Menu

Surah Al-Hadid

فولاد

Chapter 57 of 114

خوبصورت تلاوت قرآن

Surah Al-Hadid

Recited by Salaah Bukhaatir

Overview

About this Surah

At a glance

Surah 57 of 114

Translation
Urdu
Recitation
Salaah Bukhaatir

Ask the AI about this Surah

Commentary

Tafsir

<h2>نام :</h2>
<p>    </p>دوسری آیت کے لفظ <span class="ar indopak">عَلَقَ</span><p> کو اس سورۃ کا نام قرار دیا گیا ہے۔ </p>
<h2>زمانۂ نزول :</h2>
<p>     اس سورۃ کے دو حصّے ہیں ۔ پہلا حصّہ </p>
<span class="ar indopak">اِقْراْ</span><p> سے شروع ہو کر پانچویں آیت کے الفاظ  </p>
<span class="ar indopak">مَا لَمْ یَعْلَمْ </span><p> پر ختم ہوتا ہے اور دوسرا حصّہ </p>
<span class="ar indopak">کَلَّآ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَیَطْغٰی</span><p> سے شروع ہو کر آخر سُورۃ تک چلتا ہے۔ پہلے حصّے کے
متعلق علمائے امّت کی عظیم اکثریت اس بات پر متفق ہے کہ  یہ سب سے پہلے وحی ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل
ہوئی۔ اِس معاملہ میں حضرت عائشہؓ نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  سے سُن کر آغازِ وحی کا پورا قصہ بیان کیا ہے۔
اِس کے علاوہ ابن عباسؓ ، ابو موسیٰ اشعریؓ اور صحابہ کی ایک جماعت سے یہی بات منقول ہے کہ قرآن کی سب سے پہلی آیات جو
حضور ؐ پر نازل ہوئیں  وہ یہی تھیں۔ دوسرا حصّہ بعد میں اُس وقت نازل ہوا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حَرَم میں
نماز پڑھنی شروع کی اور ابو جہل نے آپ کو دھمکیاں دے کر اس سے روکنے کی کوشش کی۔ </p>
<h2>آغازِ وحی:</h2>
<p>        محدّثین نے آغازِ وحی کا قصّہ اپنی اپنی سندوں  کے ساتھ امام زُہْری سے ، اور انہوں نے حضرت عُروَہ بن زُبَیر سے
اور انہوں نے اپنی خالہ حضرت عائشہؓ سے نقل کیا ہے۔وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کی ابتدا
سچّے(اور بعض روایات میں ہے اچھے) خوابوں کی شکل میں ہوئی۔ آپ جو خواب بھی دیکھتے وہ ایسا ہوتا کہ جیسے آپ دن کی روشنی
میں دیکھ رہے ہیں۔ پھر آپ تنہائی پسند ہو گئے اور کئی کئی شب و روز غارِ حرا میں رہ کر عبادت کرنے لگے (حضرت عائشہؓ نے
تَحَنُّث کا لفظ استعمال کیا ہے جس کی تشریح امام زُہْرِی نے تعبُّد سے کی ہے۔ یہ کسی طرح کی عبادت تھی جو آپ کرتے تھے،
کیونکہ اُس وقت تک اللہ تعالیٰ  کی طرف سے آپ کو عبادت کا طریقہ نہیں بتایا گیا تھا)۔ آپ کھانے پینے کا سامان گھر سے لے 
جا کر وہاں چند روز گزارتے، پھر حضرت خَدِیجہؓ کے پاس واپس آتے اور وہ مزید چند روز کے لیے سامان آپ کے لیے مہیا کر دیتی
تھیں۔ ایک روز جبکہ آپ غارِ حرا میں تھے ، یکایک آپ پر وحی نازل ہوئی اور فرشتے نے آکر آپ سے کہا پڑھو۔ اس کے بعد حضرت
عائشہؓ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قول نقل کرتی ہیں کہ میں نے کہا” میں تو پڑھا ہو انہیں ہوں۔“ اس پر فرشتے 
نے مجھے پکر کر بھینچا یہاں تک کہ میری قوت ِ برداشت جواب دیے لگی۔ پھر اس نے مجھے چھوڑ دیا اور کہا پڑھو۔ میں نے
کہا”میں تو پڑھا ہوا نہیں ہوں۔“ اس نے دوبارہ مجھے بھینچا اور میری قوت ِ برداشت جواب دینے لگی۔ پھر اس نے مجھے چھوڑ دیا
اور کہا پڑھو۔ میں نے پھر کہا”میں  توپڑھا ہوا نہیں ہوں۔“ اس نے تیسری بار مجھے بھینچا یہاں تک کہ میری قوتِ برداشت جواب
دینے لگی۔ پھر اُس نے مجھے چھوڑ دیا اور کہا </p>
<span class="ar indopak">اِقْرَاْ بِا سْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ۔</span><p> (پڑھو اپنے ربّ کے نام سے جس نے پیدا کیا)
یہاں تک کہ </p>
<span class="ar indopak">مَا لَمْ یَعْلَمْ </span><p>( جسے وہ نہ جانتا تھا) تک پہنچ گیا۔ حضرت  عائشہ ؓ  فرماتی ہیں کہ اس
کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نپتے  لرزتے ہوئے وہاں سے پلٹے اور حضرت خَدِیجہؓ کے پاس پہنچ کر کہا” مُجھے
