Menu

Surah Al-'Asr

زمانہ

Chapter 103 of 114

خوبصورت تلاوت قرآن

Surah Al-'Asr

Recited by Salaah Bukhaatir

Overview

About this Surah

At a glance

Surah 103 of 114

Translation
Urdu
Recitation
Salaah Bukhaatir

Ask the AI about this Surah

Commentary

Tafsir

<h2>نام:</h2>
<p>  آیت 35 کے لفظ : وَزُخْرُ فاً سے ماخوذ ہے ۔ مطلب یہ ہے کہ وہ سورہ جس میں لفظ زُخْرُفْ آیا ہے ۔ </p>
<h2>زمانۂ نزول:</h2>
<p>   کسی معتبر روایت سے معلوم نہیں ہوسکا ہے ۔ لیکن اس کے مضامین پر غور کرنے سے صاف محسوس ہوتا ہے کہ یہ سورہ بھی اسی
زمانے میں نزول ہوئی ہے جس میں المومن ،حٰم السجدہ اور الشوریٰ نازل ہوئیں۔ یہ ایک ہی سلسلے کی سورتیں معلوم ہوتی ہیں جن
کا نزول اس وقت سے شروع ہوا جب کفار مکہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی جان کے درپے ہوگئے تھے ۔ شب و روز اپنی محفلوں میں
بیٹھ بیٹھ کر مشورے کر رہے تھے کہ آپ کو کس طرح ختم کیا جائے، اور ایک حملہ آپ کی جان پر ہو بھی چکا تھا۔ اس صورت حال کی
طرف آیات 79۔80۔ میں صاف اشارہ موجود ہے ۔ </p>
<h2>موضوع اور مباحث:</h2>
<p>  اس سورے میں پورے زور کے ساتھ قریش اور اہل عرب کے ان جاہلانہ عقائد و اوہام پر تنقید کی گئی ہے جن پر وہ اصرار کیے چلے
جا رہے تھے ، اور نہایت محکم و دل نشین طریقے سے ان کی نا معقولیت کا پردہ فاش کیا گیا ہے ، تا کہ معاشرے کا ہر فرد، جس
کے اندر کچھ بھی معقولیت موجود ہو، یہ سوچنے پر مجبور ہو جائے کہ آخر یہ کیسی جہالتیں ہیں جن سے ہماری قوم بری طرح چمٹی
ہوئی ہے ، اور جو شخص ہمیں ان کے چکر سے نکالنے کی کوشش کر رہا ہے اس کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑ گئی ہے ۔ </p>
کلام کا آغاز اس طرح کیا گیا ہے کہ تم لوگ اپنی شرارتوں کے بل پر یہ چاہتے ہو کہ نزول روک دیا جائے، مگر اللہ نے کبھی اشرار کی وجہ سے انبیاء کی بعثت اور کتابوں کی تنزیل نہیں روکی ہے ، بلکہ ان ظالموں کو ہلاک کر دیا ہے جس اس کی ہدایت کا راستہ روک کر کھڑے ہوئے تھے ۔ یہی کچھ وہ اب بھی کرے گا۔ آگے چل کر آیات 41۔43۔ اور 79۔80 میں یہ مضمون پھر دہرایا گیا ہے ۔ جو لوگ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی جان کے درپے تھے ان کو سناتے ہوئے حضور سے فرمایا گیا ہے کہ تم خواہ زندہ رہو یا نہ رہو، ان ظالموں کو ہم سزا دے کر رہیں گے ۔ اور خود ان لوگوں کو صاف صاف متنبہ کر دیا گیا ہے کہ اگر تم نے ہمارے نبی  کے خلاف ایک اقدام کا فیصلہ کر لیا ہے تو ہم بھی پھر ایک فیصلہ کن قدم اٹھائیں گے ۔
<p>
اس کے بعد بتایا گیا ہے کہ وہ مذہب کیا ہے جسے یہ لوگ سینے سے لگائے ہوئے ہیں، اور وہ دلائل کیا ہیں جن کے بل بوتے پر یہ
محمد صلی اللہ علیہ و سلم کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ </p>
خود مانتے ہیں کہ زمین و آسمان کا، اور ان کا اپنا اور ان کے معبودوں کا خالق اللہ تعالیٰ ہی ہے ۔ یہ بھی جانتے اور مانتے ہیں کہ جن نعمتوں سے یہ فائدہ اٹھا رہے ہیں وہ سب اللہ کی دی ہوئی ہیں۔ پھر بھی دوسروں کو اللہ کے ساتھ خدائی میں شریک کرنے پر اصرار کیے چلے جاتے ہیں۔
<p>
بندوں کو اللہ کی اولاد قرار دیتے ہیں ۔اور اولاد بھی بیٹیاں جنہیں خود اپنے لیے ننگ و عار سمجھتے ہیں۔ فرشتوں کو انہوں
نے دیویاں قرار دے رکھا ہے ۔ ان کے بت عورتوں کی شکل کے بنا رکھے ہیں۔ انہیں زنانہ کپڑے اور زیور پہناتے ہیں اور کہتے
ہیں کہ یہ اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ ان کی عبادت کرتے ہیں اور ان ہی سے منتیں اور مرادیں مانگتے ہیں۔ آخر انہیں کیسے معلوم
