Menu

Surah Al-Qamar

چاند

Chapter 54 of 114

خوبصورت تلاوت قرآن

Surah Al-Qamar

Recited by Salaah Bukhaatir

Overview

About this Surah

At a glance

Surah 54 of 114

Translation
Urdu
Recitation
Salaah Bukhaatir

Ask the AI about this Surah

Commentary

Tafsir

<h2>نام :</h2>
<p> </p> پہلے ہی لفظ <span class="ar indopak">وَالضُّحٰی</span><p> کو اس سورہ کا نام قرار دیا گیا ہے۔</p>
<h2>زمانۂ نزول :</h2>
<p>
  </p>اس کا مضمون صاف بتا رہا ہے کہ یہ مکّۂ معظمہ کے بالکل ابتدائی دور میں نازل ہوئی ہے۔ روایات سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ کچھ مدت تک وحی کے نزول کا سلسلہ بند رہا تھا جس سے حضورؐ سخت پریشان ہو گئے تھے اور بار بار آپؐ کو یہ اندیشہ لاقح ہو رہا تھا کہ کہیں مجھ سے کوئی ایسا قصور تو نہیں ہو گیا جس کی وجہ سے میرا ربّ مجھ سے ناراض ہو گیا ہے اور اس نے مجھے چھوڑ دیا ہے۔ اس پر آپ ؐ کو اطمینان دلایا گیا  کہ وحی کے نزول کا سلسلہ کسی ناراضی کی بنا پر نہیں روکا گیا تھا، بلکہ اس میں وہی مصلحت کار فرما تھی جو روزِ روشن کے بعد رات  کا سکون طاری کرنے میں کار فرما ہوتی ہے۔ یعنی وحی کی تیز روشنی اگر آپؐ پر برابر پڑتی رہتی تو آپؐ کے اعصاب اسے برداشت نہ کر سکتے ، اس لیے بیچ میں وقفہ  دیا گیا تا کہ آپ ؐ کو سکون مل جائے ۔ یہ کیفیت حضورؐ پر نبوت کے ابتدائی دور میں گزرتی تھی جبکہ ابھی آپؐ کو وحی کے نزول کی شدّت برداشت کرنے کی عادت نہیں پڑی تھی، اِس بنا پر بیچ بیچ میں وقفہ دینا ضروری ہوتا تھا۔ اس کی وضاحت ہم سورۂ مدَّثِّر کے دیباچے میں کر چکے ہیں۔ اور سورۂ  مُزَّمِّل حاشیہ ۵ میں ہم یہ بھی بیان کر چکے ہیں کہ نزولِ وحی کا کس قدر شدید بار آپ ؐ کےاعصاب پر پڑتا تھا۔ بعد میں جب حضور ؐ کے اندر اس بار کو برداشت کرنے کا تحمُّل پیدا ہو گیا تو طویل وقفے  دینے کی ضرورت باقی نہیں رہی۔
<h2>موضوع اور مضمون:</h2>
<p>
 </p>اِس کا موضوع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلّی دینا ہے اور مقصد اُس پریشانی کو دور کرنا ہے جو نزولِ وحی کا سلسلہ رک جانے سے آپ ؐ کو لاحق ہوگئی تھی۔ سب سے پہلے روزِ روشن اور سکونِ شب کی قسم کھا کر آپؐ کو اطمینان دلایا گیا ہے کہ آپ ؐ کے  ربّ نے آپ کو ہر گز نہیں چھوڑا ہے اور نہ وہ آپؐ سے ناراض ہوا ہے۔ اس کے بعد آپؐ کو خوشخبری دی گئی ہے کہ دعوتِ اسلامی کے ابتدائی دور میں جن شدید مشکلات سے آپ ؐ کو سابقہ پیش آرہا ہے یہ تھوڑے دنوں کی بات ہے ۔ آپؐ کے لیے ہر بعد کا دور پہلے دور سے بہتر ہو تا چلا جائے گا اور کچھ زیادہ دیر نہ گزرے گی کہ اللہ تعالیٰ آپؐ پر اپنی عطا و بخشش کی ایسی بارش کرے گا  جس سے آپ ؐ خوش ہو جائیں گے۔ یہ قرآن کی اُن صریح پیشنگوئیوں میں سے ایک  ہے جو بعد میں حرف بحرف پوری ہوئیں ، حالانکہ جس وقت یہ پیشنگوئی کی گئی تھی اُس وقت کہیں دُور دُور بھی اِس کے آثار نظر نہ آتے تھے کہ مکّہ میں جو بے یار و مددگار انسان پوری قوم کی جاہلیّت کے مقابلے میں برسر پیکار ہو گیا ہے اُسے اِتنی حیرت انگیز کامیابی نصیب ہوگی۔
<p>
اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا ہے کہ تمہیں یہ پریشانی کیسے لاحق ہو گئی کہ ہم نے
تمہیں چھوڑ دیا ہے اور  ہم تم سے ناراض ہو گئے ہیں۔ ہم تو تمہارے روزِ پیدائش سے مسلسل تم پر مہربانیاں کرتے چلے آرہے
ہیں ۔ تم یتیم پیدا ہوئے تھے ، ہم نے تمہاری پرورش  اور خبر گیری کا بہترین انتظام  کر دیا۔ تم ناواقف ِ راہ تھے ، ہم نے
تمہیں  راستہ بتایا ۔ تم نادار تھے، ہم نے تمہیں مالدار بنایا۔ یہ ساری باتیں صاف بتا رہی ہیں کہ تم ابتداء سے ہمارے
منظورِ نظر  ہو اور ہمارا فضل و کرم مستقل طور پر تمہارے شاملِ حال ہے۔ اس مقام پر سورۂ طٰہٰ ، آیات ۳۷ تا ۴۲  کو بھی
نگاہ میں رکھا جائے جہاں حضرت موسیٰ ؑ کو فرعون جیسے جبّار کے مقابلہ میں بھیجتے وقت اللہ تعالیٰ نے اُن کی پریشانی دور
کرنے کے لیے انہیں بتایا ہے کہ کس طرح تمہاری پیدائش کے وقت سے ہماری مہربانیاں تمہارے شامل حال رہی ہیں ، اس لیے تم
اطمینان رکھو کہ  اِس خوفناک مہم میں تم اکیلے نہ ہو گے بلکہ ہمارا فضل  تمہارے ساتھ ہوگا۔</p>
آخر میں اللہ  تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا ہے کہ جو احسانات ہم نے تم پر کیے ہیں ان کے جواب میں خلق خدا کے ساتھ تمہارا کیا برتاؤ ہونا چاہیے ، اور ہماری نعمتوں کا شکر تمہیں کس طرح ادا کرنا چاہیے۔

