Menu

Surah Al-'Adiyat

دوڑنے والے گھوڑے

Chapter 100 of 114

خوبصورت تلاوت قرآن

Surah Al-'Adiyat

Recited by Salaah Bukhaatir

Overview

About this Surah

At a glance

Surah 100 of 114

Translation
Urdu
Recitation
Salaah Bukhaatir

Ask the AI about this Surah

Commentary

Tafsir

<h2>نام:</h2>
<p>آیت 28 کے فقرے</p>
<span class="ar indopak"> وَ قَالَ رَجُلٌ  مُّؤْمِنٌ   مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ </span><p>سے ماخوذ ہے، یعنی وہ سورہ جس میں
اس خاص مومن کا ذکر آیا ہے۔</p>
<h2>زمانۂ نزول:</h2>
<p> ابن عباس اور جابر بن زید کا بیان ہے کہ یہ سورۃ زمر کے بعد متصلاً نازل ہوئی ہے اور اس کا جو مقام قرآن مجید کی موجودہ
ترتیب میں ہے  وہی ترتیب نزول کے اعتبار سے بھی ہے۔</p>
<h2>حالات نزول:</h2>
<p>جن حالات میں یہ سورہ نازل لوئی ہے اُن کی طرف صاف اشارات اِس کے مضمون میں موجود ہیں۔ کفار مکہ نے اُس وقت نبی صلی اللہ
علیہ و سلم کے خلاف دو طرح کی کارروائیا ں شروع کر رکھی تھیں۔ ایک یہ کہ ہر طرف جھگڑے اور بحثیں چھیڑ کر، طرح طرح کے
اُلٹے سیدھے سوالات اّٹھا کر، اور نت نئے الزامات لگا کر قرآن کی تعلیم اور اسلام کی دعوت اور خود نبی صلی اللہ علیہ و
سلم کے بارے میں اتنے شبہات اور وسوسے لوگوں کے دلوں میں پیدا کر دیے جائیں کہ ان کو صاف کرتے کرتے آخر کار حضورؐ اور
اہل ایمان زچ ہو جائیں۔ دوسرے یہ کہ آپ کو قتل کر دینے کے لیے زمین ہموار کی جائے۔ چنانچہ اس غرض کے لیے وہ پیہم سازشیں
کر رہے تھے، اور ایک مرتبہ تو عملاً انہوں نے اس کا اقدام کر بھی ڈالا تھا۔ بخاری میں حضرت عبداللہ بن عُمژوبن عاص کی
روایت ہے کہ ایک روز نبی صلی اللہ علیہ و سلم حرم میں نماز پڑھ رہے تھے۔ یکایک عُقبہ بن ابی مُعَیط آگے بڑھا اورس نے آپ
کی گردن میں کپڑا ڈال کر اسے بَل دینا شروع کر دیا تاکہ گلا گھونٹ کر آپؐ کو مار ڈالے مگر عین وقت پر حضرت ابوبکر پہنچ
گئے اور انہوں نے دھکا دے کر اسے ہٹا دیا۔ حضرت عبداللہ کا بیان ہے کہ جس وقت ابو بکر صدّیق اُس ظالم سے کشمکش کر رہے
تھے اس وقت اُن کی زبان پر یہ الفاظ جاری تھے کہ </p>
<span class="ar indopak">اَتَقْتُلُوْ نَ رَجُلاً اَنْ یَّقُوْلَ رَ بِّیَ اللہ </span><p>(کیا تم ایک شخص کو صرف اِس قصور
میں مارے ڈالتے ہو کہ وہ کہتا ہے میرا رب اللہ ہے؟)۔ تھوڑے اختلاف کے ساتھ یہ واقعہ سیرت ابن ہشام میں بھی منقول ہو ا ہے
اور نَسَائی اور ابن ابی حاتم نے بھی اسے روایت کیا ہے۔ </p>
<h2>موضوع اور مباحث:</h2>
<p> صورت حال کے اِن دونوں پہلوؤں کو آغاز تقریر ہی میں صاف صاف بیان کر دیا گیا ہے اور پھر آگے کی پوری تقریر انہی دونوں پر
ایک انتہائی مؤثر اور سبق آموز تبصرہ ہے۔</p>
قتل کی سازشوں کے جواب میں مومنِ آل فرعون کا قصّہ سنایا گیا ہے ( آیت  23 تا 55) اور اس قصے کے پیرائے میں تین گروہوں کو تین مختلف سبق دیے گئے ہیں :
<p>
1۔ کفّار کو بتایا گیا ہے کہ جو تم محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ کرنا چاہتے ہو یہی کچھ اپنی طاقت کے بھروسے پر
فرعون حضرت موسیٰ کے ساتھ کرنا چاہتے تھا، اب کیا یہ حرکتیں کر کے تم بھی اُسی انجام سے دوچار ہونا چاہتے ہو جس سے وہ
 دوچار ہوا؟</p>
2۔ محمد صلی اللہ علیہ و سلم اور آپ کے پیروؤں کو سبق دیا گیا ہے کہ یہ ظالم بظاہر  خواہ کتنے ہی بالا دست اور چہرہ دست ہوں، اور ان کے مقابلہ میں تم خواہ کتنے ہی کمزور  اور بے بس ہو، مگر تمہیں یقین رکھنا چاہیے کہ جس خدا کے دین کا بول بالا کرنے کے لیے تم کام کر رہے ہو اس کی طاقت ہر دوسری طاقت پر بھاری ہے۔ لہٰذا جو بڑی خوفناک دھمکی بھی یہ تمہیں دے سکتے ہیں، اس کے جواب میں بس خدا کی پناہ مانگ لو اور اس کے بعد بالکل بے خوف ہو کر اپنے کام میں لگ جاؤ۔ خدا پرست کے پاس  ظالم کی ہر دھمکی کا بس ایک جواب ہے، اور وہ ہے
