Menu

Surah Al-Qalam

قلم

Chapter 68 of 114

خوبصورت تلاوت قرآن

Surah Al-Qalam

Recited by Salaah Bukhaatir

Overview

About this Surah

At a glance

Surah 68 of 114

Translation
Urdu
Recitation
Salaah Bukhaatir

Ask the AI about this Surah

Commentary

Tafsir

<h2>نام :</h2>
<p>    </p>آخری آیت کے آخرلفظ <span class="ar indopak">الماعون</span><p> کو اس سورہ کا نام قرار دیا گیا ہے۔</p>
<h2>زمانۂ نزول :</h2>
<p>     ابنِ مَرْدُوْیَہ نے ابن عباس اور ابن الزُّبَیر رضی اللہ عنہما کا قول نقل کیاہے کہ یہ سورہ مکّی ہے ، اور یہی قول
عطاء اور جابر کا بھی ہے ۔ لیکن ابو حَیان نے البحر المُحِیط میں ابن عباس اور قَتادہ  اور ضحّاک کا یہ قول نقل کیا ہے
کہ یہ مدینہ میں نازل ہوئی ہے۔ ہمارے نزدیک خود اِس سورہ کے اندر ایک داخلی شہادت ایسی موجود ہے جو اس کے مدنی ہونے پر
دلالت کرتی ہے ، اور وہ یہ ہے کہ اِس میں اُن نماز پڑھنے والوں کو تباہی کی وعید سُنائی گئی ہے جو اپنی نمازوں سے غفلت
برتتے اور دکھاوے کے لیے نماز پڑھتے ہیں ۔ منافقین کی یہ قسم مدینے ہی میں پائی جاتی تھی ، کیونکہ وہیں اسلام اور اہلِ
اسلام کو یہ قوّت حاصل ہوئی تھی کہ  بہت سے لوگوں کو مصلحۃً ایمان لانا پڑا تھا اور وہ مجبوراً مسجد میں آتے تھے، جماعت
میں شریک ہوتے تھے اور دکھاوے کی نمازیں پڑھتے تھے، تاکہ اُنہیں مسلمانوں میں شمار کیا جائے ،  اس کے برعکس مکّے میں
ایسے حالات سِرے سے موجود ہی نہ تھے  کہ وہاں کسی کو دکھاوے کی نماز پڑھنی پڑتی۔ وہاں تو اہلِ ایمان کے لیے نمازِ با
جماعت کا اہتمام بھی مشکل تھا۔ اُن کو چھُپ چھُپ کر نما ز پڑھنی پڑتی تھی اور کوئی عَلانیہ پڑھتا تھا تو جان پر کھیل کر
پڑھتا تھا۔ منافقین کی جو قسم وہاں پائی جاتی تھی وہ ریاکارانہ ایمان لانے اور دکھاوے کی نمازیں پڑھنے والوں کی نہیں،
بلکہ اُن لوگوں کی تھی جو رسول اللہ صلی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے برسرحق ہونے کو جان اور مان گئے تھے ، مگر اُن میں
سے کوئی  اپنی ریاست و وجاہت اور مشیخت کو برقرار رکھنے کی خاطر اسلام قبول کرنے سے گریز کر رہا تھا اور کوئی یہ خطرہ
مول لینے کے لیے تیار نہ تھا کہ مسلمان ہو کر اُن مصائب میں مبتلا ہو جائے جن میں وہ ایمان لانے والوں کو اپنی آنکھوں کے
سامنے مبتلا دیکھ رہا تھا۔ مکّی دور کے منافقین کی یہ حالت سورۂ عنکبوت ، آیات ۱۱-۱۰ میں بیان کی گئی ہے (تشریح کے لیے
ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد سوم، العنکبوت، حواشی ۱۳ تا ۱۶)۔ </p>
<h2>موضوع اور مضمون:</h2>
<p>      اس کا موضوع یہ بتاتا ہے کہ آخرت پر ایمان نہ لانا انسان کے اندر  کس قسم کے ا خلاق پیدا کرتا ہے۔ آیت ۲ اور ۳ میں
اُن  کفار کی حالت بیان کی گئی ہے جو عَلانیہ آخرت کو جھٹلاتے ہیں۔ اور آخری چار آیتوں میں اُن منافقین کا حال بیان کیا
گیا ہے جو بظاہر مسلمان ہیں ، مگر دل میں آخرت اور اُس کی جزا و سزا اور اُس کے ثواب و عِقاب کا  کوئی تصور نہیں رکھتے۔
مجموعی طور پر دونوں قسم کے گروہوں کے طرزِ عمل کو بیان کرنے سے مقصود یہ حقیقت  لوگوں کے ذہن نشین کرنا ہے کہ انسان کے
اندر ایک مضبوط اور مستحکم پاکیزہ کردار عقیدۂ آخرت کے بغیر پیدا نہیں ہو سکتا۔</p>

