Menu

Surah Adh-Dhariyat

بکھیرنے والیاں

Chapter 51 of 114

خوبصورت تلاوت قرآن

Surah Adh-Dhariyat

Recited by Salaah Bukhaatir

Overview

About this Surah

At a glance

Surah 51 of 114

Translation
Urdu
Recitation
Salaah Bukhaatir

Ask the AI about this Surah

Commentary

Tafsir

<h2>نام :</h2>
<p> پہلی ہی آیت  </p>
<span class="ar indopak"> لَآ اُقْسِمُ بِھٰذَا الْبَلَدِ </span><p> کے لفظ  البلد  کو اِس کا نام قرار دیا گیا ہے۔ </p>
<h2>زمانۂ نزول :</h2>
<p>
 </p>اس کا مضمون اور اندازِ بیان مکۂ معظمہ کے ابتدائی دور کی سورتوں کا سا ہے، مگر ایک اشارہ اس میں ایسا موجود ہے جو پتہ دیتا ہے کہ اس کے نزول کا زمانہ وہ تھا جب کفارِ مکّہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دشمنی پر تُل گئے تھے اور آپ ؐ کے خلاف ہر ظلم و زیادتی کو انہوں نے اپنے لیے حلال کر لیا تھا۔
<h2>موضوع اور مضمون:</h2>
<p>  اِس سورے میں ایک بہت بڑے مضمون کو چند مختصر جملوں میں سمیٹ دیا گیا ہے اور یہ قرآن کا کمالِ ایجاز ہے کہ ایک پورا
نظریہ ٔ حیات  ، جسےمشکل سے ایک ضحیم کتاب میں بیان کیا جا سکتا  تھا، اِس چھوٹی سی سورۃ کے چھوٹے چھوٹے فقروں میں نہایت
مؤثر طریقہ سے بیان کر دیا گیا ہے۔ اس کا موضوع دنیا میں انسان کی، اور انسان کے لیے  دنیا کی صحیح حیثیت سمجھانا اور
یہ بتانا ہے کہ خدا نے انسان کے لیے سعادت اور شقاوت کے دونوں راستے کھول کر رکھ دیے ہیں، اُن کو دیکھنے اور اُن پر چلنے
کے وسائل بھی اُسے فراہم کر دیے ہیں، اور اب یہ انسان کی اپنی کوشش اور محنت پر موقوف ہے کہ وہ سعادت کی راہ چل کر اچھے
انجام کو پہنچتا ہے یا شقاوت کی راہ اختیار کر کے بُرے انجام سے دوچار ہوتا ہے۔</p>
سب سے پہلے شہر مکّہ اور اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  پر گزرنے والے مصائب اور پوری اولادِ آدم ؑ  کی حالت کو اِس حقیقت پر گواہ کی حیثیت  سے  پیش کیا گیا ہے کہ یہ دنیا انسان کے لیے آرام گاہ نہیں ہےجس میں وہ مزے اڑانے کے لیے پیدا کیا گیا ہو ، بلکہ یہاں اس کی پیدائش ہی مشقت کی حالت میں ہوئی ہے۔ اِس مضمون کو اگر سورۂ نجم کی آیت ۳۹  لَیْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَا سَعٰی  کے ساتھ ملا کر دیکھا جائے تو بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ اِس کارگاہ دنیا میں انسان کے مستقبل کا انحصار اس کی سعی و کوشش  اور محنت و مشقت پر ہے۔