<span class="ar indopak"> اِنِّیْ عُذْتُ بِرَبّیِ وَ بِرَبِّکُمْ مِّنْ کُلِّ مُتَکَبِّرٍ لَّا یُؤْمِنُ بِیَوْمِ الْحِسَابِ۔ </span>
<p>اس طرح خدا کے بھروسے پر خطرات سے بے پروا ہو کر کام کرو گے تو آخر کار اس کی نصرت آ کر رہے گی اور آج کے فرعون بھی وہی
کچھ دیکھ لیں گے جو کل کے فرعون دیکھ چکے ہیں۔ وہ وقت آنے تک ظلم و ستم کے جو طوفان بھی اُمڈ کر آئیں انہیں صبر کے ساتھ
تمہیں برداشت کرنا ہو گا۔</p>
3۔ ان دو گروہوں کے علاوہ ایک تیسرا گروہ بھی معاشرے میں موجود تھا، اور وہ ان لوگوں کا گروہ تھا جو دلوں میں جان چکے تھے کہ حق محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ ہے اور کفّار قریش سراسر زیادتی کر رہے ہیں۔ مگر یہ جان لینے کے باوجود وہ خاموشی کے ساتھ حق و باطل کی اس کشمکش کا تماشا دیکھ رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اس موقع پر اُن کے ضمیر کو جھنجھوڑا ہے اور انہیں بتایا ہے کہ جب حق کے دشمن علانیہ تمہاری آنکھوں کے سامنے اتنا بڑا ظالمانہ اقدام کرنے پر تُل گئے ہیں تو حیف ہے تم پر اگر اب بھی تم بیٹھے تماشا ہی دیکھتے رہو۔اس حالت میں جس شخص کا ضمیر بالکل مر نہ چکا ہو اُسے تو اُٹھ کر وہ فرض انجام دینا چاہیے جو فرعون  کے بھرے دربار میں اُس کے اپنے درباریوں میں سے ایک راستباز آدمی نے اُس وقت انجام دیا تھا جب فرعون نے حضرت موسیٰ کو قتل کرنا چاہا تھا۔ جو مصلحتیں تمہیں زبان کھولنے سے باز رکھ رہی ہیں، یہی مصلحتیں اُس شخص کے آگے بھی راستہ روک کر کھڑی ہوئی تھیں۔ مگر اُس نے
<span class="ar indopak"> اُفَوِّ ضُ اَمْرِیْ اِلَی اللہ </span><p>کہہ کر ان ساری مصلحتوں کو ٹھکرا دیا، اور اس کے بعد
دیکھ لو کہ فرعون اُس کا کچھ نہ بگاڑ سکا۔ </p>
اب رہا کفار کا وہ مجادلہ جو حق کو نیچا دکھانے کے لیے مکہ معظمہ میں شب و روز جاری تھا، تو اس کے جواب میں ایک طرف دلائل سے توحید اور آخرت کے اُن عقائد کا بر حق ہونا ثابت کیا گیا ہے جو محمد صلی اللہ علیہ و سلم اور کفار کے درمیان اصل بنائے نزاع تھے، اور یہ حقیقت صاف کھول کر رکھ دی گئی ہے کہ یہ لوگ کسی علم اور کسی دلیل و حجت کے بغیر سچائیوں کے خلاف خواہ مخواہ جھگڑ رہے ہیں۔ دوسرے طرف اُ ن اصل محرکات کو بے نقاب کیا گیا ہے جن کی بنا پر سردارانِ قریش اس قدر سرگرمی کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے خلاف بر سر پیکار تھے۔ بظاہر ا نہوں نے  یہ ڈھونگ رچا رکھا تھا کہ حضورؐ کی تعلیم اور آپؐ کے دعوائے نبوت پر انہیں حقیقی اعتراضات ہیں جن کی وجہ سے وہ ان باتوں کو نہیں مان رہے ہیں۔ لیکن درحقیقت یہ ان کے لیے محض ایک جنگ اقتدار تھی۔ آیت 56 میں یہ بات کسی لاگ لپیٹ کے بغیر اُن سے صاف کہہ دی گئی ہے کہ تمہارے انکار کی اصل وجہ وہ کبر ہے جو تمہارے دلوں میں بھرا ہوا ہے۔ تم سمجھتے ہو کہ اگر لوگ محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی نبوت تسلیم کر لیں گے تو تمہاری بڑائی قائم نہ رہ سکے گی۔ اسی وجہ سے تم ان کو زک دینے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہو۔اسی سلسلے میں کفار کو پے در پے تنبیہات کی گئی ہیں کہ اگر اللہ کی آیات کے مقابلے میں مجادلہ کرنے سے باز نہ آؤ گے تو اُسی انجام سے دوچار ہو گے جس سے پچھلی قومیں دوچار ہو چکی ہیں اور اس سے بدتر انجام تمہارے لیے آخرت میں مقدر ہے۔ اُس وقت تم پچھتاؤ گے، مگر اس وقت کا پچھتانا تمہارے لیے کچھ بھی نافع نہ ہو گا۔

