورۃ نازل ہوئی ہے۔ پھر بسم اللہ الرحمٰن الرحیم پڑھ کر سورۂ کوثر پڑھی۔ اس کے بعد آپ نے پوچھا جانتے ہو کہ
کوثر کیا  ہے؟ لوگوں نے عرض کیا  کہ اللہ اور اس کے رسول کو زیادہ معلوم ہے۔ فرمایا وہ ایک نہر ہے جو میرے ربّ نے مجھے
جنت میں عطا کی ہے (اس کی تفصیل آگے ”کوثر“ کی تشریح میں آرہی ہے)۔ اِس روایت  سے اِس سورہ کے مدنی ہونے پر اِس وجہ سے
استدلال کیا گیا ہے کہ حضرت اَنَس ؓ مکّہ میں نہیں بلکہ مدینے  میں تھے، اور اُن کا یہ کہنا کہ ہماری موجودگی میں یہ
سورۃ نازل ہوئی، اس بات ی دلیل ہے کہ یہ مدنی ہے۔</p>
مگر اول تو اِنہی حضرت انس سے امام احمد، بخاری، مسلم، ابو داؤد، تِرْمِذی، اور ابن جریر نے یہ روایات نقل کی ہیں کہ جنت کی یہ نہر (کوثر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج میں دکھائی جا چکی تھی، اور سب کو معلوم ہے کہ معراج ہجرت سے پہلے مکّہ میں ہوئی تھی۔ دوسرے، جب معراج میں آپ کو اللہ تعالیٰ کے اِس عطیہ کی نہ صرف خبر دی جا چکی تھی بلکہ اس کا مشاہدہ بھی کرا دیا گیا تھا تو کوئی وجہ نہ تھی کہ حضور کو اُس خوشخبری دینے کے لیے مدینہ طیّبہ میں سورۂ کوثر نازل کی جاتی۔ تیسرے، اگر صحابہ کے ایک مجمع میں حضور ؐ نے خود سُورۂ کوثر کے نزول کی وہ خبر دی ہوتی جو حضرت اَنَس ؓ کی مذکورۂ بالا روایت میں  بیان ہوئی ہے اور اُس کا مطلب یہ ہوتا کہ پہلی مرتبہ یہ سورۃ اِسی وقت نازل ہوئی ہے ، تو کس طرح ممکن تھا کہ حضرت عائشہ ، حضرت عبد اللہ بن عباس اور حضرت عبد اللہ بن زبیر جیسے باخبر صحابہ اِس سورۃ کو مکّی قرار دیتے اور جمہورِ مفسّرین اس کے مکّی ہونے کے قائی ہو جاتے؟ اس معاملہ پر غور کیا جائے تو حضرت انس کی روایت میں یہ خلاصاف محسوس ہوتا ہے کہ اپس میں یہ تفصیل بیان نہیں ہوئی ہے کہ جس مجلس میں حضور ؐ نے بات ارشاد فرمائی تھی اُس میں پہلے سے کیا گفتگو چل رہی تھی۔ ممکن ہے کہ اُس وقت حضور ؐ کسی مسئلے پر کچھ ارشاد فرما رہے ہوں ، اُس کے دوران میں وحی کے ذریعے سے آپ کو مطلع کیا گیا ہو کہ اِس مسئلے پر سورۂ کوثر سے روشنی پڑتی ہے ، اور آپ نے اِسی بات کا ذکر یوں فرمایا ہو کہ مجھ پر یہ سورۃ نازل ہوئی ہے۔ اِس قسم کے واقعات متعدد مواقع پر پیش آئے ہیں جن کی بنا  مفسّرین نے بعض آیات کے متعلق کہا ہے کہ وہ دو مرتبہ نازل ہوئی ہیں اس دوسرے نزول کا مطلب دراصل یہ ہوتا ہے کہ آیت تو پہلے نازل  ہو چکی تھی، مگر دوسری بار کسی موقع پر حضورؐ کو بذریعۂ وحی اُسی آیت کی طرف توجہ دلائی گئی۔ ایسی روایات میں کسی آیت کے نزول کا ذکر یہ فیصلہ کرنے کے لیے کافی نہیں ہوتا کہ وہ مکّی ہے یا مدنی، اور اس کا اصل نزول فی الواقع کس زمانے میں ہوا تھا۔
<h2 dir="rtl">تاریخی پَسْ منظر :</h2>
<p>
 </p>اِس سے پہلے سورۂ ضُحٰی اور سورۂ الم نشرح میں آپ دیکھ چکے ہیں کہ نبوّت کے ابتدائی دور میں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شدید ترین مشکلات سے گزر رہے تھے ، پوری قوم دشمنی پر تلی ہوئی تھی ، مزاحمتوں کے پہاڑ راستے میں حائل تھے، مخالفت کا طوفان برپا تھا، اور حضورؐ اور آپ کے چند مٹھی بھر ساتھیوں کو دور دور تک کہیں کامیابی کے آثار نظر نہیں آتے تھے، اُس وقت آپ کو تسلی دینے اور آپ کی ہمت بندھانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے متعدد آیات نازل فرمائیں۔ سُورۂ ضحٰی میں فرمایا
