Menu

Surah Al-Munafiqun

منافقین

Chapter 63 of 114

خوبصورت تلاوت قرآن

Surah Al-Munafiqun

Recited by Salaah Bukhaatir

Overview

About this Surah

At a glance

Surah 63 of 114

Translation
Urdu
Recitation
Salaah Bukhaatir

Ask the AI about this Surah

Commentary

Tafsir

<h2>نام :</h2>
<p> پہلی آیت کے لفظ</p>
<span class="ar indopak"> التکاثُر </span><p>کو اس سورۃ کا نام قرار دیا گیا ہے۔</p>
<h2>زمانۂ نزول :</h2>
<p>
  </p>ابو حَیّان اور شَوکانی کہتے ہیں کہ یہ تمام مفسّرین کے نزدیک مکّی ہے۔ اور امام سیوطِی کا قول ہے کہ مشہور ترین بات یہی ہے کہ یہ مکّی ہے، لیکن بعض روایات ایسی ہیں جن کی بنا پر اسے مدنی کہا گیا ہے، اور  وہ یہ ہیں:
<p>
ابن ابی حاتم نے ابوبُرَیدہؓ  کی روایت نقل کی ہے کہ یہ سورۃ انصا کے دو قبیلوں  بنی حارثہ اور بنی الحرث کے بارے میں
نازل ہوئی۔ دونوں قبیلوں کنے ایک دوسرے کے مقابلے میں پہلے اپنے زندہ آدمیوں کے مَفاخِر بیان کیے، پھر قبر ستان جا کر
اپنے اپنے مرے ہوئے لوگوں کے مفاخر پیش کیے۔ اس پر یہ ارشادِ الہٰی نازل  ہوا کہ </p>
<span class="ar indopak">اَلْھٰکُمُ التَّکَاثُر </span><p>۔ لیکن شانِ نزول کے بارے میں صحابہ و تابعین کا جو طریقہ تھا ،
اُس کو اگر نگاہ میں رکھا جائے تو یہ روایت اِس امر کی دلیل نہیں ہے کہ سُورۂ تکاثُر اسی موقع پر  نازل ہوئی تھی ، بلکہ
اس سے مراد یہ ہے کہ اِن دونوں قبیلوں کے اِس فعل پر یہ سُورۃ چسپاں ہوتی ہے۔</p>
امام بخاری اور ابن جریر نے حضرت اُبَیّ بن کعبؓ کا یہ قول نقل کیا ہے کہ
”ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اِس ارشاد کو کہ <span class="ar indopak"> لو ان لابن اٰدم وادیین من مال لتمنّٰی وادیًا ثالثًا ولا یَمْلَأُ جوف ابن اٰدم الّا التراب</span>
<p> (اگر آدم زاد کے پاس دو وادیاں بھر کر مال ہو تو وہ تیسری وادی کی تمنّا کرے گا۔ ابن آدم کا پیٹ مٹّی کے سوا کسی چیز سے
نہیں بھر سکتا) قرآن میں سے سمجھتے تھے ، یہاں تک کہ </p>
<span class="ar indopak"> اَلْھٰکُمُ التَّکَاثُر </span><p>نازل ہوئی۔“ اس حدیث کو سورۂ تکاثر کے مدنی ہونے کی دلیل اس
بنا  پر قرار دیا گیا ہے کہ حضرت اُبَیّ مدینے میں مسلمان ہوئے تھے۔ مگر حضرت اُبَیّ کے اس بیان سے یہ بات واضح نہیں
ہوتی کہ صحابہ کرام کس معنی میں حضورؐ  کے اس ارشاد کو قرآن میں سے سمجھتے تھے۔ اگر اس کا مطلب یہ ہو کہ اسے قرآن کی ایک
آیت سمجھتے تھے تو یہ بات ماننے کے لائق نہیں ہے ، کیونکہ صحابہ کی عظیم اکثریت اُس اصحاب پر مشتمل تھی جو قرآن کے حرف
حرف سے واقف تھے، ان کو یہ غلط فہمی کیسے لاحق ہو سکتی تھی کہ یہ حدیث قرآن کی ایک آیت ہے۔ اور اگر قرآن میں سے ہونے کا
