Menu

Surah As-Saffat

صف باندھنے والے

Chapter 37 of 114

خوبصورت تلاوت قرآن

Surah As-Saffat

Recited by Salaah Bukhaatir

Overview

About this Surah

At a glance

Surah 37 of 114

Translation
Urdu
Recitation
Salaah Bukhaatir

Ask the AI about this Surah

Commentary

Tafsir

<h2>نام :</h2>
<p> اس  سورۃ کا نام ”الدَّہر“بھی ہے اور” الانسان“بھی ۔ دونوں نام پہلی ہی آیت کے الفاظ</p>
<span class="ar indopak"> ھَلْ اَتٰی عَلَی الْاِنْسَانِ </span><p>اور</p>
<span class="ar indopak"> حِیْنٌ مِّنَ الدَّھْرِ </span><p>سے ماخوذ ہیں۔ </p>
<h2>زمانۂ نزول :</h2>
<p>
 </p>اکثر مفسرین اس کو مکّی  قرار دیتے ہیں۔علامہ زمحشری، امام رازی ، قاضی بَیضاوی، علامہ نظام الدین نَیسا بوری،حافظ ابن کثیر اور دوسرے بہت سے مفسرین نے اسے مکی ہی لکھا ہے، اور علامہ آلوسی کہتے ہیں کہ یہی جمہور کا قول ہے۔ لیکن بعض دوسرے مفسرین نے پوری سُورہ کو مدنی کہا ہے، اور بعض  کا قول یہ ہے کہ یہ سُورہ ہے تو مکّی، مگرآیات۸تا۱۰ مدینے میں نازل ہوئی ہیں۔
<p>
جہاں تک اِس سورۃ کے مضامین اور اندازِ بیان کا تعلق ہے ، وہ مدنی سُورتوں کے مضامین اور اندازِ بیان سے بہت مختلف ہے،
بلکہ اس پر غور کرنے سے تو صاف محسوس ہوتا ہے کہ یہ نہ صرف مکّی ہے بلکہ مکّہ معظمہ کے بھی اُس دور میں نازل ہوئی ہے جو
سورہ مُدَّثِّر کی ابتدائی سات آیا تکے بعد شروع ہوا تھا۔ رہیں آیات ۸ تا ۱۰(</p>
<span class="ar indopak">وَیُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ </span><p>سے لے کر </p>
<span class="ar indopak">یَوْمًا عَبُوْسًا قَمْطَرِیْراً </span><p>تک) تو وہ پُوری سُورۃ کے سلسلہ میں بیان میں اِس طرح
پیوست ہیں کہ سیاق وسباق کے ساتھ کوئی  اُن کو پڑھے تو ہر گز یہ محسوس نہیں کر سکتا  کہ اِن سے پہلے اور بعد کا مضمون تو
۱۵۔۱۶ سال پہلے نازل ہوا تھا اور اُس کے کئی سال بعد نازل ہونے والی یہ تین آیتیں یہاں لا کر ثبت کر دی گئیں۔</p>
دراصل جس بنا پر اِس سورۃ کے ، یا اس کے بعض آیات کے مدنی ہونے کا خیال پیدا ہوا ہے وہ ایک روایت ہے جو عطاء نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرات حسن وحسین رضی اللہ تعالی عنہما بیما ر ہو گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور بہت سے  صحابہ ؓ ان کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے۔ بعض صحابہؓ نے حضرت علیؓ کو مشورہ دیا کہ آپ دونوں بچوں کی شفا کے لیے اللہ تعالیٰ سے کوئی نذر مانیں۔ چنانچہ حضرت علی ؓ، حضرت فاطمہ ؓ اور ان کی خادمہ فِضّہؓ نے نذر مانی کہ اگر اللہ نے دونوں بچوں کو شفاء عطا فرمادی تو یہ سب شُکرانے کے طور پر تین دن کے روزے رکھیں گے۔ اللہ فضل ہوا کہ دونوں دتندرست ہوگئے اور تینوں صاحبوں نے نذر کے روزے رکھنے شروع کر دیے۔ حضرت علی ؓ کے گھر میں کھانے کو کچھ نہ تھا۔ انہوں نے تین صاع جَو قرض لیے( اور ایک روایت میں ہے کہ محنت مزدوری کر کے حاصل کیے)۔ پہلا روزہ کھول کر جب کھانے کے لیے بیٹھے تو ایک مسکین نے کھانا مانگا۔ گھر والوں نے سارا کھانا اسے دے دیا اور خود پانی پی کر سو رہے۔ دوسرے دن پھر افطار کے بعد کھانے کے لیے بیٹھے تو ایک یتیم آگیا اور اس نے سوال کیا۔ اُس روز بھی سارا کھانا انہوں نے  اُس کو دے دیا اور پانی پی کر سو رہے۔ تیسرے دن روزہ کھول کر ابھی کھانے کے لیے بیٹھے ہی تھے کہ ایک قیدی نے آکر وہی سوال کر دیا اور اُس روز  کا بھی پُورا کھانا اسے دے دیا گیا۔ چوتھے روز حضرت علیؓ دونوں بچوں  کو لیے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو حضور ؐ نے دیکھا کہ بُھوک کی شدّت سے تینوں باپ بیٹوں کا بُرا حال ہورہا ہے۔ آپؐ اُٹھ کر اُن کے ساتھ حضرت فاطمہؓ کے گھر پہنچے تو دیکھا کہ وہ بھی ایک کونے میں بھوک سے نڈھال پڑی ہیں۔ یہ حال دیکھ کر حضورؐ پر رقت طاری ہو گئی۔ اتنے میں جبریل علیہ السلام حاضر ہوئے اور انہوں نے عرض کیا کہ لیجیے، اللہ تعالیٰ نے آپ کے اہلِ بیت کے معاملہ میں آپ کو مبارک باد دی ہے ۔ حضورؐ نے پوچھا وہ کیا ہے؟ انہوں نے جواب میں یہ پوری سورۃ آپ کو پڑھ کر سنائی (ابن مہران کی روایت  میں ہے کہ آیت
<span class="ar indopak">اِنَّ الْاَبْرَارَ یَشْرَبُوْنَ</span><p> سے لے کر آخر تک کی آیات سنائیں۔ مگر ابن مَرْ دُویہ
نے ابن عباس سے جو روایت نقل کی ہے اس میں صرف یہ بیان کیا گیا ہے کہ آیت  </p>
<span class="ar indopak">وَیُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ.</span><p>.... حضرت علی اور حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی ٰ عنہما کے بارے
میں نازل ہوئی ہے، اِس قصّے کا اُس میں کوئی ذکر نہیں ہے۔ یہ پُورا قصّہ علی بن احمد الواحِدی نے اپنی تفسیر البسیط میں
بیان کیا ہے اور غالباً اُسی سے زَمَخْشَری، رازی اور نَیسا بوری وغرہ ہم  نے اس سے نقل کیا ہے۔</p>
یہ روایت اوّل تو سند کے لحاظ سے نہایت کمزور ہے۔ پھر درایت کے لحاظ سے دیکھیے تو یہ بات عجیب معلوم ہوتی ہے کہ ایک مسکین، ایک یتیم اور ایک قیدی اگر آکر کھانا مانگتا ہے تو گھر کے پانچوں افراد کا پُورا کھانا اس کو دے دینے کی کیا معقول وجہ ہو سکتی ہے؟ ایک آدمی کا کھانا اس کو دے کر گھر کے پانچ افراد چار آدمیوں کے کھانے پر اکتفا کر سکتے تھے۔ پھر یہ بھی باور کرنا مشکل ہے کہ دو بچے جو ابھی ابھی بیماری سےاٹھے تھے اور کمزوری کی حالت میں تھے، انہیں بھی تین دن بھوکا رکھنے کو حضرت علی ؓ اور حضرت فاطمہؓ جیسی کامل فہیم دین رکھنے والی ہستیوں نے نیکی کا کام سمجھا ہوگا۔ اِس کے علاوہ قیدیوں کے معاملہ میں طریقہ اسلامی حکومت کے دَور میں کبھی نہیں رہا کہ انہیں بھیک مانگنے کے لیے چھوڑ دیا جائے۔ وہ اگر حکومت کی قید میں ہوتے تو حکومت ان کی خوراک اور لباس کا انتظام کرتی تھی، اور کسی شخص کے سُپرد کیے جاتے تو وہ شخص انہیں کھلانے پلانے کا ذمّہ دار ہوتا تھا۔ اس لیے مدینہ طیبہ میں یہ بات ممکن نہ تھی کہ کوئی قیدی بھیک مانگنے کے لیے نکلتا۔ تاہم اِن تمام نقلی اور عقلی کمزوریوں کو نظر انداز کرکے اگر اِس قصّے کو بالکل صحیح ہی مان لیا جائے تو زیادہ سے زیادہ اِس سے جو کچھ معلوم ہوتا ہے وہ صرف یہ ہے کہ جب آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے اِس نیک عمل کا صُدُور ہوا تو جبریلؑ نے آکر  حضورؐ کو خوشخبری سنائی کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں  آپ کے اہلِ بیت کا یہ فعل بہت مقبول ہوا ہے، کیونکہ اُنہوں نے ٹھیک وہی پسند یدہ کام کیا ہے جس کی تعریف اللہ تعالی  ٰ نے سُورہ دہر کی اِن آیات میں فرمائی ہے۔ اِس سے یہ لازم نہیں آتا کہ یہ آیات نازل بھی اِسی موقع پر ہوئی تھیں۔ شانِ نزول کے بارے میں بہت سی روایات کا حال یہی ہے کہ کسی آیت کے متعلق جب یہ کہا جاتا ہے کہ فلاں موقع پر نازل ہوئی تھی تو دراصل اس سے مُراد یہ نہیں ہوتی کہ جب یہ واقعہ پیش آیا اُسی وقت یہ آیت نازل ہوئی تھی بلکہ مراد یہ ہوتی ہے کہ یہ آیت اِس واقعہ پر ٹھیک چسپاں ہوتی ہے۔ امام سُیُوطیِ نے اِتقان میں حافظ ابنِ تَیِمیہؒ کا یہ قول نقل کیا ہے کہ ”راوی جب یہ کہتےہیں کہ یہ آیت فلاں معاملہ میں نازل ہوئی ہے تو کبھی اس سے مراد یہ ہوتی ہے کہ وہی معاملہ اس کے نزول کا سبب ہے ، اور کبھی اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ معاملہ اس آیت کے حکم میں داخل ہے اگرچہ وہ اس کے نزول کا سبب نہ ہو“۔ آگے چل کر وہ امام بدرالدین زَرْکَشِی کا قول اُن کی کتاب البُرہان فی علوم القرآن سے نقل کرتے ہیں کہ ”صحابہؓ اور تابعین کی یہ عادت معروف ہے کہ ان میں سے کوئی شخص جب یہ کہتا ہے کہ یہ آیت فلاں معاملہ میں نازل ہوئی تھی تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس آیت کا حکم  اس معاملہ پر چسپاں ہوتا ہے ، نہ یہ ک وہی اِس واقعہ کے نزول کا سبب ہے۔پس دراصل اُس کی نوعیت آیت کے حکم سے استدلال کی ہوتی ہے نہ کہ بیانِ واقعہ کی“(الاِتقان فی علوم القرآن، جلد اوّل، صفجہ ۳۱، طبع۱۹۲۹ء)۔   
<h2>موضوع اور مضمون:</h2>
<p>اِس سُورہ کا موضوع انسان کو دنیا میں اُس کی حقیقی حیثیت سے آگاہ کرنا اور یہ بتا نا ہے کہ اگر وہ اپنی اِس حیثیت کو
ٹھیک ٹھیک سمجھ کر شکر کا رَویّہ اختیار کر ے تو اس کا انجام کیا ہو گا اور کفر کی راہ چلے تو کس انجام سے وہ  دو چار
ہوگا۔ قرآن کی بڑی سُورتوں میں تو یہ مضمون بڑی تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے، لیکن ابتدائی مکّی دور کی سُورتوں کا یہ
خاص اندازِ بیان ہے کہ جو باتیں بعد کے دَور میں مفصّل ارشاد ہوئی ہیں، وہی اِس دور میں بڑے مختصر مگر انتہائی مؤثر
طریقے سے ذہن نشین کرائی گئی ہیں اور ایسے چھوٹے چھوٹے خوبصورت فقرے استعمال کیے گئے ہیں جو سننے والوں کی زبان پر خود
بخود چڑھ جائیں۔</p>
اس میں سب سے پہلے انسان کو یاد دلایا گیا ہے کہ ایک وقت ایسا تھا جب وہ کچھ نہ تھا، پھر ایک مخلوط نطفے سے اُس کی ایسی حقیر سی ابتدا کی گئی کہ اُس کی ماں تک کو خبر نہ تھی کہ اُس کے وجود کی بنا پڑگئی ہے اور کوئی اُس خوردبینی وجود کو دیکھ کر یہ نہیں کہہ سکتا تھا کہ یہ کوئی انسان ہے جو آگے چل کر اِس زمین پر اشرف المخلوقات بننے والا ہے۔ اس کے بعد انسان کو خبر دار کیا گیا ہے کہ تیری تخلیق اِس طرح کر کے تجھے یہ کچھ ہم نے اس لیے بنایا ہے کہ ہم دنیا میں رکھ کر تیرا امتحان لینا چاہتے ہیں۔ اسی لیے دوسری مخلوقات کے بر عکس تجھے ہوش گوش رکھنے والا بنایا گیا اور تیرے سامنے شُکر اور کُفر کے دونوں راستے کھول کر رکھ دیے گئے تا کہ یہاں کام کرنے کا جو وقت تجھے دیا گیا ہے اس میں تو دکھا دے کہ اس امتحان سے تو شاکر بندہ بن کر نکلا ہے یا کافر بندہ بن کر۔
<p>
پھر صرف ایک آیت میں دو ٹوک طریقہ سے بتا دیا گیا ہے کہ جو لوگ اِس امتحان سے کافرین کر نکلیں گے اُنہیں آخرت میں کیا
انجام دیکھنا ہوگا۔</p>
اس کے بعد آیت نمبر ۵ سے ۲۲ تک مسلسل اُن انعامات کی تفصیل بیان کی گئی ہے جن سے وہ لوگ اپنے رب کے ہاں نوازے جائیں گے جنہوں نے یہاں  بندگی کا حق ادا کیا ہے۔ اِن آیات میں صرف اُن کی بہترین جزاء بتا نے ہی پر اکتفا نہیں کیا گیا ہے بلکہ مختصراً یہ بھی بتا دیا گیا ہے کہ اُن کے وہ کیا اعمال ہیں جن کی بنا پر وہ اِس جزا کے مستحق ہوں گے ۔ مکی دور کی ابتدائی سورتوں کی خصوصیات میں سے ایک نمایاں خصوصیت یہ بھی ہے کہ اُن میں اسلام کے بنیادی عقائد اور تصورات کا مختصر تعارف کرنے کے ساتھ ساتھ کہیں وہ اخلاقی اوصاف اور نیک اعمال بیان کیے گئے ہیں جو اسلام کی نگاہ میں  قابلِ قدر ہیں، اور کہیں اعمال و اخلاق کی اُن برائیوں کا ذکر کیا گیا ہے جن سے اسلام انسان کو پاک کرنا چاہتا ہے۔ اور یہ دونوں چیزیں اِس لحاظ سے بیان نہیں کی گئی ہیں کہ ان کا کیا اچھا یا بُرا نتیجہ دنیا کی اِس عارضی زندگی میں نکلتا ہے، بلکہ صرف اِس حیثیت سے  اُن کا ذکر کیا گیا ہے کہ آخرت کی ابدی اور پائیدار زندگی میں اُن کا مستقل نتیجہ کیا ہو گا قطع نظر اس سے کہ دنیا میں کوئی بُری صفت مفید  ہو یا کوئی اچھی صفت نقصان دہ ثابت ہو۔
<p>
یہ پہلے رکوع کا مضمون ہے۔ اس کے بعد دوسرے رکوع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کرکے تین باتیں ارشاد فرمائی
گئی ہیں۔ ایک یہ کہ دراصل یہ ہم ہی ہیں جو اِ س قرآن کو تھوڑا تھوڑا کر کے تم پر نازل کر رہے ہیں، اور اس سے مقصود حضورؐ
کو نہیں بلکہ کفار کو خبر دار کرنا ہے کہ یہ قرآں محمد صلی اللہ علیہ وسلم خود اپنے دل سے  نہیں گھڑ رہے ہیں بلکہ اس کے
نازل کرنے والے”ہم“ہیں اور ہماری حکمت ہی اِس کے مقتضی ہے کہ اسے یک بار گی  نہیں بلکہ تھوڑا تھوڑا کر کے نازل کریں۔
دوسری بات حضورؐ سے یہ فرمائی گئی ہے کہ تمہارے رب کا فیصلہ صادر ہونے  میں خواہ کتنی ہی دیر لگے، اور اس دوران میں تم
پر خواہ کچھ ہی گزر جائے، بہر حال تم صبر کے ساتھ اپنا فریضہ رسالت انجام دیے چلے جا ؤ  اور کبھی اِن بد عمل اور مُنکرِ
حق لوگوں میں سے کسی کے دبا ؤ میں نہ آ ؤ۔ تیسری بات آپ  سے یہ فرمائی گئی ہے کہ شب و روز اللہ کو یاد کرو، نماز پڑھو
اور راتیں اللہ کی عبادت میں گزار رو،کیونکہ یہی وہ چیز ہے جس سے کفر کی طغیانی کے مقابلہ میں اللہ کی طرف بلانے والوں
کو ثابت قدمی نصیب ہوتی ہے۔</p>
پھر ایک فقرے میں کُفّار کے غَلَط رَویّے کی اصل وجہ بیان کی گئی ہے کہ وہ آخرت کو بُھول کر دنیا پر فریفتہ ہوگئے ہیں ، اور دوسرے فقرے میں اُن کو متنبہ کیا گیا ہے کہ تم خود نہیں بن گئے ہو، ہم نے تمہیں بنایا ہے، یہ چوڑے چکلے سینے اور مضبوط ہاتھ پا ؤں تم نے خود اپنے لیےنہیں بنا لیے ہیں، ان کے بنا نے والے بھی ہم ہی ہیں، اور یہ بات ہر وقت ہماری قدرت میں ہے کہ جو کچھ ہم تمہارے ساتھ کرنا چاہیں کر سکتے ہیں۔ تمہاری شکلیں بگاڑ سکتے ہیں۔ تمہیں ہلاک کرکے کوئی دوسری قوم تمہاری جگہ لا سکتے ہیں۔ تمہیں مار کر دوبارہ جس شکل میں چاہیں تمہیں پیدا کر سکتے ہیں۔        آخر میں کلام اس بات پر ختم کیا گیا ہے یہ کہ ایک کلمہ نصیحت ہے ، اب جس کا جی چاہے اسے قبول کر کے اپنے رب کا راستہ اختیار کر لے۔ مگر دنیا میں انسان کی چاہت ہی سکب کچھ نہیں ہے۔ کسی کی چاہت بھی پوری نہیں ہو سکتی جب تک اللہ نہ چاہے، اور اللہ کی چاہت اندھا دُھند نہیں ہے، وہ جو کچھ بھی چاہتا ہے اپنے علم اور اپنی حکمت کی بنا پر چاہتا ہے۔ اِس علم اور حکمت کی بنا پر جسے وہ اپنی رحمت کا مستحق سمجھتا ہے اسے اپنی رحمت میں داخل کر لیتا ہے ، اور جسے وہ ظالم پاتا ہے اس کے لیے درد ناک عذاب کا انتظام  اس نے کر رکھا ہے۔

