Menu

Surah Ar-Rahman

مہربان

Chapter 55 of 114

خوبصورت تلاوت قرآن

Surah Ar-Rahman

Recited by Salaah Bukhaatir

Overview

About this Surah

At a glance

Surah 55 of 114

Translation
Urdu
Recitation
Salaah Bukhaatir

Ask the AI about this Surah

Commentary

Tafsir

<h2>نام :</h2>
<p> </p> پہلے ہی فقرے کو اس سورہ کا نام قرار دیا گیا ہے۔<h2>زمانۂ نزول :</h2>
<p>
 </p>اس کا مضمون سورۂ ضحٰی  سے اس قدر ملتا جلتا ہے کہ یہ دونوں سُورتیں قریب قریب ایک ہی زمانے اور ایک جیسے حالات میں نازل شدہ معلوم ہوتی ہیں۔ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ  فرماتے ہیں کہ یہ مکّۂ معظمہ میں والضحٰی کے بعد نازل ہوئی ہے۔
<h2>موضوع اور مضمون:</h2>
<p> اس کا مقصد و مدعا بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلّی دینا ہے۔ نبوّت سے پہلے حضور ؐ کو کبھی اُن حالات سے سابقہ
پیش نہ آیا تھا جن کا سامنا نبوّت کے بعد دعوتِ اسلامی کا آغاز کرتے ہی یکایک آپؐ کو کرنا پڑا۔ یہ خود آپؐ کی زندگی میں
ایک انقلابِ عظیم تھا جس کا کوئی اندازہ آپؐ کو قبلِ نبوت کی زندگی میں نہ تھا۔ اسلام کی تبلیغ آپؐ  نے کیا شروع کی کہ
دیکھتےدیکھتے وہی معاشرہ آپ ؐ کا دشمن ہو گیا جس میں آپ ؐ پہلے بڑی عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے ۔ وہی رشتہ دار ، دوست
، اہلِ قبیلہ اور اہلِ محلہ آپؐ  کو گالیاں دینے لگے جو پہلے آپ ؐ کو ہاتھو ہاتھ لیتے تھے۔ مکّہ میں کوئی آپؐ کی بات
سننے کا روادار نہ تھا ۔ راہ چلتے آپ پر آوازے کسے جانے لگے۔ قدم قدم پر آپ ؐ  کے سامنے مشکلات ہی مشکلات تھیں۔ اگرچہ
رفتہ رفتہ آپؐ کو اِن حالات ، بلکہ اِن سے بھی بدرجہا زیادہ سخت حالات کا مقابلہ کرنے کی عادت پڑ گئی، لیکن ابتدائی
زمانہ آپ ؐ کے لیے نہایت دل شکن تھا۔ اِسی بنا پر آپ ؐ کو تسلی دینے کے لیے پہلے سُورۂ ضحٰی نازل کی گئی اور پھر اِس
سورت کا نزول ہوا۔</p>
اِس میں اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے آپ ؐ کو  بتایا ہے کہ ہم نے آپ ؐ کو تین بہت بڑی نعمتیں عطا کی ہیں جن کی موجودگی میں کوئی وجہ نہیں کہ آپ ؐ دل شکستہ ہوں۔ ایک شرح صدر کی نعمت۔ دوسری نعمت کہ آپ کے اوپر سے ہم نے وہ بھاری بوجھ اتار دیا جو نبوّت سے پہلے آپ ؐ کی کمر توڑے ڈال رہا تھا۔ تیسری رفعِ ذِکر کی نعمت جو آپ ؐ سے بڑھ کر تو درکنار آپ ؐ کے برابر بھی کبھی کسی بندے کو نہیں دی گئی۔ آگے چل کر ہم نے اپنے حواشی میں وضاحت کر دی ہے کہ اِن تینوں نعمتوں سے مراد کیا ہے اور یہ کتنی بڑی نعمتیں ہیں۔
<p>
اِس کے بعد ربِّ کائنات اپنے بندے اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ اطمینان  دلاتا ہے کہ مشکلات کا یہ دور ، جس سے آپ
ؐ کو سابقہ پیش آ رہا ہے، کوئی بہت لمبا دور نہیں ہے بلکہ اِس تنگی کے ساتھ ہی ساتھ فراخی کا دور بھی لگا چلا آرہا ہے۔
یہ وہی بات ہے جو سورۂ ضحٰی میں اِس طرح فرمائی گئی تھی کہ آپ ؐ کے لیے ہر بعد کا دور پہلے  دور سے بہتر ہو گا اور
عنقریب آپ ؐ کا ربّ  آپ ؐ کو وہ کچھ دے گا جس سے آپ ؐ کا دل خوش ہو جائے گا۔</p>
آخر میں حضور ؐ کو ہدایت فرمائی گئی ہے کہ ابتدائی دور کی اِن سختیوں کا مقابلہ کرنے کی طاقت آپ کے اندر ایک ہی چیزسے پیدا ہوگی، اور وہ یہ ہے کہ جب اپنے مشاغل سے آپ فارغ ہوں تو عبادت کی مشقت و ریاضت میں لگ جائیں اور ہر چیز سے بے نیاز ہو کر صرف اپنے ربّ سے لَو لگائیں۔ یہ وہی ہدایت ہے جو زیادہ تفصیل کے ساتھ حضور ؐ کو سورۂ مزّمِّل آیات ۱ تا ۹ میں دی گئی ہے۔