<p>
اِس کے بعد انسان کی ہ غلط فہمی دور کی گئی ہے کہ یہاں بس وہی وہ ہے اور اوپر کوئی بالاتر طاقت نہیں ہے جو اُس کے کام کی
نگرانی کرنے والی اور اُس پر مواخذہ کرنے والی ہو۔</p>
پھر انسان کے بہت جاہلانہ اخلاقی تصورات میں سے ایک چیز کو بطور مثال لے کر بتایا گیا ہے کہ دنیا میں اُس نے بڑائی اور فضیلت کے کیسے غلط معیار تجویز کر رکھے ہیں۔ جو شخص اپنی کبریائی کی نمائش کے لیے ڈھیروں مال لٹاتا ہے وہ خود بھی اپنی اِن شاہ خرچیوں پر فخر کرتا ہے اور لوگ بھی اسے خوب داد دیتے ہیں، حالانکہ جو ہستی اُس کے کام کی نگرانی کر رہی ہے وہ یہ دیکھتی ہے کہ اُس نے یہ مال کن طریقوں سے حاصل کیا اور کن راستوں میں کس نیت اور کن اغراض کے لیے خرچ کیا۔
<p>
اِس کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے انسان کو علم کے ذرائع اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں دے کر اُس کے سامنے
بھلائی اور بُرائی کے دونوں راستے کھول کر رکھ دیے ہیں۔ ایک راستہ وہ ہے جو اخلاق کی پستیوں کی طرف جاتا ہے اور اُس پر
جانے کے لیے کوئی تکلیف نہیں اٹھانی پڑتی  بلکہ  نفس کو خوب لذّت حاصل ہوتی ہے۔ دوسرا راستہ اخلاق کی بلندیوں کی طرف
جاتا ہے جو ایک دشوار گزار گھاٹی کی طرح  ہے کہ اُس پر چلنے کے لیے آدمی کو اپنے نفس پر جبر کرنا پڑتا ہے۔ یہ انسان کی
کمزوری ہے کہ وہ اِس گھاٹی پر چڑھنے کے بہ نسبت کھَڈ میں لُڑھکنے کو ترجیح دیتا ہے۔</p>
<p>پھر اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ وہ گھاٹی کیا ہے جس سے گزر کر آدمی بلندیوں کی طرف جا سکتا ہے۔ وہ یہ ہے کہ ریا اور فخر
اور نمائش کے خرچ چھوڑ کر آدمی اپنا مال  یتیموں اور مسکینوں کی مدد پر خرچ کرے، اللہ اور اس کے دین پر ایمان لائے، اور
ایمان لانے والوں کے گروہ میں شامل ہو کر ایک ایسے معاشرے کی تشکیل میں حصہ لے جو صبر کے ساتھ حق پرستی کے تقاضوں کو
پورا کرنے والا اور خلق پر رحم کھانے والا ہو۔ اِس راستے پر چلنے والوں کا انجام یہ ہے کہ آدمی اللہ کی رحمتوں کا مستحق
ہو، اور اس کے برعکس دوسرا راستہ اختیار کرنے والوں کا انجام دوزخ کی آگ ہے جس سے نکلنے کے سارے دروازے بند ہیں۔</p>