مطلب قرآن سے ماخوذ ہونا لیا جائے تو اس روایت کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ مدینۂ طیبہ میں جو اصحاب داخل اسلام ہوئے
تھے انہوں نے جب پہلی مرتبہ حضورؐ کی زبانِ مبارک سے یہ سورۃ سُنی تو انہوں نے  یہ سمجھا کہ  یہ ابھی نازل ہوئی ہے ، اور
پھر حضورؐ کے مذکورۂ بالا ارشاد کے متعلق اُن کو یہ خیال ہو اکہ وہ اِسی سورۃ سے ماخوذ ہے۔</p>
ابن جریر ، ترمذی اور ابن المُنذِر وغیر محدثین نے حضرت علیؓ  کا یہ قول نقل کیا ہے کہ ”ہم عذابِ قبر کے بارے میں برابر شک میں پڑے رہے یہاں تک کہ
<span class="ar indopak">اَلْھٰکُمُ التَّکَاثُر </span><p>نازل ہوئی۔“ اِس کو سُورہ ٔ تکاثر کے مدنی ہونے کے دلیل اس بنا
پر قرار دیا گیا ہے کہ عذابِ قبر کا ذکر مدینے ہی میں ہوا تھا ، مکّہ میں اس کا کوئی ذکر نہیں ہوا تھا۔ مگر یہ بات غلط
ہے ۔ قرآن کی مکّی سورتوں میں بکثرت مقامات پر قبر کے عذاب کا ایسے صریح الفاظ میں ذکر کیا گیا ہے کہ شک کی گنجائش نہیں
رہتی۔ مثال کے طور پر ملاحظہ ہو الانعام، آیت ۹۳۔ النحل، ۲۸۔ المومنون ۱۰۰-۹۹۔ المومن ۴۶-۴۵۔ یہ سب مکّی سورتیں ہیں۔ اس
لیے حضرت علیؓ کے ارشاد سے اگر کوئی چیز ثابت ہوتی ہے  تو وہ یہ  ہے کہ مذکورۂ بالا مکّی سورتوں کے نزول سے پہلے سورۂ
تکاثُر نازل ہو چکی تھی ، اور اُس کے نزول نے عذابِ قبر کے بارے میں صحابہ کے شک کو دور کر دیا تھا۔</p>
یہی وجہ ہے کہ اِن روایات کے باوجود مفسّرین کی عظیم اکثریت اس کے مکّی ہونے پر متفق ہے۔ ہمارے نزدیک صرف یہی نہیں کہ یہ مکّی سورۃ ہے، بلکہ اس کا مضمون اور اندازِ بیان یہ بتا رہا ہے کہ یہ مکّے کے ابتدائی دور کی نازل شدہ سورتوں میں سے ہے۔
<p>موضوع اور مضمون:  اِس میں لوگوں کو اُس دنیا پرستی کے برے انجام سے خبردار کیا گیا ہے  جس کی وجہ سے وہ مرتے دم تک زیادہ
سے زیادہ مال و دولت، اور دنیوی فائدے اور لذّتیں اور جوہ و اقتدار حاصل کرنے اور اُس میں ایک دوسرے سے بازی لے جانے ،
اور انہی چیزوں کے حصول پر فخر کرنے میں لگے رہتے ہیں ،اور اِس ایک فکر نے اُن کو اس قدر منہمک کر رکھا ہے کہ انہیں اس
سے بالاتر کسی چیز کی طرف توجہ کرنے کا ہوش ہی نہیں ہے۔ اِس کے برے انجام پر متنبہ کرنے کے بعد لوگوں کو یہ بتایا گیا ہے
کہ یہ نعمتیں جن کو تم یہاں بے فکری کے ساتھ سمیٹ رہے ہو، یہ محض نعمتیں ہی نہیں ہیں بلکہ تمہاری آزمائش کا سامان بھی
ہیں۔ ان میں سے ہر نعمت کے بارے میں تم کو آخرت میں جواب دہی کرنی ہو گی۔</p>

Verse by verse

Surah Al-Munafiqun · منافقین

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

  1. Ayah 1

    بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ إِذَا جَاءَكَ الْمُنَافِقُونَ قَالُوا نَشْهَدُ إِنَّكَ لَرَسُولُ اللَّهِ ۗ وَاللَّهُ يَعْلَمُ إِنَّكَ لَرَسُولُهُ وَاللَّهُ يَشْهَدُ إِنَّ الْمُنَافِقِينَ لَكَاذِبُونَ