Verse by verse

Surah Al-Qamar · چاند

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

  1. Ayah 1

    بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانشَقَّ الْقَمَرُ

    قیامت کی گھڑی قریب آ گئی اور چاند پھٹ گیا

  2. Ayah 2

    وَإِن يَرَوْا آيَةً يُعْرِضُوا وَيَقُولُوا سِحْرٌ مُّسْتَمِرٌّ

    مگر اِن لوگوں کا حال یہ ہے کہ خواہ کوئی نشانی دیکھ لیں منہ موڑ جاتے ہیں اور کہتے ہیں یہ تو چلتا ہوا جادو ہے

  3. Ayah 3

    وَكَذَّبُوا وَاتَّبَعُوا أَهْوَاءَهُمْ ۚ وَكُلُّ أَمْرٍ مُّسْتَقِرٌّ

    اِنہوں نے (اس کو بھی) جھٹلا دیا اور اپنی خواہشات نفس ہی کی پیروی کی ہر معاملہ کو آخر کار ایک انجام پر پہنچ کر رہنا ہے

  4. Ayah 4

    وَلَقَدْ جَاءَهُم مِّنَ الْأَنبَاءِ مَا فِيهِ مُزْدَجَرٌ

    اِن لوگوں کے سامنے (پچھلی قوموں کے) وہ حالات آ چکے ہیں جن میں سرکشی سے باز رکھنے کے لیے کافی سامان عبرت ہے

  5. Ayah 5

    حِكْمَةٌ بَالِغَةٌ ۖ فَمَا تُغْنِ النُّذُرُ

    اور ایسی حکمت جو نصیحت کے مقصد کو بدرجہ اتم پورا کرتی ہے مگر تنبیہات اِن پر کارگر نہیں ہوتیں