<span class="ar indopak">  وَلَلْاٰخِرَۃُ خَیْرُ لَّکَ مِنَ الْاُوْلیٰo</span><span class="ar indopak">  وَلَسَوْفَ یُعْطِیْکَ رَبُّکَ فَتَرْضٰیo</span>
<p> ”اور یقینًا تمہارے لیے بعد کا دور (یعنی ہر بعد کا دور) پہلے دور سے بہتر ہے اور عنقریب تمہارا رب تمہیں وہ کچھ دے گا
جس سے تم خوش ہو جاؤ گے“۔ اور الم نشرح میں فرمایا کہ </p>
<span class="ar indopak">وَرَفَعْنَا لَکَ ذِکْرَکَ</span><p> ”اور ہم نے تمہارا آوازہ بلند کردیا“۔ یعنی دشمن تمہیں ملک
بھر میں بدنام کرتے پھر رہے ہیں مگر ہم نے اُن کے علیٰ الرَّغْم تمہارا نام روشن کر نے اور تمہیں ناموَری عطا کرنے کا
سامان کر دیا ہے۔ اور</p>
<span class="ar indopak"> فَاِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًا o</span><span class="ar indopak"> اِنَّ مَعَ  الْعُسْرِ یُسْرًا o</span>
<p>  ”پس حقیقت  یہ ہے کہ تنگی کے  ساتھ فراخی بھی ہے، یقینًا تنگی کے ساتھ فراخی بھی ہے“۔ یعنی اِس وقت حالات کی سختیوں سے
پریشان نہ ہو ، عنقریب یہ مصائب کا دور ختم ہونے والا ہے اور کامیابیوں کا دور آنے ہی والا ہے۔</p>
ایسے ہی حالات تھے جن میں سورۂ کوثر نازل  کر کے اللہ تعالیٰ نے حضورؐ کو تسلی بھی دی اور آپ کے مخالفین کے تباہ و برباد ہونے کی پیشنگوئی بھی فرمائی۔ قریش کے کفّار کہتے تھے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) ساری قوم سے کٹ گئے ہیں اور اُن کی حیثیت ایک بے کس اور بے یار و مددگار انسان کی سی ہو گئی ہے۔ عِکْرِمَہ کی روایت ہے کہ جب حضورؐ نبی بنائے گئے اور آپ نے قریش کو اسلام کی دعوت دینی شروع کی تو قریش کے لوگ کہنے لگے بَتِر محمدٌ مِنّا (ابن جریر) یعنی محمدؐ اپنی قوم سے کٹ کر ایسے ہو گئے ہیں  جیسے کوئی درخت اپنی جڑ سے کٹ گیا ہو اور متوقَّع یہی ہو  کہ کچھ مدت بعد  وہ سُوکھ کر پیوند خاک ہو جائے گا۔ محمد بن اسحاق کہتے ہیں کہ مکّہ کے سردار عاص بن وائل سَہْمِی کے سامنے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کیا جاتا  تو وہ کہتا:”اجی چھوڑو اُنہیں، وہ تو ایک ابتر (جڑکٹے) آدمی ہیں، ان  کو کوئی اولادِ نرینہ نہیں، مر جائیں گے تو کوئی ان کا نام لیوا نہ ہو گا“۔ شِمر بن عطیہ کہ بیان ہے کہ عُقْبَہ بن ابی مُعَیط بھی ایسی ہی باتیں حضورؐ کے متعلق کہا کرتا تھا (ابن جریر)۔ ابن عباسؓ کی روایت ہے کہ ایک دفعہ کعب بن اشرف(مدینہ کا یہودی سردار) مکہ آیا تو قریش کے سرداروں نے اس سے کہا
<span class="ar indopak">الا ترٰی الیٰ ھٰذا الصبّی المنبتر من قومہ یزعم انہ خیر منّا و نحن اھل الحجیج و اھل السدانۃ واھل السقایۃ۔</span>
<p> ”بھلا دیکھو تو سہی اِس لڑکے کو جو اپنی قوم سے کٹ گیا ہے اور سمجھتا ہے کہ یہ ہم سے بہتر ہے، حالانکہ ہم حج اور سدانت
اور سقایت کے منتظم ہیں“ (بَزّار)۔ اسی واقعہ کے متعلق عِکْرِمَہ کی روایت یہ ہے کہ قریش والوں نے حضورؐ کے لیے</p>
