Menu

Surah At-Tur

طور پہاڑ

Chapter 52 of 114

خوبصورت تلاوت قرآن

Surah At-Tur

Recited by Salaah Bukhaatir

Overview

About this Surah

At a glance

Surah 52 of 114

Translation
Urdu
Recitation
Salaah Bukhaatir

Ask the AI about this Surah

Commentary

Tafsir

<h2>نام :</h2>
<p> </p>  پہلے ہی لفظ  <span class="ar indopak">الشمس</span><p>  کو اس کا نام قرار دیا گیا ہے۔</p>
<h2>زمانۂ نزول :</h2>
<p>
  </p>مضمون اور اندازِ بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سورۃ بھی مکہ ٔ معظمہ کے ابتدائی دور میں نازل ہوئی ہے ۔ مگر اس کا نزول اُس زمانے میں ہوا ہے جب مکّہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت خوب زور پکڑ چکی تھی۔
<h2>موضوع اور مضمون:</h2>
<p>
 </p> اِس کا موضوع نیکی اور بدی کا فرق سمجھانا اور اُن لوگوں کو بُرے انجام سے ڈرانا ہے جو اس فرق کو سمجھنے سے انکار اور بدی کی راہ چلنے پر اصرار کرتے ہیں۔
<p>
مضمون کےلحاظ سے یہ سورۃ دو حصّوں پر مشتمل ہے۔ پہلا حصّہ سورۃ کے آغاز سے شروع ہو کر آیت ۱۰ پر ختم ہوتا ہے ، اور دوسرا
حصّہ آیت ۱۱ سے آخر تک چلتا ہے۔ پہلے حصّہ میں تین باتیں سمجھائی گئی ہیں۔ ایک یہ کہ جس طرح سورج اور چاند، دن اور رات،
زمین اور آسمان ایک دوسرے سے مختلف اور اپنے آثار و نتائج میں متضاد ہیں، اسی طرح نیکی اور بدی بھی ایک دوسرے سے مختلف
اور اپنے آثار و نتائج میں متضاد ہیں۔ یہ دونوں نہ اپنی شکل میں یکساں ہیں اور نہ ان کے نتائج یکساں ہو سکتے ہیں۔ دوسرے
یہ کہ اللہ تعالیٰ نے نفسِ  انسانی کو جسم ، حواس اور ذہن کی قوتیں دے کر دنیا میں بالکل بے خبر نہیں چھوڑ دیا ہے بلکہ
ایک فطری الہام  کے ذریعہ سے اُس کے لاشعور میں نیکی اور بدی کا فرق، بھلے اور بُرے کا امتیاز، اور خیر کے خیر اور شر کے
شر ہونے کا احساس اُتار دیا ہے۔ تیسرے یہ کہ انسان کے مستقبل کا انحصار اِس پر ہے کہ اس کے اندر تمیز، ارادے اور فیصلے
کی جو قوتیں اللہ نے رکھ دی ہیں ان کو استعمال کر کے وہ اپنے نفس کے اچھے اور بُرے رُحجانات میں سے کس کو ابھارتا اور کس
کو دباتا ہے۔ اگر وہ اچھے رُحجانات کو ابھارے اور بُرے رُحجانات سے اپنے نفس کو پاک کرے تو فلاح پائے گا۔ اور اس  کے
برعکس اگر وہ نفس کی اچھائی کو دبائے اور بُرائی کو اُبھارے تو نامراد ہو گا۔</p>
دوسرے حصّے میں قومِ ثمود کی تاریخی نظیر  کو پیش کرتے ہوئے رسالت کی اہمیت سمجھائی گئی ہے ۔ رسول  دنیا میں اس لیے بھیجا جاتا ہے کہ بھلائی اور بُرائی کا جو الہامی علم اللہ نے انسان کی فطرت میں رکھ دیا ہے وہ بجائے خود انسان کی ہدایت کے لیے کافی نہیں ہے ، بلکہ اس کو پوری طرح نہ سمجھنے کی وجہ سے ہی انسان خیر و شر کے غلط فلسفے اور معیار تجویز کر کر کے گمراہ ہوتا  رہا ہے۔ اس بنا پر اللہ تعالیٰ نے اُس فطری الہام کی مدد کے لیے انبیاء علیہم السلام پر واضح اور صاف صاف وحی نازل فرمائی تاکہ وہ لوگوں کو کھول کر  بتائیں کہ نیکی کیا ہے اور بدی کیا ہے۔ ایسے ہی ایک نبی حضرت صالح علیہ السلام قومِ ثمود کی طرف بھیجے گئے تھے۔ مگر وہ اپنے نفس کی بُرائی میں غرق ہو کر اتنی سرکش ہو گئی تھی کہ اُس نے اُن کو جھُٹلا دیا، اور اُس کا منہ مانگا معجزہ جب اُنہوں نے ایک اونٹنی کی شکل میں پیش کیا تو اُن کی تنبیہ کے باوجود اُس قوم کے ایک شریر ترین آدمی نے ساری قوم کی خواہش اور طلب کے مطابق اسے بھی قتل کر دیا۔ اِس کا نتیجہ آخر کار یہ ہوا کہ پوری قوم تباہ کر کے رکھ دی گئی۔
<p>
ثمود کا یہ قصہ پیش کرتے ہوئے پوری سورہ میں کہیں یہ نہیں کہا گیا  ہے کہ اے قومِ قریش، اگر تم ثمود کی طرح اپنے نبی
محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلاؤ گے تو وہی انجام دیکھو گے جو ثمود نے دیکھا ہے۔ مکّہ میں اُس وقت حالات وہی موجود
تھے جو صالح علیہ السلام کے مقابلہ میں قومِ ثمود کے اشرار نے پیدا کر رکھے تھے۔ اس لیے اُن حالات میں یہ قصہ سنا دینا
بجائے خود اہلِ مکّہ  کو یہ سمجھا دینے کے لیے کافی تھا کہ ثمود کی یہ تاریخی نظیر اُن پر کس طرح چسپاں ہو رہی ہے۔</p>