  6. Ayah 6

    فَتَوَلَّ عَنْهُمْ ۘ يَوْمَ يَدْعُ الدَّاعِ إِلَىٰ شَيْءٍ نُّكُرٍ

    پس اے نبیؐ، اِن سے رخ پھیر لو جس روز پکارنے والا ایک سخت ناگوار چیز کی طرف پکارے گا

  7. Ayah 7

    خُشَّعًا أَبْصَارُهُمْ يَخْرُجُونَ مِنَ الْأَجْدَاثِ كَأَنَّهُمْ جَرَادٌ مُّنتَشِرٌ

    لوگ سہمی ہوئی نگاہوں کے ساتھ اپنی قبروں سے اِس طرح نکلیں گے گویا وہ بکھری ہوئی ٹڈیاں ہیں

  8. Ayah 8

    مُّهْطِعِينَ إِلَى الدَّاعِ ۖ يَقُولُ الْكَافِرُونَ هَـٰذَا يَوْمٌ عَسِرٌ

    پکارنے والے کی طرف دوڑے جا رہے ہوں گے اور وہی منکرین (جو دنیا میں اس کا انکار کرتے تھے) اُس وقت کہیں گے کہ یہ دن تو بڑا کٹھن ہے

  9. Ayah 9

    كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوحٍ فَكَذَّبُوا عَبْدَنَا وَقَالُوا مَجْنُونٌ وَازْدُجِرَ

    اِن سے پہلے نوحؑ کی قوم جھٹلا چکی ہے اُنہوں نے ہمارے بندے کو جھوٹا قرار دیا اور کہا کہ یہ دیوانہ ہے، اور وہ بری طرح جھڑکا گیا

  10. Ayah 10

    فَدَعَا رَبَّهُ أَنِّي مَغْلُوبٌ فَانتَصِرْ

    آخر کار اُس نے اپنے رب کو پکارا کہ "میں مغلوب ہو چکا، اب تو اِن سے انتقام لے"

  11. Ayah 11

    فَفَتَحْنَا أَبْوَابَ السَّمَاءِ بِمَاءٍ مُّنْهَمِرٍ

    تب ہم نے موسلا دھار بارش سے آسمان کے دروازے کھول دیے اور زمین کو پھاڑ کر چشموں میں تبدیل کر دیا

  12. Ayah 12

    وَفَجَّرْنَا الْأَرْضَ عُيُونًا فَالْتَقَى الْمَاءُ عَلَىٰ أَمْرٍ قَدْ قُدِرَ

    اور یہ سارا پانی اُس کام کو پورا کرنے لیے مل گیا جو مقدر ہو چکا تھا

  13. Ayah 13

    وَحَمَلْنَاهُ عَلَىٰ ذَاتِ أَلْوَاحٍ وَدُسُرٍ

    اور نوحؑ کو ہم نے ایک تختوں اور کیلوں والی پر سوار کر دیا

  14. Ayah 14

    تَجْرِي بِأَعْيُنِنَا جَزَاءً لِّمَن كَانَ كُفِرَ

    جو ہماری نگرانی میں چل رہی تھی یہ تھا بدلہ اُس شخص کی خاطر جس کی نا قدری کی گئی تھی

  15. Ayah 15

    وَلَقَد تَّرَكْنَاهَا آيَةً فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ

    اُس کشتی کو ہم نے ایک نشانی بنا کر چھوڑ دیا، پھر کوئی ہے نصیحت قبول کرنے والا؟

  16. Ayah 16

    فَكَيْفَ كَانَ عَذَابِي وَنُذُرِ

    دیکھ لو، کیسا تھا میرا عذاب اور کیسی تھیں میری تنبیہات

  17. Ayah 17

    وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ

    ہم نے اِس قرآن کو نصیحت کے لیے آسان ذریعہ بنا دیا ہے، پھر کیا ہے کوئی نصیحت قبول کرنے والا؟

  18. Ayah 18

    كَذَّبَتْ عَادٌ فَكَيْفَ كَانَ عَذَابِي وَنُذُرِ

    عاد نے جھٹلایا، تو دیکھ لو کہ کیسا تھا میرا عذاب اور کیسی تھیں میری تنبیہات

  19. Ayah 19

    إِنَّا أَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ رِيحًا صَرْصَرًا فِي يَوْمِ نَحْسٍ مُّسْتَمِرٍّ