Verse by verse

Surah Al-Qalam · قلم

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

  1. Ayah 1

    بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ ن ۚ وَالْقَلَمِ وَمَا يَسْطُرُونَ

    ن، قسم ہے قلم کی اور اُس چیز کی جسے لکھنے والے لکھ رہے ہیں

  2. Ayah 2

    مَا أَنتَ بِنِعْمَةِ رَبِّكَ بِمَجْنُونٍ

    تم اپنے رب کے فضل سے مجنوں نہیں ہو

  3. Ayah 3

    وَإِنَّ لَكَ لَأَجْرًا غَيْرَ مَمْنُونٍ

    اور یقیناً تمہارے لیے ایسا اجر ہے جس کا سلسلہ کبھی ختم ہونے والا نہیں

  4. Ayah 4

    وَإِنَّكَ لَعَلَىٰ خُلُقٍ عَظِيمٍ

    اور بیشک تم اخلاق کے بڑے مرتبے پر ہو

  5. Ayah 5

    فَسَتُبْصِرُ وَيُبْصِرُونَ

    عنقریب تم بھی دیکھ لو گے اور وہ بھی دیکھ لیں گے

  6. Ayah 6

    بِأَييِّكُمُ الْمَفْتُونُ

    کہ تم میں سے کون جنون میں مبتلا ہے

  7. Ayah 7

    إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعْلَمُ بِمَن ضَلَّ عَن سَبِيلِهِ وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ

    تمہارا رب اُن لوگوں کو بھی خوب جانتا ہے جو اس کی راہ سے بھٹکے ہوئے ہیں، اور وہی ان کو بھی اچھی طرح جانتا ہے جو راہ راست پر ہیں

  8. Ayah 8

    فَلَا تُطِعِ الْمُكَذِّبِينَ

    لہٰذا تم اِن جھٹلانے والوں کے دباؤ میں ہرگز نہ آؤ

  9. Ayah 9

    وَدُّوا لَوْ تُدْهِنُ فَيُدْهِنُونَ

    یہ تو چاہتے ہیں کہ کچھ تم مداہنت کرو تو یہ بھی مداہنت کریں

  10. Ayah 10

    وَلَا تُطِعْ كُلَّ حَلَّافٍ مَّهِينٍ

    ہرگز نہ دبو کسی ایسے شخص سے جو بہت قسمیں کھانے والا بے وقعت آدمی ہے

  11. Ayah 11

    هَمَّازٍ مَّشَّاءٍ بِنَمِيمٍ

    طعنے دیتا ہے، چغلیاں کھاتا پھرتا ہے

  12. Ayah 12

    مَّنَّاعٍ لِّلْخَيْرِ مُعْتَدٍ أَثِيمٍ

    بھلائی سے روکتا ہے، ظلم و زیادتی میں حد سے گزر جانے والا ہے، سخت بد اعمال ہے، جفا کار ہے

  13. Ayah 13

    عُتُلٍّ بَعْدَ ذَٰلِكَ زَنِيمٍ

    اور اَن سب عیوب کے ساتھ بد اصل ہے

  14. Ayah 14

    أَن كَانَ ذَا مَالٍ وَبَنِينَ

    اِس بنا پر کہ وہ بہت مال و اولاد رکھتا ہے

  15. Ayah 15

    إِذَا تُتْلَىٰ عَلَيْهِ آيَاتُنَا قَالَ أَسَاطِيرُ الْأَوَّلِينَ

    جب ہماری آیات اُس کو سنائی جاتی ہیں تو کہتا ہے یہ تو اگلے وقتوں کے افسانے ہیں

  16. Ayah 16

    سَنَسِمُهُ عَلَى الْخُرْطُومِ

    عنقریب ہم اس کی سونڈ پر داغ لگائیں گے

  17. Ayah 17

    إِنَّا بَلَوْنَاهُمْ كَمَا بَلَوْنَا أَصْحَابَ الْجَنَّةِ إِذْ أَقْسَمُوا لَيَصْرِمُنَّهَا مُصْبِحِينَ

