Menu

Surah An-Najm

ستارہ

Chapter 53 of 114

خوبصورت تلاوت قرآن

Surah An-Najm

Recited by Salaah Bukhaatir

Overview

About this Surah

At a glance

Surah 53 of 114

Translation
Urdu
Recitation
Salaah Bukhaatir

Ask the AI about this Surah

Commentary

Tafsir

<h2>نام :</h2>
<p> </p> پہلے ہی لفظ <span class="ar indopak">وَالَّیْل</span><p> کو اس سُورہ کا نام قرار دیا گیا ہے۔</p>
<h2>زمانۂ نزول :</h2>
<p>
  </p>اس کا مضمون سورۂ شمس سے اِس قدر مشابہ ہے کہ یہ دونوں سورتیں ایک دوسرے کی تفسیر محسوس ہوتی ہیں ۔ ایک ہی بات ہے جسے سورۂ شمس میں ایک طریقہ سے سمجھایا گیا ہے اور اِس سورہ میں دوسرے طریقے سے ۔ اِس سے اندازہ ہوتاہے کہ یہ دونوں قریب قریب ایک ہی زمانے میں نازل ہو ئی ہیں۔
<h2>موضوع اور مضمون:</h2>
<p>
 </p>اِس کا موضوع زندگی کے دو مختلف راستوں کا فرق اور ان کے انجام اور نتائج کا اختلاف بیان کرنا ہے ۔ مضمون کے لحاظ سے یہ سورۃ دو حصّوں پر مشتمل ہے۔ پہلا حصّہ آغاز سے آیت ۱۱ تک ہے ، اور دوسرا حصّہ آیت ۱۲ سے آخر تک۔
<p>
پہلے حصّہ میں سب سے پہلے یہ بتایا گیا ہے کہ نوع انسانی کے افراد ، اقوام اور گروہ دنیا میں جو سعی و عمل بھی کر رہے
ہیں ، وہ لازمًا اپنی اخلاقی نوعیت کے لحاظ سے اُسی طرح مختلف ہیں جس طرح دن رات سے اور نر مادہ سے مختلف ہے۔ اِس کے بعد
قرآن کی مختصر سورتوں کے عام انداز بیان کے مطابق تین اخلاقی خصوصیات ایک نوعیت کی، اور تین اخلاقی خصوصیات دوسری نوعیت
کی سعی و عمل کے ایک وسیع مجموعے میں سے لے کر بطور نمونہ پیش کی گئی ہیں جنہیں سن کر ہر شخص بڑی آسانی  کے ساتھ یہ
اندازہ لگا سکتا ہے کہ ایک قسم کی خصوصیات کس طرزِ زندگی کی نمائندگی کرتی ہیں اور دوسری قسم کی خصوصیات اُس کے بر عکس
کس دوسرے طرزِ زندگی کی علامات ہیں۔ یہ دونوں نمونے ایسے چھوٹے چھوٹے خوبصورت جچے تُلے فقروں میں بیان کیے گئے ہیں کہ
سنتے ہی آدمی کے دل میں اتر جائیں اور زبان پر چڑھ جائیں۔پہلی قسم کی خصوصیات یہ ہیں کہ آدمی مال دے ، خدا ترسی و پرہیز
گاری اختیار کرے اور بھلائی کو بھلائی مانے۔ دوسری قسم کی خصوصیات یہ ہیں کہ وہ بخل کرے، خدا کی رضا اور ناراضی کی فکر