<span class="ar indopak"> الصُّنْبورُ الْمُنْبَتِر من قومہ </span><p> کے الفاظ استعمال کیے تھے، یعنی ”کمزور ، بے یار و
مددگار اور بے اولاد آدمی جو اپنی قوم سے کٹ گیا ہے“(ابن جریر)۔ ابن سعد اور ابن عَساکِر کی روایت ہے کہ حضرت عبد اللہ
بن عباسؓ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سب سے بڑے صاحبزادے قاسمؓ تھے، ان سے چھوٹی حضرت زینب ؓ تھیں، ان
سے چھوٹے حضرت عبدؓاللہ تھے، پھر علی الترتیب تین صاحبزادیاں  اُمِّ کُلثوم ؓ، فاطمہؓ اور رُقَیَّہ ؓ تھیں۔ ان میں سے
پہلے حضرت قاسم کا انتقال ہوا، پھر حضرت عبداللہ نے بھی وفات پائی۔ اس پر عاص بن وائل نے کہا”اُن کی نسل ختم ہو گئی۔ اب
وہ ابتر ہیں“ (یعنی ان کی جڑ کٹ گئی)۔ بعض روایات میں یہ اضافہ ہے کہ عاص نے کہا </p>
<span class="ar indopak"> ان محمدًا بتر لا ابن لہ یقومُ مقامہ بعد ہ فا ذا مات انقطع ذکرہ و استر حتم منہ </span><p>۔”
محمدؐ ابتر ہیں، ان کا کوئی بیٹا نہیں ہے جو ان کا قائم مقام بنے ، جب وہ مر جائیں گے تو ان کا نام دنیا  سے مٹ جائے گا
اور ان سے تمہارا پیچھا چھوٹ جائے گا“۔ عبد بن حُمَید نے ابن عباسؓ  کی جو روایت نقل کی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضورؐ
کے صاحبزادے عبد اللہ کی وفات پر ابو جہل نے بھی ایسی ہی باتیں کہی تھیں۔ شَمِر بن عطیہ سے  ابن ابی حاتم کی روایت ہے کہ
حضورؐ کے اِس غم پر خوشی مناتے ہوئے ایسے ہی کمینہ پن کا مظاہرہ عُقْبہ بن ابی مُعَیط نے کیا تھا۔ عطاء کہتے ہیں کہ جب
حضورؐ کے دوسرے صاحبزادے کا انتقال ہوا تو حضورؐ کا اپنا چچا ابولہب (جس کا گھر بالکل حضورؐ کے گھر سے متصل تھا) دوڑا
ہوا مشرکین کے پاس گیا اور اُن کو یہ ”خوشخبری“ دی کہ </p>
<span class="ar indopak">بَتِر محمّدٌ اللّیْلۃ۔ </span><p>” آج رات محمدؐ لا ولد ہوگئے  یا ان کی جڑ کٹ گئی“۔</p>
<p>یہ تھے وہ انتہائی دل شکن حالات جن میں سورۂ کوثر حضورؐ پر نازل کی گئی۔ قریش اس لیے آپ سے بگڑے  تھے کہ آپ صرف اللہ  ہی
کی بندگی و عبادت کرتے تھے اور ان کے شرک کو آپ نے عَلانیہ رد کر دیا تھا۔ اِسی وجہ سے پوری قوم میں جو مرتبہ و مقام آپ
کو نبوت سے پہلے حاصل تھا وہ آپ سے چھین  لیا گیا تھا اور آپ گویا برادری سے کاٹ پھینکے گئے تھے۔ آپ کے چند مٹھی بھر
ساتھی سب بے یار و مددگار تھے اور مارے  کھدیڑے جا رہے تھے۔ اس پر مزید آپ پر ایک کے بعد ایک بیٹے کی وفات سے غموں کا
پہاڑ ٹوٹ پڑا تھا۔ اس موقع پر عزیزوں، رشتہ داروں، قبیلے اور برادری کے لوگوں اور ہمسایوں کی طرف سے ہمدردی و تعزیت کے
بجائے ہو خوشیاں منائی  جا رہی تھیں ، اور وہ باتیں بنائی جا رہی تھیں جو ایک ایسے شریف انسان کے لیے دل توڑ دینے والی
تھیں جس نے اپنے تو اپنے، غیروں تک سے ہمیشہ انتہائی نیک سلوک کیا تھا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے آپ کو اِس مختصر ترین سورۃ
کے ایک فقرے میں وہ خوشخبری دی جس سے بڑی خوش خبری دنیا کے کسی انسان کو کبھی نہیں دی گئی۔ اور ساتھ ساتھ یہ فیصلہ بھی
سنا دیا کہ آپ کی مخالفت کرنے والوں ہی کی جڑ کٹ جائے گی۔</p>