    اے نبیؐ، جب یہ منافق تمہارے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں "ہم گواہی دیتے ہیں کہ آ پ یقیناً اللہ کے رسول ہیں" ہاں، اللہ جانتا ہے کہ تم ضرور اُس کے رسول ہو، مگر اللہ گواہی دیتا ہے کہ یہ منافق قطعی جھوٹے ہیں

  2. Ayah 2

    اتَّخَذُوا أَيْمَانَهُمْ جُنَّةً فَصَدُّوا عَن سَبِيلِ اللَّهِ ۚ إِنَّهُمْ سَاءَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ

    انہوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنا رکھا ہے اور اِس طرح یہ اللہ کے راستے سے خود رکتے اور دنیا کو روکتے ہیں کیسی بری حرکتیں ہیں جو یہ لوگ کر رہے ہیں

  3. Ayah 3

    ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ آمَنُوا ثُمَّ كَفَرُوا فَطُبِعَ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ فَهُمْ لَا يَفْقَهُونَ

    یہ سب کچھ اس وجہ سے ہے کہ ان لوگوں نے ایمان لا کر پھر کفر کیا اس لیے ان کے دلوں پر مہر لگا دی گئی، اب یہ کچھ نہیں سمجھتے

  4. Ayah 4

    وَإِذَا رَأَيْتَهُمْ تُعْجِبُكَ أَجْسَامُهُمْ ۖ وَإِن يَقُولُوا تَسْمَعْ لِقَوْلِهِمْ ۖ كَأَنَّهُمْ خُشُبٌ مُّسَنَّدَةٌ ۖ يَحْسَبُونَ كُلَّ صَيْحَةٍ عَلَيْهِمْ ۚ هُمُ الْعَدُوُّ فَاحْذَرْهُمْ ۚ قَاتَلَهُمُ اللَّهُ ۖ أَنَّىٰ يُؤْفَكُونَ

    اِنہیں دیکھو تو اِن کے جثے تمہیں بڑے شاندار نظر آئیں بولیں تو تم ان کی باتیں سنتے رہ جاؤ مگر اصل میں یہ گویا لکڑی کے کندے ہیں جو دیوار کے ساتھ چن کر رکھ دیے گئے ہوں ہر زور کی آواز کو یہ اپنے خلاف سمجھتے ہیں یہ پکے دشمن ہیں، ان سے بچ کر رہو، اللہ کی مار ان پر، یہ کدھر الٹے پھرائے جا رہے ہیں

  5. Ayah 5

    وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ تَعَالَوْا يَسْتَغْفِرْ لَكُمْ رَسُولُ اللَّهِ لَوَّوْا رُءُوسَهُمْ وَرَأَيْتَهُمْ يَصُدُّونَ وَهُم مُّسْتَكْبِرُونَ

    اور جب اِن سے کہا جاتا ہے کہ آؤ تاکہ اللہ کا رسول تمہارے لیے مغفرت کی دعا کرے، تو سر جھٹکتے ہیں اور تم دیکھتے ہو کہ وہ بڑے گھمنڈ کے ساتھ آنے سے رکتے ہیں

  6. Ayah 6

    سَوَاءٌ عَلَيْهِمْ أَسْتَغْفَرْتَ لَهُمْ أَمْ لَمْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ لَن يَغْفِرَ اللَّهُ لَهُمْ ۚ إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفَاسِقِينَ

    اے نبیؐ، تم چاہے ان کے لیے مغفرت کی دعا کرو یا نہ کرو، ان کے لیے یکساں ہے، اللہ ہرگز انہیں معاف نہ کرے گا، اللہ فاسق لوگوں کو ہرگز ہدایت نہیں دیتا

  7. Ayah 7

    هُمُ الَّذِينَ يَقُولُونَ لَا تُنفِقُوا عَلَىٰ مَنْ عِندَ رَسُولِ اللَّهِ حَتَّىٰ يَنفَضُّوا ۗ وَلِلَّهِ خَزَائِنُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَلَـٰكِنَّ الْمُنَافِقِينَ لَا يَفْقَهُونَ