    ہم نے ایک پیہم نحوست کے دن سخت طوفانی ہوا اُن پر بھیج دی جو لوگوں کو اٹھا اٹھا کر اس طرح پھینک رہی تھی

  20. Ayah 20

    تَنزِعُ النَّاسَ كَأَنَّهُمْ أَعْجَازُ نَخْلٍ مُّنقَعِرٍ

    جیسے وہ جڑ سے اکھڑے ہوئے کھجور کے تنے ہوں

  21. Ayah 21

    فَكَيْفَ كَانَ عَذَابِي وَنُذُرِ

    پس دیکھ لو کہ کیسا تھا میرا عذاب اور کیسی تھیں میری تنبیہات

  22. Ayah 22

    وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ

    ہم نے اِس قرآن کو نصیحت کے لیے آسان ذریعہ بنا دیا ہے، پھر کیا ہے کوئی نصیحت قبول کرنے والا؟

  23. Ayah 23

    كَذَّبَتْ ثَمُودُ بِالنُّذُرِ

    ثمود نے تنبیہات کو جھٹلایا

  24. Ayah 24

    فَقَالُوا أَبَشَرًا مِّنَّا وَاحِدًا نَّتَّبِعُهُ إِنَّا إِذًا لَّفِي ضَلَالٍ وَسُعُرٍ

    اور کہنے لگے "ایک اکیلا آدمی جو ہم ہی میں سے ہے کیا اب ہم اُس کے پیچھے چلیں؟ اِس کا اتباع ہم قبول کر لیں تو اِس کے معنی یہ ہوں گے کہ ہم بہک گئے ہیں اور ہماری عقل ماری گئی ہے

  25. Ayah 25

    أَأُلْقِيَ الذِّكْرُ عَلَيْهِ مِن بَيْنِنَا بَلْ هُوَ كَذَّابٌ أَشِرٌ

    کیا ہمارے درمیان بس یہی ایک شخص تھا جس پر خدا کا ذکر نازل کیا گیا؟ نہیں، بلکہ یہ پرلے درجے کا جھوٹا اور بر خود غلط ہے"

  26. Ayah 26

    سَيَعْلَمُونَ غَدًا مَّنِ الْكَذَّابُ الْأَشِرُ

    (ہم نے اپنے پیغمبر سے کہا) "کل ہی اِنہیں معلوم ہوا جاتا ہے کہ کون پرلے درجے کا جھوٹا اور بر خود غلط ہے

  27. Ayah 27

    إِنَّا مُرْسِلُو النَّاقَةِ فِتْنَةً لَّهُمْ فَارْتَقِبْهُمْ وَاصْطَبِرْ

    ہم اونٹنی کو اِن کے لیے فتنہ بنا کر بھیج رہے ہیں اب ذرا صبر کے ساتھ دیکھ کہ اِن کا کیا انجام ہوتا ہے

  28. Ayah 28

    وَنَبِّئْهُمْ أَنَّ الْمَاءَ قِسْمَةٌ بَيْنَهُمْ ۖ كُلُّ شِرْبٍ مُّحْتَضَرٌ

    اِن کو جتا دے کہ پانی اِن کے اور اونٹنی کے درمیان تقسیم ہوگا اور ہر ایک اپنی باری کے دن پانی پر آئے گا"

  29. Ayah 29

    فَنَادَوْا صَاحِبَهُمْ فَتَعَاطَىٰ فَعَقَرَ

    آخر کار اُن لوگوں نے اپنے آدمی کو پکارا اور اُس نے اِس کام کا بیڑا اٹھایا اور اونٹنی کو مار ڈالا

  30. Ayah 30

    فَكَيْفَ كَانَ عَذَابِي وَنُذُرِ

    پھر دیکھ لو کہ کیسا تھا میرا عذاب اور کیسی تھیں میری تنبیہات

  31. Ayah 31

    إِنَّا أَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ صَيْحَةً وَاحِدَةً فَكَانُوا كَهَشِيمِ الْمُحْتَظِرِ

