Menu

Surah Al-Mulk

بادشاہ

Chapter 67 of 114

خوبصورت تلاوت قرآن

Surah Al-Mulk

Recited by Salaah Bukhaatir

Overview

About this Surah

At a glance

Surah 67 of 114

Translation
Urdu
Recitation
Salaah Bukhaatir

Ask the AI about this Surah

Commentary

Tafsir

<h2>نام :</h2>
<p>    </p>پہلی ہی آیت کے لفظ قریش کو اس سورہ کا نام قرار دیا گیا ہے۔<h2>زمانۂ نزول :</h2>
<p>     اگرچہ ضُحّاک اور کَلْبِی نے اِس کو مدنی کہا ہے، لیکن مفسّرین کی عظیم اکثریت اس کے مکّی ہونے پر متفق ہے، اور اس
کے مکّی ہونے کی کھلی شہادت خود اِس سورہ کے الفاظ </p>
<span class="ar indopak">رَبَّ ھٰذَا الْبَیْتِ</span><p> (اس گھر کے ربّ) میں موجود ہے۔ اگر یہ مدینہ میں نازل ہوتی تو
خانہ کعبہ کے لیے ، "اِس گھر" کے الفاظ کیسے  موزوں ہو سکتے تھے؟ بلکہ اِس مضمون کا سورۂ فیل کے مضمون سے اتنا گہرا
تعلق ہے کہ غالبًا اِس کا نزول اُس کے متصلاً بعد ہی ہوا ہو گا۔ دونوں دراصل ایک ہی سورۃ ہیں۔ اِس خیال کو تقویت اِن
روایات کی بنا پر ملی ہے کہ حضرت اُبَیّ بن کَعْب کے مُصْحَف  میں یہ دونوں ایک ساتھ لکھی ہوئی تھیں اور درمیان میں بسم
اللہ مرقوم نہ تھی۔ نیز یہ کہ حضرت عمرؓ  نے ایک مرتبہ کسی فصل کے بغیر اِن دونوں کو ملا کر نماز میں پڑھا تھا۔ لیکن یہ
رائے اِس وجہ سے قابلِ قبول نہیں کہ صحابۂ کرام کی عظیم تعداد کے تعاون سے سیّدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے قرآن مجید کے
جو نسخے سرکاری طور پر لکھوا کر بلادِ اسلام کے مراکز میں بھجوائے تھے ان میں دونوں کے درمیان بسم اللہ درج تھی ، اور
اُس وقت سے آج تک تمام دنیا کے مَصاحِف میں یہ الگ الگ سورتوں کی حیثیت  ہی سے لکھی جاتی رہی ہیں۔ مزید برآں دونوں
سورتوں کا اندازِ بیان ایک دوسرے سے اِس قدر مختلف ہے کہ یہ عَلانیہ دو الگ سورتیں نظر آتی ہیں۔ </p>
<h2>تاریخی پسِ منظر :</h2>
<p>  اِس سُورۃ کو ٹھیک ٹھیک سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ اُس تاریخی پَسْ منظر کو نگاہ میں رکھا جائے جس سے اِس کے مضمون اور
سورۂ فیل کے مضمون کا گہرا تعلق ہے۔</p>
قریش کا قبیلہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم  کے جدِّ اعلیٰ قُصَیّ بن کِلاب کے زمانے تک حجاز میں منتشر تھا ۔ سب سے پہلے قُضَیّ نے اُس کے مکّے میں جمع کیا اور بیت اللہ کی تَولِیَت اِس قبیلے کے ہاتھ میں آگئی۔ اِسی بنا پر قُصَیّ کو مُجَمِعّ (جمع کرنے والے) کا لقب دیا گیا۔ اِس شخص نے اپنے اعلیٰ درجہ کے تدبُّر سے مکّہ میں ایک شہر ریاست کی بنیاد رکھی ، اور جملہ اطرافِ عرب سے آنے والے حاجیوں کی خدم کا بہترین انتظام کیا جس کی بدولت رفتہ رفتہ عرب کے تمام قبائل اور تمام علاقوں میں قریش کا اثر و رسوخ قائم ہو تا چلا گیا ۔ قُصَیّ کے بعد اس کے بیٹوں عبد مَناف اور عبد الدّار کے درمیان مکّہ کی ریاست کے مناصِب تقسیم ہوگئے، مگر دونوں میں سے عبد مناف کو اپنے باپ ہی کے زمانے میں زیادہ ناموری حاصل ہو چکی تھی اور عرب میں اُس کا شرف تسلیم کیا جانے لگا تھا۔ عبد مناف کے چار بیٹے تھے۔ ہاشِم، عبدِ شمس، مُطَّلِب اور نَوفَل۔  ان میں سے ہاشِم عبد المطَّلِب کے والد اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پردادا کو سب سے پہلے یہ خیال پیدا ہوا کہ اُس بین الاقوامی تجارت میں حصہ لیا جائے جو عرب کے راستے بلادِ مشرق اور شام و مصر کے درمیان ہوتی تھی ، اور ساتھ  ساتھ اہلِ عرب کی ضروریات کا سامان بھی خرید کر لایا جائے تا کہ راستہ کے قبائل اُن سے مال خریدیں ، اور مکّے کی منڈی میں اندرونِ ملک کے تُجّار خریداری کے لیے آنے لگیں۔ یہ وہ زمانہ تھا جب ایران کی ساسانی حکومت اُس بین الاقوامی تجارت پر اپنا تسلُّط قائم کر چکی تھی جو شمالی علاقوں اور خلیج فارس کے راستوں سے رومی سلطنت اور بلادِ مشرق کے درمیان ہوتی تھی۔ اس لیے جنوبی عرب سے بحر احمر کے ساحل کے ساتھ ساتھ جو تجارتی راستہ شام و مصر کی طرف جاتا تھا اُس کا کاروبار بہت چمک اُٹھا تھا۔ دوسرے عربی قافلوں کی بہ نسبت قریش کو یہ سہولت حاصل تھی کہ راستے کے تمام قبائل بیتُ اللہ کے خُدّام ہونے کی حیثیت سے ان کا احترام کرتے تھے۔ حج کے زمانے میں نہایت فیّاضی کے ساتھ حاجیوں کی جو خدمت قریش کے لوگ کرتے تھے اس کی بنا پر سب اُن کے احسان مند تھے۔ اُنہیں اِس امر کا کوی خطرہ نہ تھا کہ راستے میں کہیں اُن کے قافلوں پر ڈاکہ مارا جائے گا۔ راستے کے قبائل اُن سے رھگذر کے وہ بھاری ٹیکس بھی وصول نہ کرسکتے تھے جو دوسرے قافلوں سے طلب کیا جاتا تھا۔ ہاشِم نے اِنہی تمام پہلووں کو دیکھ کر تجارت کی اسکیم بنائی اور اپنی اِس اسکیم میں اپنے باقی تینوں بھائیوں کو شامل کیا۔ شام کے غَسّانی بادشاہ سے ہاشم نے ، حبش کے بادشاہ سے عبدِ شمس نے ، یمنی امراء سے مُطَّلِب نے اور عراق و فارس ی حکومتوں سے نَوفَل نے تجارتی مراعات حاصلی کیں۔ اِس طرح اِن لوگوں کی تجارت بڑی تیزی سے ترقی کرتی چلی گئی۔ اِسی بنا پر یہ چاروں بھائی مُتَّجِرین (تجارت پیشہ) کے نام سے مشہور ہو گئے، اور جو روابط انہوں نے گردو پیش کے قبائل اور ریاستوں سے قائم کیے تھے اُن کی بنا پر اِن کو اَصحابُ الْاِیْلاف بھی کہا جاتا ہے جِس کے لفظی معنی "اُلفت پیدا کرنے والوں" کے ہیں۔
<p>
اس کاروبار کی وجہ سے قریش کے لوگوں کو شام، مصر ، عراق، ایران، یمن اور حبش کے ممالک سے تعلقات کے وہ مواقع حاصل ہوئے،
اور مختلف ملکوں کی ثقافت و تہذیب سے براہِ راست سابقہ پیش آنے کے باعث اُن کا معیارِ دانش و بینش اتنا بلند ہوتا چلا
گیا کہ عرب کا کوئی دوسرا قبیلہ اُن کی ٹکّر کا نہ رہا۔ مال و دولت کے اعتبار سے بھی وہ عرب میں سب پر فائق ہوگئے اور
مکّہ جزیرۃ العرب کا سب سے زیادہ اہم تجارتی مرکز بن گیا۔ اِن بین الاقوامی تعلقات کا ایک بڑا فائدہ یہ بھی ہوا کہ عراق
سے یہ لوگ وہ رسم الخط لے کر آئے جو بعد میں قرآن مجید لکھنے کے  لیے  استعمال ہوا۔ عرب کے کسی دوسرے قبیلے میں اتنے