Verse by verse

Surah Al-Haqqah · حق ہونے والی

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

  1. Ayah 1

    بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ الْحَاقَّةُ

    ہونی شدنی!

  2. Ayah 2

    مَا الْحَاقَّةُ

    کیا ہے وہ ہونی شدنی؟

  3. Ayah 3

    وَمَا أَدْرَاكَ مَا الْحَاقَّةُ

    اور تم کیا جانو کہ وہ کیا ہے ہونی شدنی؟

  4. Ayah 4

    كَذَّبَتْ ثَمُودُ وَعَادٌ بِالْقَارِعَةِ

    ثمود اور عاد نے اُس اچانک ٹوٹ پڑنے والی آفت کو جھٹلایا

  5. Ayah 5

    فَأَمَّا ثَمُودُ فَأُهْلِكُوا بِالطَّاغِيَةِ

    تو ثمود ایک سخت حادثہ میں ہلاک کیے گئے

  6. Ayah 6

    وَأَمَّا عَادٌ فَأُهْلِكُوا بِرِيحٍ صَرْصَرٍ عَاتِيَةٍ

    اور عاد ایک بڑی شدید طوفانی آندھی سے تباہ کر دیے گئے

  7. Ayah 7

    سَخَّرَهَا عَلَيْهِمْ سَبْعَ لَيَالٍ وَثَمَانِيَةَ أَيَّامٍ حُسُومًا فَتَرَى الْقَوْمَ فِيهَا صَرْعَىٰ كَأَنَّهُمْ أَعْجَازُ نَخْلٍ خَاوِيَةٍ

    اللہ تعالیٰ نے اُس کو مسلسل سات رات اور آٹھ دن اُن پر مسلط رکھا (تم وہاں ہوتے تو) دیکھتے کہ وہ وہاں اِس طرح پچھڑے پڑے ہیں جیسے وہ کھجور کے بوسیدہ تنے ہوں

