Menu

Surah Ad-Dukhan

دھواں

Chapter 44 of 114

خوبصورت تلاوت قرآن

Surah Ad-Dukhan

Recited by Salaah Bukhaatir

Overview

About this Surah

At a glance

Surah 44 of 114

Translation
Urdu
Recitation
Salaah Bukhaatir

Ask the AI about this Surah

Commentary

Tafsir

<h2>نام : </h2>
<p>پہلی ہی آیت</p>
<span class="ar indopak"> وَیْلٌ لِّلْمُطَفِّفِیْنَ</span><p> سے ماخوذ ہے۔</p>
<h2>زمانۂ نزول :</h2>
<p> اس کے اندازِبیان اور مضامین سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ مکہ معظمہ کے ابتدائی دور میں نازل ہوئی ہے جب اہل مکہ کے ذہن
میں آخرت کا عقیدہ بٹھانے کے لیے پے در پے سورتیں نازل ہورہی تھیں، اور اس کا نزول اُس زمانے میں ہوا ہے جب اہل مکہ نے
سڑکوں پر، بازاروں میں  اور مجلسو ں میں مسلمانوں پر آوازے کسنے اور ان کی توہین ذنذیل کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا تھا،
مگر ظلم و ستم اور مار پیٹ کا دورا بھی شروع نہیں ہوا تھا۔۔ بعض مفسرین نے اس سورہ کو مدنی قرار دیا ہے۔اِس غلط فہمی کی
وجہ دراصل ابن عباسؓ کی یہ روایت ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینے تشریف لائے تو یہاں کے لوگوں میں کم ناپنے اور
تولنے کا مرض بُری طرح پھیلا ہوا تھا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے </p>
<span class="ar indopak">وَیْلٌ لِّلْمُطَفِّفِیْنَ </span><p>نازل کی اور لو گ بہت اچھی طرح ناپنے تولنے لگے (نسائی، ابن
ماجہ، ابن مردویہ، ابن جریر، بیقہی فی شُعَب الایمان)۔ لیکن جیسا کہ اس سے پہلے ہم سورہ دَہر کے دیباچے میں بیان کر چکے
ہیں، صحابہ اور تابعین کا یہ عام طریقہ تھا کہ ایک آیت جس معاملہ پر چسپاں ہوتی ہو اس کے متعلق وہ یوں کہا کرتے تھے کہ
یہ فلاں معاملہ میں نازل ہوئی ہے۔ اس لیے ابن عباس کی روایت سے جو کچھ ثابت ہوتا ہے وہ صرف یہ ہے کہ جب ہجرت کے بعد نبی
صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کے لوگوں میں یہ بُری عادت پھیلی ہوئی پائی تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے آپ نے یہ سورت ان کو
سنائی اور اِس سے اُن کے معاملات درست ہوگئے۔</p>
<h2>موضوع اور مضمون:</h2>
<p> اس کاموضوع بھی آخرت ہے۔</p>
پہلی چھ آیتوں میں اُس عام بے ایمانی پر گرفت کی گئی ہے جو کاروباری لوگوں میں بکثرت پھیلی ہوئی تھی کہ دوسروں سے لینا ہوتا تھا تو پورا ناپ کر اور تول کر لیتے تھے، مگر جب دوسروں کو دینا ہوتا تو ناپ تول میں ہر ایک کو کچھ نہ کچھ  گھاٹا دیتے تھے۔ معاشرے کی  بے شمار خرابیوں میں سے اِس ایک خرابی  کو، جس کی قباحت سے کوئی انکار نہ کر سکتا تھا، بطورِ مثال لے کر یہ بتایا گیا ہے کہ یہ آخرت سے غفلت کا لازمی نتیجہ ہے۔ جب تک لوگوں کو یہ احساس نہ ہو کہ ایک روز خدا کے سامنے پیش ہونا ہے اور کوڑی کوڑی کا حساب دینا ہے اُس وقت تک یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ وہ اپنے معاملات میں کامل راستبازی اختیار کر سکیں۔ کوئی شخص دیانت داری کو”اچھی پالیسی“سمجھ کر بعض چھوٹے چھوٹے معاملات میں دیانت برت بھی لے تو ایسے مواقع پر وہ کبھی دیانت نہیں برت سکتا جہاں بے ایمانی ایک”مفید پالیسی“ثابت ہوتی ہو۔ آدمی کے اندر سچّی اور مستقل دیانت داری اگر پیدا ہو سکتی ہے تو صرف خدا کے خوف اور آخرت پر یقین ہی سے ہو سکتی ہے، کیونکہ اِس صورت میں دیانت ایک ”پالیسی“نہیں بلکہ”فریضہ“قرار پاتی ہے اور آدمی کے اُس پر قائم رہنے یا نہ رہنے کا انحصار دنیا میں اس کے مفید یا غیر مفید ہونے پر نہیں رہتا ۔
<p>
اس طر ح اخلاق کے ساتھ عقیدہ آخرت کا تعلق نہایت مؤثر اور دل نشین طریقہ سے واضح کرنے کے بعد آیت ۷ سے ۱۷ تک بتایا گیا
ہے کہ بد کار لوگوں کے نامہ اعمال پہلے ہی جرائم پیشہ لوگوں کے رجسٹر(</p>Black list<p>) میں درج ہورہے ہیں اور آخرت میں
ان کو سخت تباہی سے  دو چار ہونا ہے۔پھرآیت ۱۸ سے۲۸ تک نیک لوگوں کا بہترین انجام بیان کیا گیا ہے اور یہ بتایا گیا ہے
کہ ان کے اعمال نامے بلند پایہ لوگوں کے رجسٹر میں درج ہورہے ہیں جس پر مقرب فرشتے مامور ہیں۔</p>
<p>          آخر میں اہل ایمان کو تسلی دی گئی ہے اور اس کے ساتھ کفار کو خبر دار بھی کیا گیا ہے کہ آج جو لوگ ایمان لانے
والوں کی تذلیل کر رہے ہیں، قیامت کے روز یہی مجرم لوگ اپنی اِس روش کا بہت بُرا انجام دیکھیں گے اور یہی ایمان لانے
والے ان مجرموں کا بُرا انجام دیکھ کر اپنی آنکھیں ٹھنڈی کریں گے۔</p>