Verse by verse

Surah At-Tur · طور پہاڑ

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

  1. Ayah 1

    بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ وَالطُّورِ

    قسم ہے طور کی

  2. Ayah 2

    وَكِتَابٍ مَّسْطُورٍ

    اور ایک ایسی کھلی کتاب کی

  3. Ayah 3

    فِي رَقٍّ مَّنشُورٍ

    جو رقیق جلد میں لکھی ہوئی ہے

  4. Ayah 4

    وَالْبَيْتِ الْمَعْمُورِ

    اور آباد گھر کی

  5. Ayah 5

    وَالسَّقْفِ الْمَرْفُوعِ

    اور اونچی چھت کی

  6. Ayah 6

    وَالْبَحْرِ الْمَسْجُورِ

    اور موجزن سمندر کی

  7. Ayah 7

    إِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ لَوَاقِعٌ

    کہ تیرے رب کا عذاب ضرور واقع ہونے والا ہے

  8. Ayah 8

    مَّا لَهُ مِن دَافِعٍ

    جسے کوئی دفع کرنے والا نہیں

  9. Ayah 9

    يَوْمَ تَمُورُ السَّمَاءُ مَوْرًا

    وہ اُس روز واقع ہوگا جب آسمان بری طرح ڈگمگائے گا

  10. Ayah 10

    وَتَسِيرُ الْجِبَالُ سَيْرًا

    اور پہاڑ اڑے اڑے پھریں گے

  11. Ayah 11

    فَوَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ

    تباہی ہے اُس روز اُن جھٹلانے والوں کے لیے

  12. Ayah 12

    الَّذِينَ هُمْ فِي خَوْضٍ يَلْعَبُونَ

    جو آج کھیل کے طور پر اپنی حجت بازیوں میں لگے ہوئے ہیں

  13. Ayah 13

    يَوْمَ يُدَعُّونَ إِلَىٰ نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّا

    جس دن انہیں دھکے مار مار کر نار جہنم کی طرف لے چلا جائے گا

  14. Ayah 14

    هَـٰذِهِ النَّارُ الَّتِي كُنتُم بِهَا تُكَذِّبُونَ

    اُس وقت اُن سے کہا جائے گا کہ "یہ وہی آگ ہے جسے تم جھٹلایا کرتے تھے

  15. Ayah 15

    أَفَسِحْرٌ هَـٰذَا أَمْ أَنتُمْ لَا تُبْصِرُونَ

    اب بتاؤ یہ جادو ہے یا تمہیں سوجھ نہیں رہا ہے؟

  16. Ayah 16

    اصْلَوْهَا فَاصْبِرُوا أَوْ لَا تَصْبِرُوا سَوَاءٌ عَلَيْكُمْ ۖ إِنَّمَا تُجْزَوْنَ مَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ

    جاؤ اب جھلسو اِس کے اندر، تم خواہ صبر کرو یا نہ کرو، تمہارے لیے یکساں ہے، تمہیں ویسا ہی بدلہ دیا جا رہا ہے جیسے تم عمل کر رہے تھے

  17. Ayah 17

    إِنَّ الْمُتَّقِينَ فِي جَنَّاتٍ وَنَعِيمٍ

    متقی لوگ وہاں باغوں اور نعمتوں میں ہوں گے

  18. Ayah 18

    فَاكِهِينَ بِمَا آتَاهُمْ رَبُّهُمْ وَوَقَاهُمْ رَبُّهُمْ عَذَابَ الْجَحِيمِ

    لطف لے رہے ہوں گے اُن چیزوں سے جو اُن کا رب انہیں دے گا، اور اُن کا رب اُنہیں دوزخ کے عذاب سے بچا لے گا

  19. Ayah 19

    كُلُوا وَاشْرَبُوا هَنِيئًا بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ

    (ان سے کہا جائے گا) کھاؤ اور پیو مزے سے اپنے اُن اعمال کے صلے میں جو تم کرتے رہے ہو

  20. Ayah 20

    مُتَّكِئِينَ عَلَىٰ سُرُرٍ مَّصْفُوفَةٍ ۖ وَزَوَّجْنَاهُم بِحُورٍ عِينٍ

    وہ آمنے سامنے بچھے ہوئے تختوں پر تکیے لگائے بیٹھے ہوں گے اور ہم خوبصورت آنکھوں والی حوریں اُن سے بیاہ دیں گے

  21. Ayah 21

    وَالَّذِينَ آمَنُوا وَاتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّيَّتُهُم بِإِيمَانٍ أَلْحَقْنَا بِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَمَا أَلَتْنَاهُم مِّنْ عَمَلِهِم مِّن شَيْءٍ ۚ كُلُّ امْرِئٍ بِمَا كَسَبَ رَهِينٌ

    جو لوگ ایمان لائے ہیں اور اُن کی اولاد بھی کسی درجہ ایمان میں ان کے نقش قدم پر چلی ہے ان کی اُس اولاد کو بھی ہم (جنت میں) اُن کے ساتھ ملا دیں گے اور اُن کے عمل میں کوئی گھاٹا ان کو نہ دیں گے ہر شخص اپنے کسب کے عوض رہن ہے

  22. Ayah 22

    وَأَمْدَدْنَاهُم بِفَاكِهَةٍ وَلَحْمٍ مِّمَّا يَشْتَهُونَ

    ہم اُن کو ہر طرح کے پھل اور گوشت، جس چیز کو بھی ان کا جی چاہے گا، خوب دیے چلے جائیں گے

  23. Ayah 23

    يَتَنَازَعُونَ فِيهَا كَأْسًا لَّا لَغْوٌ فِيهَا وَلَا تَأْثِيمٌ

    وہاں وہ ایک دوسرے سے جام شراب لپک لپک کر لے رہے ہوں گے جس میں نہ یاوہ گوئی ہوگی نہ بد کرداری

  24. Ayah 24

    وَيَطُوفُ عَلَيْهِمْ غِلْمَانٌ لَّهُمْ كَأَنَّهُمْ لُؤْلُؤٌ مَّكْنُونٌ

    اور اُن کی خدمت میں وہ لڑکے دوڑتے پھر رہے ہوں گے جو انہی کے لیے مخصوص ہوں گے ایسے خوبصورت جیسے چھپا کر رکھے ہوئے موتی