Verse by verse

Surah Ar-Rahman · مہربان

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

  1. Ayah 1

    بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ الرَّحْمَـٰنُ

    رحمٰن نے

  2. Ayah 2

    عَلَّمَ الْقُرْآنَ

    اِس قرآن کی تعلیم دی ہے

  3. Ayah 3

    خَلَقَ الْإِنسَانَ

    اُسی نے انسان کو پیدا کیا

  4. Ayah 4

    عَلَّمَهُ الْبَيَانَ

    اور اسے بولنا سکھایا

  5. Ayah 5

    الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ بِحُسْبَانٍ

    سورج اور چاند ایک حساب کے پابند ہیں

  6. Ayah 6

    وَالنَّجْمُ وَالشَّجَرُ يَسْجُدَانِ

    اور تارے اور درخت سب سجدہ ریز ہیں

  7. Ayah 7

    وَالسَّمَاءَ رَفَعَهَا وَوَضَعَ الْمِيزَانَ

    آسمان کو اُس نے بلند کیا اور میزان قائم کر دی

  8. Ayah 8

    أَلَّا تَطْغَوْا فِي الْمِيزَانِ

    اِس کا تقاضا یہ ہے کہ تم میزان میں خلل نہ ڈالو

  9. Ayah 9

    وَأَقِيمُوا الْوَزْنَ بِالْقِسْطِ وَلَا تُخْسِرُوا الْمِيزَانَ

    انصاف کے ساتھ ٹھیک ٹھیک تولو اور ترازو میں ڈنڈی نہ مارو

  10. Ayah 10

    وَالْأَرْضَ وَضَعَهَا لِلْأَنَامِ

    زمین کو اس نے سب مخلوقات کے لیے بنایا

  11. Ayah 11

    فِيهَا فَاكِهَةٌ وَالنَّخْلُ ذَاتُ الْأَكْمَامِ

    اس میں ہر طرح کے بکثرت لذیذ پھل ہیں کھجور کے درخت ہیں جن کے پھل غلافوں میں لپٹے ہوئے ہیں