Verse by verse

Surah As-Saffat · صف باندھنے والے

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

  1. Ayah 1

    بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ وَالصَّافَّاتِ صَفًّا

    قطار در قطار صف باندھنے والوں کی قسم

  2. Ayah 2

    فَالزَّاجِرَاتِ زَجْرًا

    پھر اُن کی قسم جو ڈانٹنے پھٹکارنے والے ہیں

  3. Ayah 3

    فَالتَّالِيَاتِ ذِكْرًا

    پھر اُن کی قسم جو کلام نصیحت سنانے والے ہیں

  4. Ayah 4

    إِنَّ إِلَـٰهَكُمْ لَوَاحِدٌ

    تمہارا معبود حقیقی بس ایک ہی ہے

  5. Ayah 5

    رَّبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا وَرَبُّ الْمَشَارِقِ

    وہ جو زمین اور آسمانوں کا اور تمام اُن چیزوں کا مالک ہے جو زمین و آسمان میں ہیں، اور سارے مشرقوں کا مالک

  6. Ayah 6

    إِنَّا زَيَّنَّا السَّمَاءَ الدُّنْيَا بِزِينَةٍ الْكَوَاكِبِ

    ہم نے آسمان دنیا کو تاروں کی زینت سے آراستہ کیا ہے

  7. Ayah 7

    وَحِفْظًا مِّن كُلِّ شَيْطَانٍ مَّارِدٍ

    اور ہر شیطان سرکش سے اس کو محفوظ کر دیا ہے

  8. Ayah 8

    لَّا يَسَّمَّعُونَ إِلَى الْمَلَإِ الْأَعْلَىٰ وَيُقْذَفُونَ مِن كُلِّ جَانِبٍ

    یہ شیاطین ملاء اعلیٰ کی باتیں نہیں سن سکتے، ہر طرف سے مارے اور ہانکے جاتے ہیں

  9. Ayah 9

    دُحُورًا ۖ وَلَهُمْ عَذَابٌ وَاصِبٌ

    اور ان کے لیے پیہم عذاب ہے

  10. Ayah 10

    إِلَّا مَنْ خَطِفَ الْخَطْفَةَ فَأَتْبَعَهُ شِهَابٌ ثَاقِبٌ

    تاہم اگر کوئی ان میں سے کچھ لے اڑے تو ایک تیز شعلہ اس کا پیچھا کرتا ہے

  11. Ayah 11

    فَاسْتَفْتِهِمْ أَهُمْ أَشَدُّ خَلْقًا أَم مَّنْ خَلَقْنَا ۚ إِنَّا خَلَقْنَاهُم مِّن طِينٍ لَّازِبٍ

    اب اِن سے پوچھو، اِن کی پیدائش زیادہ مشکل ہے یا اُن چیزوں کی جو ہم نے پیدا کر رکھی ہیں؟ اِن کو تو ہم نے لیس دار گارے سے پیدا کیا ہے

  12. Ayah 12

    بَلْ عَجِبْتَ وَيَسْخَرُونَ

    تم (اللہ کی قدرت کے کرشموں پر) حیران ہو اور یہ اس کا مذاق اڑا رہے ہیں

  13. Ayah 13

    وَإِذَا ذُكِّرُوا لَا يَذْكُرُونَ

    سمجھایا جاتا ہے تو سمجھ کر نہیں دیتے

  14. Ayah 14

    وَإِذَا رَأَوْا آيَةً يَسْتَسْخِرُونَ

    کوئی نشانی دیکھتے ہیں تو اسے ٹھٹھوں میں اڑاتے ہیں

  15. Ayah 15

    وَقَالُوا إِنْ هَـٰذَا إِلَّا سِحْرٌ مُّبِينٌ

    اور کہتے ہیں "یہ تو صریح جادو ہے

  16. Ayah 16

    أَإِذَا مِتْنَا وَكُنَّا تُرَابًا وَعِظَامًا أَإِنَّا لَمَبْعُوثُونَ

    بھلا کہیں ایسا ہو سکتا ہے کہ جب ہم مر چکے ہوں اور مٹی بن جائیں اور ہڈیوں کا پنجر رہ جائیں اُس وقت ہم پھر زندہ کر کے اٹھا کھڑے کیے جائیں؟