  25. Ayah 25

    وَأَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ يَتَسَاءَلُونَ

    یہ لوگ آپس میں ایک دوسرے سے (دنیا میں گزرے ہوئے) حالات پوچھیں گے

  26. Ayah 26

    قَالُوا إِنَّا كُنَّا قَبْلُ فِي أَهْلِنَا مُشْفِقِينَ

    یہ کہیں گے کہ ہم پہلے اپنے گھر والوں میں ڈرتے ہوئے زندگی بسر کرتے تھے

  27. Ayah 27

    فَمَنَّ اللَّهُ عَلَيْنَا وَوَقَانَا عَذَابَ السَّمُومِ

    آخر کار اللہ نے ہم پر فضل فرمایا اور ہمیں جھلسا دینے والی ہوا کے عذاب سے بچا لیا

  28. Ayah 28

    إِنَّا كُنَّا مِن قَبْلُ نَدْعُوهُ ۖ إِنَّهُ هُوَ الْبَرُّ الرَّحِيمُ

    ہم پچھلی زندگی میں اُسی سے دعائیں مانگتے تھے، وہ واقعی بڑا ہی محسن اور رحیم ہے

  29. Ayah 29

    فَذَكِّرْ فَمَا أَنتَ بِنِعْمَتِ رَبِّكَ بِكَاهِنٍ وَلَا مَجْنُونٍ

    پس اے نبیؐ، تم نصیحت کیے جاؤ، اپنے رب کے فضل سے نہ تم کاہن ہو اور نہ مجنون

  30. Ayah 30

    أَمْ يَقُولُونَ شَاعِرٌ نَّتَرَبَّصُ بِهِ رَيْبَ الْمَنُونِ

    کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ شخص شاعر ہے جس کے حق میں ہم گردش ایام کا انتظار کر رہے ہیں؟

  31. Ayah 31

    قُلْ تَرَبَّصُوا فَإِنِّي مَعَكُم مِّنَ الْمُتَرَبِّصِينَ

    اِن سے کہو اچھا انتظار کرو، میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں

  32. Ayah 32

    أَمْ تَأْمُرُهُمْ أَحْلَامُهُم بِهَـٰذَا ۚ أَمْ هُمْ قَوْمٌ طَاغُونَ

    کیا اِن کی عقلیں اِنہیں ایسی ہی باتیں کرنے کے لیے کہتی ہیں؟ یا در حقیقت یہ عناد میں حد سے گزرے ہوئے لوگ ہیں؟

  33. Ayah 33

    أَمْ يَقُولُونَ تَقَوَّلَهُ ۚ بَل لَّا يُؤْمِنُونَ

    کیا یہ کہتے ہیں کہ اِس شخص نے یہ قرآن خود گھڑ لیا ہے؟ اصل بات یہ ہے کہ یہ ایمان نہیں لانا چاہتے

  34. Ayah 34

    فَلْيَأْتُوا بِحَدِيثٍ مِّثْلِهِ إِن كَانُوا صَادِقِينَ

    اگر یہ اپنے اِس قول میں سچے ہیں تو اِسی شان کا ایک کلام بنا لائیں

  35. Ayah 35

    أَمْ خُلِقُوا مِنْ غَيْرِ شَيْءٍ أَمْ هُمُ الْخَالِقُونَ

    کیا یہ کسی خالق کے بغیر خود پیدا ہو گئے ہیں؟ یا یہ خود اپنے خالق ہیں؟

  36. Ayah 36

    أَمْ خَلَقُوا السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ ۚ بَل لَّا يُوقِنُونَ

    یا زمین اور آسمانوں کو اِنہوں نے پیدا کیا ہے؟ اصل بات یہ ہے کہ یہ یقین نہیں رکھتے

  37. Ayah 37

    أَمْ عِندَهُمْ خَزَائِنُ رَبِّكَ أَمْ هُمُ الْمُصَيْطِرُونَ

    کیا تیرے رب کے خزانے اِن کے قبضے میں ہیں؟ یا اُن پر اِنہی کا حکم چلتا ہے؟

  38. Ayah 38

    أَمْ لَهُمْ سُلَّمٌ يَسْتَمِعُونَ فِيهِ ۖ فَلْيَأْتِ مُسْتَمِعُهُم بِسُلْطَانٍ مُّبِينٍ

    کیا اِن کے پاس کوئی سیڑھی ہے جس پر چڑھ کر یہ عالم بالا کی سن گن لیتے ہیں؟ اِن میں سے جس نے سن گن لی ہو وہ لائے کوئی کھلی دلیل

  39. Ayah 39

    أَمْ لَهُ الْبَنَاتُ وَلَكُمُ الْبَنُونَ

    کیا اللہ کے لیے تو ہیں بیٹیاں اور تم لوگوں کے لیے ہیں بیٹے؟

  40. Ayah 40

    أَمْ تَسْأَلُهُمْ أَجْرًا فَهُم مِّن مَّغْرَمٍ مُّثْقَلُونَ

    کیا تم اِن سے کوئی اجر مانگتے ہو کہ یہ زبردستی پڑی ہوئی چٹی کے بوجھ تلے دبے جاتے ہیں؟