پڑھے لکھے لوگ نہ تھے جتنے قریش میں تھے۔ انہی وجوہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ قریش قادۃ الناس " قریش
لوگوں کے لیڈر ہیں" (مُسند احمد، مرویّات عَمرْ وبن العاص)۔ اور حضرت علیؓ کی روایت بَیْہقَی میں ہے کہ  حضور ؐ نے
فرمایا </p>
<span class="ar indopak"> کان ھٰذا الامر فی حِمْیَرَ فنزعہ اللہ منہم وجعلہ فی قریش</span><p>" پہلے عرب کی سرداری قبیلہ
ٔ حِمیْر والوں کو حاصل تھی، پھر اللہ تعالیٰ نے وہ ان سے سلب کر کے قریش کو دے دی"۔</p>
قریش اِسی طرح ترقی پر ترقی کرتے چلے جا رہے تھے کہ مکّہ پر ابرھہ کی چڑھائی کا واقعہ پیش آگیا۔ اگر اُس وقت اَبرھہ اِس شہرِ مقدّس کو فتح کر نے اور کعبے کو ڈھادیے میں کامیاب ہو جاتا تو عرب میں قریش ہی کی نہیں، خود کعبہ کی دھاک بھی ختم ہو جاتی ۔ زمانۂ جاہلیت کے عرب کا یہ عقیدہ متزلزل ہو جاتا کہ یہ گھر واقعی بیت الہ ہے۔ قریش کو اس گھر کے خادم ہونے کی حیثیت سے جو احترام پورے ملک میں حاصل تھا وہ یک لخت ختم ہو جاتا ۔ مکّہ تک حبشیوں کی پیش قدمی کے بعد رومی سلطنت آگے بڑھ کر شام اور مکّہ کے درمیان کا تجارتی راستہ بھی اپنے قبضے میں لے لیتی۔ اور قریش اُس سے زیادہ خستہ حالی میں مبتلا ہو جاتے جس میں وہ قُصَیّ بن کِلاب سے پہلے مبتلا تھے۔ لیکن جب اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کا یہ کرشمہ دکھایا کہ پرندوں کے لشکروں نے سنگریزے مار مار کر ابرھہ کی لائی ہوئی ۶۰ ہزار حبشی فوج کو تباہ و برباد کر دیا ، اور مکّہ سے یمن تک سارے  راستے میں جگہ جگہ اِس تباہ شدہ فوج کے آدمی گِر گِر کر مرتے چلے گئے تو کعبہ کے بیتُ اللہ ہونے پر تمام اہلِ عرب کا ایمان پہلے سے بدرجہا زیادہ مضبوط ہو گیا ، اور اُس کے ساتھ قریش کی دھاک بھی ملک بھر میں پہلے سے زیادہ قائم ہوگئی۔ اب عربوں کو یقین ہوگیا کہ اِن لوگوں پر اللہ کا فضلِ خاص ہے۔ وہ بے کھٹکے عرب کے ہر حصّے میں جاتے اور اپنے تجارتی قافلے لے کر ہر علاقے سے گزرتے۔ کسی کی یہ جرأت نہ تھی کہ اُن کو چھیڑتا۔ اُنہیں چھیڑنا تو درکنار، اُن کی امان میں کوئی غیر قریشی بھی ہوتا تو اُس سے کوئی تعّرُض نہ کیا جاتا تھا۔
<h2>مقصودِ کلام :</h2>
<p>     نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بِعثت کے زمانہ میں یہ حالات چونکہ سب ہی کو معلوم تھے ، اِس لیے اُن کے ذکر کی حاجت نہ
تھی۔ یہی وجہ ہے کہ اِس سورۃ کے چار مختضر فقروں میں قریش سے صرف اِتنی بات کہنے پر اکتفا کیا گیا کہ جب تم خود اِس گھر
(خانہ ٔ کعبہ) کو بُتوں کا نہیں بلکہ اللہ کا گھر مانتے ہو، اور جب تمہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ وہ اللہ ہی ہے جس نے
تمہیں اِس گھر کےطفیل یہ امن عطا کیا ، تمہاری تجارتوں کو یہ فروغ بخشا، اور تمہیں فاقہ زدگی سے بچا کر یہ خوشحالی نصیب
فرمائی، تو تمہیں اُسی کی عبادت کرنی چاہیے۔</p>