    ہم نے اِن (اہل مکہ) کو اُسی طرح آزمائش میں ڈالا ہے جس طرح ایک باغ کے مالکوں کو آزمائش میں ڈالا تھا، جب اُنہوں نے قسم کھائی کہ صبح سویرے ضرور اپنے باغ کے پھل توڑیں گے

  18. Ayah 18

    وَلَا يَسْتَثْنُونَ

    اور وہ کوئی استثناء نہیں کر رہے تھے

  19. Ayah 19

    فَطَافَ عَلَيْهَا طَائِفٌ مِّن رَّبِّكَ وَهُمْ نَائِمُونَ

    رات کو وہ سوئے پڑے تھے کہ تمہارے رب کی طرف سے ایک بلا اس باغ پر پھر گئی

  20. Ayah 20

    فَأَصْبَحَتْ كَالصَّرِيمِ

    اور اُس کا حال ایسا ہو گیا جیسے کٹی ہوئی فصل ہو

  21. Ayah 21

    فَتَنَادَوْا مُصْبِحِينَ

    صبح اُن لوگوں نے ایک دوسرے کو پکارا

  22. Ayah 22

    أَنِ اغْدُوا عَلَىٰ حَرْثِكُمْ إِن كُنتُمْ صَارِمِينَ

    کہ اگر پھل توڑنے ہیں تو سویرے سویرے اپنی کھیتی کی طرف نکل چلو

  23. Ayah 23

    فَانطَلَقُوا وَهُمْ يَتَخَافَتُونَ

    چنانچہ وہ چل پڑے اور آپس میں چپکے چپکے کہتے جاتے تھے

  24. Ayah 24

    أَن لَّا يَدْخُلَنَّهَا الْيَوْمَ عَلَيْكُم مِّسْكِينٌ

    کہ آج کوئی مسکین تمہارے پاس باغ میں نہ آنے پائے

  25. Ayah 25

    وَغَدَوْا عَلَىٰ حَرْدٍ قَادِرِينَ

    وہ کچھ نہ دینے کا فیصلہ کیے ہوئے صبح سویرے جلدی جلدی اِس طرح وہاں گئے جیسے کہ وہ (پھل توڑنے پر) قادر ہیں

  26. Ayah 26

    فَلَمَّا رَأَوْهَا قَالُوا إِنَّا لَضَالُّونَ

    مگر جب باغ کو دیکھا تو کہنے لگے "ہم راستہ بھول گئے ہیں

  27. Ayah 27

    بَلْ نَحْنُ مَحْرُومُونَ

    نہیں، بلکہ ہم محروم رہ گئے"

  28. Ayah 28

    قَالَ أَوْسَطُهُمْ أَلَمْ أَقُل لَّكُمْ لَوْلَا تُسَبِّحُونَ

    اُن میں جو سب سے بہتر آدمی تھا اُس نے کہا "میں نے تم سے کہا نہ تھا کہ تم تسبیح کیوں نہیں کرتے؟"

  29. Ayah 29

    قَالُوا سُبْحَانَ رَبِّنَا إِنَّا كُنَّا ظَالِمِينَ

    و ہ پکار اٹھے پاک ہے ہمارا رب، واقعی ہم گناہ گار تھے

  30. Ayah 30

    فَأَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ يَتَلَاوَمُونَ

    پھر اُن میں سے ہر ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگا

  31. Ayah 31

    قَالُوا يَا وَيْلَنَا إِنَّا كُنَّا طَاغِينَ

    آخر کو انہوں نے کہا "افسوس ہمارے حال پر، بے شک ہم سرکش ہو گئے تھے

  32. Ayah 32

    عَسَىٰ رَبُّنَا أَن يُبْدِلَنَا خَيْرًا مِّنْهَا إِنَّا إِلَىٰ رَبِّنَا رَاغِبُونَ