  17. Ayah 17

    أَوَآبَاؤُنَا الْأَوَّلُونَ

    اور کیا ہمارے اگلے وقتوں کے آبا و اجداد بھی اٹھائے جائیں گے؟"

  18. Ayah 18

    قُلْ نَعَمْ وَأَنتُمْ دَاخِرُونَ

    اِن سے کہو ہاں، اور تم (خدا کے مقابلے میں) بے بس ہو

  19. Ayah 19

    فَإِنَّمَا هِيَ زَجْرَةٌ وَاحِدَةٌ فَإِذَا هُمْ يَنظُرُونَ

    بس ایک ہی جھڑکی ہو گی اور یکایک یہ اپنی آنکھوں سے (وہ سب کچھ جس کی خبر دی جا رہی ہے) دیکھ رہے ہوں گے

  20. Ayah 20

    وَقَالُوا يَا وَيْلَنَا هَـٰذَا يَوْمُ الدِّينِ

    اُس وقت یہ کہیں گے "ہائے ہماری کم بختی، یہ تو یوم الجزا ہے"

  21. Ayah 21

    هَـٰذَا يَوْمُ الْفَصْلِ الَّذِي كُنتُم بِهِ تُكَذِّبُونَ

    "یہ وہی فیصلے کا دن ہے جسے تم جھٹلایا کرتے تھے"

  22. Ayah 22

    احْشُرُوا الَّذِينَ ظَلَمُوا وَأَزْوَاجَهُمْ وَمَا كَانُوا يَعْبُدُونَ

    (حکم ہو گا) گھیر لاؤ سب ظالموں اور ان کے ساتھیوں اور اُن معبودوں کو جن کی وہ خدا کو چھوڑ کر بندگی کیا کرتے تھے

  23. Ayah 23

    مِن دُونِ اللَّهِ فَاهْدُوهُمْ إِلَىٰ صِرَاطِ الْجَحِيمِ

    پھر ان سب کو جہنم کا راستہ دکھاؤ

  24. Ayah 24

    وَقِفُوهُمْ ۖ إِنَّهُم مَّسْئُولُونَ

    اور ذرا اِنہیں ٹھیراؤ، اِن سے کچھ پوچھنا ہے

  25. Ayah 25

    مَا لَكُمْ لَا تَنَاصَرُونَ

    "کیا ہو گیا تمہیں، اب کیوں ایک دوسرے کی مدد نہیں کرتے؟

  26. Ayah 26

    بَلْ هُمُ الْيَوْمَ مُسْتَسْلِمُونَ

    ارے، آج تو یہ اپنے آپ کو (اور ایک دوسرے کو) حوالے کیے دے رہے ہیں!"

  27. Ayah 27

    وَأَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ يَتَسَاءَلُونَ

    اس کے بعد یہ ایک دوسرے کی طرف مڑیں گے اور باہم تکرار شروع کر دیں گے

  28. Ayah 28

    قَالُوا إِنَّكُمْ كُنتُمْ تَأْتُونَنَا عَنِ الْيَمِينِ

    (پیروی کرنے والے اپنے پیشواؤں سے) کہیں گے، "تم ہمارے پاس سیدھے رخ سے آتے تھے"

  29. Ayah 29

    قَالُوا بَل لَّمْ تَكُونُوا مُؤْمِنِينَ

    وہ جواب دیں گے، "نہیں بلکہ تم خود ایمان لانے والے نہ تھے

  30. Ayah 30

    وَمَا كَانَ لَنَا عَلَيْكُم مِّن سُلْطَانٍ ۖ بَلْ كُنتُمْ قَوْمًا طَاغِينَ

    ہمارا تم پر کوئی زور نہ تھا، تم خود ہی سرکش لوگ تھے

  31. Ayah 31

    فَحَقَّ عَلَيْنَا قَوْلُ رَبِّنَا ۖ إِنَّا لَذَائِقُونَ

    آخرکار ہم اپنے رب کے اِس فرمان کے مستحق ہو گئے کہ ہم عذاب کا مزا چکھنے والے ہیں

  32. Ayah 32

    فَأَغْوَيْنَاكُمْ إِنَّا كُنَّا غَاوِينَ

    سو ہم نے تم کو بہکا یا، ہم خود بہکے ہوئے تھے"

  33. Ayah 33

    فَإِنَّهُمْ يَوْمَئِذٍ فِي الْعَذَابِ مُشْتَرِكُونَ

    اِس طرح وہ سب اُس روز عذاب میں مشترک ہوں گے

  34. Ayah 34

    إِنَّا كَذَٰلِكَ نَفْعَلُ بِالْمُجْرِمِينَ

    ہم مجرموں کے ساتھ یہی کچھ کیا کرتے ہیں

  35. Ayah 35

    إِنَّهُمْ كَانُوا إِذَا قِيلَ لَهُمْ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّهُ يَسْتَكْبِرُونَ

    یہ وہ لوگ تھے کہ جب ان سے کہا جاتا "اللہ کے سوا کوئی معبود بر حق نہیں ہے" تو یہ گھمنڈ میں آ جاتے تھے

  36. Ayah 36

    وَيَقُولُونَ أَئِنَّا لَتَارِكُو آلِهَتِنَا لِشَاعِرٍ مَّجْنُونٍ

    اور کہتے تھے "کیا ہم ایک شاعر مجنون کی خاطر اپنے معبودوں کو چھوڑ دیں؟"

  37. Ayah 37

    بَلْ جَاءَ بِالْحَقِّ وَصَدَّقَ الْمُرْسَلِينَ

    حالانکہ وہ حق لے کر آیا تھا اور اس نے رسولوں کی تصدیق کی تھی

  38. Ayah 38

    إِنَّكُمْ لَذَائِقُو الْعَذَابِ الْأَلِيمِ

    (اب ان سے کہا جائے گا کہ) تم لازماً دردناک سزا کا مزا چکھنے والے ہو

  39. Ayah 39

    وَمَا تُجْزَوْنَ إِلَّا مَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ

    اور تمہیں جو بدلہ بھی دیا جا رہا ہے اُنہی اعمال کا دیا جا رہا ہے جو تم کرتے رہے ہو