  8. Ayah 8

    فَهَلْ تَرَىٰ لَهُم مِّن بَاقِيَةٍ

    اب کیا اُن میں سے کوئی تمہیں باقی بچا نظر آتا ہے؟

  9. Ayah 9

    وَجَاءَ فِرْعَوْنُ وَمَن قَبْلَهُ وَالْمُؤْتَفِكَاتُ بِالْخَاطِئَةِ

    اور اِسی خطائے عظیم کا ارتکاب فرعون اور اُس سے پہلے کے لوگوں نے اور تل پٹ ہو جانے والی بستیوں نے کیا

  10. Ayah 10

    فَعَصَوْا رَسُولَ رَبِّهِمْ فَأَخَذَهُمْ أَخْذَةً رَّابِيَةً

    ان سب نے اپنے رب کے رسول کی بات نہ مانی تو اُس نے اُن کو بڑی سختی کے ساتھ پکڑا

  11. Ayah 11

    إِنَّا لَمَّا طَغَى الْمَاءُ حَمَلْنَاكُمْ فِي الْجَارِيَةِ

    جب پانی کا طوفان حد سے گزر گیا تو ہم نے تم کو کشتی میں سوار کر دیا تھا

  12. Ayah 12

    لِنَجْعَلَهَا لَكُمْ تَذْكِرَةً وَتَعِيَهَا أُذُنٌ وَاعِيَةٌ

    تاکہ اِس واقعہ کو تمہارے لیے ایک سبق آموز یادگار بنا دیں اور یاد رکھنے والے کان اس کی یاد محفوظ رکھیں

  13. Ayah 13

    فَإِذَا نُفِخَ فِي الصُّورِ نَفْخَةٌ وَاحِدَةٌ

    پھر جب ایک دفعہ صور میں پھونک مار دی جائے گی

  14. Ayah 14

    وَحُمِلَتِ الْأَرْضُ وَالْجِبَالُ فَدُكَّتَا دَكَّةً وَاحِدَةً

    اور زمین اور پہاڑوں کو اٹھا کر ایک ہی چوٹ میں ریزہ ریزہ کر دیا جائے گا

  15. Ayah 15

    فَيَوْمَئِذٍ وَقَعَتِ الْوَاقِعَةُ

    اُس روز وہ ہونے والا واقعہ پیش آ جائے گا

  16. Ayah 16

    وَانشَقَّتِ السَّمَاءُ فَهِيَ يَوْمَئِذٍ وَاهِيَةٌ

    اُس دن آسمان پھٹے گا اور اس کی بندش ڈھیلی پڑ جائے گی

  17. Ayah 17

    وَالْمَلَكُ عَلَىٰ أَرْجَائِهَا ۚ وَيَحْمِلُ عَرْشَ رَبِّكَ فَوْقَهُمْ يَوْمَئِذٍ ثَمَانِيَةٌ

    فرشتے اس کے اطراف و جوانب میں ہوں گے اور آٹھ فرشتے اُس روز تیرے رب کا عرش اپنے اوپر اٹھائے ہوئے ہوں گے

  18. Ayah 18

    يَوْمَئِذٍ تُعْرَضُونَ لَا تَخْفَىٰ مِنكُمْ خَافِيَةٌ

    وہ دن ہوگا جب تم لوگ پیش کیے جاؤ گے، تمہارا کوئی راز بھی چھپا نہ رہ جائے گا

  19. Ayah 19

    فَأَمَّا مَنْ أُوتِيَ كِتَابَهُ بِيَمِينِهِ فَيَقُولُ هَاؤُمُ اقْرَءُوا كِتَابِيَهْ

    اُس وقت جس کا نامہ اعمال اُس کے سیدھے ہاتھ میں دیا جائے گا وہ کہے گا "لو دیکھو، پڑھو میرا نامہ اعمال

  20. Ayah 20

    إِنِّي ظَنَنتُ أَنِّي مُلَاقٍ حِسَابِيَهْ

    میں سمجھتا تھا کہ مجھے ضرور اپنا حساب ملنے والا ہے"