Verse by verse

Surah Ad-Dukhan · دھواں

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

  1. Ayah 1

    بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ حم

    ح م

  2. Ayah 2

    وَالْكِتَابِ الْمُبِينِ

    قسم ہے اِس کتاب مبین کی

  3. Ayah 3

    إِنَّا أَنزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةٍ مُّبَارَكَةٍ ۚ إِنَّا كُنَّا مُنذِرِينَ

    کہ ہم نے اِسے ایک بڑی خیر و برکت والی رات میں نازل کیا ہے، کیونکہ ہم لوگوں کو متنبہ کرنے کا ارادہ رکھتے تھے

  4. Ayah 4

    فِيهَا يُفْرَقُ كُلُّ أَمْرٍ حَكِيمٍ

    یہ وہ رات تھی جس میں ہر معاملہ کا حکیمانہ فیصلہ

  5. Ayah 5

    أَمْرًا مِّنْ عِندِنَا ۚ إِنَّا كُنَّا مُرْسِلِينَ

    ہمارے حکم سے صادر کیا جاتا ہے ہم ایک رسول بھیجنے والے تھے

  6. Ayah 6

    رَحْمَةً مِّن رَّبِّكَ ۚ إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ

    تیرے رب کی رحمت کے طور پر یقیناً وہی سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے

  7. Ayah 7

    رَبِّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا ۖ إِن كُنتُم مُّوقِنِينَ