  40. Ayah 40

    إِلَّا عِبَادَ اللَّهِ الْمُخْلَصِينَ

    مگر اللہ کے چیدہ بندے (اس انجام بد سے) محفوظ ہوں گے

  41. Ayah 41

    أُولَـٰئِكَ لَهُمْ رِزْقٌ مَّعْلُومٌ

    ان کے لیے جانا بوجھا رزق ہے

  42. Ayah 42

    فَوَاكِهُ ۖ وَهُم مُّكْرَمُونَ

    ہر طرح کی لذیذ چیزیں،

  43. Ayah 43

    فِي جَنَّاتِ النَّعِيمِ

    اور نعمت بھری جنتیں

  44. Ayah 44

    عَلَىٰ سُرُرٍ مُّتَقَابِلِينَ

    جن میں وہ عزت کے ساتھ رکھے جائیں گے تختوں پر آمنے سامنے بیٹھیں گے

  45. Ayah 45

    يُطَافُ عَلَيْهِم بِكَأْسٍ مِّن مَّعِينٍ

    شراب کے چشموں سے ساغر بھر بھر کر ان کے درمیان پھرائے جائیں گے

  46. Ayah 46

    بَيْضَاءَ لَذَّةٍ لِّلشَّارِبِينَ

    چمکتی ہوئی شراب، جو پینے والوں کے لیے لذّت ہو گی

  47. Ayah 47

    لَا فِيهَا غَوْلٌ وَلَا هُمْ عَنْهَا يُنزَفُونَ

    نہ ان کے جسم کو اس سے کوئی ضرر ہوگا اور نہ ان کی عقل اس سے خراب ہو گی

  48. Ayah 48

    وَعِندَهُمْ قَاصِرَاتُ الطَّرْفِ عِينٌ

    اور ان کے پاس نگاہیں بچانے والی، خوبصورت آنکھوں والی عورتیں ہوں گی

  49. Ayah 49

    كَأَنَّهُنَّ بَيْضٌ مَّكْنُونٌ

    ایسی نازک جیسے انڈے کے چھلکے کے نیچے چھپی ہوئی جھلی

  50. Ayah 50

    فَأَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ يَتَسَاءَلُونَ

    پھر وہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر حالات پوچھیں گے

  51. Ayah 51

    قَالَ قَائِلٌ مِّنْهُمْ إِنِّي كَانَ لِي قَرِينٌ

    ان میں سے ایک کہے گا، "دنیا میں میرا ایک ہم نشین تھا

  52. Ayah 52

    يَقُولُ أَإِنَّكَ لَمِنَ الْمُصَدِّقِينَ

    جو مجھ سے کہا کرتا تھا، کیا تم بھی تصدیق کرنے والوں میں سے ہو؟

  53. Ayah 53

    أَإِذَا مِتْنَا وَكُنَّا تُرَابًا وَعِظَامًا أَإِنَّا لَمَدِينُونَ

    کیا واقعی جب ہم مر چکے ہوں گے اور مٹی ہو جائیں گے اور ہڈیوں کا پنجر بن کر رہ جائیں گے تو ہمیں جزا و سزا دی جائے گی؟

  54. Ayah 54

    قَالَ هَلْ أَنتُم مُّطَّلِعُونَ

    اب کیا آپ لوگ دیکھنا چاہتے ہیں کہ وہ صاحب اب کہاں ہیں؟"

  55. Ayah 55

    فَاطَّلَعَ فَرَآهُ فِي سَوَاءِ الْجَحِيمِ

    یہ کہہ کر جونہی وہ جھکے گا تو جہنم کی گہرائی میں اس کو دیکھ لے گا

  56. Ayah 56

    قَالَ تَاللَّهِ إِن كِدتَّ لَتُرْدِينِ

    اور اس سے خطاب کر کے کہے گا "خدا کی قسم، تُو تو مجھے تباہ ہی کر دینے والا تھا

  57. Ayah 57

    وَلَوْلَا نِعْمَةُ رَبِّي لَكُنتُ مِنَ الْمُحْضَرِينَ

    میرے رب کا فضل شامل حال نہ ہوتا تو آج میں بھی اُن لوگوں میں سے ہوتا جو پکڑے ہوئے آئے ہیں

  58. Ayah 58

    أَفَمَا نَحْنُ بِمَيِّتِينَ

    اچھا تو کیا اب ہم مرنے والے نہیں ہیں؟

  59. Ayah 59

    إِلَّا مَوْتَتَنَا الْأُولَىٰ وَمَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِينَ

    موت جو ہمیں آنی تھی وہ بس پہلے آ چکی؟ اب ہمیں کوئی عذاب نہیں ہونا؟"

  60. Ayah 60

    إِنَّ هَـٰذَا لَهُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ

    یقیناً یہی عظیم الشان کامیابی ہے

  61. Ayah 61

    لِمِثْلِ هَـٰذَا فَلْيَعْمَلِ الْعَامِلُونَ

    ایسی ہی کامیابی کے لیے عمل کرنے والوں کو عمل کرنا چاہیے

  62. Ayah 62

    أَذَٰلِكَ خَيْرٌ نُّزُلًا أَمْ شَجَرَةُ الزَّقُّومِ

    بولو، یہ ضیافت اچھی ہے یا زقوم کا درخت؟

  63. Ayah 63

    إِنَّا جَعَلْنَاهَا فِتْنَةً لِّلظَّالِمِينَ

    ہم نے اُس درخت کو ظالموں کے لیے فتنہ بنا دیا ہے

  64. Ayah 64

    إِنَّهَا شَجَرَةٌ تَخْرُجُ فِي أَصْلِ الْجَحِيمِ

    وہ ایک درخت ہے جو جہنم کی تہ سے نکلتا ہے

  65. Ayah 65

    طَلْعُهَا كَأَنَّهُ رُءُوسُ الشَّيَاطِينِ

    اُس کے شگوفے ایسے ہیں جیسے شیطانوں کے سر

  66. Ayah 66

    فَإِنَّهُمْ لَآكِلُونَ مِنْهَا فَمَالِئُونَ مِنْهَا الْبُطُونَ

    جہنم کے لوگ اُسے کھائیں گے اور اسی سے پیٹ بھریں گے

  67. Ayah 67

    ثُمَّ إِنَّ لَهُمْ عَلَيْهَا لَشَوْبًا مِّنْ حَمِيمٍ

    پھر اس پر پینے کے لیے کھولتا ہوا پانی ملے گا

  68. Ayah 68

    ثُمَّ إِنَّ مَرْجِعَهُمْ لَإِلَى الْجَحِيمِ

    اور اس کے بعد ان کی واپسی اُسی آتش دوزخ کی طرف ہو گی

  69. Ayah 69

    إِنَّهُمْ أَلْفَوْا آبَاءَهُمْ ضَالِّينَ

    یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے باپ دادا کو گمراہ پایا

  70. Ayah 70

    فَهُمْ عَلَىٰ آثَارِهِمْ يُهْرَعُونَ

    اور انہی کے نقش قدم پر دوڑ چلے

  71. Ayah 71

    وَلَقَدْ ضَلَّ قَبْلَهُمْ أَكْثَرُ الْأَوَّلِينَ

    حالانکہ ان سے پہلے بہت سے لوگ گمراہ ہو چکے تھے

  72. Ayah 72

    وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا فِيهِم مُّنذِرِينَ

    اور اُن میں ہم نے تنبیہ کرنے والے رسول بھیجے تھے

  73. Ayah 73

    فَانظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُنذَرِينَ

    اب دیکھ لو کہ اُن تنبیہ کیے جانے والوں کا کیا انجام ہوا

  74. Ayah 74

    إِلَّا عِبَادَ اللَّهِ الْمُخْلَصِينَ

    اس بد انجامی سے بس اللہ کے وہی بندے بچے ہیں جنہیں اس نے اپنے لیے خالص کر لیا ہے

  75. Ayah 75

    وَلَقَدْ نَادَانَا نُوحٌ فَلَنِعْمَ الْمُجِيبُونَ

    ہم کو (اِس سے پہلے) نوحؑ نے پکارا تھا، تو دیکھو کہ ہم کیسے اچھے جواب دینے والے تھے

  76. Ayah 76

    وَنَجَّيْنَاهُ وَأَهْلَهُ مِنَ الْكَرْبِ الْعَظِيمِ

    ہم نے اُس کو اور اس کے گھر والوں کو کرب عظیم سے بچا لیا

  77. Ayah 77

    وَجَعَلْنَا ذُرِّيَّتَهُ هُمُ الْبَاقِينَ

    اور اسی کی نسل کو باقی رکھا

  78. Ayah 78

    وَتَرَكْنَا عَلَيْهِ فِي الْآخِرِينَ

    اور بعد کی نسلوں میں اس کی تعریف و توصیف چھوڑ دی

  79. Ayah 79

    سَلَامٌ عَلَىٰ نُوحٍ فِي الْعَالَمِينَ

    سلام ہے نوحؑ پر تمام دنیا والوں میں

  80. Ayah 80

    إِنَّا كَذَٰلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ

    ہم نیکی کرنے والوں کو ایسی ہی جزا دیا کرتے ہیں

  81. Ayah 81

    إِنَّهُ مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِينَ

    در حقیقت وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھا

  82. Ayah 82

    ثُمَّ أَغْرَقْنَا الْآخَرِينَ

    پھر دوسرے گروہ کو ہم نے غرق کر دیا

  83. Ayah 83

    وَإِنَّ مِن شِيعَتِهِ لَإِبْرَاهِيمَ

    اور نوحؑ ہی کے طریقے پر چلنے والا ابراہیمؑ تھا

  84. Ayah 84

    إِذْ جَاءَ رَبَّهُ بِقَلْبٍ سَلِيمٍ

    جب وہ اپنے رب کے حضور قلب سلیم لے کر آیا

  85. Ayah 85

    إِذْ قَالَ لِأَبِيهِ وَقَوْمِهِ مَاذَا تَعْبُدُونَ

    جب اُس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا "یہ کیا چیزیں ہیں جن کی تم عبادت کر رہے ہو؟