Verse by verse

Surah Adh-Dhariyat · بکھیرنے والیاں

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

  1. Ayah 1

    بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ وَالذَّارِيَاتِ ذَرْوًا

    قسم ہے اُن ہواؤں کی جو گرد اڑانے والی ہیں

  2. Ayah 2

    فَالْحَامِلَاتِ وِقْرًا

    پھر پانی سے لدے ہوئے بادل اٹھانے والی ہیں

  3. Ayah 3

    فَالْجَارِيَاتِ يُسْرًا

    پھر سبک رفتاری کے ساتھ چلنے والی ہیں

  4. Ayah 4

    فَالْمُقَسِّمَاتِ أَمْرًا

    پھر ایک بڑے کام (بارش) کی تقسیم کرنے والی ہیں

  5. Ayah 5

    إِنَّمَا تُوعَدُونَ لَصَادِقٌ

    حق یہ ہے کہ جس چیز کا تمہیں خوف دلایا جا رہا ہے وہ سچی ہے

  6. Ayah 6

    وَإِنَّ الدِّينَ لَوَاقِعٌ

    اور جزائے اعمال ضرور پیش آنی ہے

  7. Ayah 7

    وَالسَّمَاءِ ذَاتِ الْحُبُكِ

    قسم ہے متفرق شکلوں والے آسمان کی

  8. Ayah 8

    إِنَّكُمْ لَفِي قَوْلٍ مُّخْتَلِفٍ

    (آخرت کے بارے میں) تمہاری بات ایک دوسرے سے مختلف ہے

  9. Ayah 9

    يُؤْفَكُ عَنْهُ مَنْ أُفِكَ

    اُس سے وہی برگشتہ ہوتا ہے جو حق سے پھرا ہوا ہے

  10. Ayah 10

    قُتِلَ الْخَرَّاصُونَ

    مارے گئے قیاس و گمان سے حکم لگانے والے

  11. Ayah 11

    الَّذِينَ هُمْ فِي غَمْرَةٍ سَاهُونَ

    جو جہالت میں غرق اور غفلت میں مدہوش ہیں

  12. Ayah 12

    يَسْأَلُونَ أَيَّانَ يَوْمُ الدِّينِ

    پوچھتے ہیں آخر وہ روز جزاء کب آئے گا؟

  13. Ayah 13

    يَوْمَ هُمْ عَلَى النَّارِ يُفْتَنُونَ

    وہ اُس روز آئے گا جب یہ لوگ آگ پر تپائے جائیں گے

  14. Ayah 14

    ذُوقُوا فِتْنَتَكُمْ هَـٰذَا الَّذِي كُنتُم بِهِ تَسْتَعْجِلُونَ

    (اِن سے کہا جائے گا) اب چکھو مزا اپنے فتنے کا یہ وہی چیز ہے جس کے لیے تم جلدی مچا رہے تھے

  15. Ayah 15

    إِنَّ الْمُتَّقِينَ فِي جَنَّاتٍ وَعُيُونٍ

    البتہ متقی لوگ اُس روز باغوں اور چشموں میں ہوں گے

  16. Ayah 16

    آخِذِينَ مَا آتَاهُمْ رَبُّهُمْ ۚ إِنَّهُمْ كَانُوا قَبْلَ ذَٰلِكَ مُحْسِنِينَ

    جو کچھ اُن کا رب انہیں دے گا اسے خوشی خوشی لے رہے ہوں گے وہ اُس دن کے آنے سے پہلے نیکو کار تھے

  17. Ayah 17

    كَانُوا قَلِيلًا مِّنَ اللَّيْلِ مَا يَهْجَعُونَ

    راتوں کو کم ہی سوتے تھے

  18. Ayah 18

    وَبِالْأَسْحَارِ هُمْ يَسْتَغْفِرُونَ

    پھر وہی رات کے پچھلے پہروں میں معافی مانگتے تھے

  19. Ayah 19

    وَفِي أَمْوَالِهِمْ حَقٌّ لِّلسَّائِلِ وَالْمَحْرُومِ

    اور اُن کے مالوں میں حق تھا سائل اور محروم کے لیے

  20. Ayah 20

    وَفِي الْأَرْضِ آيَاتٌ لِّلْمُوقِنِينَ

    زمین میں بہت سی نشانیاں ہیں یقین لانے والوں کے لیے

  21. Ayah 21

    وَفِي أَنفُسِكُمْ ۚ أَفَلَا تُبْصِرُونَ

    اور خود تمہارے اپنے وجود میں ہیں کیا تم کو سوجھتا نہیں؟

  22. Ayah 22

    وَفِي السَّمَاءِ رِزْقُكُمْ وَمَا تُوعَدُونَ

    آسمان ہی میں ہے تمہارا رزق بھی اور وہ چیز بھی جس کا تم سے وعدہ کیا جا رہا ہے

  23. Ayah 23

    فَوَرَبِّ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ إِنَّهُ لَحَقٌّ مِّثْلَ مَا أَنَّكُمْ تَنطِقُونَ

    پس قسم ہے آسمان اور زمین کے مالک کی، یہ بات حق ہے، ایسی ہی یقینی جیسے تم بول رہے ہو

  24. Ayah 24

    هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ ضَيْفِ إِبْرَاهِيمَ الْمُكْرَمِينَ

    اے نبیؐ، ابراہیمؑ کے معزز مہمانوں کی حکایت بھی تمہیں پہنچی ہے؟

  25. Ayah 25

    إِذْ دَخَلُوا عَلَيْهِ فَقَالُوا سَلَامًا ۖ قَالَ سَلَامٌ قَوْمٌ مُّنكَرُونَ

    جب وہ اُس کے ہاں آئے تو کہا آپ کو سلام ہے اُس نے کہا "آپ لوگوں کو بھی سلام ہے کچھ نا آشنا سے لوگ ہیں"