Verse by verse

Surah Al-Mulk · بادشاہ

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

  1. Ayah 1

    بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ

    نہایت بزرگ و برتر ہے وہ جس کے ہاتھ میں کائنات کی سلطنت ہے، اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے

  2. Ayah 2

    الَّذِي خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيَاةَ لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا ۚ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْغَفُورُ

    جس نے موت اور زندگی کو ایجاد کیا تاکہ تم لوگوں کو آزما کر دیکھے تم میں سے کون بہتر عمل کرنے والا ہے، اور وہ زبردست بھی ہے اور درگزر فرمانے والا بھی

  3. Ayah 3

    الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ طِبَاقًا ۖ مَّا تَرَىٰ فِي خَلْقِ الرَّحْمَـٰنِ مِن تَفَاوُتٍ ۖ فَارْجِعِ الْبَصَرَ هَلْ تَرَىٰ مِن فُطُورٍ

    جس نے تہ بر تہ سات آسمان بنائے تم رحمان کی تخلیق میں کسی قسم کی بے ربطی نہ پاؤ گے پھر پلٹ کر دیکھو، کہیں تمہیں کوئی خلل نظر آتا ہے؟

  4. Ayah 4

    ثُمَّ ارْجِعِ الْبَصَرَ كَرَّتَيْنِ يَنقَلِبْ إِلَيْكَ الْبَصَرُ خَاسِئًا وَهُوَ حَسِيرٌ

    بار بار نگاہ دوڑاؤ تمہاری نگاہ تھک کر نامراد پلٹ آئے گی

  5. Ayah 5

    وَلَقَدْ زَيَّنَّا السَّمَاءَ الدُّنْيَا بِمَصَابِيحَ وَجَعَلْنَاهَا رُجُومًا لِّلشَّيَاطِينِ ۖ وَأَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابَ السَّعِيرِ

    ہم نے تمہارے قریب کے آسمان کو عظیم الشان چراغوں سے آراستہ کیا ہے اور اُنہیں شیاطین کو مار بھگانے کا ذریعہ بنا دیا ہے اِن شیطانوں کے لیے بھڑکتی ہوئی آگ ہم نے مہیا کر رکھی ہے

  6. Ayah 6

    وَلِلَّذِينَ كَفَرُوا بِرَبِّهِمْ عَذَابُ جَهَنَّمَ ۖ وَبِئْسَ الْمَصِيرُ

    جن لوگوں نے اپنے رب سے کفر کیا ان کے لیے جہنم کا عذاب ہے اور وہ بہت ہی برا ٹھکانا ہے

  7. Ayah 7

    إِذَا أُلْقُوا فِيهَا سَمِعُوا لَهَا شَهِيقًا وَهِيَ تَفُورُ

    جب وہ اُس میں پھینکے جائیں گے تو اسکے دھاڑنے کی ہولناک آواز سنیں گے اور وہ جوش کھا رہی ہوگی