  86. Ayah 86

    أَئِفْكًا آلِهَةً دُونَ اللَّهِ تُرِيدُونَ

    کیا اللہ کو چھوڑ کر جھوٹ گھڑے ہوئے معبود چاہتے ہو؟

  87. Ayah 87

    فَمَا ظَنُّكُم بِرَبِّ الْعَالَمِينَ

    آخر اللہ ربّ العالمین کے بارے میں تمہارا کیا گمان ہے؟"

  88. Ayah 88

    فَنَظَرَ نَظْرَةً فِي النُّجُومِ

    پھر اس نے تاروں پر ایک نگاہ ڈالی

  89. Ayah 89

    فَقَالَ إِنِّي سَقِيمٌ

    اور کہا میری طبیعت خراب ہے

  90. Ayah 90

    فَتَوَلَّوْا عَنْهُ مُدْبِرِينَ

    چنانچہ وہ لوگ اسے چھوڑ کر چلے گئے

  91. Ayah 91

    فَرَاغَ إِلَىٰ آلِهَتِهِمْ فَقَالَ أَلَا تَأْكُلُونَ

    اُن کے پیچھے وہ چپکے سے اُن کے معبودوں کے مندر میں گھس گیا اور بولا " آپ لوگ کھاتے کیوں نہیں ہیں؟

  92. Ayah 92

    مَا لَكُمْ لَا تَنطِقُونَ

    کیا ہو گیا، آپ لوگ بولتے بھی نہیں؟"

  93. Ayah 93

    فَرَاغَ عَلَيْهِمْ ضَرْبًا بِالْيَمِينِ

    اس کے بعد وہ اُن پر پل پڑا اور سیدھے ہاتھ سے خوب ضربیں لگائیں

  94. Ayah 94

    فَأَقْبَلُوا إِلَيْهِ يَزِفُّونَ

    (واپس آ کر) وہ لوگ بھاگے بھاگے اس کے پاس آئے

  95. Ayah 95

    قَالَ أَتَعْبُدُونَ مَا تَنْحِتُونَ

    اس نے کہا "کیا تم اپنی ہی تراشی ہوئی چیزوں کو پوجتے ہو؟

  96. Ayah 96

    وَاللَّهُ خَلَقَكُمْ وَمَا تَعْمَلُونَ

    حالانکہ اللہ ہی نے تم کو بھی پیدا کیا ہے اور اُن چیزوں کو بھی جنہیں تم بناتے ہو"

  97. Ayah 97

    قَالُوا ابْنُوا لَهُ بُنْيَانًا فَأَلْقُوهُ فِي الْجَحِيمِ

    انہوں نے آپس میں کہا "اس کے لیے ایک الاؤ تیار کرو اور اسے دہکتی ہوئی آگ کے ڈھیر میں پھینک دو"

  98. Ayah 98

    فَأَرَادُوا بِهِ كَيْدًا فَجَعَلْنَاهُمُ الْأَسْفَلِينَ

    انہوں نے اس کے خلاف ایک کاروائی کرنی چاہی تھی، مگر ہم نے انہی کو نیچا دکھا دیا

  99. Ayah 99

    وَقَالَ إِنِّي ذَاهِبٌ إِلَىٰ رَبِّي سَيَهْدِينِ

    ابراہیمؑ نے کہا "میں اپنے رب کی طرف جاتا ہوں، وہی میری رہنمائی کرے گا

  100. Ayah 100

    رَبِّ هَبْ لِي مِنَ الصَّالِحِينَ

    اے پروردگار، مجھے ایک بیٹا عطا کر جو صالحوں میں سے ہو"

  101. Ayah 101

    فَبَشَّرْنَاهُ بِغُلَامٍ حَلِيمٍ

    (اس دعا کے جواب میں) ہم نے اس کو ایک حلیم (بردبار) لڑکے کی بشارت دی

  102. Ayah 102

    فَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ السَّعْيَ قَالَ يَا بُنَيَّ إِنِّي أَرَىٰ فِي الْمَنَامِ أَنِّي أَذْبَحُكَ فَانظُرْ مَاذَا تَرَىٰ ۚ قَالَ يَا أَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ ۖ سَتَجِدُنِي إِن شَاءَ اللَّهُ مِنَ الصَّابِرِينَ

    وہ لڑکا جب اس کے ساتھ دوڑ دھوپ کرنے کی عمر کو پہنچ گیا تو (ایک روز) ابراہیمؑ نے اس سے کہا، "بیٹا، میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ میں تجھے ذبح کر رہا ہوں، اب تو بتا، تیرا کیا خیال ہے؟" اُس نے کہا، "ابا جان، جو کچھ آپ کو حکم دیا جا رہا ہے اسے کر ڈالیے، آپ انشاءاللہ مجھے صابروں میں سے پائیں گے"

  103. Ayah 103

    فَلَمَّا أَسْلَمَا وَتَلَّهُ لِلْجَبِينِ

    آخر کو جب اِن دونوں نے سر تسلیم خم کر دیا اور ابراہیمؑ نے بیٹے کو ماتھے کے بل گرا دیا

  104. Ayah 104

    وَنَادَيْنَاهُ أَن يَا إِبْرَاهِيمُ

    اور ہم نے ندا دی کہ "اے ابراہیمؑ

  105. Ayah 105

    قَدْ صَدَّقْتَ الرُّؤْيَا ۚ إِنَّا كَذَٰلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ

    تو نے خواب سچ کر دکھایا ہم نیکی کرنے والوں کو ایسی ہی جزا دیتے ہیں

  106. Ayah 106

    إِنَّ هَـٰذَا لَهُوَ الْبَلَاءُ الْمُبِينُ

    یقیناً یہ ایک کھلی آزمائش تھی"

  107. Ayah 107

    وَفَدَيْنَاهُ بِذِبْحٍ عَظِيمٍ

    اور ہم نے ایک بڑی قربانی فدیے میں دے کر اس بچے کو چھڑا لیا

  108. Ayah 108

    وَتَرَكْنَا عَلَيْهِ فِي الْآخِرِينَ

    اور اس کی تعریف و توصیف ہمیشہ کے لیے بعد کی نسلوں میں چھوڑ دی

  109. Ayah 109

    سَلَامٌ عَلَىٰ إِبْرَاهِيمَ

    سلام ہے ابراہیمؑ پر

  110. Ayah 110

    كَذَٰلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ

    ہم نیکی کرنے والوں کو ایسی ہی جزا دیتے ہیں

  111. Ayah 111

    إِنَّهُ مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِينَ

    یقیناً وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھا

  112. Ayah 112

    وَبَشَّرْنَاهُ بِإِسْحَاقَ نَبِيًّا مِّنَ الصَّالِحِينَ

    اور ہم نے اسے اسحاقؑ کی بشارت دی، ایک نبی صالحین میں سے

  113. Ayah 113

    وَبَارَكْنَا عَلَيْهِ وَعَلَىٰ إِسْحَاقَ ۚ وَمِن ذُرِّيَّتِهِمَا مُحْسِنٌ وَظَالِمٌ لِّنَفْسِهِ مُبِينٌ

    اور اسے اور اسحاقؑ کو برکت دی اب ان دونوں کی ذریّت میں سے کوئی محسن ہے اور کوئی اپنے نفس پر صریح ظلم کرنے والا ہے