  26. Ayah 26

    فَرَاغَ إِلَىٰ أَهْلِهِ فَجَاءَ بِعِجْلٍ سَمِينٍ

    پھر وہ چپکے سے اپنے گھر والوں کے پاس گیا، اور ایک موٹا تازہ بچھڑا لا کر

  27. Ayah 27

    فَقَرَّبَهُ إِلَيْهِمْ قَالَ أَلَا تَأْكُلُونَ

    مہمانوں کے آگے پیش کیا اُس نے کہا آپ حضرات کھاتے نہیں؟

  28. Ayah 28

    فَأَوْجَسَ مِنْهُمْ خِيفَةً ۖ قَالُوا لَا تَخَفْ ۖ وَبَشَّرُوهُ بِغُلَامٍ عَلِيمٍ

    پھر وہ اپنے دل میں ان سے ڈرا انہوں نے کہا ڈریے نہیں، اور اُسے ایک ذی علم لڑکے کی پیدائش کا مژدہ سنایا

  29. Ayah 29

    فَأَقْبَلَتِ امْرَأَتُهُ فِي صَرَّةٍ فَصَكَّتْ وَجْهَهَا وَقَالَتْ عَجُوزٌ عَقِيمٌ

    یہ سن کر اُس کی بیوی چیختی ہوئی آگے بڑھی اور اس نے اپنا منہ پیٹ لیا اور کہنے لگی، "بوڑھی، بانجھ!"

  30. Ayah 30

    قَالُوا كَذَٰلِكِ قَالَ رَبُّكِ ۖ إِنَّهُ هُوَ الْحَكِيمُ الْعَلِيمُ

    انہوں نے کہا "یہی کچھ فرمایا ہے تیرے رب نے، وہ حکیم ہے اور سب کچھ جانتا ہے"

  31. Ayah 31

    قَالَ فَمَا خَطْبُكُمْ أَيُّهَا الْمُرْسَلُونَ

    ابراہیمؑ نے کہا "اے فرستادگان الٰہی، کیا مہم آپ کو در پیش ہے؟

  32. Ayah 32

    قَالُوا إِنَّا أُرْسِلْنَا إِلَىٰ قَوْمٍ مُّجْرِمِينَ

    انہوں نے کہا "ہم ایک مجرم قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں

  33. Ayah 33

    لِنُرْسِلَ عَلَيْهِمْ حِجَارَةً مِّن طِينٍ

    تاکہ اُس پر پکی ہوئی مٹی کے پتھر برسا دیں

  34. Ayah 34

    مُّسَوَّمَةً عِندَ رَبِّكَ لِلْمُسْرِفِينَ

    جو آپ کے رب کے ہاں حد سے گزر جانے والوں کے لیے نشان زدہ ہیں"

  35. Ayah 35

    فَأَخْرَجْنَا مَن كَانَ فِيهَا مِنَ الْمُؤْمِنِينَ

    پھر ہم نے اُن سب لوگوں کو نکال لیا جو اُس بستی میں مومن تھے

  36. Ayah 36

    فَمَا وَجَدْنَا فِيهَا غَيْرَ بَيْتٍ مِّنَ الْمُسْلِمِينَ

    اور وہاں ہم نے ایک گھر کے سوا مسلمانوں کا کوئی گھر نہ پایا

  37. Ayah 37

    وَتَرَكْنَا فِيهَا آيَةً لِّلَّذِينَ يَخَافُونَ الْعَذَابَ الْأَلِيمَ

    اس کے بعد ہم نے وہاں بس ایک نشانی اُن لوگوں کے لیے چھوڑ دی جو درد ناک عذاب سے ڈرتے ہوں

  38. Ayah 38

    وَفِي مُوسَىٰ إِذْ أَرْسَلْنَاهُ إِلَىٰ فِرْعَوْنَ بِسُلْطَانٍ مُّبِينٍ

    اور (تمہارے لیے نشانی ہے) موسیٰؑ کے قصے میں جب ہم نے اُسے صریح سند کے ساتھ فرعون کے پاس بھیجا