  21. Ayah 21

    فَهُوَ فِي عِيشَةٍ رَّاضِيَةٍ

    پس وہ دل پسند عیش میں ہوگا

  22. Ayah 22

    فِي جَنَّةٍ عَالِيَةٍ

    عالی مقام جنت میں

  23. Ayah 23

    قُطُوفُهَا دَانِيَةٌ

    جس کے پھلوں کے گچھے جھکے پڑ رہے ہوں گے

  24. Ayah 24

    كُلُوا وَاشْرَبُوا هَنِيئًا بِمَا أَسْلَفْتُمْ فِي الْأَيَّامِ الْخَالِيَةِ

    (ایسے لوگوں سے کہا جائے گا) مزے سے کھاؤ اور پیو اپنے اُن اعمال کے بدلے جو تم نے گزرے ہوئے دنوں میں کیے ہیں

  25. Ayah 25

    وَأَمَّا مَنْ أُوتِيَ كِتَابَهُ بِشِمَالِهِ فَيَقُولُ يَا لَيْتَنِي لَمْ أُوتَ كِتَابِيَهْ

    اور جس کا نامہ اعمال اُس کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا وہ کہے گا "کاش میرا اعمال نامہ مجھے نہ دیا گیا ہوتا

  26. Ayah 26

    وَلَمْ أَدْرِ مَا حِسَابِيَهْ

    اور میں نہ جانتا کہ میرا حساب کیا ہے

  27. Ayah 27

    يَا لَيْتَهَا كَانَتِ الْقَاضِيَةَ

    کاش میری وہی موت (جو دنیا میں آئی تھی) فیصلہ کن ہوتی

  28. Ayah 28

    مَا أَغْنَىٰ عَنِّي مَالِيَهْ ۜ

    آج میرا مال میرے کچھ کام نہ آیا

  29. Ayah 29

    هَلَكَ عَنِّي سُلْطَانِيَهْ

    میرا سارا اقتدار ختم ہو گیا"