    بعید نہیں کہ ہمارا رب ہمیں بدلے میں اِس سے بہتر باغ عطا فرمائے، ہم اپنے رب کی طرف رجوع کرتے ہیں"

  33. Ayah 33

    كَذَٰلِكَ الْعَذَابُ ۖ وَلَعَذَابُ الْآخِرَةِ أَكْبَرُ ۚ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ

    ایسا ہوتا ہے عذاب اور آخرت کا عذاب اِس سے بھی بڑا ہے، کاش یہ لوگ اِس کو جانتے

  34. Ayah 34

    إِنَّ لِلْمُتَّقِينَ عِندَ رَبِّهِمْ جَنَّاتِ النَّعِيمِ

    یقیناً خدا ترس لوگوں کے لیے اُن کے رب کے ہاں نعمت بھری جنتیں ہیں

  35. Ayah 35

    أَفَنَجْعَلُ الْمُسْلِمِينَ كَالْمُجْرِمِينَ

    کیا ہم فرماں برداروں کا حال مجرموں کا سا کر دیں؟

  36. Ayah 36

    مَا لَكُمْ كَيْفَ تَحْكُمُونَ

    تم لوگوں کو کیا ہو گیا ہے، تم کیسے حکم لگاتے ہو؟

  37. Ayah 37

    أَمْ لَكُمْ كِتَابٌ فِيهِ تَدْرُسُونَ

    کیا تمہارے پاس کوئی کتاب ہے جس میں تم یہ پڑھتے ہو

  38. Ayah 38

    إِنَّ لَكُمْ فِيهِ لَمَا تَخَيَّرُونَ

    کہ تمہارے لیے ضرور وہاں وہی کچھ ہے جو تم اپنے لیے پسند کرتے ہو؟

  39. Ayah 39

    أَمْ لَكُمْ أَيْمَانٌ عَلَيْنَا بَالِغَةٌ إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ ۙ إِنَّ لَكُمْ لَمَا تَحْكُمُونَ

    یا پھر کیا تمہارے لیے روز قیامت تک ہم پر کچھ عہد و پیمان ثابت ہیں کہ تمہیں وہی کچھ ملے گا جس کا تم حکم لگاؤ؟

  40. Ayah 40

    سَلْهُمْ أَيُّهُم بِذَٰلِكَ زَعِيمٌ

    اِن سے پوچھو تم میں سے کون اِس کا ضامن ہے؟

  41. Ayah 41

    أَمْ لَهُمْ شُرَكَاءُ فَلْيَأْتُوا بِشُرَكَائِهِمْ إِن كَانُوا صَادِقِينَ

    یا پھر اِن کے ٹھیرائے ہوئے کچھ شریک ہیں (جنہوں نے اِس کا ذمہ لیا ہو)؟ یہ بات ہے تو لائیں اپنے شریکوں کو اگر یہ سچے ہیں

  42. Ayah 42

    يَوْمَ يُكْشَفُ عَن سَاقٍ وَيُدْعَوْنَ إِلَى السُّجُودِ فَلَا يَسْتَطِيعُونَ

    جس روز سخت وقت آ پڑے گا اور لوگوں کو سجدہ کرنے کے لیے بلایا جائے گا تو یہ لوگ سجدہ نہ کر سکیں گے

  43. Ayah 43

    خَاشِعَةً أَبْصَارُهُمْ تَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌ ۖ وَقَدْ كَانُوا يُدْعَوْنَ إِلَى السُّجُودِ وَهُمْ سَالِمُونَ

    اِن کی نگاہیں نیچی ہوں گی، ذلت اِن پر چھا رہی ہوگی یہ جب صحیح و سالم تھے اُس وقت اِنہیں سجدے کے لیے بلایا جاتا تھا (اور یہ انکار کرتے تھے)

  44. Ayah 44

    فَذَرْنِي وَمَن يُكَذِّبُ بِهَـٰذَا الْحَدِيثِ ۖ سَنَسْتَدْرِجُهُم مِّنْ حَيْثُ لَا يَعْلَمُونَ

    پس اے نبیؐ، تم اِس کلام کے جھٹلانے والوں کا معاملہ مجھ پر چھوڑ دو ہم ایسے طریقہ سے اِن کو بتدریج تباہی کی طرف لے جائیں گے کہ اِن کو خبر بھی نہ ہوگی