ہوا کہ فرشتے عورتیں ہیں ؟</p>
ان جہالتوں پر ٹوکا جاتا ہے تو تقدیر کا بہانہ پیش کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اگر اللہ ہمارے اس کام کو پسند نہ کرتا تو ہم کیسے ان بتوں کی پرستش کر سکتے تھے ۔ حالانکہ اللہ کی پسند اور نا پسند معلوم ہونے کا ذریعہ اس کی کتابیں ہیں نہ کہ وہ کام جو دنیا میں اس کی مشیت کے تحت ہو رہے ہیں۔ مشیت کے تحت تو ایک بت پرستی ہی نہیں ، چوری ، زنا، ڈاکہ، قتل، سب ہی کچھ ہو رہا ہے ۔ کیا اس دلیل سے ہر اس برائی کو جائز و برحق قرار دیا جائے گا جو دنیا میں ہو رہی ہے ؟
<p>
پوچھا جاتا ہے کہ اپنے اس شرک کے لیے تمہارے پاس اس غلط دلیل کے سوا کوئی اور سند بھی ہے ، تو جواب دیتے ہیں کہ باپ دادا
سے یہ کام یوں ہی ہوتا چلا آ رہا ہے ۔ گویا ان کے نزدیک کسی مذہب کے حق ہونے کے لیے یہ کافی دلیل ہے ۔ حالانکہ ابراہیم
علیہ السلام ، جن کی اولاد ہونے پر ہی ان کے سارے فخر و امتیاز کا مدار  ہے ، باپ دادا کے مذہب کو لات کار کر گھر سے نکل
گئے تھے اور انہوں نے اسلاف کی ایسی اندھی تقلید کو رد کر دیا تھا جس کا ساتھ کوئی دلیل معقول نہ دیتی ہو۔ پھر اگر ان
لوگوں کو اسلاف کی تقلید ہی کرنی تھی تو اس کے لیے بھی اپنے بزرگ ترین اسلاف، ابراہیم و اسماعیل علیہما السلام کو چھوڑ
کر انہوں نے اپنے جاہل ترین اسلاف کا انتخاب کیا ! </p>
ان سے کہا جاتا ہے  کہ کیا کبھی کسی نبی نے اور خدا کی طرف سے آئی ہوئی کسی کتاب نے بھی یہ تعلیم دی ہے کہ اللہ کے ساتھ دوسرے بھی عبادت کے مستحق ہیں، تو یہ عیسائیوں کے اس فعل کو دلیل میں پیش کرتے ہیں کہ انہوں نے عیسیٰ ابن مریم کو ابنُ اللہ مانا اور ان کے پرستش کی ۔ حالانکہ سوال یہ نہ تھا کہ کسی نبی کی امت نے شرک کیا ہے یا نہیں،بلکہ یہ تھا کہ خود کسی نبی نے شرک کی تعلیم دی ہے ۔ ؟ عیسیٰ ابن مریمؑ نے کب کہا تھا کہ میں خدا کا بیٹا ہوں اور تم میری عبادت کرو۔ ان کی اپنی تعلیم تو وہی تھی جو دنیا کے ہر بنی نے دی ہے کہ میرا رب بھی اللہ ہے اور تمہارا رب بھی ، اسی کی تم عبادت کرو۔
<p>
محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی رسالت تسلیم کرنے میں انہیں تامل ہے تو اس بنا پر کہ ان پاس مال و دولت اور ریاست وجاہت تو
ہے ہی نہیں۔ کہتے ہیں کہا اگر خدا ہمارے ہاں کسی کو نبی بنانا چاہتا تو ہمارے دونوں شہروں (مکہ و طائف ) کے بڑے آدمیوں
میں سے کسی کو بناتا ۔ اسی بنا پر فرعون نے بھی حضرت موسیٰ کو حقیر جانا تھا اور کہا تھا کہ آسمان کا بادشاہ اگر مجھ
زمین کے بادشاہ کے پاس کوئی ایلچی بھیجتا تو اسے سونے کے کنگن پہنا کر، فرشتوں کی ایک فوج اس کی اردلی میں دے کر بھیجتا۔
یہ فقیر کہاں سے آ کھڑا ہوا ؟ فضیلت مجھے حاصل ہے کہ مصر کی بادشاہی میری ہے اور دریائے نیل کی نہریں میری ماتحتی میں چل
رہی ہیں۔ یہ شخص میرے مقابلے میں کیا حیثیت رکھتا ہے کہ نہ مال رکھتا ہے نہ اقتدار۔</p>
<p>اس طرح کفار کی ایک ایک  جاہلانہ بات پر تنقید  کرنے اور اس کے نہایت معقول و مد لل جوابات دینے کے بعد آخر میں صاف صاف
کہا گیا ہ کہ نہ خدا کی کوئی اولاد ہے ، نہ آسمان و زمین کے خدا الگ الگ ہیں، نہ اللہ کے ہاں کوئی ایسا شفیع ہے جو جان
بوجھ کر گمراہی اختیار کرنے والوں کے اس کی سزا سے بچا سکے اللہ کی ذات اس سے منزّہ ہے کہ کوئی اسکی اولاد ہو۔ وہی اکیلا
ساری کائنات کا خدا ہے ، باقی سب اس کے بندے ہیں نہ کہ اس کے ساتھ خدائی صفات و اختیارات میں شریک۔ اور شفاعت اس کے ہاں
صرف وہی کر سکتے ہیں جو خود حق پرست ہوں، اور ان ہی کے لیے کر سکتے ہیں جنہوں نے دنیا میں حق پرستی اختیار کی ہو۔</p>