    آسمانوں اور زمین کا رب اور ہر اُس چیز کا رب جو آسمان و زمین کے درمیان ہے اگر تم لوگ واقعی یقین رکھنے والے ہو

  8. Ayah 8

    لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ يُحْيِي وَيُمِيتُ ۖ رَبُّكُمْ وَرَبُّ آبَائِكُمُ الْأَوَّلِينَ

    کوئی معبود اُس کے سوا نہیں ہے وہی زندگی عطا کرتا ہے اور وہی موت دیتا ہے تمہارا رب اور تمہارے اُن اسلاف کا رب جو پہلے گزر چکے ہیں

  9. Ayah 9

    بَلْ هُمْ فِي شَكٍّ يَلْعَبُونَ

    (مگر فی الواقع اِن لوگوں کو یقین نہیں ہے) بلکہ یہ اپنے شک میں پڑے کھیل رہے ہیں

  10. Ayah 10

    فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُّبِينٍ

    اچھا انتظار کرو اُس دن کا جب آسمان صریح دھواں لیے ہوئے آئے گا

  11. Ayah 11

    يَغْشَى النَّاسَ ۖ هَـٰذَا عَذَابٌ أَلِيمٌ

    اور وہ لوگوں پر چھا جائے گا، یہ ہے درد ناک سزا

  12. Ayah 12

    رَّبَّنَا اكْشِفْ عَنَّا الْعَذَابَ إِنَّا مُؤْمِنُونَ

    (اب کہتے ہیں کہ) " پروردگار، ہم پر سے یہ عذاب ٹال دے، ہم ایمان لاتے ہیں"

  13. Ayah 13

    أَنَّىٰ لَهُمُ الذِّكْرَىٰ وَقَدْ جَاءَهُمْ رَسُولٌ مُّبِينٌ

    اِن کی غفلت کہاں دور ہوتی ہے؟ اِن کا حال تو یہ ہے کہ اِن کے پاس رسول مبین آ گیا

  14. Ayah 14

    ثُمَّ تَوَلَّوْا عَنْهُ وَقَالُوا مُعَلَّمٌ مَّجْنُونٌ

    پھر بھی یہ اُس کی طرف ملتفت نہ ہوئے اور کہا کہ "یہ تو سکھایا پڑھایا باولا ہے"

  15. Ayah 15

    إِنَّا كَاشِفُو الْعَذَابِ قَلِيلًا ۚ إِنَّكُمْ عَائِدُونَ

    ہم ذرا عذاب ہٹائے دیتے ہیں، تم لوگ پھر وہی کچھ کرو گے جو پہلے کر رہے تھے

  16. Ayah 16

    يَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَةَ الْكُبْرَىٰ إِنَّا مُنتَقِمُونَ

    جس روز ہم بڑی ضرب لگائیں گے وہ دن ہوگا جب ہم تم سے انتقام لیں گے

  17. Ayah 17

    وَلَقَدْ فَتَنَّا قَبْلَهُمْ قَوْمَ فِرْعَوْنَ وَجَاءَهُمْ رَسُولٌ كَرِيمٌ

    ہم اِن سے پہلے فرعون کی قوم کو اِسی آزمائش میں ڈال چکے ہیں اُن کے پاس ایک نہایت شریف رسول آیا

  18. Ayah 18

    أَنْ أَدُّوا إِلَيَّ عِبَادَ اللَّهِ ۖ إِنِّي لَكُمْ رَسُولٌ أَمِينٌ

    اور اس نے کہا "اللہ کے بندوں کو میرے حوالے کرو، میں تمہارے لیے ایک امانت دار رسول ہوں

  19. Ayah 19

    وَأَن لَّا تَعْلُوا عَلَى اللَّهِ ۖ إِنِّي آتِيكُم بِسُلْطَانٍ مُّبِينٍ

    اللہ کے مقابلے میں سرکشی نہ کرو میں تمہارے سامنے (اپنی ماموریت کی) صریح سند پیش کرتا ہوں