اُڑھاوٴ،  مجھے اُڑھاوٴ “۔ چنانچہ آپ کو اڑھا دیا گیا۔ جب آپ پر سے خوفزدگی کی کیفیت دور ہو گئی تو  آپ نے فرمایا”اے
خدیجہؓ ، یہ مجھے کیا ہو گیا ہے۔“ پھر سارا قصّہ آپ نے اُن کو سنایا اور کہا”مجھے اپنی جان کا ڈر ہے۔“ انہوں نے کہا” ہر
گز نہیں، آپ خوش ہو جائیے، خدا کی قسم، آپ کو خدا کبھی رسوا نہ کرے گا۔ آپ رشتہ داروں سے نیک سلوک کرتے ہیں، سچ بولتے
ہیں ، (ایک روایت میں یہ اضافہ ہے کہ امانتیں ادا کرتے ہیں)، بے سہارا لوگوں  کا بار برداشت کرتے ہیں، نادار لوگوں کو
کما کر دیتے ہیں، مہمان نوازی کرتے ہیں، اور نیک کاموں میں مدد کرتے ہیں۔“  پھر وہ حضورؐ کو ساتھ لے کر وَرَقَہ بن
نَوفَل کے پاس گئیں  جو اُن کے چچا زاد بھائی تھے، زمانہء جاہلیت میں عیسائی ہو گئے تھے، عربی اور عبرانی میں انجیل
لکھتے تھے، بہت بوڑھے اور نابینا ہو گئے تھے۔ حضرت خدیجہؓ نے اُن سے کہا  بھائی جان ، ذرا اپنے بھتیجے کا قصّہ سُنیے۔
وَرَقَہ نے حضورؐ سے کہا بھتیجے  تم کو کیا نظر آیا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ دیکھا تھا وہ بیان کیا۔
وَرَقَہ نے کہا”یہ وہی ناموس (وحی لانے والا فرشتہ) ہے جو اللہ نے موسیٰؑ پر نازل کیا تھا۔ کاش میں آپ کے زمانہء نبوت
میں قوی جوان ہوتا۔ کاش میں اُس وقت زندہ رہوں جب آپ کی قوم آپ کو نکالے گی۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمایا”کیا یہ لوگ مجھے نکال دیں گے؟“ وَرَقَہ نے کہا”ہاں، کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کوئی شخص وہ چیز لے کر آیا ہو جو آپ
لائے ہیں اور اُس سے دشمنی نہ کی گئی ہو۔ اگر میں نے آپ کا وہ زمانہ پایا تو میں آپ کی پُر زور مدد کروں گا۔“  مگر زیادہ
مدت نہ گزری تھی کہ   ورقہ کا انتقال ہو گیا۔</p>
یہ قصّہ خود اپنے منہ سے بول رہا ہے کہ فرشتے کی آمد سے ایک لمحہ پہلے تک بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس بات سے خالی الذہن تھے کہ آپ نبی بنائے جانے والے ہیں۔ اِس چیز کا طالب یا مُتَوَقِّع ہونا تو درکنار، آپ کے وہم و گمان میں بھی یہ نہ تھا کہ ایسا کوئی معاملہ  آپ کے ساتھ پیش آئے گا۔ وحی کا نزول اور فرشتے کا اِس طرح سامنے آنا آپ کے لیے اچانک ایک حادثہ تھا جس کا پہلا تاثُر آپ کے اوپر  وہی ہوا جو ایک بے خبر انسان پر اِتنے بڑے ایک حادثہ کے پیش آنے سے فطری طور پر ہو سکتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ جب آپ اسلام کی دعوت لے کر اُٹھے تو مکّہ کے لوگوں نے آپ  پر ہر طرح کے  اعتراضات کیے، مگر اُن میں کوئی یہ کہنے والا نہ تھا کہ ہم کو تو پہلے ہی یہ خطرہ تھا کہ آپ کوئی دعویٰ کرنے والے ہیں کیونکہ آپ ایک مدت سے نبی بننے کی تیاریاں کر رہے تھے۔
<p>
اس قصّے سے ایک بات یہ بھی معلوم ہوتی ہے کہ  نبوّت سے پہلے آپ کی زندگی کیسی پاکیزہ تھی اور آپ کا کردار کتنا بلند تھا۔
حضرت خدیجہ ؓ کوئی کم سن خاتون نہ تھیں بلکہ اِس واقعہ کے وقت اُن کی عمر ۵۵ سال تھی اور پندرہ سال سے وہ حضورؐ کی شریکِ
زندگی تھیں۔ بیوی سے شوہر کی کوئی کمزوری چھپی نہیں رہ سکتی۔ انہوں نے اِس طویل ازدواجی زندگی میں آپ کو اِتنا عالی
مرتبہ انسان پایا تھا کہ جب حضورؐ نے اُن کو غارِ حراء میں پیش آنے والا واقعہ سنایا تو بلا تامُل انہوں نے یہ تسلیم کر
لیا کہ فی الواقع  اللہ کا فرشتہ ہی آپ کے پاس وحی لے کر آیا تھا۔ اِسی طرح وَرَقہ بن نَوفَل بھی مکّہ کے ایک بوڑھے
باشندے تھے ، بچپن سے حضورؐ کی زندگی دیکھتے چلے آرہے تھے، اور پندرہ سال کی قریبی رشتہ داری کی بنا پر تو وہ آپ کے
حالات سے اور بھی زیادہ گہری واقفیت رکھتے تھے۔ اُنہوں نے بھی جب یہ واقعہ سُنا تو اِسے کوئی وَسْوَسہ نہیں سمجھا بلکہ
سنتے ہی کہہ دیا کہ یہ وہی ناموس ہے جو موسیٰ علیہ السلام پر نازل ہوا تھا۔ اِس کے  معنی یہ ہیں کہ ان کے نزدیک بھی آپ