  114. Ayah 114

    وَلَقَدْ مَنَنَّا عَلَىٰ مُوسَىٰ وَهَارُونَ

    اور ہم نے موسیٰؑ و ہارونؑ پر احسان کیا

  115. Ayah 115

    وَنَجَّيْنَاهُمَا وَقَوْمَهُمَا مِنَ الْكَرْبِ الْعَظِيمِ

    اُن کو اور ان کی قوم کو کرب عظیم سے نجات دی

  116. Ayah 116

    وَنَصَرْنَاهُمْ فَكَانُوا هُمُ الْغَالِبِينَ

    اُنہیں نصرت بخشی جس کی وجہ سے وہی غالب رہے

  117. Ayah 117

    وَآتَيْنَاهُمَا الْكِتَابَ الْمُسْتَبِينَ

    ان کو نہایت واضح کتاب عطا کی

  118. Ayah 118

    وَهَدَيْنَاهُمَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ

    انہیں راہ راست دکھائی

  119. Ayah 119

    وَتَرَكْنَا عَلَيْهِمَا فِي الْآخِرِينَ

    اور بعد کی نسلوں میں ان کا ذکر خیر باقی رکھا

  120. Ayah 120

    سَلَامٌ عَلَىٰ مُوسَىٰ وَهَارُونَ

    سلام ہے موسیٰؑ اور ہارونؑ پر

  121. Ayah 121

    إِنَّا كَذَٰلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ

    ہم نیکی کرنے والوں کو ایسی ہی جزا دیتے ہیں

  122. Ayah 122

    إِنَّهُمَا مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِينَ

    در حقیقت وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھے

  123. Ayah 123

    وَإِنَّ إِلْيَاسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِينَ

    اور الیاسؑ بھی یقیناً مرسلین میں سے تھا

  124. Ayah 124

    إِذْ قَالَ لِقَوْمِهِ أَلَا تَتَّقُونَ

    یاد کرو جب اس نے اپنی قوم سے کہا تھا کہ "تم لوگ ڈرتے نہیں ہو؟

  125. Ayah 125

    أَتَدْعُونَ بَعْلًا وَتَذَرُونَ أَحْسَنَ الْخَالِقِينَ

    کیا تم بعل کو پکارتے ہو اور احسن الخالقین کو چھوڑ دیتے ہو

  126. Ayah 126

    اللَّهَ رَبَّكُمْ وَرَبَّ آبَائِكُمُ الْأَوَّلِينَ

    اُس اللہ کو جو تمہارا اور تمہارے اگلے پچھلے آبا و اجداد کا رب ہے؟"

  127. Ayah 127

    فَكَذَّبُوهُ فَإِنَّهُمْ لَمُحْضَرُونَ

    مگر انہوں نے اسے جھٹلا دیا، سو اب یقیناً وہ سزا کے لیے پیش کیے جانے والے ہیں

  128. Ayah 128

    إِلَّا عِبَادَ اللَّهِ الْمُخْلَصِينَ

    بجز اُن بندگان خدا کے جن کو خالص کر لیا گیا تھا

  129. Ayah 129

    وَتَرَكْنَا عَلَيْهِ فِي الْآخِرِينَ

    اور الیاسؑ کا ذکر خیر ہم نے بعد کی نسلوں میں باقی رکھا

  130. Ayah 130

    سَلَامٌ عَلَىٰ إِلْ يَاسِينَ

    سلام ہے الیاسؑ پر

  131. Ayah 131

    إِنَّا كَذَٰلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ

    ہم نیکی کرنے والوں کو ایسی ہی جزا دیتے ہیں

  132. Ayah 132

    إِنَّهُ مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِينَ

    واقعی وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھا

  133. Ayah 133

    وَإِنَّ لُوطًا لَّمِنَ الْمُرْسَلِينَ

    اور لوطؑ بھی انہی لوگوں میں سے تھا جو رسول بنا کر بھیجے گئے ہیں

  134. Ayah 134

    إِذْ نَجَّيْنَاهُ وَأَهْلَهُ أَجْمَعِينَ

    یاد کرو جب ہم نے اس کو اور اس کے سب گھر والوں کو نجات دی

  135. Ayah 135

    إِلَّا عَجُوزًا فِي الْغَابِرِينَ

    سوائے ایک بڑھیا کے جو پیچھے رہ جانے والوں میں سے تھی

  136. Ayah 136

    ثُمَّ دَمَّرْنَا الْآخَرِينَ

    پھر باقی سب کو تہس نہس کر دیا

  137. Ayah 137

    وَإِنَّكُمْ لَتَمُرُّونَ عَلَيْهِم مُّصْبِحِينَ

    آج تم شب و روز اُن کے اجڑے دیار پر سے گزرتے ہو

  138. Ayah 138

    وَبِاللَّيْلِ ۗ أَفَلَا تَعْقِلُونَ

    کیا تم کو عقل نہیں آتی؟

  139. Ayah 139

    وَإِنَّ يُونُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِينَ

    اور یقیناً یونسؑ بھی رسولوں میں سے تھا

  140. Ayah 140

    إِذْ أَبَقَ إِلَى الْفُلْكِ الْمَشْحُونِ

    یاد کرو جب وہ ایک بھری کشتی کی طرف بھاگ نکلا

  141. Ayah 141

    فَسَاهَمَ فَكَانَ مِنَ الْمُدْحَضِينَ

    پھر قرعہ اندازی میں شریک ہوا اور اس میں مات کھائی

  142. Ayah 142

    فَالْتَقَمَهُ الْحُوتُ وَهُوَ مُلِيمٌ

    آخرکار مچھلی نے اسے نگل لیا اور وہ ملامت زدہ تھا

  143. Ayah 143

    فَلَوْلَا أَنَّهُ كَانَ مِنَ الْمُسَبِّحِينَ

    اب اگر وہ تسبیح کرنے والوں میں سے نہ ہوتا تو

  144. Ayah 144

    لَلَبِثَ فِي بَطْنِهِ إِلَىٰ يَوْمِ يُبْعَثُونَ

    روز قیامت تک اسی مچھلی کے پیٹ میں رہتا

  145. Ayah 145

    فَنَبَذْنَاهُ بِالْعَرَاءِ وَهُوَ سَقِيمٌ

    آخرکار ہم نے اسے بڑی سقیم حالت میں ایک چٹیل زمین پر پھینک دیا

  146. Ayah 146

    وَأَنبَتْنَا عَلَيْهِ شَجَرَةً مِّن يَقْطِينٍ

    اور اُس پر ایک بیل دار درخت اگا دیا

  147. Ayah 147

    وَأَرْسَلْنَاهُ إِلَىٰ مِائَةِ أَلْفٍ أَوْ يَزِيدُونَ

    اس کے بعد ہم نے اُسے ایک لاکھ، یا اس سے زائد لوگوں کی طرف بھیجا

  148. Ayah 148

    فَآمَنُوا فَمَتَّعْنَاهُمْ إِلَىٰ حِينٍ

    وہ ایمان لائے اور ہم نے ایک وقت خاص تک انہیں باقی رکھا

  149. Ayah 149

    فَاسْتَفْتِهِمْ أَلِرَبِّكَ الْبَنَاتُ وَلَهُمُ الْبَنُونَ

    پھر ذرا اِن لوگوں سے پوچھو، کیا (اِن کے دل کو یہ بات لگتی ہے کہ) تمہارے رب کے لیے تو ہوں بیٹیاں اور ان کے لیے ہوں بیٹے!