سے بے پروا ہو جائے اور بھلی بات کو جھُٹلا دے۔ پھر بتایا گیا کہ یہ دو طرزِ عمل جو صریحًا ایک دوسرے سے مختلف ہیں، اپنے
نتائج کے اعتبار سے ہر گز یکساں نہیں ہیں، بلکہ جس قدر یہ اپنی نوعیت میں متضاد ہیں اسی قدر اِن کے نتائج بھی متضاد ہیں۔
پہلے طرزِ عمل کو جو شخص یا گروہ اختیار کرے گا اللہ تعالیٰ اس کے لیے زندگی کے صاف اور سیدھے راستے کو سہل کر دے گا
یہاں تک کہ اس کے لیے نیکی کرنا آسان اور بدی کرنا مشکل ہو جائے گا ۔ اور دوسرے طرزِ عمل کو جو بھی اختیار کرے گا اللہ
تعالیٰ اس کے لیے زندگی کے بِکَٹ اور سخت راستے کو سہل کر دے گا یہاں تک کہ اس کے لیے بد آسان اور نیکی مشکل ہو جائے گی۔
اِس بیان کو ایک نہایت مؤثر اور تیر کی طرح دل میں پیوست ہو جانے والے جملے پر ختم کیا گیا ہے کہ دنیا کا یہ مال جس کے
پیچھے آدمی جان دیے دیتا ہے ، آخر قبر میں تو اُس کے ساتھ جانے والا نہیں ہے ، مرنے کے بعد یہ اُس کے کس کام آئے گا؟</p>
دوسرے حصّے میں بھی اِسی اختصار کے ساتھ تین حقیقتیں بیان کی گئی ہیں ۔ ایک یہ کہ اللہ نے  دنیا کی اِس امتحان گاہ میں انسان کو بے خبر نہیں چھوڑا ہے بلکہ اُس نے یہ بتا دینا اپنے ذمّہ لیا ہے کہ زندگی کے مختلف راستوں میں سے سیدھا راستہ کو ن سا ہے ۔ اس کے ساتھ یہ کہنے کی ضرورت نہ تھی کہ اپنا رسول اور اپنی کتاب بھیج کر اُس نے اپنی یہ ذمہ داری ادا کردی ہے ، کیونکہ رسول ؐ اور قرآن، دونوں ہدایت دینے کے لیے سب کے سامنے موجود تھے۔ دوسری حقیقت یہ بیان کی گئی ہے کہ دنیا اور آخرت دونوں کا مالک اللہ ہی ہے۔ دنیا مانگو گے تو بھی اسی سے ملے گی اور آخرت مانگو گے تو اس کا دینے والا بھی وہی ہے۔ یہ فیصلہ کرنا تمہارا  اپنا کام ہے کہ تم اُس سے کیا مانگتے ہو۔ تیسری حقیقت یہ بیان کی گئی ہے کہ جو بدبخت اُس بھلائی کو جُھٹلائے گا جسے رسول اور کتاب کے ذریعہ سے پیش کیا جا رہا ہے ، اور اُس سے منہ پھیرے گا اُس کے لیے بھڑکتی ہوئی آگ تیار ہے۔ اور جو خدا ترس آدمی پوری بے غرضی کے ساتھ محض اپنے ربّ کی رضا جوئی کی خاطر اپنا مال راہِ خیر میں صرف کرے گا اُس کا ربّ اُس سے راضی ہو گا اور اسے اتنا کچھ دے گا کہ وہ خوش ہو جائے گا۔