اِتنے بلند پایہ انسان تھے کہ آپ کا نبوت کے منصب پر سرفراز ہونا کوئی قابلِ تعجب امر نہ تھا۔</p>
<h2>دوسرے حصہ کا شانِ نزول :</h2>
<p>
            </p>اِس سُورہ کا دوسرا حصّہ اُس وقت نازل ہوا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے حَرَم میں اسلامی طریقہ پر نماز پڑھنی شروع کی اور ابو جہل نے آپ کو ڈرا دھمکا کر اِس سے روکنا چاہا۔ معلوم ایسا ہوتا ہے کہ نبی ہونے کےبعد قبل اِس کے کہ حضورؐ اسلام کی عَلانیہ تبلیغ کا آغاز کرتے، آپ نے حَرَم میں اُ س طریقے پر نماز ادا کرنی شروع کر دی جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو سکھائی تھی ، اور یہی وہ چیز تھی جس سے قریش نے پہلی مرتبہ یہ محسوس کیا کہ آپ کسی نئے دین کے پیرو ہو گئے ہیں۔ دوسرے لوگ تو اِسے حیرت ہی کی نگاہ سے دیکھ رہے تھے، مگر ابو جہل کی رگِ جاہلیت اِس پر پھڑک اُٹھی اور اس نے آپ کو دھمکانا شروع کر دیا کہ اِس طریقے پر حرم میں عبادت نہ کریں۔ چنانچہ اس سلسلے میں کئی احادیث حضرت عبداللہ بن عباسؓ اور حضرت ابو ہریرہؓ سے مروی ہیں جن میں ابو جہل کی اِن بیہودگیوں کا ذکر کیا گیا ہے۔
<p>
حضرت ابو ہریرہؓ کا بیان ہے کہ ابو جہل نے قریش کے لوگوں سے پوچھا ”کیا محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) تمہارے سامنے زمین پر
اپنا منہ ٹِکاتے ہیں؟“ لوگوں نے کہا ہاں۔ اس نے کہا” لات اور عُزّیٰ کی قسم، اگر میں نے ان کو اِس طرح نماز پڑھتے ہوئے
دیکھ لیا تو ان کی گردن پر پاو ٴں رکھ دوں گا اور ان کا منہ زمین میں رگڑ دوں گا۔“ پھر ایسا ہوا کہ حضورؐ کو نماز پڑھتے 
دیکھ کر وہ آگے بڑھا  تاکہ آپ کی گردن پر پاوٴں رکھے، مگر یکایک لوگوں نے دیکھا کہ وہ پیچھے ہٹ رہا ہے اور اپنا منہ کسی
چیز سے بچانے کی کوشش کررہا ہے۔ اُس سے پوچھا گیا کہ یہ تجھے کیا ہو گیا؟ اس نے کہا میرے اور اُن کے درمیان آگ کی ایک
خندق اور ایک ہولناک چیز تھی اور کچھ پَر تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ  علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر وہ میرے قریب پھٹکتا تو
ملائکہ اُس کے چیتھڑے اڑا دیتے (احمد، مسلم، نَسائی، ابن جریر، ابن ابی حاتم، ابن المُنْذِر، ابن مَرْدُویَہ، ابو نُعَیم
اصفہانی، بَیْہَقی)۔</p>
ابن عبارؓ کی روایت ہے کہ ابو جہل نے کہا اگر میں نے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کو کعبہ کے پاس نماز پڑھتے دیکھ لیا تو اُن کی گردن پاوٴں تلے دبا دوں گا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر پہنچی تو آپ نے فرمایا کہ اگر اس نے ایسا کیا تو ملائکہ علانیہ اُسے آپکڑیں گے (بخاری، تِرْمِذِی، نَسائی، ابن جریر، عبد الرزاق، عبد بن حُمَید، ابن المُنذِر، ابن مَرْدُوْیَہ)۔
<p>
ابن عباسؓ کی ایک اور روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مقام ابراہیم پر نماز پڑھ رہے تھے۔ ابو جہل کا اُدھر سے
گزر ہوا تو اس نے کہا  اے محمدؐ، کیا میں نے تم کو اِس سے منع نہیں کیا تھا؟ اور اس نے آپ کو دھمکیاں دینی شروع کیں ۔
جواب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو سختی کے ساتھ جھڑک دیا۔ اِس پر اس نے کہا اے محمدؐ، تم کس بل پر مجھے
ڈرا رہے ہو۔ خدا کی قسم، اِس وادی میں میرے حمایتی سب سے زیادہ ہیں۔ (احمد، تِرْمِذی، نَسائی، ابن جریر، ابن ابی
شَیْبَہ، ابن المُنذِر، طَبرَانی، ابن مَرْدُوْیَہ)۔</p>
انہی واقعات پر اِس سورہ کا وہ حصّہ نازل ہوا جو <span class="ar indopak">کَلَّآ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَیَطْغٰی</span><p>
سے شروع ہو تا ہے ۔ قدرتی طور پر اِس حصّے کا مقام وہی ہونا چاہیے تھا جو قرآن کی اِس سورۃ میں رکھا گیا ہے ۔ کیونکہ
پہلی وحی نازل ہونے کے بعد اِسلام کا اوّلین اظہار حضورؐ نے غار ہی سے کیا تھا، اور کفّارِ  سے آپ کی مُڈبھیڑ کا آغاز
بھی اِسی واقعہ سے ہوا تھا۔ </p>