  12. Ayah 12

    وَالْحَبُّ ذُو الْعَصْفِ وَالرَّيْحَانُ

    طرح طرح کے غلے ہیں جن میں بھوسا بھی ہوتا ہے اور دانہ بھی

  13. Ayah 13

    فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ

    پس اے جن و انس، تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟

  14. Ayah 14

    خَلَقَ الْإِنسَانَ مِن صَلْصَالٍ كَالْفَخَّارِ

    انسان کو اُس نے ٹھیکری جیسے سوکھے سڑے ہوئے گارے سے بنایا

  15. Ayah 15

    وَخَلَقَ الْجَانَّ مِن مَّارِجٍ مِّن نَّارٍ

    اور جن کو آگ کی لپٹ سے پیدا کیا

  16. Ayah 16

    فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ

    پس اے جن و انس، تم اپنے رب کے کن کن عجائب قدرت کو جھٹلاؤ گے؟

  17. Ayah 17

    رَبُّ الْمَشْرِقَيْنِ وَرَبُّ الْمَغْرِبَيْنِ

    دونوں مشرق اور دونوں مغرب، سب کا مالک و پروردگار وہی ہے

  18. Ayah 18

    فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ

    پس اے جن و انس، تم اپنے رب کی کن کن قدرتوں کو جھٹلاؤ گے؟

  19. Ayah 19

    مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ يَلْتَقِيَانِ

    دو سمندروں کو اس نے چھوڑ دیا کہ باہم مل جائیں

  20. Ayah 20

    بَيْنَهُمَا بَرْزَخٌ لَّا يَبْغِيَانِ

    پھر بھی اُن کے درمیان ایک پردہ حائل ہے جس سے وہ تجاوز نہیں کرتے

  21. Ayah 21

    فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ

    پس اے جن و انس، تم اپنے رب کی قدرت کے کن کن کرشموں کو جھٹلاؤ گے؟

  22. Ayah 22

    يَخْرُجُ مِنْهُمَا اللُّؤْلُؤُ وَالْمَرْجَانُ

    اِن سمندروں سے موتی اور مونگے نکلتے ہیں

  23. Ayah 23

    فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ

    پس اے جن و انس، تم اپنے رب کی قدرت کے کن کن کمالات کو جھٹلاؤ گے؟

  24. Ayah 24

    وَلَهُ الْجَوَارِ الْمُنشَآتُ فِي الْبَحْرِ كَالْأَعْلَامِ

    اور یہ جہاز اُسی کے ہیں جو سمندر میں پہاڑوں کی طرح اونچے اٹھے ہوئے ہیں

  25. Ayah 25

    فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ

    پس اے جن و انس، تم اپنے رب کے کن کن احسانات کو جھٹلاؤ گے؟

  26. Ayah 26

    كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ

    ہر چیز جو اس زمین پر ہے فنا ہو جانے والی ہے

  27. Ayah 27

    وَيَبْقَىٰ وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ

    اور صرف تیرے رب کی جلیل و کریم ذات ہی باقی رہنے والی ہے

  28. Ayah 28

    فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ

    پس اے جن و انس، تم اپنے رب کے کن کن کمالات کو جھٹلاؤ گے؟

  29. Ayah 29

    يَسْأَلُهُ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ

    زمین اور آسمانوں میں جو بھی ہیں سب اپنی حاجتیں اُسی سے مانگ رہے ہیں ہر آن وہ نئی شان میں ہے

  30. Ayah 30

    فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ

    پس اے جن و انس، تم اپنے رب کی کن کن صفات حمیدہ کو جھٹلاؤ گے؟

  31. Ayah 31

    سَنَفْرُغُ لَكُمْ أَيُّهَ الثَّقَلَانِ

    اے زمین کے بوجھو، عنقریب ہم تم سے باز پرس کرنے کے لیے فارغ ہوئے جاتے ہیں

  32. Ayah 32

    فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ

    (پھر دیکھ لیں گے کہ) تم اپنے رب کے کن کن احسانات کو جھٹلاتے ہو

  33. Ayah 33

    يَا مَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْإِنسِ إِنِ اسْتَطَعْتُمْ أَن تَنفُذُوا مِنْ أَقْطَارِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ فَانفُذُوا ۚ لَا تَنفُذُونَ إِلَّا بِسُلْطَانٍ

    اے گروہ جن و انس، گر تم زمین اور آسمانوں کی سرحدوں سے نکل کر بھاگ سکتے ہو تو بھاگ دیکھو نہیں بھاگ سکتے اِس کے لیے بڑا زور چاہیے

  34. Ayah 34

    فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ

    اپنے رب کی کن کن قدرتوں کو تم جھٹلاؤ گے؟

  35. Ayah 35

    يُرْسَلُ عَلَيْكُمَا شُوَاظٌ مِّن نَّارٍ وَنُحَاسٌ فَلَا تَنتَصِرَانِ

    (بھاگنے کی کوشش کرو گے تو) تم پر آگ کا شعلہ اور دھواں چھوڑ دیا جائے گا جس کا تم مقابلہ نہ کر سکو گے