Verse by verse

Surah An-Najm · ستارہ

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

  1. Ayah 1

    بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ وَالنَّجْمِ إِذَا هَوَىٰ

    قسم ہے تارے کی جبکہ وہ غروب ہوا

  2. Ayah 2

    مَا ضَلَّ صَاحِبُكُمْ وَمَا غَوَىٰ

    تمہارا رفیق نہ بھٹکا ہے نہ بہکا ہے

  3. Ayah 3

    وَمَا يَنطِقُ عَنِ الْهَوَىٰ

    وہ اپنی خواہش نفس سے نہیں بولتا

  4. Ayah 4

    إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَىٰ

    یہ تو ایک وحی ہے جو اُس پر نازل کی جاتی ہے

  5. Ayah 5

    عَلَّمَهُ شَدِيدُ الْقُوَىٰ

    اُسے زبردست قوت والے نے تعلیم دی ہے

  6. Ayah 6

    ذُو مِرَّةٍ فَاسْتَوَىٰ

    جو بڑا صاحب حکمت ہے

  7. Ayah 7

    وَهُوَ بِالْأُفُقِ الْأَعْلَىٰ

    وہ سامنے آ کھڑا ہوا جبکہ وہ بالائی افق پر تھا

  8. Ayah 8

    ثُمَّ دَنَا فَتَدَلَّىٰ

    پھر قریب آیا اور اوپر معلق ہو گیا

  9. Ayah 9

    فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَىٰ

    یہاں تک کہ دو کمانوں کے برابر یا اس سے کچھ کم فاصلہ رہ گیا

  10. Ayah 10

    فَأَوْحَىٰ إِلَىٰ عَبْدِهِ مَا أَوْحَىٰ

    تب اُس نے اللہ کے بندے کو وحی پہنچائی جو وحی بھی اُسے پہنچانی تھی

  11. Ayah 11

    مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَىٰ

    نظر نے جو کچھ دیکھا، دل نے اُس میں جھوٹ نہ ملایا

  12. Ayah 12

    أَفَتُمَارُونَهُ عَلَىٰ مَا يَرَىٰ

    اب کیا تم اُس چیز پر اُس سے جھگڑتے ہو جسے وہ آنکھوں سے دیکھتا ہے؟

  13. Ayah 13

    وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَىٰ

    اور ایک مرتبہ پھر اُس نے

  14. Ayah 14

    عِندَ سِدْرَةِ الْمُنتَهَىٰ

    سدرۃالمنتہیٰ کے پاس اُس کو دیکھا

  15. Ayah 15

    عِندَهَا جَنَّةُ الْمَأْوَىٰ

    جہاں پاس ہی جنت الماویٰ ہے

  16. Ayah 16

    إِذْ يَغْشَى السِّدْرَةَ مَا يَغْشَىٰ

    اُس وقت سدرہ پر چھا رہا تھا جو کچھ کہ چھا رہا تھا

  17. Ayah 17

    مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغَىٰ

    نگاہ نہ چوندھیائی نہ حد سے متجاوز ہوئی

  18. Ayah 18

    لَقَدْ رَأَىٰ مِنْ آيَاتِ رَبِّهِ الْكُبْرَىٰ

    اور اس نے اپنے رب کی بڑی بڑی نشانیاں دیکھیں

  19. Ayah 19

    أَفَرَأَيْتُمُ اللَّاتَ وَالْعُزَّىٰ

    اب ذرا بتاؤ، تم نے کبھی اِس لات، اور اِس عزیٰ

  20. Ayah 20

    وَمَنَاةَ الثَّالِثَةَ الْأُخْرَىٰ

    اور تیسری ایک اور دیوی منات کی حقیقت پر کچھ غور بھی کیا؟

  21. Ayah 21

    أَلَكُمُ الذَّكَرُ وَلَهُ الْأُنثَىٰ

    کیا بیٹے تمہارے لیے ہیں اور بیٹیاں خدا کے لیے؟

  22. Ayah 22

    تِلْكَ إِذًا قِسْمَةٌ ضِيزَىٰ

    یہ تو بڑی دھاندلی کی تقسیم ہوئی!

  23. Ayah 23

    إِنْ هِيَ إِلَّا أَسْمَاءٌ سَمَّيْتُمُوهَا أَنتُمْ وَآبَاؤُكُم مَّا أَنزَلَ اللَّهُ بِهَا مِن سُلْطَانٍ ۚ إِن يَتَّبِعُونَ إِلَّا الظَّنَّ وَمَا تَهْوَى الْأَنفُسُ ۖ وَلَقَدْ جَاءَهُم مِّن رَّبِّهِمُ الْهُدَىٰ

    دراصل یہ کچھ نہیں ہیں مگر بس چند نام جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے رکھ لیے ہیں اللہ نے اِن کے لیے کوئی سند نازل نہیں کی حقیقت یہ ہے کہ لوگ محض وہم و گمان کی پیروی کر رہے ہیں اور خواہشات نفس کے مرید بنے ہوئے ہیں حالانکہ اُن کے رب کی طرف سے اُن کے پاس ہدایت آ چکی ہے