    یہ وہی لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ رسول کے ساتھیوں پر خرچ کرنا بند کر دو تاکہ یہ منتشر ہو جائیں حالانکہ زمین اور آسمانوں کے خزانوں کا مالک اللہ ہی ہے، مگر یہ منافق سمجھتے نہیں ہیں

  8. Ayah 8

    يَقُولُونَ لَئِن رَّجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ لَيُخْرِجَنَّ الْأَعَزُّ مِنْهَا الْأَذَلَّ ۚ وَلِلَّهِ الْعِزَّةُ وَلِرَسُولِهِ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَلَـٰكِنَّ الْمُنَافِقِينَ لَا يَعْلَمُونَ

    یہ کہتے ہیں کہ ہم مدینے واپس پہنچ جائیں تو جو عزت والا ہے وہ ذلیل کو وہاں سے نکال باہر کرے گا حالانکہ عزت تو اللہ اور اس کے رسولؐ اور مومنین کے لیے ہے، مگر یہ منافق جانتے نہیں ہیں

  9. Ayah 9

    يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُلْهِكُمْ أَمْوَالُكُمْ وَلَا أَوْلَادُكُمْ عَن ذِكْرِ اللَّهِ ۚ وَمَن يَفْعَلْ ذَٰلِكَ فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْخَاسِرُونَ

    اے لوگو جو ایمان لائے ہو، تمہارے مال اور تمہاری اولادیں تم کو اللہ کی یاد سے غافل نہ کر دیں جو لوگ ایسا کریں وہی خسارے میں رہنے والے ہیں

  10. Ayah 10

    وَأَنفِقُوا مِن مَّا رَزَقْنَاكُم مِّن قَبْلِ أَن يَأْتِيَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ فَيَقُولَ رَبِّ لَوْلَا أَخَّرْتَنِي إِلَىٰ أَجَلٍ قَرِيبٍ فَأَصَّدَّقَ وَأَكُن مِّنَ الصَّالِحِينَ

    جو رزق ہم نے تمہیں دیا ہے اس میں سے خرچ کرو قبل اس کے کہ تم میں سے کسی کی موت کا وقت آ جائے اور اُس وقت وہ کہے کہ "اے میرے رب، کیوں نہ تو نے مجھے تھوڑی سی مہلت اور دے دی کہ میں صدقہ دیتا اور صالح لوگوں میں شامل ہو جاتا"

  11. Ayah 11

    وَلَن يُؤَخِّرَ اللَّهُ نَفْسًا إِذَا جَاءَ أَجَلُهَا ۚ وَاللَّهُ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ

    حالانکہ جب کسی کی مہلت عمل پوری ہونے کا وقت آ جاتا ہے تو اللہ اُس کو ہرگز مزید مہلت نہیں دیتا، اور جو کچھ تم کرتے ہو، اللہ اس سے باخبر ہے

About the Quran

The Quran

The Quran is the holy scripture of Islam. Muslims believe that it is the literal word of Allah (سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى), revealed to the Prophet Muhammad (صلى الله عليه وسلم) over a period of 23 years. The Quran is composed of 114 Surahs (chapters) and contains 6,236 Ayat (verses). Muslim beliefs and practices are based on the Quran and the Sunnah, the teachings and example of the Prophet Muhammad (صلى الله عليه وسلم).

The Kaaba in Mecca
A mosque in South America

Meccan Surahs

The Meccan Surahs are the earliest revelations sent down to the Prophet Muhammad (صلى الله عليه وسلم). They were revealed in Mecca, hence their name. These revelations form the foundation of the Islamic faith and contain guidance for Muslims on how to live their lives. The Meccan Surahs are also notable for their poetic beauty and lyrical prose.

Medinan Surahs

The Medinan Surahs are the later Surahs that, according to Islamic tradition, were revealed in Medina after the Prophet Muhammad's (صلى الله عليه وسلم) hijra from Mecca. They were revealed by Allah (سبحانه و تعالى) when the Muslim community was larger and more developed, as opposed to their minority position in Mecca.

Stay connected

Receive regular updates

New features, translations and reminders from AskTheQuran, straight to your inbox.

We use Mailchimp to send updates. You can unsubscribe at any time. See our privacy policy.

We may receive a commission if you click on a link and buy a product, service or similar, at no extra cost to you. Details are in the disclosure policy.