Verse by verse

Surah Al-Hadid · فولاد

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

  1. Ayah 1

    بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ سَبَّحَ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۖ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ

    اللہ کی تسبیح کی ہے ہر اُس چیز نے جو زمین اور آسمانوں میں ہے، اور وہی زبردست دانا ہے

  2. Ayah 2

    لَهُ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۖ يُحْيِي وَيُمِيتُ ۖ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ

    زمین اور آسمانوں کی سلطنت کا مالک وہی ہے، زندگی بخشتا ہے اور موت دیتا ہے، اور ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے

  3. Ayah 3

    هُوَ الْأَوَّلُ وَالْآخِرُ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ ۖ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ

    وہی اول بھی ہے اور آخر بھی، ظاہر بھی ہے اور مخفی بھی، اور وہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے

  4. Ayah 4

    هُوَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَىٰ عَلَى الْعَرْشِ ۚ يَعْلَمُ مَا يَلِجُ فِي الْأَرْضِ وَمَا يَخْرُجُ مِنْهَا وَمَا يَنزِلُ مِنَ السَّمَاءِ وَمَا يَعْرُجُ فِيهَا ۖ وَهُوَ مَعَكُمْ أَيْنَ مَا كُنتُمْ ۚ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ

    وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا اور پھر عرش پر جلوہ فرما ہوا اُس کے علم میں ہے جو کچھ زمین میں جاتا ہے اور جو کچھ اس سے نکلتا ہے اور جو کچھ آسمان سے اترتا ہے اور جو کچھ اُس میں چڑھتا ہے وہ تمہارے ساتھ ہے جہاں بھی تم ہو جو کام بھی کرتے ہو اسے وہ دیکھ رہا ہے

  5. Ayah 5

    لَّهُ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ وَإِلَى اللَّهِ تُرْجَعُ الْأُمُورُ

    وہی زمین اور آسمانوں کی بادشاہی کا مالک ہے اور تمام معاملات فیصلے کے لیے اُسی کی طرف رجوع کیے جاتے ہیں

  6. Ayah 6

    يُولِجُ اللَّيْلَ فِي النَّهَارِ وَيُولِجُ النَّهَارَ فِي اللَّيْلِ ۚ وَهُوَ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ

    وہی رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے، اور دلوں کے چھپے ہوئے راز تک جانتا ہے

  7. Ayah 7

    آمِنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَأَنفِقُوا مِمَّا جَعَلَكُم مُّسْتَخْلَفِينَ فِيهِ ۖ فَالَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَأَنفَقُوا لَهُمْ أَجْرٌ كَبِيرٌ

    ایمان لاؤ اللہ اور اس کے رسول پر اور خرچ کرو اُن چیزوں میں سے جن پر اس نے تم کو خلیفہ بنایا ہے جو لوگ تم میں سے ایمان لائیں گے اور مال خرچ کریں گے ان کے لیے بڑا اجر ہے