  8. Ayah 8

    تَكَادُ تَمَيَّزُ مِنَ الْغَيْظِ ۖ كُلَّمَا أُلْقِيَ فِيهَا فَوْجٌ سَأَلَهُمْ خَزَنَتُهَا أَلَمْ يَأْتِكُمْ نَذِيرٌ

    شدت غضب سے پھٹی جاتی ہو گی ہر بار جب کوئی انبوہ اس میں ڈالا جائے گا، اُس کے کارندے اُن لوگوں سے پوچھیں گے "کیا تمہارے پاس کوئی خبردار کرنے والا نہیں آیا تھا؟"

  9. Ayah 9

    قَالُوا بَلَىٰ قَدْ جَاءَنَا نَذِيرٌ فَكَذَّبْنَا وَقُلْنَا مَا نَزَّلَ اللَّهُ مِن شَيْءٍ إِنْ أَنتُمْ إِلَّا فِي ضَلَالٍ كَبِيرٍ

    وہ جواب دیں گے "ہاں، خبردار کرنے والا ہمارے پاس آیا تھا، مگر ہم نے اسے جھٹلا دیا اور کہا اللہ نے کچھ بھی نازل نہیں کیا ہے، تم بڑی گمراہی میں پڑے ہوئے ہو"

  10. Ayah 10

    وَقَالُوا لَوْ كُنَّا نَسْمَعُ أَوْ نَعْقِلُ مَا كُنَّا فِي أَصْحَابِ السَّعِيرِ

    اور وہ کہیں گے "کاش ہم سنتے یا سمجھتے تو آج اِس بھڑکتی ہوئی آگ کے سزا واروں میں نہ شامل ہوتے"

  11. Ayah 11

    فَاعْتَرَفُوا بِذَنبِهِمْ فَسُحْقًا لِّأَصْحَابِ السَّعِيرِ

    اس طرح وہ اپنے قصور کا خود اعتراف کر لیں گے، لعنت ہے ان دوزخیوں پر

  12. Ayah 12

    إِنَّ الَّذِينَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُم بِالْغَيْبِ لَهُم مَّغْفِرَةٌ وَأَجْرٌ كَبِيرٌ

    جو لوگ بے دیکھے اپنے رب سے ڈرتے ہیں، یقیناً اُن کے لیے مغفرت ہے اور بڑا اجر

  13. Ayah 13

    وَأَسِرُّوا قَوْلَكُمْ أَوِ اجْهَرُوا بِهِ ۖ إِنَّهُ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ

    تم خواہ چپکے سے بات کرو یا اونچی آواز سے (اللہ کے لیے یکساں ہے)، وہ تو دلوں کا حال تک جانتا ہے

  14. Ayah 14

    أَلَا يَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ

    کیا وہی نہ جانے گا جس نے پیدا کیا ہے؟ حالانکہ وہ باریک بیں اور باخبر ہے

  15. Ayah 15

    هُوَ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ ذَلُولًا فَامْشُوا فِي مَنَاكِبِهَا وَكُلُوا مِن رِّزْقِهِ ۖ وَإِلَيْهِ النُّشُورُ

    وہی تو ہے جس نے تمہارے لیے زمین کو تابع کر رکھا ہے، چلو اُس کی چھاتی پر اور کھاؤ خدا کا رزق، اُسی کے حضور تمہیں دوبارہ زندہ ہو کر جانا ہے

  16. Ayah 16

    أَأَمِنتُم مَّن فِي السَّمَاءِ أَن يَخْسِفَ بِكُمُ الْأَرْضَ فَإِذَا هِيَ تَمُورُ

    کیا تم اِس سے بے خوف ہو کہ وہ جو آسمان میں ہے تمہیں زمین میں دھنسا دے اور یکایک یہ زمین جھکولے کھانے لگے؟