Verse by verse

Surah Al-'Asr · زمانہ

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

  1. Ayah 1

    بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ وَالْعَصْرِ

    زمانے کی قسم

  2. Ayah 2

    إِنَّ الْإِنسَانَ لَفِي خُسْرٍ

    انسان درحقیقت بڑے خسارے میں ہے

  3. Ayah 3

    إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ

    سوائے اُن لوگوں کے جو ایمان لائے، اور نیک اعمال کرتے رہے، اور ایک دوسرے کو حق کی نصیحت اور صبر کی تلقین کرتے رہے

About the Quran

The Quran

The Quran is the holy scripture of Islam. Muslims believe that it is the literal word of Allah (سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى), revealed to the Prophet Muhammad (صلى الله عليه وسلم) over a period of 23 years. The Quran is composed of 114 Surahs (chapters) and contains 6,236 Ayat (verses). Muslim beliefs and practices are based on the Quran and the Sunnah, the teachings and example of the Prophet Muhammad (صلى الله عليه وسلم).

The Kaaba in Mecca
A mosque in South America

Meccan Surahs

The Meccan Surahs are the earliest revelations sent down to the Prophet Muhammad (صلى الله عليه وسلم). They were revealed in Mecca, hence their name. These revelations form the foundation of the Islamic faith and contain guidance for Muslims on how to live their lives. The Meccan Surahs are also notable for their poetic beauty and lyrical prose.

Medinan Surahs

The Medinan Surahs are the later Surahs that, according to Islamic tradition, were revealed in Medina after the Prophet Muhammad's (صلى الله عليه وسلم) hijra from Mecca. They were revealed by Allah (سبحانه و تعالى) when the Muslim community was larger and more developed, as opposed to their minority position in Mecca.

Stay connected

Receive regular updates

New features, translations and reminders from AskTheQuran, straight to your inbox.

We use Mailchimp to send updates. You can unsubscribe at any time. See our privacy policy.

We may receive a commission if you click on a link and buy a product, service or similar, at no extra cost to you. Details are in the disclosure policy.