  20. Ayah 20

    وَإِنِّي عُذْتُ بِرَبِّي وَرَبِّكُمْ أَن تَرْجُمُونِ

    اور میں اپنے رب اور تمہارے رب کی پناہ لے چکا ہوں اِس سے کہ تم مجھ پر حملہ آور ہو

  21. Ayah 21

    وَإِن لَّمْ تُؤْمِنُوا لِي فَاعْتَزِلُونِ

    اگر تم میری بات نہیں مانتے تو مجھ پر ہاتھ ڈالنے سے باز رہو"

  22. Ayah 22

    فَدَعَا رَبَّهُ أَنَّ هَـٰؤُلَاءِ قَوْمٌ مُّجْرِمُونَ

    آخرکار اُس نے اپنے رب کو پکارا کہ یہ لوگ مجرم ہیں

  23. Ayah 23

    فَأَسْرِ بِعِبَادِي لَيْلًا إِنَّكُم مُّتَّبَعُونَ

    (جواب دیا گیا) اچھا تو راتوں رات میرے بندوں کو لے کر چل پڑ تم لوگوں کا پیچھا کیا جائے گا

  24. Ayah 24

    وَاتْرُكِ الْبَحْرَ رَهْوًا ۖ إِنَّهُمْ جُندٌ مُّغْرَقُونَ

    سمندر کو اُس کے حال پر کھلا چھوڑ دے یہ سارا لشکر غرق ہونے والا ہے

  25. Ayah 25

    كَمْ تَرَكُوا مِن جَنَّاتٍ وَعُيُونٍ

    " کتنے ہی باغ اور چشمے

  26. Ayah 26

    وَزُرُوعٍ وَمَقَامٍ كَرِيمٍ

    اور کھیت اور شاندار محل تھے جو وہ چھوڑ گئے

  27. Ayah 27

    وَنَعْمَةٍ كَانُوا فِيهَا فَاكِهِينَ

    کتنے ہی عیش کے سر و سامان، جن میں وہ مزے کر رہے تھے اُن کے پیچھے دھرے رہ گئے

  28. Ayah 28

    كَذَٰلِكَ ۖ وَأَوْرَثْنَاهَا قَوْمًا آخَرِينَ

    یہ ہوا اُن کا انجام، اور ہم نے دوسروں کو اِن چیزوں کا وارث بنا دیا

  29. Ayah 29

    فَمَا بَكَتْ عَلَيْهِمُ السَّمَاءُ وَالْأَرْضُ وَمَا كَانُوا مُنظَرِينَ

    پھر نہ آسمان اُن پر رویا نہ زمین، اور ذرا سی مہلت بھی ان کو نہ دی گئی

  30. Ayah 30

    وَلَقَدْ نَجَّيْنَا بَنِي إِسْرَائِيلَ مِنَ الْعَذَابِ الْمُهِينِ

    اِس طرح بنی اسرائیل کو ہم نے سخت ذلت کے عذاب

  31. Ayah 31

    مِن فِرْعَوْنَ ۚ إِنَّهُ كَانَ عَالِيًا مِّنَ الْمُسْرِفِينَ

    فرعون سے نجات دی جو حد سے گزر جانے والوں میں فی الواقع بڑے اونچے درجے کا آدمی تھا

  32. Ayah 32

    وَلَقَدِ اخْتَرْنَاهُمْ عَلَىٰ عِلْمٍ عَلَى الْعَالَمِينَ

    اور اُن کی حالت جانتے ہوئے، اُن کو دنیا کی دوسری قوموں پر ترجیح دی

  33. Ayah 33

    وَآتَيْنَاهُم مِّنَ الْآيَاتِ مَا فِيهِ بَلَاءٌ مُّبِينٌ

    اور اُنہیں ایسی نشانیاں دکھائیں جن میں صریح آزمائش تھی

  34. Ayah 34

    إِنَّ هَـٰؤُلَاءِ لَيَقُولُونَ

    یہ لوگ کہتے ہیں

  35. Ayah 35

    إِنْ هِيَ إِلَّا مَوْتَتُنَا الْأُولَىٰ وَمَا نَحْنُ بِمُنشَرِينَ

    "ہماری پہلی موت کے سوا اور کچھ نہیں اُس کے بعد ہم دوبارہ اٹھائے جانے والے نہیں ہیں