  17. Ayah 17

    أَمْ أَمِنتُم مَّن فِي السَّمَاءِ أَن يُرْسِلَ عَلَيْكُمْ حَاصِبًا ۖ فَسَتَعْلَمُونَ كَيْفَ نَذِيرِ

    کیا تم اِس سے بے خوف ہو کہ وہ جو آسمان میں ہے تم پر پتھراؤ کرنے والی ہوا بھیج دے؟ پھر تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ میری تنبیہ کیسی ہوتی ہے

  18. Ayah 18

    وَلَقَدْ كَذَّبَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ فَكَيْفَ كَانَ نَكِيرِ

    اِن سے پہلے گزرے ہوئے لوگ جھٹلا چکے ہیں پھر دیکھ لو کہ میری گرفت کیسی سخت تھی

  19. Ayah 19

    أَوَلَمْ يَرَوْا إِلَى الطَّيْرِ فَوْقَهُمْ صَافَّاتٍ وَيَقْبِضْنَ ۚ مَا يُمْسِكُهُنَّ إِلَّا الرَّحْمَـٰنُ ۚ إِنَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ بَصِيرٌ

    کیا یہ لو گ اپنے اوپر اڑنے والے پرندوں کو پر پھیلائے اور سکیڑتے نہیں دیکھتے؟ رحمان کے سوا کوئی نہیں جو انہیں تھامے ہوئے ہو وہی ہر چیز کا نگہبان ہے

  20. Ayah 20

    أَمَّنْ هَـٰذَا الَّذِي هُوَ جُندٌ لَّكُمْ يَنصُرُكُم مِّن دُونِ الرَّحْمَـٰنِ ۚ إِنِ الْكَافِرُونَ إِلَّا فِي غُرُورٍ

    بتاؤ، آخر وہ کونسا لشکر تمہارے پاس ہے جو رحمان کے مقابلے میں تمہاری مدد کر سکتا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ منکرین دھوکے میں پڑے ہوئے ہیں

  21. Ayah 21

    أَمَّنْ هَـٰذَا الَّذِي يَرْزُقُكُمْ إِنْ أَمْسَكَ رِزْقَهُ ۚ بَل لَّجُّوا فِي عُتُوٍّ وَنُفُورٍ

    یا پھر بتاؤ، کون ہے جو تمہیں رزق دے سکتا ہے اگر رحمان اپنا رزق روک لے؟ دراصل یہ لوگ سر کشی اور حق سے گریز پر اڑے ہوئے ہیں

  22. Ayah 22

    أَفَمَن يَمْشِي مُكِبًّا عَلَىٰ وَجْهِهِ أَهْدَىٰ أَمَّن يَمْشِي سَوِيًّا عَلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ

    بھلا سوچو، جو شخص منہ اوندھائے چل رہا ہو وہ زیادہ صحیح راہ پانے والا ہے یا وہ جو سر اٹھائے سیدھا ایک ہموار سڑک پر چل رہا ہو؟

  23. Ayah 23

    قُلْ هُوَ الَّذِي أَنشَأَكُمْ وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالْأَبْصَارَ وَالْأَفْئِدَةَ ۖ قَلِيلًا مَّا تَشْكُرُونَ

    اِن سے کہو اللہ ہی ہے جس نے تمہیں پیدا کیا، تم کو سننے اور دیکھنے کی طاقتیں دیں اور سوچنے سمجھنے والے دل دیے، مگر تم کم ہی شکر ادا کرتے ہو

  24. Ayah 24

    قُلْ هُوَ الَّذِي ذَرَأَكُمْ فِي الْأَرْضِ وَإِلَيْهِ تُحْشَرُونَ

    اِن سے کہو، اللہ ہی ہے جس نے تمہیں زمین میں پھیلایا اور اسی کی طرف تم سمیٹے جاؤ گے

  25. Ayah 25

    وَيَقُولُونَ مَتَىٰ هَـٰذَا الْوَعْدُ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ

    یہ کہتے ہیں "اگر تم سچے ہو تو بتاؤ یہ وعدہ کب پورا ہوگا؟"