  45. Ayah 45

    وَأُمْلِي لَهُمْ ۚ إِنَّ كَيْدِي مَتِينٌ

    میں اِن کی رسی دراز کر رہا ہوں، میری چال بڑی زبردست ہے

  46. Ayah 46

    أَمْ تَسْأَلُهُمْ أَجْرًا فَهُم مِّن مَّغْرَمٍ مُّثْقَلُونَ

    کیا تم اِن سے کوئی اجر طلب کر رہے ہو کہ یہ اس چٹی کے بوجھ تلے دبے جا رہے ہوں؟

  47. Ayah 47

    أَمْ عِندَهُمُ الْغَيْبُ فَهُمْ يَكْتُبُونَ

    کیا اِن کے پاس غیب کا علم ہے جسے یہ لکھ رہے ہوں؟

  48. Ayah 48

    فَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ وَلَا تَكُن كَصَاحِبِ الْحُوتِ إِذْ نَادَىٰ وَهُوَ مَكْظُومٌ

    پس اپنے رب کا فیصلہ صادر ہونے تک صبر کرو اور مچھلی والے (یونس علیہ اسلام) کی طرح نہ ہو جاؤ، جب اُس نے پکارا تھا اور وہ غم سے بھرا ہوا تھا

  49. Ayah 49

    لَّوْلَا أَن تَدَارَكَهُ نِعْمَةٌ مِّن رَّبِّهِ لَنُبِذَ بِالْعَرَاءِ وَهُوَ مَذْمُومٌ

    اگر اس کے رب کی مہربانی اُس کے شامل حال نہ ہو جاتی تو وہ مذموم ہو کر چٹیل میدان میں پھینک دیا جاتا

  50. Ayah 50

    فَاجْتَبَاهُ رَبُّهُ فَجَعَلَهُ مِنَ الصَّالِحِينَ

    آخرکار اُس کے رب نے اسے برگزیدہ فرما لیا اور اِسے صالح بندوں میں شامل کر دیا

  51. Ayah 51

    وَإِن يَكَادُ الَّذِينَ كَفَرُوا لَيُزْلِقُونَكَ بِأَبْصَارِهِمْ لَمَّا سَمِعُوا الذِّكْرَ وَيَقُولُونَ إِنَّهُ لَمَجْنُونٌ

    جب یہ کافر لوگ کلام نصیحت (قرآن) سنتے ہیں تو تمہیں ایسی نظروں سے دیکھتے ہیں کہ گویا تمہارے قدم اکھاڑ دیں گے، اور کہتے ہیں یہ ضرور دیوانہ ہے

  52. Ayah 52

    وَمَا هُوَ إِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعَالَمِينَ

    حالانکہ یہ تو سارے جہان والوں کے لیے ایک نصیحت ہے

About the Quran

The Quran

The Quran is the holy scripture of Islam. Muslims believe that it is the literal word of Allah (سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى), revealed to the Prophet Muhammad (صلى الله عليه وسلم) over a period of 23 years. The Quran is composed of 114 Surahs (chapters) and contains 6,236 Ayat (verses). Muslim beliefs and practices are based on the Quran and the Sunnah, the teachings and example of the Prophet Muhammad (صلى الله عليه وسلم).

The Kaaba in Mecca
A mosque in South America

Meccan Surahs

The Meccan Surahs are the earliest revelations sent down to the Prophet Muhammad (صلى الله عليه وسلم). They were revealed in Mecca, hence their name. These revelations form the foundation of the Islamic faith and contain guidance for Muslims on how to live their lives. The Meccan Surahs are also notable for their poetic beauty and lyrical prose.

Medinan Surahs

The Medinan Surahs are the later Surahs that, according to Islamic tradition, were revealed in Medina after the Prophet Muhammad's (صلى الله عليه وسلم) hijra from Mecca. They were revealed by Allah (سبحانه و تعالى) when the Muslim community was larger and more developed, as opposed to their minority position in Mecca.

Stay connected

Receive regular updates

New features, translations and reminders from AskTheQuran, straight to your inbox.

We use Mailchimp to send updates. You can unsubscribe at any time. See our privacy policy.

We may receive a commission if you click on a link and buy a product, service or similar, at no extra cost to you. Details are in the disclosure policy.