  8. Ayah 8

    وَمَا لَكُمْ لَا تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ ۙ وَالرَّسُولُ يَدْعُوكُمْ لِتُؤْمِنُوا بِرَبِّكُمْ وَقَدْ أَخَذَ مِيثَاقَكُمْ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ

    تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم اللہ پر ایمان نہیں لاتے حالانکہ رسول تمہیں اپنے رب پر ایمان لانے کی دعوت دے رہا ہے اور وہ تم سے عہد لے چکا ہے اگر تم واقعی ماننے والے ہو

  9. Ayah 9

    هُوَ الَّذِي يُنَزِّلُ عَلَىٰ عَبْدِهِ آيَاتٍ بَيِّنَاتٍ لِّيُخْرِجَكُم مِّنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ ۚ وَإِنَّ اللَّهَ بِكُمْ لَرَءُوفٌ رَّحِيمٌ

    وہ اللہ ہی تو ہے جو اپنے بندے پر صاف صاف آیتیں نازل کر رہا ہے تاکہ تمہیں تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لے آئے، اور حقیقت یہ ہے کہ اللہ تم پر نہایت شفیق اور مہربان ہے

  10. Ayah 10

    وَمَا لَكُمْ أَلَّا تُنفِقُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلِلَّهِ مِيرَاثُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ لَا يَسْتَوِي مِنكُم مَّنْ أَنفَقَ مِن قَبْلِ الْفَتْحِ وَقَاتَلَ ۚ أُولَـٰئِكَ أَعْظَمُ دَرَجَةً مِّنَ الَّذِينَ أَنفَقُوا مِن بَعْدُ وَقَاتَلُوا ۚ وَكُلًّا وَعَدَ اللَّهُ الْحُسْنَىٰ ۚ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ

    آخر کیا وجہ ہے کہ تم اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے حالانکہ زمین اور آسمانوں کی میراث اللہ ہی کے لیے ہے تم میں سے جو لوگ فتح کے بعد خرچ اور جہاد کریں گے وہ کبھی اُن لوگوں کے برابر نہیں ہو سکتے جنہوں نے فتح سے پہلے خرچ اور جہاد کیا ہے اُن کا درجہ بعد میں خرچ اور جہاد کرنے والوں سے بڑھ کر ہے اگرچہ اللہ نے دونوں ہی سے اچھے وعدے فرمائے ہیں جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے با خبر ہے

  11. Ayah 11

    مَّن ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا فَيُضَاعِفَهُ لَهُ وَلَهُ أَجْرٌ كَرِيمٌ

    کون ہے جو اللہ کو قرض دے؟ اچھا قرض، تاکہ اللہ اسے کئی گنا بڑھا کر واپس دے، اور اُس کے لیے بہترین اجر ہے

  12. Ayah 12

    يَوْمَ تَرَى الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ يَسْعَىٰ نُورُهُم بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَبِأَيْمَانِهِم بُشْرَاكُمُ الْيَوْمَ جَنَّاتٌ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا ۚ ذَٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ

    اُس دن جبکہ تم مومن مردوں اور عورتوں کو دیکھو گے کہ ان کا نور اُن کے آگے آگے اور ان کے دائیں جانب دوڑ رہا ہوگا (ان سے کہا جائے گا کہ) "آج بشارت ہے تمہارے لیے" جنتیں ہونگی جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہونگی، جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے یہی ہے بڑی کامیابی

  13. Ayah 13

    يَوْمَ يَقُولُ الْمُنَافِقُونَ وَالْمُنَافِقَاتُ لِلَّذِينَ آمَنُوا انظُرُونَا نَقْتَبِسْ مِن نُّورِكُمْ قِيلَ ارْجِعُوا وَرَاءَكُمْ فَالْتَمِسُوا نُورًا فَضُرِبَ بَيْنَهُم بِسُورٍ لَّهُ بَابٌ بَاطِنُهُ فِيهِ الرَّحْمَةُ وَظَاهِرُهُ مِن قِبَلِهِ الْعَذَابُ

    اُس روز منافق مردوں اور عورتوں کا حال یہ ہوگا کہ وہ مومنوں سے کہیں گے ذرا ہماری طرف دیکھو تاکہ ہم تمہارے نور سے کچھ فائدہ اٹھائیں، مگر ان سے کہا جائے گا پیچھے ہٹ جاؤ، اپنا نور کہیں اور تلاش کرو پھر ان کے درمیان ایک دیوار حائل کر دی جائے گی جس میں ایک دروازہ ہوگا اُس دروازے کے اندر رحمت ہوگی اور باہر عذاب

  14. Ayah 14

    يُنَادُونَهُمْ أَلَمْ نَكُن مَّعَكُمْ ۖ قَالُوا بَلَىٰ وَلَـٰكِنَّكُمْ فَتَنتُمْ أَنفُسَكُمْ وَتَرَبَّصْتُمْ وَارْتَبْتُمْ وَغَرَّتْكُمُ الْأَمَانِيُّ حَتَّىٰ جَاءَ أَمْرُ اللَّهِ وَغَرَّكُم بِاللَّهِ الْغَرُورُ