  39. Ayah 39

    فَتَوَلَّىٰ بِرُكْنِهِ وَقَالَ سَاحِرٌ أَوْ مَجْنُونٌ

    تو وہ اپنے بل بوتے پر اکڑ گیا اور بولا یہ جادوگر ہے یا مجنوں ہے

  40. Ayah 40

    فَأَخَذْنَاهُ وَجُنُودَهُ فَنَبَذْنَاهُمْ فِي الْيَمِّ وَهُوَ مُلِيمٌ

    آخر کار ہم نے اُسے اور اس کے لشکروں کو پکڑا اور سب کو سمندر میں پھینک دیا اور وہ ملامت زدہ ہو کر رہ گیا

  41. Ayah 41

    وَفِي عَادٍ إِذْ أَرْسَلْنَا عَلَيْهِمُ الرِّيحَ الْعَقِيمَ

    اور (تمہارے لیے نشانی ہے) عاد میں، جبکہ ہم نے ان پر ایک ایسی بے خیر ہوا بھیج دی

  42. Ayah 42

    مَا تَذَرُ مِن شَيْءٍ أَتَتْ عَلَيْهِ إِلَّا جَعَلَتْهُ كَالرَّمِيمِ

    کہ جس چیز پر بھی وہ گزر گئی اسے بوسیدہ کر کے رکھ دیا

  43. Ayah 43

    وَفِي ثَمُودَ إِذْ قِيلَ لَهُمْ تَمَتَّعُوا حَتَّىٰ حِينٍ

    اور (تمہارے لیے نشانی ہے) ثمود میں، جب اُن سے کہا گیا تھا کہ ایک خاص وقت تک مزے کر لو

  44. Ayah 44

    فَعَتَوْا عَنْ أَمْرِ رَبِّهِمْ فَأَخَذَتْهُمُ الصَّاعِقَةُ وَهُمْ يَنظُرُونَ

    مگر اس تنبیہ پر بھی انہوں نے اپنے رب کے حکم سے سرتابی کی آخر کار ان کے دیکھتے دیکھتے ایک اچانک ٹوٹ پڑنے والے عذاب نے اُن کو آ لیا

  45. Ayah 45

    فَمَا اسْتَطَاعُوا مِن قِيَامٍ وَمَا كَانُوا مُنتَصِرِينَ

    پھر نہ اُن میں اٹھنے کی سکت تھی اور نہ وہ اپنا بچاؤ کر سکتے تھے

  46. Ayah 46

    وَقَوْمَ نُوحٍ مِّن قَبْلُ ۖ إِنَّهُمْ كَانُوا قَوْمًا فَاسِقِينَ

    اور ان سب سے پہلے ہم نے نوحؑ کی قوم کو ہلاک کیا کیونکہ وہ فاسق لوگ تھے

  47. Ayah 47

    وَالسَّمَاءَ بَنَيْنَاهَا بِأَيْدٍ وَإِنَّا لَمُوسِعُونَ

    آسمان کو ہم نے اپنے زور سے بنایا ہے اور ہم اِس کی قدرت رکھتے ہیں

  48. Ayah 48

    وَالْأَرْضَ فَرَشْنَاهَا فَنِعْمَ الْمَاهِدُونَ

    زمین کو ہم نے بچھایا ہے اور ہم بڑے اچھے ہموار کرنے والے ہیں

  49. Ayah 49

    وَمِن كُلِّ شَيْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ

    اور ہر چیز کے ہم نے جوڑے بنائے ہیں، شاید کہ تم اس سے سبق لو

  50. Ayah 50

    فَفِرُّوا إِلَى اللَّهِ ۖ إِنِّي لَكُم مِّنْهُ نَذِيرٌ مُّبِينٌ

    تو دوڑو اللہ کی طرف، میں تمہارے لیے اس کی طرف سے صاف صاف خبردار کرنے والا ہوں

  51. Ayah 51

    وَلَا تَجْعَلُوا مَعَ اللَّهِ إِلَـٰهًا آخَرَ ۖ إِنِّي لَكُم مِّنْهُ نَذِيرٌ مُّبِينٌ

    اور نہ بناؤ اللہ کے ساتھ کوئی دوسرا معبود، میں تمہارے لیے اُس کی طرف سے صاف صاف خبردار کرنے والا ہوں

  52. Ayah 52

    كَذَٰلِكَ مَا أَتَى الَّذِينَ مِن قَبْلِهِم مِّن رَّسُولٍ إِلَّا قَالُوا سَاحِرٌ أَوْ مَجْنُونٌ