    ہم نے اُن پر بس ایک ہی دھماکا چھوڑا اور وہ باڑے والے کی روندی ہوئی باڑھ کی طرح بھس ہو کر رہ گئے

  32. Ayah 32

    وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ

    ہم نے اِس قرآن کو نصیحت کے لیے آسان ذریعہ بنا دیا ہے، اب ہے کوئی نصیحت قبول کرنے والا؟

  33. Ayah 33

    كَذَّبَتْ قَوْمُ لُوطٍ بِالنُّذُرِ

    لوطؑ کی قوم نے تنبیہات کو جھٹلایا

  34. Ayah 34

    إِنَّا أَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ حَاصِبًا إِلَّا آلَ لُوطٍ ۖ نَّجَّيْنَاهُم بِسَحَرٍ

    اور ہم نے پتھراؤ کرنے والی ہوا اس پر بھیج دی صرف لوطؑ کے گھر والے اُس سے محفوظ رہے

  35. Ayah 35

    نِّعْمَةً مِّنْ عِندِنَا ۚ كَذَٰلِكَ نَجْزِي مَن شَكَرَ

    اُن کو ہم نے اپنے فضل سے رات کے پچھلے پہر بچا کر نکال دیا یہ جزا دیتے ہیں ہم ہر اُس شخص کو جو شکر گزار ہوتا ہے

  36. Ayah 36

    وَلَقَدْ أَنذَرَهُم بَطْشَتَنَا فَتَمَارَوْا بِالنُّذُرِ

    لوطؑ نے اپنی قوم کے لوگوں کو ہماری پکڑ سے خبردار کیا مگر وہ ساری تنبیہات کو مشکوک سمجھ کر باتوں میں اڑاتے رہے

  37. Ayah 37

    وَلَقَدْ رَاوَدُوهُ عَن ضَيْفِهِ فَطَمَسْنَا أَعْيُنَهُمْ فَذُوقُوا عَذَابِي وَنُذُرِ

    پھر انہوں نے اُسے اپنے مہمانوں کی حفاظت سے باز رکھنے کی کوشش کی آخر کار ہم نے اُن کی آنکھیں موند دیں کہ چکھو اب میرے عذاب اور میری تنبیہات کا مزا

  38. Ayah 38

    وَلَقَدْ صَبَّحَهُم بُكْرَةً عَذَابٌ مُّسْتَقِرٌّ

    صبح سویرے ہی ایک اٹل عذاب نے ان کو آ لیا

  39. Ayah 39

    فَذُوقُوا عَذَابِي وَنُذُرِ

    چکھو مزا اب میرے عذاب کا اور میری تنبیہات کا

  40. Ayah 40

    وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ

    ہم نے اِس قرآن کو نصیحت کے لیے آسان ذریعہ بنا دیا ہے، پس ہے کوئی نصیحت قبول کرنے والا؟

  41. Ayah 41

    وَلَقَدْ جَاءَ آلَ فِرْعَوْنَ النُّذُرُ

    اور آل فرعون کے پاس بھی تنبیہات آئی تھیں

  42. Ayah 42

    كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا كُلِّهَا فَأَخَذْنَاهُمْ أَخْذَ عَزِيزٍ مُّقْتَدِرٍ

    مگر انہوں نے ہماری ساری نشانیوں کو جھٹلا دیا آخر کو ہم نے انہیں پکڑا جس طرح کوئی زبردست قدرت والا پکڑتا ہے

  43. Ayah 43

    أَكُفَّارُكُمْ خَيْرٌ مِّنْ أُولَـٰئِكُمْ أَمْ لَكُم بَرَاءَةٌ فِي الزُّبُرِ

    کیا تمہارے کفار کچھ اُن لوگوں سے بہتر ہیں؟ یا آسمانی کتابوں میں تمہارے لیے کوئی معافی لکھی ہوئی ہے؟

  44. Ayah 44

    أَمْ يَقُولُونَ نَحْنُ جَمِيعٌ مُّنتَصِرٌ

    یا اِن لوگوں کا کہنا یہ ہے کہ ہم ایک مضبوط جتھا ہیں، اپنا بچاؤ کر لیں گے؟

  45. Ayah 45

    سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ

    عنقریب یہ جتھا شکست کھا جائے گا اور یہ سب پیٹھ پھیر کر بھاگتے نظر آئیں گے

  46. Ayah 46

    بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ وَالسَّاعَةُ أَدْهَىٰ وَأَمَرُّ