  26. Ayah 26

    قُلْ إِنَّمَا الْعِلْمُ عِندَ اللَّهِ وَإِنَّمَا أَنَا نَذِيرٌ مُّبِينٌ

    کہو، "اِس کا علم تو اللہ کے پاس ہے، میں تو بس صاف صاف خبردار کر دینے والا ہوں"

  27. Ayah 27

    فَلَمَّا رَأَوْهُ زُلْفَةً سِيئَتْ وُجُوهُ الَّذِينَ كَفَرُوا وَقِيلَ هَـٰذَا الَّذِي كُنتُم بِهِ تَدَّعُونَ

    پھر جب یہ اُس چیز کو قریب دیکھ لیں گے تو اُن سب لوگوں کے چہرے بگڑ جائیں گے جنہوں نے انکار کیا ہے، اور اُس وقت ان سے کہا جائے گا کہ یہی ہے وہ چیز جس کے لیے تم تقاضے کر رہے تھے

  28. Ayah 28

    قُلْ أَرَأَيْتُمْ إِنْ أَهْلَكَنِيَ اللَّهُ وَمَن مَّعِيَ أَوْ رَحِمَنَا فَمَن يُجِيرُ الْكَافِرِينَ مِنْ عَذَابٍ أَلِيمٍ

    اِن سے کہو، کبھی تم نے یہ بھی سوچا کہ اللہ خواہ مجھے اور میرے ساتھیوں کو ہلاک کر دے یا ہم پر رحم کرے، کافروں کو دردناک عذاب سے کون بچا لے گا؟

  29. Ayah 29

    قُلْ هُوَ الرَّحْمَـٰنُ آمَنَّا بِهِ وَعَلَيْهِ تَوَكَّلْنَا ۖ فَسَتَعْلَمُونَ مَنْ هُوَ فِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ

    اِن سے کہو، وہ بڑا رحیم ہے، اسی پر ہم ایمان لائے ہیں، اور اُسی پر ہمارا بھروسا ہے، عنقریب تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ صریح گمراہی میں پڑا ہوا کون ہے

  30. Ayah 30

    قُلْ أَرَأَيْتُمْ إِنْ أَصْبَحَ مَاؤُكُمْ غَوْرًا فَمَن يَأْتِيكُم بِمَاءٍ مَّعِينٍ

    اِن سے کہو، کبھی تم نے یہ بھی سوچا کہ اگر تمہارے کنوؤں کا پانی زمین میں اتر جائے تو کون ہے جو اِس پانی کی بہتی ہوئی سوتیں تمہیں نکال کر لا دے گا؟

About the Quran

The Quran

The Quran is the holy scripture of Islam. Muslims believe that it is the literal word of Allah (سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى), revealed to the Prophet Muhammad (صلى الله عليه وسلم) over a period of 23 years. The Quran is composed of 114 Surahs (chapters) and contains 6,236 Ayat (verses). Muslim beliefs and practices are based on the Quran and the Sunnah, the teachings and example of the Prophet Muhammad (صلى الله عليه وسلم).

The Kaaba in Mecca
A mosque in South America

Meccan Surahs

The Meccan Surahs are the earliest revelations sent down to the Prophet Muhammad (صلى الله عليه وسلم). They were revealed in Mecca, hence their name. These revelations form the foundation of the Islamic faith and contain guidance for Muslims on how to live their lives. The Meccan Surahs are also notable for their poetic beauty and lyrical prose.

Medinan Surahs

The Medinan Surahs are the later Surahs that, according to Islamic tradition, were revealed in Medina after the Prophet Muhammad's (صلى الله عليه وسلم) hijra from Mecca. They were revealed by Allah (سبحانه و تعالى) when the Muslim community was larger and more developed, as opposed to their minority position in Mecca.

Stay connected

Receive regular updates

New features, translations and reminders from AskTheQuran, straight to your inbox.

We use Mailchimp to send updates. You can unsubscribe at any time. See our privacy policy.

We may receive a commission if you click on a link and buy a product, service or similar, at no extra cost to you. Details are in the disclosure policy.