    وہ مومنوں سے پکار پکار کر کہیں گے کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے؟ مومن جواب دیں گے ہاں، مگر تم نے اپنے آپ کو خود فتنے میں ڈالا، موقع پرستی کی، شک میں پڑے رہے، اور جھوٹی توقعات تمہیں فریب دیتی رہیں، یہاں تک کہ اللہ کا فیصلہ آ گیا، اور آخر وقت تک وہ بڑا دھوکے باز تمہیں اللہ کے معاملہ میں دھوکا دیتا رہا

  15. Ayah 15

    فَالْيَوْمَ لَا يُؤْخَذُ مِنكُمْ فِدْيَةٌ وَلَا مِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا ۚ مَأْوَاكُمُ النَّارُ ۖ هِيَ مَوْلَاكُمْ ۖ وَبِئْسَ الْمَصِيرُ

    لہٰذا آج نہ تم سے کوئی فدیہ قبول کیا جائے گا اور نہ اُن لوگوں سے جنہوں نے کھلا کھلا کفر کیا تھا تمہارا ٹھکانا جہنم ہے، وہی تمہاری خبر گیری کرنے والی ہے اور یہ بدترین انجام ہے

  16. Ayah 16

    أَلَمْ يَأْنِ لِلَّذِينَ آمَنُوا أَن تَخْشَعَ قُلُوبُهُمْ لِذِكْرِ اللَّهِ وَمَا نَزَلَ مِنَ الْحَقِّ وَلَا يَكُونُوا كَالَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِن قَبْلُ فَطَالَ عَلَيْهِمُ الْأَمَدُ فَقَسَتْ قُلُوبُهُمْ ۖ وَكَثِيرٌ مِّنْهُمْ فَاسِقُونَ

    کیا ایمان لانے والوں کے لیے ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ اُن کے دل اللہ کے ذکر سے پگھلیں اور اُس کے نازل کردہ حق کے آگے جھکیں اور وہ اُن لوگوں کی طرح نہ ہو جائیں جنہیں پہلے کتاب دی گئی تھی، پھر ایک لمبی مدت اُن پر گزر گئی تو ان کے دل سخت ہو گئے اور آج ان میں سے اکثر فاسق بنے ہوئے ہیں؟

  17. Ayah 17

    اعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يُحْيِي الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا ۚ قَدْ بَيَّنَّا لَكُمُ الْآيَاتِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ

    خوب جان لو کہ، اللہ زمین کو اُس کی موت کے بعد زندگی بخشتا ہے، ہم نے نشانیاں تم کو صاف صاف دکھا دی ہیں، شاید کہ تم عقل سے کام لو

  18. Ayah 18

    إِنَّ الْمُصَّدِّقِينَ وَالْمُصَّدِّقَاتِ وَأَقْرَضُوا اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا يُضَاعَفُ لَهُمْ وَلَهُمْ أَجْرٌ كَرِيمٌ

    مردوں اور عورتوں میں سے جو لوگ صدقات دینے والے ہیں اور جنہوں نے اللہ کو قرض حسن دیا ہے، اُن کو یقیناً کئی گنا بڑھا کر دیا جائے گا اور ان کے لیے بہترین اجر ہے

  19. Ayah 19

    وَالَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ أُولَـٰئِكَ هُمُ الصِّدِّيقُونَ ۖ وَالشُّهَدَاءُ عِندَ رَبِّهِمْ لَهُمْ أَجْرُهُمْ وَنُورُهُمْ ۖ وَالَّذِينَ كَفَرُوا وَكَذَّبُوا بِآيَاتِنَا أُولَـٰئِكَ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ

    اور جو لوگ اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے ہیں وہی اپنے رب کے نزدیک صدیق اور شہید ہیں، اُن کے لیے اُن کا اجر اور اُن کا نور ہے اور جن لوگوں نے کفر کیا ہے اور ہماری آیات کو جھٹلایا ہے وہ دوزخی ہیں

  20. Ayah 20

    اعْلَمُوا أَنَّمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا لَعِبٌ وَلَهْوٌ وَزِينَةٌ وَتَفَاخُرٌ بَيْنَكُمْ وَتَكَاثُرٌ فِي الْأَمْوَالِ وَالْأَوْلَادِ ۖ كَمَثَلِ غَيْثٍ أَعْجَبَ الْكُفَّارَ نَبَاتُهُ ثُمَّ يَهِيجُ فَتَرَاهُ مُصْفَرًّا ثُمَّ يَكُونُ حُطَامًا ۖ وَفِي الْآخِرَةِ عَذَابٌ شَدِيدٌ وَمَغْفِرَةٌ مِّنَ اللَّهِ وَرِضْوَانٌ ۚ وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا مَتَاعُ الْغُرُورِ