  36. Ayah 36

    فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ

    اے جن و انس، تم اپنے رب کی کن کن قدرتوں کا انکار کرو گے؟

  37. Ayah 37

    فَإِذَا انشَقَّتِ السَّمَاءُ فَكَانَتْ وَرْدَةً كَالدِّهَانِ

    پھر (کیا بنے گی اُس وقت) جب آسمان پھٹے گا اور لال چمڑے کی طرح سرخ ہو جائے گا؟

  38. Ayah 38

    فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ

    اے جن و انس (اُس وقت) تم اپنے رب کی کن کن قدرتوں کو جھٹلاؤ گے؟

  39. Ayah 39

    فَيَوْمَئِذٍ لَّا يُسْأَلُ عَن ذَنبِهِ إِنسٌ وَلَا جَانٌّ

    اُس روز کسی انسان اور کسی جن سے اُس کا گناہ پوچھنے کی ضرورت نہ ہوگی

  40. Ayah 40

    فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ

    پھر (دیکھ لیا جائے گا کہ) تم دونوں گروہ اپنے رب کے کن کن احسانات کا انکار کرتے ہو

  41. Ayah 41

    يُعْرَفُ الْمُجْرِمُونَ بِسِيمَاهُمْ فَيُؤْخَذُ بِالنَّوَاصِي وَالْأَقْدَامِ

    مجرم وہاں اپنے چہروں سے پہچان لیے جائیں گے اور انہیں پیشانی کے بال اور پاؤں پکڑ پکڑ کر گھسیٹا جائے گا

  42. Ayah 42

    فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ

    اُس وقت تم اپنے رب کی کن کن قدرتوں کو جھٹلاؤ گے؟

  43. Ayah 43

    هَـٰذِهِ جَهَنَّمُ الَّتِي يُكَذِّبُ بِهَا الْمُجْرِمُونَ

    (اُس وقت کہا جائے گا) یہ وہی جہنم ہے جس کو مجرمین جھوٹ قرار دیا کرتے تھے

  44. Ayah 44

    يَطُوفُونَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ حَمِيمٍ آنٍ

    اُسی جہنم اور کھولتے ہوئے پانی کے درمیان وہ گردش کرتے رہیں گے

  45. Ayah 45

    فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ

    پھر اپنے رب کی کن کن قدرتوں کو تم جھٹلاؤ گے؟

  46. Ayah 46

    وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ جَنَّتَانِ

    اور ہر اُس شخص کے لیے جو اپنے رب کے حضور پیش ہونے کا خوف رکھتا ہو، دو باغ ہیں

  47. Ayah 47

    فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ

    اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے؟

  48. Ayah 48

    ذَوَاتَا أَفْنَانٍ

    ہری بھری ڈالیوں سے بھرپور

  49. Ayah 49

    فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ

    اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے؟

  50. Ayah 50

    فِيهِمَا عَيْنَانِ تَجْرِيَانِ

    دونوں باغوں میں دو چشمے رواں

  51. Ayah 51

    فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ

    اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے؟

  52. Ayah 52

    فِيهِمَا مِن كُلِّ فَاكِهَةٍ زَوْجَانِ

    دونوں باغوں میں ہر پھل کی دو قسمیں

  53. Ayah 53

    فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ

    اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے؟

  54. Ayah 54

    مُتَّكِئِينَ عَلَىٰ فُرُشٍ بَطَائِنُهَا مِنْ إِسْتَبْرَقٍ ۚ وَجَنَى الْجَنَّتَيْنِ دَانٍ

    جنتی لوگ ایسے فرشوں پر تکیے لگا کے بیٹھیں گے جن کے استر دبیز ریشم کے ہوں گے، اور باغوں کی ڈالیاں پھلوں سے جھکی پڑ رہی ہوں گی

  55. Ayah 55

    فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ

    اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے؟

  56. Ayah 56

    فِيهِنَّ قَاصِرَاتُ الطَّرْفِ لَمْ يَطْمِثْهُنَّ إِنسٌ قَبْلَهُمْ وَلَا جَانٌّ

    اِن نعمتوں کے درمیان شرمیلی نگاہوں والیاں ہوں گی جنہیں اِن جنتیوں سے پہلے کسی انسان یا جن نے چھوا نہ ہوگا