  24. Ayah 24

    أَمْ لِلْإِنسَانِ مَا تَمَنَّىٰ

    کیا انسان جو کچھ چاہے اس کے لیے وحی حق ہے

  25. Ayah 25

    فَلِلَّهِ الْآخِرَةُ وَالْأُولَىٰ

    دنیا اور آخرت کا مالک تو اللہ ہی ہے

  26. Ayah 26

    وَكَم مِّن مَّلَكٍ فِي السَّمَاوَاتِ لَا تُغْنِي شَفَاعَتُهُمْ شَيْئًا إِلَّا مِن بَعْدِ أَن يَأْذَنَ اللَّهُ لِمَن يَشَاءُ وَيَرْضَىٰ

    آسمانوں میں کتنے ہی فرشتے موجود ہیں، اُن کی شفاعت کچھ بھی کام نہیں آ سکتی جب تک کہ اللہ کسی ایسے شخص کے حق میں اُس کی اجازت نہ دے جس کے لیے وہ کوئی عرضداشت سننا چاہے اور اس کو پسند کرے

  27. Ayah 27

    إِنَّ الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ لَيُسَمُّونَ الْمَلَائِكَةَ تَسْمِيَةَ الْأُنثَىٰ

    مگر جو لوگ آخرت کو نہیں مانتے وہ فرشتوں کو دیویوں کے ناموں سے موسوم کرتے ہیں

  28. Ayah 28

    وَمَا لَهُم بِهِ مِنْ عِلْمٍ ۖ إِن يَتَّبِعُونَ إِلَّا الظَّنَّ ۖ وَإِنَّ الظَّنَّ لَا يُغْنِي مِنَ الْحَقِّ شَيْئًا

    حالانکہ اس معاملہ کا کوئی علم انہیں حاصل نہیں ہے، وہ محض گمان کی پیروی کر رہے ہیں، اور گمان حق کی جگہ کچھ بھی کام نہیں دے سکتا

  29. Ayah 29

    فَأَعْرِضْ عَن مَّن تَوَلَّىٰ عَن ذِكْرِنَا وَلَمْ يُرِدْ إِلَّا الْحَيَاةَ الدُّنْيَا

    پس اے نبیؐ، جو شخص ہمارے ذکر سے منہ پھیرتا ہے، اور دنیا کی زندگی کے سوا جسے کچھ مطلوب نہیں ہے، اُسے اس کے حال پر چھوڑ دو

  30. Ayah 30

    ذَٰلِكَ مَبْلَغُهُم مِّنَ الْعِلْمِ ۚ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعْلَمُ بِمَن ضَلَّ عَن سَبِيلِهِ وَهُوَ أَعْلَمُ بِمَنِ اهْتَدَىٰ

    اِن لوگوں کا مبلغ علم بس یہی کچھ ہے، یہ بات تیرا رب ہی زیادہ جانتا ہے کہ اُس کے راستے سے کون بھٹک گیا ہے اور کون سیدھے راستے پر ہے

  31. Ayah 31

    وَلِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ لِيَجْزِيَ الَّذِينَ أَسَاءُوا بِمَا عَمِلُوا وَيَجْزِيَ الَّذِينَ أَحْسَنُوا بِالْحُسْنَى

    اور زمین اور آسمانوں کی ہر چیز کا مالک اللہ ہی ہے تاکہ اللہ برائی کرنے والوں کو ان کے عمل کا بدلہ دے اور اُن لوگوں کو اچھی جزا سے نوازے جنہوں نے نیک رویہ اختیار کیا ہے

  32. Ayah 32

    الَّذِينَ يَجْتَنِبُونَ كَبَائِرَ الْإِثْمِ وَالْفَوَاحِشَ إِلَّا اللَّمَمَ ۚ إِنَّ رَبَّكَ وَاسِعُ الْمَغْفِرَةِ ۚ هُوَ أَعْلَمُ بِكُمْ إِذْ أَنشَأَكُم مِّنَ الْأَرْضِ وَإِذْ أَنتُمْ أَجِنَّةٌ فِي بُطُونِ أُمَّهَاتِكُمْ ۖ فَلَا تُزَكُّوا أَنفُسَكُمْ ۖ هُوَ أَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقَىٰ

    جو بڑے بڑے گناہوں اور کھلے کھلے قبیح افعال سے پرہیز کرتے ہیں، الا یہ کہ کچھ قصور اُن سے سرزد ہو جائے بلاشبہ تیرے رب کا دامن مغفرت بہت وسیع ہے وہ تمھیں اُس وقت سے خوب جانتا ہے جب اُس نے زمین سے تمہیں پیدا کیا اور جب تم اپنی ماؤں کے پیٹوں میں ابھی جنین ہی تھے پس اپنے نفس کی پاکی کے دعوے نہ کرو، وہی بہتر جانتا ہے کہ واقعی متقی کون ہے

  33. Ayah 33

    أَفَرَأَيْتَ الَّذِي تَوَلَّىٰ

    پھر اے نبیؐ، تم نے اُس شخص کو بھی دیکھا جو راہ خدا سے پھر گیا

  34. Ayah 34

    وَأَعْطَىٰ قَلِيلًا وَأَكْدَىٰ

    اور تھوڑا سا دے کر رک گیا

  35. Ayah 35

    أَعِندَهُ عِلْمُ الْغَيْبِ فَهُوَ يَرَىٰ

    کیا اس کے پاس غیب کا علم ہے کہ وہ حقیقت کو دیکھ رہا ہے؟

  36. Ayah 36

    أَمْ لَمْ يُنَبَّأْ بِمَا فِي صُحُفِ مُوسَىٰ

    کیا اُسے اُن باتوں کی کوئی خبر نہیں پہنچی جو موسیٰؑ کے صحیفوں

  37. Ayah 37

    وَإِبْرَاهِيمَ الَّذِي وَفَّىٰ

    اور اُس ابراہیمؑ کے صحیفوں میں بیان ہوئی ہیں جس نے وفا کا حق ادا کر دیا؟

  38. Ayah 38

    أَلَّا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَىٰ

    "یہ کہ کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا

  39. Ayah 39

    وَأَن لَّيْسَ لِلْإِنسَانِ إِلَّا مَا سَعَىٰ

    اور یہ کہ انسان کے لیے کچھ نہیں ہے مگر وہ جس کی اُس نے سعی کی ہے

  40. Ayah 40

    وَأَنَّ سَعْيَهُ سَوْفَ يُرَىٰ

    اور یہ کہ اس کی سعی عنقریب دیکھی جائے گی

  41. Ayah 41

    ثُمَّ يُجْزَاهُ الْجَزَاءَ الْأَوْفَىٰ

    اور اس کی پوری جزا اسے دی جائے گی

  42. Ayah 42

    وَأَنَّ إِلَىٰ رَبِّكَ الْمُنتَهَىٰ

    اور یہ کہ آخر کار پہنچنا تیرے رب ہی کے پاس ہے

  43. Ayah 43

    وَأَنَّهُ هُوَ أَضْحَكَ وَأَبْكَىٰ

    اور یہ کہ اُسی نے ہنسایا اور اُسی نے رلایا

  44. Ayah 44

    وَأَنَّهُ هُوَ أَمَاتَ وَأَحْيَا

    اور یہ کہ اُسی نے موت دی اور اُسی نے زندگی بخشی

  45. Ayah 45

    وَأَنَّهُ خَلَقَ الزَّوْجَيْنِ الذَّكَرَ وَالْأُنثَىٰ

    اور یہ کہ اُسی نے نر اور مادہ کا جوڑا پیدا کیا

  46. Ayah 46

    مِن نُّطْفَةٍ إِذَا تُمْنَىٰ

    ایک بوند سے جب وہ ٹپکائی جاتی ہے

  47. Ayah 47

    وَأَنَّ عَلَيْهِ النَّشْأَةَ الْأُخْرَىٰ

    اور یہ کہ دوسری زندگی بخشنا بھی اُسی کے ذمہ ہے

  48. Ayah 48

    وَأَنَّهُ هُوَ أَغْنَىٰ وَأَقْنَىٰ

    اور یہ کہ اُسی نے غنی کیا اور جائداد بخشی

  49. Ayah 49

    وَأَنَّهُ هُوَ رَبُّ الشِّعْرَىٰ

    اور یہ کہ وہی شعریٰ کا رب ہے

  50. Ayah 50

    وَأَنَّهُ أَهْلَكَ عَادًا الْأُولَىٰ

    اور یہ کہ اُسی نے عاد اولیٰ کو ہلاک کیا

  51. Ayah 51

    وَثَمُودَ فَمَا أَبْقَىٰ

    اور ثمود کو ایسا مٹایا کہ ان میں سے کسی کو باقی نہ چھوڑا

  52. Ayah 52

    وَقَوْمَ نُوحٍ مِّن قَبْلُ ۖ إِنَّهُمْ كَانُوا هُمْ أَظْلَمَ وَأَطْغَىٰ

    اور اُن سے پہلے قوم نوحؑ کو تباہ کیا کیونکہ وہ تھے ہی سخت ظالم و سرکش لوگ