    خوب جان لو کہ یہ دنیا کی زندگی اس کے سوا کچھ نہیں کہ ایک کھیل اور دل لگی اور ظاہری ٹیپ ٹاپ اور تمہارا آپس میں ایک دوسرے پر فخر جتانا اور مال و اولاد میں ایک دوسرے سے بڑھ جانے کی کوشش کرنا ہے اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک بارش ہو گئی تو اس سے پیدا ہونے والی نباتات کو دیکھ کر کاشت کار خوش ہو گئے پھر وہی کھیتی پک جاتی ہے اور تم دیکھتے ہو کہ وہ زرد ہو گئی پھر وہ بھس بن کر رہ جاتی ہے اِس کے برعکس آخرت وہ جگہ ہے جہاں سخت عذاب ہے اور اللہ کی مغفرت اور اس کی خوشنودی ہے دنیا کی زندگی ایک دھوکے کی ٹٹی کے سوا کچھ نہیں

  21. Ayah 21

    سَابِقُوا إِلَىٰ مَغْفِرَةٍ مِّن رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا كَعَرْضِ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ أُعِدَّتْ لِلَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ ۚ ذَٰلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَن يَشَاءُ ۚ وَاللَّهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ

    دوڑو اور ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرو اپنے رب کی مغفرت اور اُس کی جنت کی طرف جس کی وسعت آسمان و زمین جیسی ہے، جو مہیا کی گئی ہے اُن لوگوں کے لیے جو اللہ اور اُس کے رسولوں پر ایمان لائے ہوں یہ اللہ کا فضل ہے، جسے چاہتا ہے عطا فرماتا ہے، اور اللہ بڑے فضل والا ہے

  22. Ayah 22

    مَا أَصَابَ مِن مُّصِيبَةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي أَنفُسِكُمْ إِلَّا فِي كِتَابٍ مِّن قَبْلِ أَن نَّبْرَأَهَا ۚ إِنَّ ذَٰلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرٌ

    کوئی مصیبت ایسی نہیں ہے جو زمین میں یا تمہارے اپنے نفس پر نازل ہوتی ہو اور ہم نے اس کو پیدا کرنے سے پہلے ایک کتاب میں لکھ نہ رکھا ہو ایسا کرنا اللہ کے لیے بہت آسان کام ہے

  23. Ayah 23

    لِّكَيْلَا تَأْسَوْا عَلَىٰ مَا فَاتَكُمْ وَلَا تَفْرَحُوا بِمَا آتَاكُمْ ۗ وَاللَّهُ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُورٍ

    (یہ سب کچھ اس لیے ہے) تاکہ جو کچھ بھی نقصان تمہیں ہو اس پر تم دل شکستہ نہ ہو اور جو کچھ اللہ تمہیں عطا فرمائے اس پر پھول نہ جاؤ اللہ ایسے لوگوں کو پسند نہیں کرتا جو اپنے آپ کو بڑی چیز سمجھتے ہیں اور فخر جتاتے ہیں

  24. Ayah 24

    الَّذِينَ يَبْخَلُونَ وَيَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبُخْلِ ۗ وَمَن يَتَوَلَّ فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيدُ

    جو خود بخل کرتے ہیں اور دوسروں کو بخل پر اکساتے ہیں اب اگر کوئی رو گردانی کرتا ہے تو اللہ بے نیاز اور ستودہ صفات ہے

  25. Ayah 25

    لَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَيِّنَاتِ وَأَنزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتَابَ وَالْمِيزَانَ لِيَقُومَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ ۖ وَأَنزَلْنَا الْحَدِيدَ فِيهِ بَأْسٌ شَدِيدٌ وَمَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَلِيَعْلَمَ اللَّهُ مَن يَنصُرُهُ وَرُسُلَهُ بِالْغَيْبِ ۚ إِنَّ اللَّهَ قَوِيٌّ عَزِيزٌ

    ہم نے اپنے رسولوں کو صاف صاف نشانیوں اور ہدایات کے ساتھ بھیجا، اور اُن کے ساتھ کتاب اور میزان نازل کی تاکہ لوگ انصاف پر قائم ہوں، اور لوہا اتارا جس میں بڑا زور ہے اور لوگوں کے لیے منافع ہیں یہ اس لیے کیا گیا ہے کہ اللہ کو معلوم ہو جائے کہ کون اُس کو دیکھے بغیر اس کی اور اُس کے رسولوں کی مدد کرتا ہے یقیناً اللہ بڑی قوت والا اور زبردست ہے

  26. Ayah 26

    وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا نُوحًا وَإِبْرَاهِيمَ وَجَعَلْنَا فِي ذُرِّيَّتِهِمَا النُّبُوَّةَ وَالْكِتَابَ ۖ فَمِنْهُم مُّهْتَدٍ ۖ وَكَثِيرٌ مِّنْهُمْ فَاسِقُونَ