  57. Ayah 57

    فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ

    اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے؟

  58. Ayah 58

    كَأَنَّهُنَّ الْيَاقُوتُ وَالْمَرْجَانُ

    ایسی خوبصورت جیسے ہیرے اور موتی

  59. Ayah 59

    فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ

    اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے؟

  60. Ayah 60

    هَلْ جَزَاءُ الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانُ

    نیکی کا بدلہ نیکی کے سوا اور کیا ہو سکتا ہے

  61. Ayah 61

    فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ

    پھر اے جن و انس، اپنے رب کے کن کن اوصاف حمیدہ کا تم انکار کرو گے؟

  62. Ayah 62

    وَمِن دُونِهِمَا جَنَّتَانِ

    اور اُن دو باغوں کے علاوہ دو باغ اور ہوں گے

  63. Ayah 63

    فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ

    اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے؟

  64. Ayah 64

    مُدْهَامَّتَانِ

    گھنے سرسبز و شاداب باغ

  65. Ayah 65

    فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ

    اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے؟

  66. Ayah 66

    فِيهِمَا عَيْنَانِ نَضَّاخَتَانِ

    دونوں باغوں میں دو چشمے فواروں کی طرح ابلتے ہوئے

  67. Ayah 67

    فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ

    اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے؟

  68. Ayah 68

    فِيهِمَا فَاكِهَةٌ وَنَخْلٌ وَرُمَّانٌ

    اُن میں بکثرت پھل اور کھجوریں اور انار

  69. Ayah 69

    فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ

    اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے؟

  70. Ayah 70

    فِيهِنَّ خَيْرَاتٌ حِسَانٌ

    اِن نعمتوں کے درمیان خوب سیرت اور خوبصورت بیویاں

  71. Ayah 71

    فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ

    اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے؟

  72. Ayah 72

    حُورٌ مَّقْصُورَاتٌ فِي الْخِيَامِ

    خیموں میں ٹھیرائی ہوئی حوریں

  73. Ayah 73

    فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ

    اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے؟

  74. Ayah 74

    لَمْ يَطْمِثْهُنَّ إِنسٌ قَبْلَهُمْ وَلَا جَانٌّ

    اِن جنتیوں سے پہلے کبھی انسان یا جن نے اُن کو نہ چھوا ہوگا

  75. Ayah 75

    فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ

    اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے؟

  76. Ayah 76

    مُتَّكِئِينَ عَلَىٰ رَفْرَفٍ خُضْرٍ وَعَبْقَرِيٍّ حِسَانٍ

    وہ جنتی سبز قالینوں اور نفیس و نادر فرشوں پر تکیے لگا کے بیٹھیں گے

  77. Ayah 77

    فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ

    اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے؟

  78. Ayah 78

    تَبَارَكَ اسْمُ رَبِّكَ ذِي الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ

    بڑی برکت والا ہے تیرے رب جلیل و کریم کا نام

About the Quran

The Quran

The Quran is the holy scripture of Islam. Muslims believe that it is the literal word of Allah (سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى), revealed to the Prophet Muhammad (صلى الله عليه وسلم) over a period of 23 years. The Quran is composed of 114 Surahs (chapters) and contains 6,236 Ayat (verses). Muslim beliefs and practices are based on the Quran and the Sunnah, the teachings and example of the Prophet Muhammad (صلى الله عليه وسلم).

The Kaaba in Mecca
A mosque in South America

Meccan Surahs

The Meccan Surahs are the earliest revelations sent down to the Prophet Muhammad (صلى الله عليه وسلم). They were revealed in Mecca, hence their name. These revelations form the foundation of the Islamic faith and contain guidance for Muslims on how to live their lives. The Meccan Surahs are also notable for their poetic beauty and lyrical prose.

Medinan Surahs

The Medinan Surahs are the later Surahs that, according to Islamic tradition, were revealed in Medina after the Prophet Muhammad's (صلى الله عليه وسلم) hijra from Mecca. They were revealed by Allah (سبحانه و تعالى) when the Muslim community was larger and more developed, as opposed to their minority position in Mecca.

Stay connected

Receive regular updates

New features, translations and reminders from AskTheQuran, straight to your inbox.

We use Mailchimp to send updates. You can unsubscribe at any time. See our privacy policy.

We may receive a commission if you click on a link and buy a product, service or similar, at no extra cost to you. Details are in the disclosure policy.