    بلکہ اِن سے نمٹنے کے لیے اصل وعدے کا وقت تو قیامت ہے اور وہ بڑی آفت اور زیادہ تلخ ساعت ہے

  47. Ayah 47

    إِنَّ الْمُجْرِمِينَ فِي ضَلَالٍ وَسُعُرٍ

    یہ مجرم لوگ در حقیقت غلط فہمی میں میں مبتلا ہیں اور اِن کی عقل ماری گئی ہے

  48. Ayah 48

    يَوْمَ يُسْحَبُونَ فِي النَّارِ عَلَىٰ وُجُوهِهِمْ ذُوقُوا مَسَّ سَقَرَ

    جس روز یہ منہ کے بل آگ میں گھسیٹے جائیں گے اُس روز اِن سے کہا جائے گا کہ اب چکھو جہنم کی لپٹ کا مزا

  49. Ayah 49

    إِنَّا كُلَّ شَيْءٍ خَلَقْنَاهُ بِقَدَرٍ

    ہم نے ہر چیز ایک تقدیر کے ساتھ پیدا کی ہے

  50. Ayah 50

    وَمَا أَمْرُنَا إِلَّا وَاحِدَةٌ كَلَمْحٍ بِالْبَصَرِ

    اور ہمارا حکم بس ایک ہی حکم ہوتا ہے اور پلک جھپکاتے وہ عمل میں آ جاتا ہے

  51. Ayah 51

    وَلَقَدْ أَهْلَكْنَا أَشْيَاعَكُمْ فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ

    تم جیسے بہت سوں کو ہم ہلاک کر چکے ہیں، پھر ہے کوئی نصیحت قبول کرنے والا؟

  52. Ayah 52

    وَكُلُّ شَيْءٍ فَعَلُوهُ فِي الزُّبُرِ

    جو کچھ اِنہوں نے کیا ہے وہ سب دفتروں میں درج ہے

  53. Ayah 53

    وَكُلُّ صَغِيرٍ وَكَبِيرٍ مُّسْتَطَرٌ

    اور ہر چھوٹی بڑی بات لکھی ہوئی موجود ہے

  54. Ayah 54

    إِنَّ الْمُتَّقِينَ فِي جَنَّاتٍ وَنَهَرٍ

    نافرمانی سے پرہیز کرنے والے یقیناً باغوں اور نہروں میں ہوں گے

  55. Ayah 55

    فِي مَقْعَدِ صِدْقٍ عِندَ مَلِيكٍ مُّقْتَدِرٍ

    سچی عزت کی جگہ، بڑے ذی اقتدار بادشاہ کے قریب

About the Quran

The Quran

The Quran is the holy scripture of Islam. Muslims believe that it is the literal word of Allah (سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى), revealed to the Prophet Muhammad (صلى الله عليه وسلم) over a period of 23 years. The Quran is composed of 114 Surahs (chapters) and contains 6,236 Ayat (verses). Muslim beliefs and practices are based on the Quran and the Sunnah, the teachings and example of the Prophet Muhammad (صلى الله عليه وسلم).

The Kaaba in Mecca
A mosque in South America

Meccan Surahs

The Meccan Surahs are the earliest revelations sent down to the Prophet Muhammad (صلى الله عليه وسلم). They were revealed in Mecca, hence their name. These revelations form the foundation of the Islamic faith and contain guidance for Muslims on how to live their lives. The Meccan Surahs are also notable for their poetic beauty and lyrical prose.

Medinan Surahs

The Medinan Surahs are the later Surahs that, according to Islamic tradition, were revealed in Medina after the Prophet Muhammad's (صلى الله عليه وسلم) hijra from Mecca. They were revealed by Allah (سبحانه و تعالى) when the Muslim community was larger and more developed, as opposed to their minority position in Mecca.

Stay connected

Receive regular updates

New features, translations and reminders from AskTheQuran, straight to your inbox.

We use Mailchimp to send updates. You can unsubscribe at any time. See our privacy policy.

We may receive a commission if you click on a link and buy a product, service or similar, at no extra cost to you. Details are in the disclosure policy.