    یونہی ہوتا رہا ہے، اِن سے پہلے کی قوموں کے پاس بھی کوئی رسول ایسا نہیں آیا جسے انہوں نے یہ نہ کہا ہو کہ یہ ساحر ہے یا مجنون

  53. Ayah 53

    أَتَوَاصَوْا بِهِ ۚ بَلْ هُمْ قَوْمٌ طَاغُونَ

    کیا اِن سب نے آپس میں اِس پر کوئی سمجھوتہ کر لیا ہے؟ نہیں، بکہ یہ سب سرکش لوگ ہیں

  54. Ayah 54

    فَتَوَلَّ عَنْهُمْ فَمَا أَنتَ بِمَلُومٍ

    پس اے نبیؐ، ان سے رخ پھیر لو، تم پر کچھ ملامت نہیں

  55. Ayah 55

    وَذَكِّرْ فَإِنَّ الذِّكْرَىٰ تَنفَعُ الْمُؤْمِنِينَ

    البتہ نصیحت کرتے رہو، کیونکہ نصیحت ایمان لانے والوں کے لیے نافع ہے

  56. Ayah 56

    وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ

    میں نے جن اور انسانوں کو اِس کے سوا کسی کام کے لیے پیدا نہیں کیا ہے کہ وہ میری بندگی کریں

  57. Ayah 57

    مَا أُرِيدُ مِنْهُم مِّن رِّزْقٍ وَمَا أُرِيدُ أَن يُطْعِمُونِ

    میں اُن سے کوئی رزق نہیں چاہتا اور نہ یہ چاہتا ہوں کہ وہ مجھے کھلائیں

  58. Ayah 58

    إِنَّ اللَّهَ هُوَ الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّةِ الْمَتِينُ

    اللہ تو خود ہی رزاق ہے، بڑی قوت والا اور زبردست

  59. Ayah 59

    فَإِنَّ لِلَّذِينَ ظَلَمُوا ذَنُوبًا مِّثْلَ ذَنُوبِ أَصْحَابِهِمْ فَلَا يَسْتَعْجِلُونِ

    پس جن لوگوں نے ظلم کیا ہے ان کے حصے کا بھی ویسا ہی عذاب تیار ہے جیسا اِنہی جیسے لوگوں کو اُن کے حصے کا مل چکا ہے، اس کے لیے یہ لوگ جلدی نہ مچائیں

  60. Ayah 60

    فَوَيْلٌ لِّلَّذِينَ كَفَرُوا مِن يَوْمِهِمُ الَّذِي يُوعَدُونَ

    آخر کو تباہی ہے کفر کرنے والوں کے لیے اُس روز جس کا انہیں خوف دلایا جا رہا ہے

About the Quran

The Quran

The Quran is the holy scripture of Islam. Muslims believe that it is the literal word of Allah (سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى), revealed to the Prophet Muhammad (صلى الله عليه وسلم) over a period of 23 years. The Quran is composed of 114 Surahs (chapters) and contains 6,236 Ayat (verses). Muslim beliefs and practices are based on the Quran and the Sunnah, the teachings and example of the Prophet Muhammad (صلى الله عليه وسلم).

The Kaaba in Mecca
A mosque in South America

Meccan Surahs

The Meccan Surahs are the earliest revelations sent down to the Prophet Muhammad (صلى الله عليه وسلم). They were revealed in Mecca, hence their name. These revelations form the foundation of the Islamic faith and contain guidance for Muslims on how to live their lives. The Meccan Surahs are also notable for their poetic beauty and lyrical prose.

Medinan Surahs

The Medinan Surahs are the later Surahs that, according to Islamic tradition, were revealed in Medina after the Prophet Muhammad's (صلى الله عليه وسلم) hijra from Mecca. They were revealed by Allah (سبحانه و تعالى) when the Muslim community was larger and more developed, as opposed to their minority position in Mecca.

Stay connected

Receive regular updates

New features, translations and reminders from AskTheQuran, straight to your inbox.

We use Mailchimp to send updates. You can unsubscribe at any time. See our privacy policy.

We may receive a commission if you click on a link and buy a product, service or similar, at no extra cost to you. Details are in the disclosure policy.