  36. Ayah 36

    فَأْتُوا بِآبَائِنَا إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ

    اگر تم سچے ہو تو اٹھا لاؤ ہمارے باپ دادا کو"

  37. Ayah 37

    أَهُمْ خَيْرٌ أَمْ قَوْمُ تُبَّعٍ وَالَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ ۚ أَهْلَكْنَاهُمْ ۖ إِنَّهُمْ كَانُوا مُجْرِمِينَ

    یہ بہتر ہیں یا تبع کی قوم اور اُس سے پہلے کے لوگ؟ ہم نے ان کو اِسی بنا پر تباہ کیا کہ وہ مجرم ہوگئے تھے

  38. Ayah 38

    وَمَا خَلَقْنَا السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا لَاعِبِينَ

    یہ آسمان و زمین اور اِن کے درمیان کی چیزیں ہم نے کچھ کھیل کے طور پر نہیں بنا دی ہیں

  39. Ayah 39

    مَا خَلَقْنَاهُمَا إِلَّا بِالْحَقِّ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ

    اِن کو ہم نے برحق پیدا کیا ہے، مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں

  40. Ayah 40

    إِنَّ يَوْمَ الْفَصْلِ مِيقَاتُهُمْ أَجْمَعِينَ

    اِن سب کے اٹھائے جانے کے لیے طے شدہ وقت فیصلے کا دن ہے

  41. Ayah 41

    يَوْمَ لَا يُغْنِي مَوْلًى عَن مَّوْلًى شَيْئًا وَلَا هُمْ يُنصَرُونَ

    وہ دن جب کوئی عزیز قریب اپنے کسی عزیز قریب کے کچھ بھی کام نہ آئے گا، اور نہ کہیں سے انہیں کوئی مدد پہنچے گی

  42. Ayah 42

    إِلَّا مَن رَّحِمَ اللَّهُ ۚ إِنَّهُ هُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ

    سوائے اِس کے کہ اللہ ہی کسی پر رحم کرے، وہ زبردست اور رحیم ہے

  43. Ayah 43

    إِنَّ شَجَرَتَ الزَّقُّومِ

    زقوم کا درخت

  44. Ayah 44

    طَعَامُ الْأَثِيمِ

    گناہ گار کا کھاجا ہوگا

  45. Ayah 45

    كَالْمُهْلِ يَغْلِي فِي الْبُطُونِ

    تیل کی تلچھٹ جیسا، پیٹ میں اِس طرح جوش کھائے گا

  46. Ayah 46

    كَغَلْيِ الْحَمِيمِ

    جیسے کھولتا ہوا پانی جوش کھاتا ہے

  47. Ayah 47

    خُذُوهُ فَاعْتِلُوهُ إِلَىٰ سَوَاءِ الْجَحِيمِ

    " پکڑو اِسے اور رگیدتے ہوئے لے جاؤ اِس کو جہنم کے بیچوں بیچ

  48. Ayah 48

    ثُمَّ صُبُّوا فَوْقَ رَأْسِهِ مِنْ عَذَابِ الْحَمِيمِ

    اور انڈیل دو اِس کے سر پر کھولتے پانی کا عذاب

  49. Ayah 49

    ذُقْ إِنَّكَ أَنتَ الْعَزِيزُ الْكَرِيمُ

    چکھ اس کا مزا، بڑا زبردست عزت دار آدمی ہے تُو

  50. Ayah 50

    إِنَّ هَـٰذَا مَا كُنتُم بِهِ تَمْتَرُونَ

    یہ وہی چیز ہے جس کے آنے میں تم لوگ شک رکھتے تھے"