    ہم نے نوحؑ اور ابراہیمؑ کو بھیجا اور اُن دونوں کی نسل میں نبوت اور کتاب رکھ دی پھر ان کی اولاد میں سے کسی نے ہدایت اختیار کی اور بہت سے فاسق ہو گئے

  27. Ayah 27

    ثُمَّ قَفَّيْنَا عَلَىٰ آثَارِهِم بِرُسُلِنَا وَقَفَّيْنَا بِعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ وَآتَيْنَاهُ الْإِنجِيلَ وَجَعَلْنَا فِي قُلُوبِ الَّذِينَ اتَّبَعُوهُ رَأْفَةً وَرَحْمَةً وَرَهْبَانِيَّةً ابْتَدَعُوهَا مَا كَتَبْنَاهَا عَلَيْهِمْ إِلَّا ابْتِغَاءَ رِضْوَانِ اللَّهِ فَمَا رَعَوْهَا حَقَّ رِعَايَتِهَا ۖ فَآتَيْنَا الَّذِينَ آمَنُوا مِنْهُمْ أَجْرَهُمْ ۖ وَكَثِيرٌ مِّنْهُمْ فَاسِقُونَ

    اُن کے بعد ہم نے پے در پے اپنے رسول بھیجے، اور ان سب کے بعد عیسیٰؑ ابن مریم کو مبعوث کیا اور اُس کو انجیل عطا کی اور جن لوگوں نے اس کی پیروی اختیار کی اُن کے دلوں میں ہم نے ترس اور رحم ڈال دیا اور رہبانیت انہوں نے خود ایجاد کرلی، ہم نے اُسے اُن پر فرض نہیں کیا تھا، مگر اللہ کی خوشنودی کی طلب میں انہوں نے آپ ہی یہ بدعت نکالی اور پھر اس کی پابندی کرنے کا جو حق تھا اسے ادا نہ کیا اُن میں سے جو لوگ ایمان لائے ہوئے تھے اُن کا اجر ہم نے ان کو عطا کیا، مگر ان میں سے اکثر لوگ فاسق ہیں

  28. Ayah 28

    يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَآمِنُوا بِرَسُولِهِ يُؤْتِكُمْ كِفْلَيْنِ مِن رَّحْمَتِهِ وَيَجْعَل لَّكُمْ نُورًا تَمْشُونَ بِهِ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ۚ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ

    اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اللہ سے ڈرو اور اس کے رسولؐ پر ایمان لاؤ، اللہ تمہیں اپنی رحمت کا دوہرا حصہ عطا فرمائے گا اور تمہیں وہ نور بخشے گا جس کی روشنی میں تم چلو گے، اور تمہارے قصور معاف کر دے گا، اللہ بڑا معاف کرنے والا اور مہربان ہے

  29. Ayah 29

    لِّئَلَّا يَعْلَمَ أَهْلُ الْكِتَابِ أَلَّا يَقْدِرُونَ عَلَىٰ شَيْءٍ مِّن فَضْلِ اللَّهِ ۙ وَأَنَّ الْفَضْلَ بِيَدِ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَن يَشَاءُ ۚ وَاللَّهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ

    (تم کو یہ روش اختیار کرنی چاہیے) تاکہ اہل کتاب کو معلوم ہو جائے کہ اللہ کے فضل پر اُن کا کوئی اجارہ نہیں ہے، اور یہ کہ اللہ کا فضل اس کے اپنے ہی ہاتھ میں ہے، جسے چاہتا ہے عطا فرماتا ہے، اور وہ بڑے فضل والا ہے

About the Quran

The Quran

The Quran is the holy scripture of Islam. Muslims believe that it is the literal word of Allah (سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى), revealed to the Prophet Muhammad (صلى الله عليه وسلم) over a period of 23 years. The Quran is composed of 114 Surahs (chapters) and contains 6,236 Ayat (verses). Muslim beliefs and practices are based on the Quran and the Sunnah, the teachings and example of the Prophet Muhammad (صلى الله عليه وسلم).

The Kaaba in Mecca
A mosque in South America

Meccan Surahs

The Meccan Surahs are the earliest revelations sent down to the Prophet Muhammad (صلى الله عليه وسلم). They were revealed in Mecca, hence their name. These revelations form the foundation of the Islamic faith and contain guidance for Muslims on how to live their lives. The Meccan Surahs are also notable for their poetic beauty and lyrical prose.

Medinan Surahs

The Medinan Surahs are the later Surahs that, according to Islamic tradition, were revealed in Medina after the Prophet Muhammad's (صلى الله عليه وسلم) hijra from Mecca. They were revealed by Allah (سبحانه و تعالى) when the Muslim community was larger and more developed, as opposed to their minority position in Mecca.

Stay connected

Receive regular updates

New features, translations and reminders from AskTheQuran, straight to your inbox.

We use Mailchimp to send updates. You can unsubscribe at any time. See our privacy policy.

We may receive a commission if you click on a link and buy a product, service or similar, at no extra cost to you. Details are in the disclosure policy.