Verse by verse

Surah Al-'Adiyat · دوڑنے والے گھوڑے

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

  1. Ayah 1

    بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ وَالْعَادِيَاتِ ضَبْحًا

    قسم ہے اُن (گھوڑوں) کی جو پھنکارے مارتے ہوئے دوڑتے ہیں

  2. Ayah 2

    فَالْمُورِيَاتِ قَدْحًا

    پھر (اپنی ٹاپوں سے) چنگاریاں جھاڑتے ہیں

  3. Ayah 3

    فَالْمُغِيرَاتِ صُبْحًا

    پھر صبح سویرے چھاپہ مارتے ہیں

  4. Ayah 4

    فَأَثَرْنَ بِهِ نَقْعًا

    پھر اس موقع پر گرد و غبار اڑاتے ہیں

  5. Ayah 5

    فَوَسَطْنَ بِهِ جَمْعًا

    پھر اِسی حالت میں کسی مجمع کے اندر جا گھستے ہیں

  6. Ayah 6

    إِنَّ الْإِنسَانَ لِرَبِّهِ لَكَنُودٌ

    حقیقت یہ ہے کہ انسان اپنے رب کا بڑا ناشکرا ہے

  7. Ayah 7

    وَإِنَّهُ عَلَىٰ ذَٰلِكَ لَشَهِيدٌ

    اور وہ خود اِس پر گواہ ہے

  8. Ayah 8

    وَإِنَّهُ لِحُبِّ الْخَيْرِ لَشَدِيدٌ

    اور وہ مال و دولت کی محبت میں بری طرح مبتلا ہے

  9. Ayah 9

    أَفَلَا يَعْلَمُ إِذَا بُعْثِرَ مَا فِي الْقُبُورِ

    تو کیا وہ اُس حقیقت کو نہیں جانتا جب قبروں میں جو کچھ (مدفون) ہے اُسے نکال لیا جائے گا

  10. Ayah 10

    وَحُصِّلَ مَا فِي الصُّدُورِ

    اور سینوں میں جو کچھ (مخفی) ہے اُسے برآمد کر کے اس کی جانچ پڑتال کی جائے گی؟

  11. Ayah 11

    إِنَّ رَبَّهُم بِهِمْ يَوْمَئِذٍ لَّخَبِيرٌ

    یقیناً اُن کا رب اُس روز اُن سے خوب باخبر ہوگا

About the Quran

The Quran

The Quran is the holy scripture of Islam. Muslims believe that it is the literal word of Allah (سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى), revealed to the Prophet Muhammad (صلى الله عليه وسلم) over a period of 23 years. The Quran is composed of 114 Surahs (chapters) and contains 6,236 Ayat (verses). Muslim beliefs and practices are based on the Quran and the Sunnah, the teachings and example of the Prophet Muhammad (صلى الله عليه وسلم).

The Kaaba in Mecca
A mosque in South America

Meccan Surahs

The Meccan Surahs are the earliest revelations sent down to the Prophet Muhammad (صلى الله عليه وسلم). They were revealed in Mecca, hence their name. These revelations form the foundation of the Islamic faith and contain guidance for Muslims on how to live their lives. The Meccan Surahs are also notable for their poetic beauty and lyrical prose.

Medinan Surahs

The Medinan Surahs are the later Surahs that, according to Islamic tradition, were revealed in Medina after the Prophet Muhammad's (صلى الله عليه وسلم) hijra from Mecca. They were revealed by Allah (سبحانه و تعالى) when the Muslim community was larger and more developed, as opposed to their minority position in Mecca.

Stay connected

Receive regular updates

New features, translations and reminders from AskTheQuran, straight to your inbox.

We use Mailchimp to send updates. You can unsubscribe at any time. See our privacy policy.

We may receive a commission if you click on a link and buy a product, service or similar, at no extra cost to you. Details are in the disclosure policy.