  150. Ayah 150

    أَمْ خَلَقْنَا الْمَلَائِكَةَ إِنَاثًا وَهُمْ شَاهِدُونَ

    کیا واقعی ہم نے ملائکہ کو عورتیں ہی بنا یا ہے اور یہ آنکھوں دیکھی بات کہہ رہے ہیں؟

  151. Ayah 151

    أَلَا إِنَّهُم مِّنْ إِفْكِهِمْ لَيَقُولُونَ

    خوب سن رکھو، دراصل یہ لوگ اپنی من گھڑت سے یہ بات کہتے ہیں

  152. Ayah 152

    وَلَدَ اللَّهُ وَإِنَّهُمْ لَكَاذِبُونَ

    کہ اللہ اولاد رکھتا ہے، اور فی الواقع یہ جھوٹے ہیں

  153. Ayah 153

    أَصْطَفَى الْبَنَاتِ عَلَى الْبَنِينَ

    کیا اللہ نے بیٹوں کے بجائے بیٹیاں اپنے لیے پسند کر لیں؟

  154. Ayah 154

    مَا لَكُمْ كَيْفَ تَحْكُمُونَ

    تمہیں کیا ہو گیا ہے، کیسے حکم لگا رہے ہو

  155. Ayah 155

    أَفَلَا تَذَكَّرُونَ

    کیا تمہیں ہوش نہیں آتا

  156. Ayah 156

    أَمْ لَكُمْ سُلْطَانٌ مُّبِينٌ

    یا پھر تمہارے پاس اپنی ان باتوں کے لیے کوئی صاف سند ہے

  157. Ayah 157

    فَأْتُوا بِكِتَابِكُمْ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ

    تو لاؤ اپنی وہ کتاب اگر تم سچے ہو

  158. Ayah 158

    وَجَعَلُوا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجِنَّةِ نَسَبًا ۚ وَلَقَدْ عَلِمَتِ الْجِنَّةُ إِنَّهُمْ لَمُحْضَرُونَ

    اِنہوں نے اللہ اور ملائکہ کے درمیان نسب کا رشتہ بنا رکھا ہے، حالانکہ ملائکہ خوب جانتے ہیں کہ یہ لوگ مجرم کی حیثیت سے پیش ہونے والے ہیں

  159. Ayah 159

    سُبْحَانَ اللَّهِ عَمَّا يَصِفُونَ

    (اور وہ کہتے ہیں کہ) "اللہ اُن صفات سے پاک ہے

  160. Ayah 160

    إِلَّا عِبَادَ اللَّهِ الْمُخْلَصِينَ

    جو اُس کے خالص بندوں کے سوا دوسرے لوگ اس کی طرف منسوب کرتے ہیں

  161. Ayah 161

    فَإِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ

    پس تم اور تمہارے یہ معبود

  162. Ayah 162

    مَا أَنتُمْ عَلَيْهِ بِفَاتِنِينَ

    اللہ سے کسی کو پھیر نہیں سکتے

  163. Ayah 163

    إِلَّا مَنْ هُوَ صَالِ الْجَحِيمِ

    مگر صرف اُس کو جو دوزخ کی بھڑکتی ہوئی آگ میں جھلسنے والا ہو

  164. Ayah 164

    وَمَا مِنَّا إِلَّا لَهُ مَقَامٌ مَّعْلُومٌ

    اور ہمارا حال تو یہ ہے کہ ہم میں سے ہر ایک کا ایک مقام مقرر ہے

  165. Ayah 165

    وَإِنَّا لَنَحْنُ الصَّافُّونَ

    اور ہم صف بستہ خدمت گار ہیں

  166. Ayah 166

    وَإِنَّا لَنَحْنُ الْمُسَبِّحُونَ

    اور تسبیح کرنے والے ہیں"

  167. Ayah 167

    وَإِن كَانُوا لَيَقُولُونَ

    یہ لوگ پہلے تو کہا کرتے تھے

  168. Ayah 168

    لَوْ أَنَّ عِندَنَا ذِكْرًا مِّنَ الْأَوَّلِينَ

    کہ کاش ہمارے پاس وہ "ذکر" ہوتا جو پچھلی قوموں کو ملا تھا

  169. Ayah 169

    لَكُنَّا عِبَادَ اللَّهِ الْمُخْلَصِينَ

    تو ہم اللہ کے چیدہ بندے ہوتے

  170. Ayah 170

    فَكَفَرُوا بِهِ ۖ فَسَوْفَ يَعْلَمُونَ

    مگر (جب وہ آ گیا) تو انہوں نے اس کا انکار کر دیا اب عنقریب اِنہیں (اِس روش کا نتیجہ) معلوم ہو جائے گا

  171. Ayah 171

    وَلَقَدْ سَبَقَتْ كَلِمَتُنَا لِعِبَادِنَا الْمُرْسَلِينَ

    اپنے بھیجے ہوئے بندوں سے ہم پہلے ہی وعدہ کر چکے ہیں

  172. Ayah 172

    إِنَّهُمْ لَهُمُ الْمَنصُورُونَ

    کہ یقیناً ان کی مدد کی جائے گی

  173. Ayah 173

    وَإِنَّ جُندَنَا لَهُمُ الْغَالِبُونَ

    اور ہمارا لشکر ہی غالب ہو کر رہے گا

  174. Ayah 174

    فَتَوَلَّ عَنْهُمْ حَتَّىٰ حِينٍ

    پس اے نبیؐ، ذرا کچھ مدّت تک انہیں اِن کے حال پر چھوڑ دو

  175. Ayah 175

    وَأَبْصِرْهُمْ فَسَوْفَ يُبْصِرُونَ

    اور دیکھتے رہو، عنقریب یہ خود بھی دیکھ لیں گے

  176. Ayah 176

    أَفَبِعَذَابِنَا يَسْتَعْجِلُونَ

    کیا یہ ہمارے عذاب کے لیے جلدی مچا رہے ہیں؟

  177. Ayah 177

    فَإِذَا نَزَلَ بِسَاحَتِهِمْ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنذَرِينَ

    جب وہ اِن کے صحن میں آ اترے گا تو وہ دن اُن لوگوں کے لیے بہت برا ہو گا جنہیں متنبہ کیا جا چکا ہے

  178. Ayah 178

    وَتَوَلَّ عَنْهُمْ حَتَّىٰ حِينٍ

    بس ذرا اِنہیں کچھ مدت کے لیے چھوڑ دو

  179. Ayah 179

    وَأَبْصِرْ فَسَوْفَ يُبْصِرُونَ

    اور دیکھتے رہو، عنقریب یہ خود دیکھ لیں گے

  180. Ayah 180

    سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ

    پاک ہے تیرا رب، عزت کا مالک، اُن تمام باتوں سے جو یہ لوگ بنا رہے ہیں

  181. Ayah 181

    وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ

    اور سلام ہے مرسلین پر

  182. Ayah 182

    وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ

    اور ساری تعریف اللہ ربّ العالمین ہی کے لیے ہے

About the Quran

The Quran

The Quran is the holy scripture of Islam. Muslims believe that it is the literal word of Allah (سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى), revealed to the Prophet Muhammad (صلى الله عليه وسلم) over a period of 23 years. The Quran is composed of 114 Surahs (chapters) and contains 6,236 Ayat (verses). Muslim beliefs and practices are based on the Quran and the Sunnah, the teachings and example of the Prophet Muhammad (صلى الله عليه وسلم).

The Kaaba in Mecca
A mosque in South America

Meccan Surahs

The Meccan Surahs are the earliest revelations sent down to the Prophet Muhammad (صلى الله عليه وسلم). They were revealed in Mecca, hence their name. These revelations form the foundation of the Islamic faith and contain guidance for Muslims on how to live their lives. The Meccan Surahs are also notable for their poetic beauty and lyrical prose.

Medinan Surahs

The Medinan Surahs are the later Surahs that, according to Islamic tradition, were revealed in Medina after the Prophet Muhammad's (صلى الله عليه وسلم) hijra from Mecca. They were revealed by Allah (سبحانه و تعالى) when the Muslim community was larger and more developed, as opposed to their minority position in Mecca.

Stay connected

Receive regular updates

New features, translations and reminders from AskTheQuran, straight to your inbox.

We use Mailchimp to send updates. You can unsubscribe at any time. See our privacy policy.

We may receive a commission if you click on a link and buy a product, service or similar, at no extra cost to you. Details are in the disclosure policy.