  30. Ayah 30

    خُذُوهُ فَغُلُّوهُ

    (حکم ہو گا) پکڑو اِسے اور اِس کی گردن میں طوق ڈال دو

  31. Ayah 31

    ثُمَّ الْجَحِيمَ صَلُّوهُ

    پھر اِسے جہنم میں جھونک دو

  32. Ayah 32

    ثُمَّ فِي سِلْسِلَةٍ ذَرْعُهَا سَبْعُونَ ذِرَاعًا فَاسْلُكُوهُ

    پھر اِس کو ستر ہاتھ لمبی زنجیر میں جکڑ دو

  33. Ayah 33

    إِنَّهُ كَانَ لَا يُؤْمِنُ بِاللَّهِ الْعَظِيمِ

    یہ نہ اللہ بزرگ و برتر پر ایمان لاتا تھا

  34. Ayah 34

    وَلَا يَحُضُّ عَلَىٰ طَعَامِ الْمِسْكِينِ

    اور نہ مسکین کو کھانا کھلانے کی ترغیب دیتا تھا

  35. Ayah 35

    فَلَيْسَ لَهُ الْيَوْمَ هَاهُنَا حَمِيمٌ

    لہٰذا آج نہ یہاں اِس کا کوئی یار غم خوار ہے

  36. Ayah 36

    وَلَا طَعَامٌ إِلَّا مِنْ غِسْلِينٍ

    اور نہ زخموں کے دھوون کے سوا اِس کے لیے کوئی کھانا

  37. Ayah 37

    لَّا يَأْكُلُهُ إِلَّا الْخَاطِئُونَ

    جسے خطا کاروں کے سوا کوئی نہیں کھاتا

  38. Ayah 38

    فَلَا أُقْسِمُ بِمَا تُبْصِرُونَ

    پس نہیں، میں قسم کھاتا ہوں اُن چیزوں کی بھی جو تم دیکھتے ہو

  39. Ayah 39

    وَمَا لَا تُبْصِرُونَ

    اور اُن کی بھی جنہیں تم نہیں دیکھتے

  40. Ayah 40

    إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ

    یہ ایک رسول کریم کا قول ہے

  41. Ayah 41

    وَمَا هُوَ بِقَوْلِ شَاعِرٍ ۚ قَلِيلًا مَّا تُؤْمِنُونَ

    کسی شاعر کا قول نہیں ہے، تم لوگ کم ہی ایمان لاتے ہو

  42. Ayah 42

    وَلَا بِقَوْلِ كَاهِنٍ ۚ قَلِيلًا مَّا تَذَكَّرُونَ

    اور نہ یہ کسی کاہن کا قول ہے، تم لوگ کم ہی غور کرتے ہو

  43. Ayah 43

    تَنزِيلٌ مِّن رَّبِّ الْعَالَمِينَ

    یہ رب العالمین کی طرف سے نازل ہوا ہے

  44. Ayah 44

    وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْأَقَاوِيلِ

    اور اگر اس (نبی) نے خود گھڑ کر کوئی بات ہماری طرف منسوب کی ہوتی

  45. Ayah 45

    لَأَخَذْنَا مِنْهُ بِالْيَمِينِ

    تو ہم اِس کا دایاں ہاتھ پکڑ لیتے

  46. Ayah 46

    ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِينَ

    اور اِس کی رگ گردن کاٹ ڈالتے

  47. Ayah 47

    فَمَا مِنكُم مِّنْ أَحَدٍ عَنْهُ حَاجِزِينَ

    پھر تم میں سے کوئی (ہمیں) اس کام سے روکنے والا نہ ہوتا

  48. Ayah 48

    وَإِنَّهُ لَتَذْكِرَةٌ لِّلْمُتَّقِينَ

    درحقیقت یہ پرہیزگار لوگوں کے لیے ایک نصیحت ہے

  49. Ayah 49

    وَإِنَّا لَنَعْلَمُ أَنَّ مِنكُم مُّكَذِّبِينَ

    اور ہم جانتے ہیں کہ تم میں سے کچھ لوگ جھٹلانے والے ہیں

  50. Ayah 50

    وَإِنَّهُ لَحَسْرَةٌ عَلَى الْكَافِرِينَ

    ایسے کافروں کے لیے یقیناً یہ موجب حسرت ہے

  51. Ayah 51

    وَإِنَّهُ لَحَقُّ الْيَقِينِ

    اور یہ بالکل یقینی حق ہے

  52. Ayah 52

    فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِيمِ

    پس اے نبیؐ، اپنے رب عظیم کے نام کی تسبیح کرو

About the Quran

The Quran

The Quran is the holy scripture of Islam. Muslims believe that it is the literal word of Allah (سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى), revealed to the Prophet Muhammad (صلى الله عليه وسلم) over a period of 23 years. The Quran is composed of 114 Surahs (chapters) and contains 6,236 Ayat (verses). Muslim beliefs and practices are based on the Quran and the Sunnah, the teachings and example of the Prophet Muhammad (صلى الله عليه وسلم).

The Kaaba in Mecca
A mosque in South America

Meccan Surahs

The Meccan Surahs are the earliest revelations sent down to the Prophet Muhammad (صلى الله عليه وسلم). They were revealed in Mecca, hence their name. These revelations form the foundation of the Islamic faith and contain guidance for Muslims on how to live their lives. The Meccan Surahs are also notable for their poetic beauty and lyrical prose.

Medinan Surahs

The Medinan Surahs are the later Surahs that, according to Islamic tradition, were revealed in Medina after the Prophet Muhammad's (صلى الله عليه وسلم) hijra from Mecca. They were revealed by Allah (سبحانه و تعالى) when the Muslim community was larger and more developed, as opposed to their minority position in Mecca.

Stay connected

Receive regular updates

New features, translations and reminders from AskTheQuran, straight to your inbox.

We use Mailchimp to send updates. You can unsubscribe at any time. See our privacy policy.

We may receive a commission if you click on a link and buy a product, service or similar, at no extra cost to you. Details are in the disclosure policy.