  53. Ayah 53

    وَالْمُؤْتَفِكَةَ أَهْوَىٰ

    اور اوندھی گرنے والی بستیوں کو اٹھا پھینکا

  54. Ayah 54

    فَغَشَّاهَا مَا غَشَّىٰ

    پھر چھا دیا اُن پر وہ کچھ جو (تم جانتے ہی ہو کہ) کیا چھا دیا

  55. Ayah 55

    فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكَ تَتَمَارَىٰ

    پس اے مخاطب، اپنے رب کی کن کن نعمتوں میں تو شک کرے گا؟"

  56. Ayah 56

    هَـٰذَا نَذِيرٌ مِّنَ النُّذُرِ الْأُولَىٰ

    یہ ایک تنبیہ ہے پہلے آئی ہوئی تنبیہات میں سے

  57. Ayah 57

    أَزِفَتِ الْآزِفَةُ

    آنے والی گھڑی قریب آ لگی ہے

  58. Ayah 58

    لَيْسَ لَهَا مِن دُونِ اللَّهِ كَاشِفَةٌ

    اللہ کے سوا کوئی اُس کو ہٹا نے والا نہیں

  59. Ayah 59

    أَفَمِنْ هَـٰذَا الْحَدِيثِ تَعْجَبُونَ

    اب کیا یہی وہ باتیں ہیں جن پر تم اظہار تعجب کرتے ہو؟

  60. Ayah 60

    وَتَضْحَكُونَ وَلَا تَبْكُونَ

    ہنستے ہو اور روتے نہیں ہو؟

  61. Ayah 61

    وَأَنتُمْ سَامِدُونَ

    اور گا بجا کر انہیں ٹالتے ہو؟

  62. Ayah 62

    فَاسْجُدُوا لِلَّهِ وَاعْبُدُوا ۩

    جھک جاؤ اللہ کے آگے اور بندگی بجا لاؤ

About the Quran

The Quran

The Quran is the holy scripture of Islam. Muslims believe that it is the literal word of Allah (سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى), revealed to the Prophet Muhammad (صلى الله عليه وسلم) over a period of 23 years. The Quran is composed of 114 Surahs (chapters) and contains 6,236 Ayat (verses). Muslim beliefs and practices are based on the Quran and the Sunnah, the teachings and example of the Prophet Muhammad (صلى الله عليه وسلم).

The Kaaba in Mecca
A mosque in South America

Meccan Surahs

The Meccan Surahs are the earliest revelations sent down to the Prophet Muhammad (صلى الله عليه وسلم). They were revealed in Mecca, hence their name. These revelations form the foundation of the Islamic faith and contain guidance for Muslims on how to live their lives. The Meccan Surahs are also notable for their poetic beauty and lyrical prose.

Medinan Surahs

The Medinan Surahs are the later Surahs that, according to Islamic tradition, were revealed in Medina after the Prophet Muhammad's (صلى الله عليه وسلم) hijra from Mecca. They were revealed by Allah (سبحانه و تعالى) when the Muslim community was larger and more developed, as opposed to their minority position in Mecca.

Stay connected

Receive regular updates

New features, translations and reminders from AskTheQuran, straight to your inbox.

We use Mailchimp to send updates. You can unsubscribe at any time. See our privacy policy.

We may receive a commission if you click on a link and buy a product, service or similar, at no extra cost to you. Details are in the disclosure policy.