  51. Ayah 51

    إِنَّ الْمُتَّقِينَ فِي مَقَامٍ أَمِينٍ

    خدا ترس لوگ امن کی جگہ میں ہوں گے

  52. Ayah 52

    فِي جَنَّاتٍ وَعُيُونٍ

    باغوں اور چشموں میں

  53. Ayah 53

    يَلْبَسُونَ مِن سُندُسٍ وَإِسْتَبْرَقٍ مُّتَقَابِلِينَ

    حریر و دیبا کے لباس پہنے، آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے

  54. Ayah 54

    كَذَٰلِكَ وَزَوَّجْنَاهُم بِحُورٍ عِينٍ

    یہ ہوگی ان کی شان اور ہم گوری گوری آہو چشم عورتیں ان سے بیاہ دیں گے

  55. Ayah 55

    يَدْعُونَ فِيهَا بِكُلِّ فَاكِهَةٍ آمِنِينَ

    وہاں وہ اطمینان سے ہر طرح کی لذیذ چیزیں طلب کریں گے

  56. Ayah 56

    لَا يَذُوقُونَ فِيهَا الْمَوْتَ إِلَّا الْمَوْتَةَ الْأُولَىٰ ۖ وَوَقَاهُمْ عَذَابَ الْجَحِيمِ

    وہاں موت کا مزہ وہ کبھی نہ چکھیں گے، بس دنیا میں جو موت آ چکی سو آ چکی اور اللہ اپنے فضل سے،

  57. Ayah 57

    فَضْلًا مِّن رَّبِّكَ ۚ ذَٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ

    ان کو جہنم کے عذاب سے بچا دے گا یہی بڑی کامیابی ہے

  58. Ayah 58

    فَإِنَّمَا يَسَّرْنَاهُ بِلِسَانِكَ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُونَ

    اے نبیؐ، ہم نے اِس کتاب کو تمہاری زبان میں سہل بنا دیا ہے تاکہ یہ لوگ نصیحت حاصل کریں

  59. Ayah 59

    فَارْتَقِبْ إِنَّهُم مُّرْتَقِبُونَ

    اب تم بھی انتظار کرو، یہ بھی منتظر ہیں

About the Quran

The Quran

The Quran is the holy scripture of Islam. Muslims believe that it is the literal word of Allah (سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى), revealed to the Prophet Muhammad (صلى الله عليه وسلم) over a period of 23 years. The Quran is composed of 114 Surahs (chapters) and contains 6,236 Ayat (verses). Muslim beliefs and practices are based on the Quran and the Sunnah, the teachings and example of the Prophet Muhammad (صلى الله عليه وسلم).

The Kaaba in Mecca
A mosque in South America

Meccan Surahs

The Meccan Surahs are the earliest revelations sent down to the Prophet Muhammad (صلى الله عليه وسلم). They were revealed in Mecca, hence their name. These revelations form the foundation of the Islamic faith and contain guidance for Muslims on how to live their lives. The Meccan Surahs are also notable for their poetic beauty and lyrical prose.

Medinan Surahs

The Medinan Surahs are the later Surahs that, according to Islamic tradition, were revealed in Medina after the Prophet Muhammad's (صلى الله عليه وسلم) hijra from Mecca. They were revealed by Allah (سبحانه و تعالى) when the Muslim community was larger and more developed, as opposed to their minority position in Mecca.

Stay connected

Receive regular updates

New features, translations and reminders from AskTheQuran, straight to your inbox.

We use Mailchimp to send updates. You can unsubscribe at any time. See our privacy policy.

We may receive a commission if you click on a link and buy a product, service or similar, at no extra cost to you. Details are in the disclosure policy.