  41. Ayah 41

    أَمْ عِندَهُمُ الْغَيْبُ فَهُمْ يَكْتُبُونَ

    کیا اِن کے پاس غیب کے حقائق کا علم ہے کہ اُس کی بنا پر یہ لکھ رہے ہوں؟

  42. Ayah 42

    أَمْ يُرِيدُونَ كَيْدًا ۖ فَالَّذِينَ كَفَرُوا هُمُ الْمَكِيدُونَ

    کیا یہ کوئی چال چلنا چاہتے ہیں؟ (اگر یہ بات ہے) تو کفر کرنے والوں پر ان کی چال الٹی ہی پڑے گی

  43. Ayah 43

    أَمْ لَهُمْ إِلَـٰهٌ غَيْرُ اللَّهِ ۚ سُبْحَانَ اللَّهِ عَمَّا يُشْرِكُونَ

    کیا اللہ کے سوا یہ کوئی اور معبود رکھتے ہیں؟ اللہ پاک ہے اُس شرک سے جو یہ لوگ کر رہے ہیں

  44. Ayah 44

    وَإِن يَرَوْا كِسْفًا مِّنَ السَّمَاءِ سَاقِطًا يَقُولُوا سَحَابٌ مَّرْكُومٌ

    یہ لوگ آسمان کے ٹکڑے بھی گرتے ہوئے دیکھ لیں تو کہیں گے یہ بادل ہیں جو امڈے چلے آ رہے ہیں

  45. Ayah 45

    فَذَرْهُمْ حَتَّىٰ يُلَاقُوا يَوْمَهُمُ الَّذِي فِيهِ يُصْعَقُونَ

    پس اے نبیؐ، اِنہیں اِن کے حال پر چھوڑ دو یہاں تک کہ یہ اپنے اُس دن کو پہنچ جائیں جس میں یہ مار گرائے جائیں گے

  46. Ayah 46

    يَوْمَ لَا يُغْنِي عَنْهُمْ كَيْدُهُمْ شَيْئًا وَلَا هُمْ يُنصَرُونَ

    جس دن نہ اِن کی اپنی کوئی چال اِن کے کسی کام آئے گی نہ کوئی اِن کی مدد کو آئے گا

  47. Ayah 47

    وَإِنَّ لِلَّذِينَ ظَلَمُوا عَذَابًا دُونَ ذَٰلِكَ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ

    اور اُس وقت کے آنے سے پہلے بھی ظالموں کے لیے ایک عذاب ہے، مگر اِن میں سے اکثر جانتے نہیں ہیں

  48. Ayah 48

    وَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ فَإِنَّكَ بِأَعْيُنِنَا ۖ وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ حِينَ تَقُومُ

    اے نبیؐ، اپنے رب کا فیصلہ آنے تک صبر کرو، تم ہماری نگاہ میں ہو تم جب اٹھو تو اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرو

  49. Ayah 49

    وَمِنَ اللَّيْلِ فَسَبِّحْهُ وَإِدْبَارَ النُّجُومِ

    رات کو بھی اس کی تسبیح کیا کرو اور ستارے جب پلٹتے ہیں اُس وقت بھی

About the Quran

The Quran

The Quran is the holy scripture of Islam. Muslims believe that it is the literal word of Allah (سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى), revealed to the Prophet Muhammad (صلى الله عليه وسلم) over a period of 23 years. The Quran is composed of 114 Surahs (chapters) and contains 6,236 Ayat (verses). Muslim beliefs and practices are based on the Quran and the Sunnah, the teachings and example of the Prophet Muhammad (صلى الله عليه وسلم).

The Kaaba in Mecca
A mosque in South America

Meccan Surahs

The Meccan Surahs are the earliest revelations sent down to the Prophet Muhammad (صلى الله عليه وسلم). They were revealed in Mecca, hence their name. These revelations form the foundation of the Islamic faith and contain guidance for Muslims on how to live their lives. The Meccan Surahs are also notable for their poetic beauty and lyrical prose.

Medinan Surahs

The Medinan Surahs are the later Surahs that, according to Islamic tradition, were revealed in Medina after the Prophet Muhammad's (صلى الله عليه وسلم) hijra from Mecca. They were revealed by Allah (سبحانه و تعالى) when the Muslim community was larger and more developed, as opposed to their minority position in Mecca.

Stay connected

Receive regular updates

New features, translations and reminders from AskTheQuran, straight to your inbox.

We use Mailchimp to send updates. You can unsubscribe at any time. See our privacy policy.

We may receive a commission if you click on a link and buy a product, service or similar, at no extra cost to you. Details are in the disclosure policy.